New Age Islam
Wed Dec 01 2021, 04:25 AM

Urdu Section ( 1 Nov 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Spiritual Significance of Divine Oaths in the Holy Quran قرآن مجید میں الہٰی قسموں کی روحانی اہمیت و افادیت

قاضی ودود نواز، نیو ایج اسلام

27 اکتوبر 2016

"بسم اللہ الرحمٰن الرحیم"

ایک حلف کی حقیقت حلف لینے والے کی جانب سے اس شئی کی حیثیت کا مکمل طور پر احترام کرنے کا ایک روحانی وعدہ ہے جس کا حلف لیا جا رہا ہے۔ تاہم، قرآن مجید میں الہی قسموں کا ایک ہلکا سا بھی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ کا حلف اس کی پوری کائنات کا احاطہ کیے ہوئے ہےاور اس سے کائنات کے رب کے طور پر اس کی حاکمیت اور شان جلالت کی شہادت بھی ملتی ہے۔

ایک باریک ترین ذرہ دھول سے لیکر نظام شمسی اور بڑی بڑی لاکھوں کہکشاؤں تک اور انتہائی چھوٹی چھوٹی حیاتیاتی اشیاء سے لیکر زندگی کے پیچیدہ حقائق تک یہ تمام مظاہر کائنات الہی حقیقت عکاسی کرتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ تمام الہی قسموں کے دائرے میں آتے ہیں۔ مٹی کا ایک ذرہ زندگی کی بنیاد کی حیثیت سے زمین کی عظمت کا حامل ہے اور آسمان سے گرنے والی بارش کی ایک چھوٹی سی بوند کے اندر ایک وسیع اتھاہ سمندر کا امکان موجود ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کی مخلوق کی خوبصورتی کا مشاہدہ اسی انداز میں کیا جا سکتا ہے!

کبھی اللہ خود اپنی ذات اقدس کی قسم کھاتا ہے، کبھی قرآن کی قسم کھاتا ہے، کبھی انسانی روح کی قسم کھاتا ہے، کبھی فرشتوں کی قسم کھاتا ہے، کبھی قیامت کے دن کی قسم کھاتاہے، کبھی غائب اور موجود حقائق کی قسم کھاتا ہے، کبھی خالق خود اپنی قسم کھاتا ہے اور کبھی مخلوق کی قسم کھاتا ہے، کبھی شمسی توانائی کی قسم کھاتا ہے،اور کبھی نجومی نظام جیسے دیگر مظاہر قدرت یعنی سورج، چاند اور ستارے کے متوازن قیام اور گردش لیل و نہار کی قسم کھاتا ہے جو کہ تمام قسم کے فسادات اور خطرات کے امکانات سے بھی پاک ہے۔یہ بلاشبہ فن تخلیق الہی میں ایک عظیم واقعہ ہے۔ [حوالہ: آیت 76-56:75، آیت 53:1]۔ اللہ نے موجیں مارتے ہوئے سمندر، ہوا، بادل، آندھی، طوفان اور یہاں تک کہ اللہ نے اپنی نشانیوں کی اہمیت اور حقانیت پر انسانیت کو قائل کرنے کے لئے وقت کی بھی قسم کھائی ہے۔ اللہ کی ان تمام قسموں میں 'وقت کی قسم' انتہائی اہم اور طاقتور ہے اس لیے کہ اللہ نے خود کو 'وقت' قرار دیا ہے۔ ایک حدیث قدسی ہے کہ، "ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے اور میرا غلط استعمال کرتا ہے اس لیے کہ میں خود وقت ہوں۔ میرے ہاتھ میں سب کچھ ہے اور گردش لیل و نہار میری ہی وجہ سے ہے (بخاری جلد 6 حدیث 351)۔

لہٰذا، قرآنی نقطہ نظر سے وقت کا غلط استعمال انسانی زندگی کے لئے سب سے بڑا نقصان اور ساتھ ہی ساتھ یہ بہت بڑا گناہ بھی ہے اس لیے کہ یہ براہ راست اللہ کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ [سورہ عصر آیت 3-103:1]

قرآن کریم کا دعوی ہے کہ پوری کائنات کو حقیقت پر پیدا کیا گیا ہے۔ اور ابدی ہستی کی نشانیوں کے طور پر جسمانی اور روحانی حقائق کے باہمی نفوذ کو اس حقیقت کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی کی قسمیں بنیادی قرآنی اصول کی توثیق کی ایک الہی کوشش ہے۔ اپنی ہی تخلیق کردہ اشیاء کی قسم کھا کر اللہ نے ایک خالق کے طور پر اپنی حیثیت کو بلند کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک حقیقت کے طور پر اپنی مخلوق کی حیثیت کو بھی بلند کیا ہے اگر چہ وہ ہمیں حقیر اور معمولی ہی کیوں نہ معلوم ہو۔ [الزمر آیت 39:5]

اللہ نے قرآن پاک میں مختلف مسائل اور مختلف سیاق و سباق کے تحت چھ مرتبہ خود اپنی قسموں کو یاد فرمایا ہے [حوالہ 64:7، 19:68، 15:92، 4:65، 51:23 (93-92-91):15] ۔اللہ نے یہ قسمیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت کی حقانیت، آسمانی کتاب کی حیثیت سے وحی الٰہی ہونے پر قرآن کی حقانیت کی شہادت کے لیے قسمیں کھائی ہے۔ ہدایت کے لیے آسمانی کتاب کی حیثیت سے قرآن کی صداقت کی تصدیق کے علاوہ ان قسموں میں ان کے ساتھ نمٹنے میں کسی بھی غلطی کے لیے سخت عذاب کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

قرآن مجید کی مندرجہ ذیل تین آیات میں اس مادی دنیا کی الہی نشانیوں اور خود قرآن کریم کے درمیان قریبی مشابہت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:

"اور زمین میں صاحبانِ ایقان (یعنی کامل یقین والوں) کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اور خود تمہارے نفوس میں (بھی ہیں)، سو کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔"[آیت21-51:20]؟

"پس آسمان اور زمین کے مالک کی قَسم! یہ (ہمارا وعدہ) اسی طرح یقینی ہے جس طرح تمہارا اپنا بولنا ۔" [51:23]

اللہ جل جلالہ انسانوں سے جو کہ اس زمین پر اس کے خلیفہ ہیں اس مادی دنیا میں پھیلی ہوئی نشانیوں اور الہامی کتابوں میں موجود الہی آیتوں کی زبان میں بات کرتا ہے۔ دونوں خالق اور اس کی مخلوق کے درمیان مواصلات کے ذرائع ابلاغ ہیں۔

مندرجہ ذیل آیات میں اللہ نے ایک قسم کے ذریعے قرآن مجید کی کسی بھی تبدیلی اور تحریف کرنے والے کے لیے عذاب کی تصدیق کی ہے۔

"جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (کر کے تقسیم) کر ڈالا (یعنی موافق آیتوں کو مان لیا اور غیر موافق کو نہ مانا)۔ سو آپ کے رب کی قسم! ہم ان سب سے ضرور پرسش کریں گے۔ ان اعمال سے متعلق جو وہ کرتے رہے تھے"۔ [آیات93-92-15:91]

قرآن مجید میں تبدیلی اور تحریف کی کوئی بھی کوشش اللہ کی نظر میں ایک بڑا گناہ ہے اور سخت عذاب کا باعث ہے۔

اگر ہم اللہ کی قسموں پر مشتمل ان آیتوں کے نازل ہونے کی جگہ کا جائزہ لیں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان میں سے اکثر آیتیں مکی سورتوں میں اس وقت نازل ہوئی ہیں جب معاشروں کی جانب سے ایمان کے بنیادی اصولوں کی قبولیت کا سوال سے زیادہ اہم تھا۔ قسموں پر مشتمل ان آیتوں سے 'ایمان' کے بنیادی اصولوں کے طور پر قرآنی 'حقائق' پر بنی نوع انسان کو قائل کرنے اور انہیں 'گہرے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کے لئے' اللہ کی ایک شدید خواہش کا اظہار ہوتا ہے [57:9]۔ الہی قسموں سے انسانوں کے لئے اللہ کی گہری محبت اور تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔ جب اللہ خود اپنی قسم کھاتا ہے تو اس سے اس کی منشاء اپنے الہی وجود کی حقیقت پر اور ایک خالق کے طور پر اپنی خود مختار حاکمیت اور کائنات کے پالنہار ہونے پر بنی نوع انسان کو قائل کرنا ہوتی ہے۔ اور جب وہ اپنی کسی تخلیق کی قسم کھاتا ہے تو اس سے اس کا مقصد اپنی مخلوق کی شاندار اور عظیم الشان حیثیت کی نمائش کر کے خود اپنی شان جلالت کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔

یہ وہ اشیاء ہیں کہ انسان اس زمین پر اپنے مادی وجود اور ساتھ ہی ساتھ اپنے روحانی وجود برقرار رکھنے میں ان عناصر کی ضرورت سے انکار نہیں کر سکتا۔ ان عناصر کا انکار خود اپنے وجود سے انکار کرنے کے مترادف ہے! چونکہ بنی نوع انسانی کا وجود ان الہی مخلوق کی حمایت اور خدمات پر منحصر ہے لہٰذا، ہم کس طرح خود خالق کے وجود کا انکار کرسکتے ہیں؟ اور اسی میں ان الہی قسموں کے منطقی مطابقت پوشیدہ ہے۔

خدا کی نشانیوں کے طور پر اس کی قسموں کا عنوان جن عناصر کو بنایا گیا ہے وہ بنی نوع انسان کو عطا کردہ اللہ کی ان مقدس نعمتوں کا حصہ ہیں جو بنیادی طور پر الہی نظام حکومت کو منظم کرنے پر مامور ہیں۔ وہ ایسے متنوع قدرتی واقعات کا احاطہ کرتے ہیں جو خالق کے طور پر اللہ کی ہنرمندی اور انفرادیت کو ظاہر کرتے ہیں اور قدرت الہٰیہ اور رحمت الٰہیہ کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ چونکہ کائنات فطرت کی تمام توانائیاں خدا سے ہی متعلق ہیں، لہٰذاوہ دیکھنے میں خواہ کتنے ہی معمولی کیوں نہ معلوم ہوں ان میں سے کسی ایک کی بھی قسم سے کائنات کے رب کے طور پر اللہ کی تقدیس اور خودمختار حاکمیت کی تسبیح ہوتی ہے۔

قرآن کریم کی یہ الہی قسمیں جہاں ایک طرف مومنوں کے لئے اسلامی عقیدے کے بنیادی اصولوں کی تائید و توثیق کرتی ہیں وہیں دوسری طرف کافروں کے دعووں کو باطل بھی کرتی ہیں۔ یہ تمام قسمیں ایک آسمانی کتاب کے طور پر قرآن مجید کی صداقت اور ہمارے حضور محمد صلی الله علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کرتی ہیں۔

قرآنی قسمیں، اس سے قطع نظرکہ قسم کس چیز کی کھائی جا رہی ہے قیامت، فرشتے، جنت، جہنم، نیکی کے لیے جزا اور بدی کے لیے سزا جیسی غیبی حقائق کے بارے میں انسانی دماغ کو شک و شبہ اور الجھن سے آزاد کرنے کے لیے ایک پرخلوص اور خوش آئند الہی کوشش ہے۔ الٰہی قسموں کا عنوان جن اشیاء کو بنایا گیا ہے وہ الہی نظام حکومت کو منظم کرنے پر مامور ہیں۔ یہ الہی نشانیاں قرآن کے مطابق مظاہر فطرت میں اور خود ہمارے اندر بھی اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان کہ جنہیں زمین پر اس نے اپنی خلافت و نیابت سے نوازا ہے ذرائع ابلاغ کی حیثیت سے عیاں ہیں۔یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ ہمارے جسم کے ہر خلیے، ہمارے خون کا ہر قطرہ، ہمارے دل کی ہر دھڑکن اللہ کی عظمت اور اس کی حاکمیت کی گواہی دیتی ہے۔

حوالہ جات:

1۔ "قَسم ہے روشن ستارے کی جب وہ نیچے اترے"۔ [آیت 53:1]

2۔ " پس میں اُن جگہوں کی قَسم کھاتا ہوں جہاں جہاں قرآن کے مختلف حصے (رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) اترتے ہیں۔ اور اگر تم سمجھو تو بیشک یہ بہت بڑی قَسم ہے "[آیت 76-56:75]۔

3۔ "جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (کر کے تقسیم) کر ڈالا (یعنی موافق آیتوں کو مان لیا اور غیر موافق کو نہ مانا)۔ سو آپ کے رب کی قسم! ہم ان سب سے ضرور پرسش کریں گے۔ ان اعمال سے متعلق جو وہ کرتے رہے تھے"۔ [آیات93-92-15:91]

4۔ "اور زمین میں صاحبانِ ایقان (یعنی کامل یقین والوں) کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اور خود تمہارے نفوس میں (بھی ہیں)، سو کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔"[آیت21-51:20]؟

5۔ "پس آسمان اور زمین کے مالک کی قَسم! یہ (ہمارا وعدہ) اسی طرح یقینی ہے جس طرح تمہارا اپنا بولنا ۔" [51:23]

6۔ "کافر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے۔ فرما دیجئے: کیوں نہیں، میرے رب کی قسم! تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہیں بتا دیا جائے گا جو کچھ تم نے کیا تھا، اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے"۔ [آیت 64:7]،

7۔ "پس آپ کے رب کی قسم ہم ان کو اور (جملہ) شیطانوں کو (قیامت کے دن) ضرور جمع کریں گے پھر ہم ان (سب) کو جہنم کے گرد ضرور حاضر کر دیں گے اس طرح کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہوں گے" [19:68]

8۔ "پس (اے حبیب!) آپ کے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان واقع ہونے والے ہر اختلاف میں آپ کو حاکم بنالیں پھر اس فیصلہ سے جو آپ صادر فرما دیں اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور (آپ کے حکم کو) بخوشی پوری فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں" [4:65]

URL for English article: https://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/kazi-wadud-nawaz,-new-age-islam/spiritual-significance-of-divine-oaths-in-the-holy-quran/d/108933

URL for this article: https://www.newageislam.com/urdu-section/kazi-wadud-nawaz,-new-age-islam/spiritual-significance-of-divine-oaths-in-the-holy-quran--قرآن-مجید-میں-الہٰی-قسموں-کی-روحانی--اہمیت-و-افادیت/d/108979

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..