New Age Islam
Sun Feb 15 2026, 02:26 PM

Urdu Section ( 19 Apr 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Learning From the Holy Quran: Its Significance and Logical Relevance قرآن پاک سے علم کا حصول: اس کی اہمیت اور منطقی افادیت

 قاضی ودود نواز، نیو ایج اسلام

 9 نومبر 2023

 متوقع سائنسی “تھیوری آف ایوری تھنگ”، آئن سٹائن کا جنرل اور اسپیشل تھیوری آف ریلیٹیوٹی، کوانٹم میکینکس، سٹرنگ تھیوری، ڈارون کی تھیوری آف ایوولوشن، تھیوریز آف بائیولوجیکل ایوولوشن- یہ تمام سائنسی نظریات تخلیقی مادے زندگی اور شعور کے رازوں کو سمجھنے کے لیے انتہائی طاقتور علمی ہتھیار ہیں۔ "آیتِ مُتَشَابہات" کی "آیاتِ محکم" میں بل کھاتی ہوئی ارتقائی تبدیلی ، اس کے برعکس مینی، مائیکرو اور نینو سطح پر واقعات کی میکرو سطح کی حقیقتوں میں باہمی تبدیلی کے فطری عمل میں ظاہر ہوتی ہے۔ اور اسی مقام پر قرآن پاک کی منطقی اہمیت و افادیت ظاہر ہوتی ہے۔

-------

قرآن کریم ایک آسمانی کتاب ہے اور اس سے اخذ کردہ علم مطلق اور ابدی حقیقت کو ظاہر کرنے والا ایک نازل شدہ علم ہے۔ جبکہ دوسرے ذرائع سے انسان کا حاصل کردہ علم جزوی اور اضافی ہوتا ہے۔ سائنس اپنے تاریخی ارتقاء کے کسی بھی مرحلے پر ایک اضافی سچائی کو برقرار رکھتی ہے۔ قرآنی تھیوری آف نالج کے نقطہ نظر سے ایمان تمام علوم کی بنیاد ہے۔ تخلیق الٰہی کے اسرار سے پردہ اٹھانے کے لیے انسانی جدوجہد سب سے بڑی عبادت ہے اور اس سے متعلق علم بہترین علم ہے۔ قرآنی علم خلق خدا کے اسرار سے متعلق ہے اور اسی لیے اسے عظیم ترین حکمت کی کتاب کہا جاتا ہے۔ شرعی قوانین جن کا مقصد اسلامی معاشرے اور انسانی زندگی کو بنیادی انسانی فطرت کے مطابق منظم کرنا ہے، اس علم کی توسیع ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو تمام بنی نوع انسان کے لیے صرف اس لیے نازل کیا ہے کہ وہ تخلیق کے اغراض و مقاصد سے آگاہ ہوں۔

· "وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں، اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو۔" [آیت:2:2]

· یہ لوگوں کی آنکھیں کھولنا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت و رحمت۔ [آیت: 45:20]

·  اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں۔ [آیت 59:21]

پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا، پڑھو، اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم، جس نے قلم سے لکھنا سکھایا، آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا، ہاں ہاں بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے، اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا، بیشک تمہارے رب ہی کی طرف پھرنا ہے (8-96:1)

مندرجہ بالا چار آیات سے قرآن پاک سے علم حاصل کرنے کی اہمیت واضح طور پر اجاگر ہوتی ہے۔ جیسا کہ آیات (8-96:1) میں پڑھنے کی الہٰی ہدایت انسانوں کے لیے کتاب فطرت اور قرآن پاک سے حصول علم کی واضح ہدایت ہے۔ جیسا کہ آیت 2:2 سے ظاہر ہے، ایمان اور تقویٰ قرآنی علم کے خزانے تک رسائی کی کنجی ہیں۔

اہل ایمان کے لیے قرآن اللہ کے وجود کا واضح ثبوت ہے اور انہیں کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن کریم اہل ایمان کے لیے علم کا خزانہ ہے۔ یہ خلق خدا کے اسرار اور آفاقی قوانین فطرت کے نظام، اور بنیادی انسانی فطرت کے اخلاقی پہلوؤں کے ریگولیٹری میکانزم سے متعلق ہے۔

راہ تلاش کرنے والے کی حیثیت سے یہ مومنوں کے لیے سب سے بڑی رحمت ہے۔ اللہ نے پہاڑوں کو مضبوط پتھروں سے کھڑا کیا ہے لیکن اس کی رحمت پہاڑوں کے آہنی جگر سے پانی کے چشمے جاری کر دیتی ہے۔ اسی طرح قرآن پاک انسانوں کے پتھر جیسے دلوں کو پگھلا کر اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری کر دیتا ہے۔ قرآن انسانی دل کے درون تک پہنچ جاتا اس کی دل کی دنیا میں ایک ہلچل مچا دیتا ہے جس کے نتیجے میں انسان کے خیالات اور شعور میں بے مثال تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسلامی تہذیب کے ابتدائی دور میں یہی ہوا تھا۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور بہت سے دوسرے صحابہ (رضی اللہ عنہم اجمعین) کے ذہنی ردعمل نے آیات: 59:21 اور 29:23 کی سچائی کو ثابت کیا۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے:

اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا،(54:22)

 اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا، (54:32)

قرآن پاک کو بنی نوع انسان کے لیے سمجھنے میں آسان بنانے کے لیے اللہ نے جو سہولتیں عطاء کی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

 1. اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو

 (39:27)

 2. قران کی فصاحت و بلاغت اور اس کی لسانی چاشنی نے قرآن پاک کو بچوں کے لیے بھی یاد کرنا آسان بنا دیا ہے۔ یہ واحد کتاب ہے جو کروڑوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے اور اس کے علاوہ کسی دوسری کتاب کی یہ شان نہیں ہے۔ جہاں تک قرآن کریم کی لسانی انفرادیت کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

 "اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے دوہرے بیان والی اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یادِ خدا کی طرف رغبت میں یہ اللہ کی ہدایت ہے راہ دکھائے اس سے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔(39:23)

 3.     نامعلوم حقیقتوں کے سببی تعلق کے تناظر میں خالق کو تلاش کرنے اور اسے سمجھنے کی یہودی روایت کے برخلاف، قرآن پاک انسانوں کو تاریکی میں ٹٹولنے کے بجائے معلوم شدہ حقائق کی روشنی میں خالق کو تلاش کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا سب سے بڑا سبق ہے۔

 ·  سوجھ اور سمجھ ہر رجوع والے بندے کے لیے۔ (آیت 50:8)

 اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو، اور خود تم میں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں، اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے" (آیت: 22-51:20)

 ابدی حقیقت کو سمجھنے اور ہدایت الٰہیہ کو قبول کرنے میں انسانوں کی فہم و فراست کی آسانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو سمجھنا آسان بنا دیا ہے۔ لیکن ہم اپنی ہوس اور جہالت کی وجہ سے اس تک رسائی کو مشکل بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 خاندان، معاشرے، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اسلامی اقدار پر مبنی نظام قائم کرنے کے لیے قرآن پاک کا تخلیقی مطالعہ اور حقیقت پسندانہ تحقیق کی ضرورت ہے۔

 مادیت پر مبنی نقطہ نظر نے بنی نوع انسان کو خود غرضی کے غلام بنا دیا ہے۔ سماجی اور قومی سطح پر تقویٰ یا اسلامی اخلاقیات کی اعلیٰ ترین شکل کو فروغ دینے کے لیے تعلیم اور ثقافت میں ایسے اجزائے ترکیبی کی ضرورت ہے جو سائنس اور روحانیت دونوں سے مرکب ہو۔ اسلام مذہبی اقدار، تعلیم اور ثقافت میں کبھی بھی ملاوٹ کی اجازت نہیں دیتا۔

قرآن کریم تمام آسمانی نشانیوں اور آسمانی کتابوں کے منکروں کو اندھا، بہرا اور گونگا قرار دیتا ہے۔ قرآن پاک کہتا ہے: ’’اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں۔"

اللہ تعالیٰ نے انسان اور کائنات کو ایک خاص مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کوئی بھی واقعہ خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو وہ پہلے سے طے شدہ منشائے الٰہیہ کے ایک لازمی حصہ کے طور پر کسی مخصوص الہی مقصد کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ آیت 65:3 کا اعلان ہے:

 ---- بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے ۔

اللہ کی ہر تخلیق خواہ چھوٹی ہو یا بڑی منشائے الٰہیہ کی تکمیل میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک ظالم کو دوسرے کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرنا اور متضاد متنوع مخالف قوتوں کی طرف متوجہ کرنا، تاکہ پہلے سے طے شدہ الٰہی مقصد کی تکمیل ہو، آفاقی نظم و نسق میں ایک توازن قائم رکھنے کے لیے ایک اہم الٰہی حکمت عملی ہے۔

 لہٰذا قرآن پاک کے مطابق، اندھی فطرت کی خواہشات عالمگیر نظام فطرت اور تخلیقی ارتقاء کی رہنما محرک نہیں ہو سکتیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اعلان فرمایا: (اے انسان) کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے اگر چاہے تو تمہیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔" [آیت: 14:19]

 اس حقیقت کو بطور کائنات کے اجزاء ترکیبی کے، قرآن اور سائنس کے انضمام سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ نیچرل سائنس مادی دنیا کی فطری حقیقت کو ظاہر کرتی ہے جو کہ قرآنی اصطلاح میں ’’آیات محکم‘‘ ہے۔ چیزوں کی حتمی نوعیت صرف دونوں کے انضمام کے ذریعے ہی معلوم کی جا سکتی ہے۔ آیت محکم اور متشابہات سائنس اور روحانیت۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت نمبر 41:53 میں واضح طور پر اعلان کیا ہے۔

 ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں اور خود ان کے آپے میں یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ بیشک وہ حق ہے کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں۔ [41:53]

 مندرجہ بالا آیت قرآن کریم کی سچائی کے انسانی ادراک کے ارتقاء اور تمام آسمانی مخلوقات کے اسرار کا ایک واضح حوالہ ہے، جسے جدید سائنس کی تازہ ترین دریافتیں قدم بہ قدم سچ ثابت کر رہی ہیں۔ آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت اور اس کے بعد میکس پلانک کا کوانٹم میکانکس کا نظریہ زمین اور کائنات میں کہیں بھی زندگی کے ظہور اور تخلیق کے اسرار سے پردہ اٹھانے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

اضافیت، فلکی طبیعیات، کاسمولوجی وغیرہ کے جدید سائنسی نظریات میکرو سطح پر اسرار کو کھولنے کا امکان رکھتے ہیں، جب کہ ممکن ہے کہ حیاتیات، جینیات، مائیکرو مالیکیولر اور کوانٹم بیالوجی- سبھی مائیکرو سطح پر اپنا کردار ادا کریں۔ دونوں کے انضمام کے نتیجے میں مستقبل میں یونیفائیڈ تھیوری آف کریشن کا جنم ہو سکتا ہے۔

مادے اور شعور کے سوال پر، کوانٹم میکانکس کے موجد میکس پلانک نے کہا، "میں شعور کو بنیادی سمجھتا ہوں؛ میں مادے کو شعور سے ماخوذ سمجھتا ہوں۔ ہم شعور سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔" اس سے مادیت پسندانہ دعوے کی زبردست تردید ہوتی ہے کہ ’’شعور مادے سے ماخوذ ہے۔‘‘

قرآن پاک کے مطابق اللہ کا علم، آفاقی شعور اور مادی کائنات کے پورے دائرے پر محیط ہے۔ اور قرآن پاک ایک آئینہ ہے جو انسانی زندگی کے تخلیقی اصول وضابطے کے لیے انسانی شعور پر روشنی ڈالتا ہے۔ لیکن یہ مستقبل میں ہر دور کے سائنسی علم کے ارتقاء کے وسیع خزانے کے ساتھ تخلیقی انضمام سے ہی ممکن ہے۔

سائنس اور قرآن پاک میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ بلکہ مسئلہ قرآنی آیات کے جوہر کو سمجھنے میں ہماری تنگ نظری کا ہے۔ قرآن پاک کسی بھی سائنسی دریافت کی مادیت پسند تشریح کے سخت خلاف ہے۔

جدید سائنس کے کوانٹم اپروچ نے انکشاف کیا ہے کہ متنوع فطری قوتوں کا انضمامی طرزِ عمل ایک منفرد عالمگیر شعور کے وحدانی غلبہ کا مظہر ہے۔

سائنسی ترقی کا موجودہ رجحان انسانی شعور کو مشرکانہ غلامی سے آزادی کی طرف لے جاتا ہے اور اسے توحید پرستی کے بندھن میں باندھتا ہے جس کی وضاحت سائنسی نقطہ نظر سے مجوزہ "تھیوری اف ایوری تھنگ" سے کی جائے گی، اور جو توحید یا اللہ کی وحدانیت کو ظاہر کرے گا جیسا کہ قرآن پاک میں بیان کیا گیا ہے۔

متوقع سائنسی “تھیوری آف ایوری تھنگ”، آئن سٹائن کا جنرل اور اسپیشل تھیوری آف ریلیٹیوٹی، کوانٹم میکینکس، سٹرنگ تھیوری، ڈارون کی تھیوری آف ایوولوشن، تھیوریز آف بائیولوجیکل ایوولوشن- یہ تمام سائنسی نظریات تخلیقی مادے زندگی اور شعور کے رازوں کو سمجھنے کے لیے انتہائی طاقتور علمی ہتھیار ہیں۔ "آیتِ مُتَشَابہات" کی "آیاتِ محکم" میں بل کھاتی ہوئی ارتقائی تبدیلی ، اس کے برعکس مینی، مائیکرو اور نینو سطح پر واقعات کی میکرو سطح کی حقیقتوں میں باہمی تبدیلی کے فطری عمل میں ظاہر ہوتی ہے۔ اور اسی مقام پر قرآن پاک کی منطقی اہمیت و افادیت ظاہر ہوتی ہے۔

English Article: Learning From the Holy Quran: Its Significance and Logical Relevance

URL: https://newageislam.com/urdu-section/learning-quran-significance-logical-relevance/d/132164

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..