New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 08:42 PM

Urdu Section ( 24 March 2019, NewAgeIslam.Com)

Women Rights in Islam اسلام میں عورتوں کے حقوق


کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام

عورت کو ذلت اور غلامی کی زندگی سے آزاد کرانے اور ظلم واستحصال سے نجات دلانے  میں اسلام نے اہم کردار نبھایا ۔ وہ تمام برے رسوم جو عورت کے انسانی عزت ووقار کو داغدار کرنے والی تھیں ان سب کا اسلام نے خاتمہ کیا اور عورتوں کو  متعدد حقوق عطا کئے  جن پر انہیں   اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے ۔  اس بات سے انکار نہیں کہ مغربی تہذیب بھی عورت کوبعض حقوق دیتی ہے مگر عورت کی حیثیت سے نہیں، بلکہ یہ اس وقت عورت کو عزت دیتی ہے، جب وہ ایک مصنوعی مرد بن کر ذمہ داریوں کابوجھ اٹھانے پر تیار ہوجائے۔ اس کے برعکس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا لایا ہوا دین عورت کی حیثیت سے ہی اسے ساری عزتیں اور حقوق دیتا ہے اور وہی ذمہ داریاں اس پر عائد کی جو خودفطرت نے اس کے سپرد کی ہے۔ ان میں سے بعض حقوق درج ذیل ہیں:

1۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کے درجے میں عورت اور مرد کو برابر رکھا ہے۔ انسان ہونے کے ناطے عورت کا وہی رتبہ ہے جو مرد کو حاصل ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً

‘‘اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے، ‘‘ (سورہ نساء : ۴:۱)

اس آیت کریمہ کی روشنی میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان ہونے میں مرد وعورت سب برابر ہیں۔ یہاں پر مرد کے لیے اس کی مردانگی قابلِ فخر نہیں اور نہ عورت کے لیے اس کی نسوانیت باعثِ عار۔ یہاں مرد اور عورت دونوں انسان کی حیثیت سے اپنی خلقت اور صفات کے لحاظ سے فطرت کا عظیم شاہکار ہے۔ جو اپنی خوبیوں اور خصوصیات کے اعتبار سے ساری کائنات کی محترم بزرگ ترین ہستی ہے۔ قرآن میں ا شاد ہے: وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُم مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً’’ ترجمہ : ‘‘ہم نے بنی آدم کو بزرگی وفضیلت بخشی اور انھیں خشکی اور تری کے لیے سواری دی۔ انھیں پاک چیزوں کا رزق بخشا اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سی چیزوں پر انھیں فضیلت دی’’ (سورہ بنی اسرائیل: ۷۰)

ایک آیت میں ارشاد فرمایا: لَقَدْ خَلَقْنَا الاِنْسَانَ فِی اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ (التین: ۴) یعنی   ‘‘ہم نے انسان کو بہترین شکل وصورت میں پیدا کیا’’۔ چنانچہ آدم کو جملہ مخلوقات پر فضیلت عطا کی  گئی اور بحیثیت انسان جو سرفرازی عطا کی گئی اس میں عورت برابر کی حصے دارہے۔

2۔ استحقاق اجر میں عور ت اور مرد دونوں برابر ہیں یعنی مرد اور عورت دونوں میں سے جو کوئی جیسا عمل کرے گا اسے اس کی پوری ور برابر جزا ملے گی۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ.

ترجمہ : ‘‘تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو ۔۔’’’(سورہ آل عمران، ۳:۱۹۵)

3۔کچھ قبائل میں نوزائیدہ بچی کو زندہ زمین میں گاڑنے کا رواج تھا یہ محض رسم نہ تھی بلکہ انسانیت کا قتل تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے اس انسان دشمنی رواج کا خاتمہ کیا ۔

4۔ اسلام نے عورت کو تربیت اور نفقہ کا مستحق بنایا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت ’’ولی الامر‘‘ کی طرف سے ملے گی۔

5۔ عورت کی عزت ووقار کو داغدار کرنے والے زمانہ جاہلیت کے قدیم نکاح جو درحقیقت زنا تھے، اسلام نے ان سب کو باطل قرار دیا اور عورت کو عزت عطا کی ۔

6۔ جس طرح مردوںکو حق ملکیت حاصل ہے اسی طرح اسلام نے عورتوں کو بھی حقِ ملکیت عطا کی ہے ۔ وہ نہ صرف خود کمانے کے لیے بزنس وغیرہ سکتی ہے بلکہ وراثت میں حاصل ہونے والی املاک کی مالک بھی بن سکتی ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًاO

‘‘مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا’’ (سورہ  النساء، ۴:۷)

7۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کو بحیثیت ماں سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ، عرض کیا پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہاری والدہ، عرض کی پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا تمہاری والدہ، عرض کی پھر کون ہے؟ فرمایا تمہارا والد۔(  بخاری، الصحيح، کتاب الأدب، باب من احق الناس بحسن الصحبة، 5 : 2227، رقم : 5626)

8۔ اسلام نے بیٹی کو نہ صرف احترام و عزت کا مقام عطا کیا بلکہ اسے وراثت کا حقدار بھی ٹھہرایا۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے : یُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ.

‘‘اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا ۔۔’’ ( سورہ النساء، ۴:۱۱)

9۔اسلام نے بہن کے حقوق اس طرح بیان کیا ہے ۔قرآن مجید میں ہے :  وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلاَلَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ فَإِن كَانُواْ أَكْثَرَ مِن ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّ.

‘‘اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے’’ (سورہ النساء  ۴:۱۲)

10۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیوی سے حسنِ سلوک کی تعلیم دی ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر ہو کر عرض گزار ہوا : یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھ لیا گیا ہے اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم واپس چلے جاؤ واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج پر چلے جاؤ۔‘‘ اور اسی تعلیم پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم عمل پیرا رہے۔( بخاری، الصحيح، کتاب الجهاد، باب کتابة الإمام الناس، 3 : 1114، رقم : 2896)

11۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرد اور عورت دونوں کی تعلیم وتربیت کو اہم اور ضروری قرار دیا۔ کوئی شخص یہ ہرگز نہ کہے کہ اسلام نے عورت کو کم تر درجہ کی مخلوق مانتے ہوئے اس کی تعلیم و تربیت نظر انداز کر دی ہے۔ ؎؎؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: الرَّجُلُ تَکُوْنُ لَهُ الْأمَةُ فَيُعَلِّمُهَا فَيُحْسِنُ تَعْلِيْمَهَا، وَ يُؤَدِّ بُهَا فَيُحْسِنُ أدَبَهَا، ثُمَّ يُعْتِقُهَا، فَيَتَزَوَّجُهَا، فَلَهُ أجْرَانِ.

ترجمہ:‘‘اگر کسی شخص کے پاس ایک لونڈی ہو پھر وہ اسے خوب اچھی تعلیم دے اور اس کو خوب اچھے آداب مجلس سکھائے، پھر آزاد کرکے اس سے نکاح کرے تو اس شخص کے لئے دوہرا اجر ہے۔‘‘( بخاری، الصحيح، کتاب الجهاد، باب فضل من أسلم من اهل الکتابين، 3 : 1096، رقم : 2849)

انسان کی ترقی کا انحصار علم پر ہے کوئی بھی قوم یا شخص علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا اور زندگی کے مراحل میں زیادہ آگے نہیں سوچ سکتا اور نہ ہی مادی ترقی کا کوئی ذریعہ تلاش کر سکتا ہے ۔لیکن اس کے باوجود تاریخ کا ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جس میں عورت کے لیے علم کی ضرورت واہمیت کو نظر انداز کیاگیا اور اس کی ضرورت صرف مردوں کے لیے سمجھی گئی اور ان میں بھی جو خاص طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں صرف وہی علم حاصل کرتے تھے اور عورت علم سے بہت دور جہالت کی زندگی بسر کرتی تھی۔

لیکن اسلام نے علم کو فرض قرار دیا اور مرد وعورت دونوں کے لیے اس کے دروازے کھولے اور جو بھی اس راہ میں رکاوٹ وپابندیاں تھیں، سب کو ختم کردیا۔اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کی طرف خاص توجہ دلائی اور اس کی ترغیب دی، جیسا کہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طلب علم فریضة اور دوسری جگہ ابوسعید خدی کی روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وأحسنَ الیہِنَّ فلہ الجنة (ابوداوٴد، باب فضل من عال فی یتامی، مکتبہ معارف للنشر والتوزیع، ص:۹۳۱) ترجمہ : ‘‘جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے’’

گویا مندرجہ بالا قرآنی آیات و احادیث نبوی سے پتہ چلا کہ اسلام نے عورت کو معاشرے میں نہ صرف باعزت مقام و مرتبہ عطا کیا بلکہ اس کے حقوق بھی متعین کردیئے جن کی بدولت وہ معاشرے میں پرسکون زندگی گزار سکتی ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/kaniz-fatma,-new-age-islam/women-rights-in-islam-اسلام-میں-عورتوں-کے-حقوق/d/118112

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..