کنیز فاطمہ نیو ایج اسلام
24 اپریل 2026
انسانی تاریخ کا ایک طویل دور ایسا گزرا ہے جس میں ترقی، تہذیب اور سماجی ارتقاء کے بیشتر کارنامے مرد کے نام سے منسوب کیے جاتے رہے، جبکہ عورت کے کردار کو یا تو نظر انداز کیا گیا یا پسِ پردہ رکھا گیا۔ تاہم اسلام کے ظہور نے اس یک طرفہ تصور کو یکسر بدل دیا۔ اسلام نے مرد و عورت دونوں کو ایک ہی انسانی خاندان کے برابر اور باوقار رکن کے طور پر تسلیم کیا اور دونوں کی صلاحیتوں کو ترقی کے عمل میں شامل کیا۔ اسلام نے عورت کو جو عزت، مقام اور حقوق عطا کیے، ان کی مثال نہ قدیم تاریخ میں ملتی ہے اور نہ ہی دیگر مذاہب میں اس کی کوئی واضح نظیر پائی جاتی ہے۔ اس نے عورت کو محض حقوق دے کر نہیں چھوڑا بلکہ اسے مرد کے برابر ایک مکمل انسان قرار دیتے ہوئے معاشرے کی تعمیر و اصلاح میں فعال کردار ادا کرنے کا اہل بنایا۔
تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ حقوق بھی بڑی حد تک فراموش کر دیے گئے جو اسلام نے عورت کو عطا کیے تھے۔ اس صورتِ حال کی بنیادی وجوہات میں تعلیم کی کمی، شعور کا فقدان اور بعض معاشروں میں مردانہ بالادستی کا غیر متوازن تصور شامل ہیں، جس کے نتیجے میں عورت اپنی حقیقی حیثیت اور مقام سے محروم نظر آتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عورت چاہے ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو یا بیٹی، ہر روپ میں قدرت کا ایک قیمتی تحفہ ہے۔ اس کے بغیر انسانی زندگی کی رونق ماند پڑ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو اس کا محافظ اور سائبان بنایا، جبکہ عورت کو محبت، شفقت، تربیت اور استقامت کا سرچشمہ بنایا۔ عورت اپنی ذات میں ایک تناور درخت کی مانند ہے جو زندگی کے سرد و گرم حالات کا دلیری سے مقابلہ کرتی ہے۔ اسی عزم و حوصلے کی بنیاد پر اسلام نے اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عورت اگر اپنے کردار کو درست انداز میں نبھائے تو وہ نہ صرف خود کامیاب ہوتی ہے بلکہ دوسروں کی کامیابی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
اسلام سے پہلے عورت کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا تھا۔ اسے نہ وراثت میں حصہ دیا جاتا تھا، نہ اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی، بلکہ بعض معاشروں میں اسے زندہ درگور تک کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے آ کر اس تاریک دور کا خاتمہ کیا اور عورت کو وراثت، نکاح میں رضا، تعلیم اور عزت و احترام جیسے بنیادی حقوق عطا کیے۔ قرآن مجید نے واضح طور پر اعلان کیا کہ عورتوں کے لیے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام نے عورت کو مکمل انسانیت کا درجہ دیا ہے۔
تاریخِ اسلام ایسی عظیم خواتین سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے کردار، علم اور قربانیوں سے دنیا کے لیے روشن مثالیں قائم کیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے سخت ترین حالات میں بھی نبی کریم ﷺ کا ساتھ دیا اور اپنی بے مثال قربانیوں سے تاریخ میں ایک سنہری باب رقم کیا۔ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا علم و حکمت کا ایک عظیم سرچشمہ تھیں۔ آپ نے درجنوں صحابہ کرام کو علم حدیث سکھایا اور اسلامی تعلیمات کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی صبر، حیا اور استقامت کی بہترین مثال ہے، جنہوں نے ہر حال میں حق کا ساتھ دیا اور خواتین کے لیے ایک مکمل نمونۂ حیات پیش کیا۔
دیگر عظیم خواتین جیسے حضرت ہاجرہ، حضرت آسیہ، حضرت مریم، حضرت سمیہ، حضرت ام عمارہ اور حضرت صفیہ کی زندگیاں بھی اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ عورت اگر عزم و ایمان کے ساتھ زندگی گزارے تو وہ تاریخ کا دھارا بدل سکتی ہے۔ حضرت ہاجرہ کی صفا و مروہ کے درمیان سعی کو قیامت تک کے لیے عبادت بنا دیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت کی کوشش اور جدوجہد کو اسلام میں کتنی اہمیت حاصل ہے۔
تعلیم و تدریس کے میدان میں عورت کا کردار نہایت اہم اور بنیادی ہے۔ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ قرار دیا جاتا ہے، جہاں سے اس کی شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور بااخلاق ماں نہ صرف اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرتی ہے بلکہ ایک مثالی معاشرہ تشکیل دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ایک مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے جبکہ ایک عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے۔ عورت بطور معلمہ اور مربیہ نئی نسل کو نہ صرف علم دیتی ہے بلکہ انہیں اخلاق، تہذیب اور ذمہ داری کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔
معاشرے کی اصلاح و بہتری میں بھی عورت کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ چونکہ معاشرے کی بنیادی اکائی گھر ہے اور گھر کا محور عورت ہوتی ہے، اس لیے معاشرے کی اصلاح کا آغاز بھی عورت سے ہوتا ہے۔ اگر گھر کا ماحول پاکیزہ، مہذب اور دینی اقدار پر مبنی ہو تو پورا معاشرہ خود بخود سنور جاتا ہے۔ عورت اپنے کردار، صبر، برداشت اور حکمت عملی سے نہ صرف خاندان کو جوڑے رکھتی ہے بلکہ معاشرتی برائیوں کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
موجودہ دور میں خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں صنفی امتیاز، معاشی استحصال اور بعض اوقات ریاستی جبر بھی شامل ہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد آج بھی بنیادی حقوق سے محروم ہے، جو ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ مادہ پرستی اور اخلاقی زوال نے بھی معاشرے کو متاثر کیا ہے۔ ان تمام مسائل کا حل تعلیم، شعور اور اسلامی اقدار کی پیروی میں پوشیدہ ہے۔
ایک مثالی عورت وہ ہے جو ایمان، علم، صبر، حیا اور ذمہ داری کے اوصاف سے مزین ہو۔ وہ نہ صرف اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بناتی ہے بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ عورت اگر اپنی صلاحیتوں کو پہچان لے اور انہیں درست سمت میں استعمال کرے تو وہ ایک کامیاب معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عورت محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل ادارہ ہے۔ اس کی تربیت، تعلیم اور کردار سازی پورے معاشرے کی تقدیر کا تعین کرتی ہے۔ اگر عورت سنور جائے تو نسلیں سنور جاتی ہیں اور اگر وہ غفلت کا شکار ہو جائے تو معاشرہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ خواتین کو تعلیم، عزت اور مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ایک بہترین آئیڈیل بن کر معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
----------
کنیز فاطمہ اسلامک اسکالر (عالمہ و فاضلہ) نیز نیو ایج اسلام کی مستقل کالم نگار ہیں ۔
---------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/women-society-key-reform-progress/d/139774
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism