New Age Islam
Wed Apr 15 2026, 09:24 AM

Urdu Section ( 22 March 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Wali Dakni: A Poet of Love and Humanity ولی دکنی انسانیت اور محبت کا شاعر

کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام

22 مارچ 2023

1.      ولی دکنی اپنی شاعری میں محبت، انسانیت ، یگانگت اور وطن دوستی کا پیغام دیتے ہیں ۔

2.      ولی دکنی کی شاعری کی ایک حقیقت یہ ہے کہ امیر خسرو ، کبیر ، بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت نظام الدین اولیا اور اسی طرح دیگر ہندوستان کے صوفیا کے دور سے چلی رواداری ، اتحاد پسندی ، محبت اور بھائی چارے کی جو روایت تھی اس سب کا اثر ولی دکنی کی شاعری نے قبول کیا۔

3.      ولی دکنی خانقاہی ماحول کے تربیت یافتہ تھے ۔صوفیانہ مسلک کی وجہ سے ان کی شخصیت گداختگی، انسان سے رفاقت و دردمندی سے عبارت تھی۔

۔۔۔

ولی دکنی

------

ہم سب کا وطن ہندوستان ہے جس کی روایت امن، محبت، شانتی اور اہنسا پر مبنی ہے ۔ مگر پچھلے کچھ برسوں سے اسی وطن عزیز میں نفرت اور تشدد کا کاروبار زوروں پر ہے ۔ یہ کہنا اچھا نہیں لگتا لیکن ایک ملک جو اپنے تکثیری معاشرہ اور گنگا جمنی تہذیب پر ناز کرتا ہو اس معاشرے کی عمارت اب نفرت کی دیوار پر قائم کی جا رہی ہے ۔ ایسی حالت میں کیا ہم لوگ جو قلم اور الفاظ کے تقدس کے امین ہیں کیا ہمیں خاموش رہنا چاہیے؟ نہیں بالکل نہیں ۔ بلکہ ہمیں نفرت کی فضا کو محبت میں بدلنے کی ہر ممکن تدبیر کرنی چاہیے اور ہر اس آواز کو زیادہ سے زیادہ سامنے لانا چاہیے جو انسانی محبت کی آواز ہو ۔ اسی ضمن میں ایک آواز مشہور شاعر ولی دکنی کی ہے جسے انسانیت، محبت اور تصوف کا شاعر مانا جاتا ہے ۔ گوپی چند نارنگ نے اپنے ایک مضمون میں کہا تھا کہ ‘‘طاقت ادیب یا شاعر کے پاس نہیں ہوتی بلکہ طاقت سیاست کے پاس ہوتی ہے ، البتہ انسانی اقدار ادیب کے ساتھ ہوتی ہیں ۔ سیاسی طاقت قدروں پر سمجھوتہ کرتی ہے مفاہمت کرتی ہے ۔ سیاست نام ہی سمجھوتے بازی کا ہے لیکن ہمارا کام یہ ہے کہ ہم بے خوفی سے اہل سیاست کو متوجہ کرتے رہیں ، تنبیہ کرتے رہیں اور محبت اور انسانیت کی آواز اٹھاتے رہیں’’۔ 

ولی دکنی نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ گجرات میں گزارا اور اس شہر سے جو قلبی لگاو تھا اس کا اندازہ ان کی شاعری میں جگہ جگہ کیا جا سکتا ہے ۔ولی دکنی کی شاعری کا ایک حصہ دکنی ہے اور ایک حصہ فارسی آمیز ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک حصہ ایسا بھی ہے جس میں ہندوستانی زبان کا رنگ و آہنگ یعنی سرل سلیس اردو ، سادہ ، سہولت سے بولی جانے والی ہندوستانی زبان کا گنگا جمنی خوبصورت ادبی آہنگ دیکھا جا سکتا ہے  اور اس کی وجہ سے محمد حسین آزاد نے ولی دکنی کو اردو شاعری کا باوا آدام کہا تھا ۔

ولی دکنی کا دہلی آنا ان کے عروج و مقبولیت کا ایک ذریعہ بنا  اور ان کا کلام دہلی میں گایا گیا ۔ یہی دور تھا جب شمال ہندوستان میں اردو غزل کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے ۔ولی دکنی کی شاعری کی ایک حقیقت یہ ہے کہ امیر خسرو ، کبیر ، بابا فرید الدین گنج شکر اور حضرت نظام الدین اولیا اور اسی طرح دیگر ہندوستان کے صوفیا کے دور سے چلی رواداری ، اتحاد پسندی ، محبت اور بھائی چارے کی جو روایت تھی اس سب کا اثر ولی دکنی کی شاعری نے قبول کیا ۔

ولی دکنی اپنی شاعری میں محبت، انسانیت ، یگانگت اور وطن دوستی کا پیغام دیتے ہیں ۔ان کے شاگردوں نے بھی اس پیغام کی خوب ترویج و اشاعت کی ۔اشرف گجراتی ولی دکنی کا شاگرد ہے ۔جب نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا اور کافی تعداد میں لوگ قتل کیے گئے تو اسی نادر شاہ کے بارے میں اشرف گجراتی کا شعر ہے:

یا الہی دفع کر اس ظالم بد بخت کوں

جس کے بے مہری و سختی سے فساد ہند ہے

ولی دکنی اپنے آبائی شہر گجرات سے حد درجہ محبت کرتا ہے اور اپنے متعدد اشعار میں اس کا اظہار بھی کیا ہے ۔ایک مکمل قطعہ گجرات کے فراق میں کہا ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں:

گجرات کے فراق سو ں ہے خار خار دل

بے تاب ہے سینے میں آتش بہار دل

مرہم نہیں ہے زخم کا س کے جہاں میں

شمشیر ہجر سوں جو ہوا ہے فگار دل

ولی دکنی خانقاہی ماحول کے تربیت یافتہ تھے ۔صوفیانہ مسلک کی وجہ سے ان کی شخصیت گداختگی، انسان سے رفاقت و دردمندی سے عبارت تھی۔ولی دکنی نے اپنی صوفیانہ زندگی کو گوشہ نشینی ، تنہائی اور عزلت گزینی تک محدود رکھا تھا ۔نظیر اکبر آبادی کی طرح وہ مجلسی زندگی کے دلدادہ تھے اور اپنے ہم جنسوں اور مخلوق خدا سے ربط و تعلق بڑھانے ، ان کے دکھ درد کو سمجھنے اور ان سے جذباتی تعلق اور وابستگی پیدا کرنے کے قائل تھے ۔

درج ذیل ولی دکنی کے چند اشعار اور ان کی تشریح ملاحظہ کریں:

کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ

کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ

اس شعر میں ولی دکنی کہتا ہے کہ میرے عشق نے اس ظالم محبوب کو بالاخر خراب کر دیا ، یعنی اس کی تلخی اور سختی کو نرمی میں تبدیل کر دیا ، ٹھیک اسی طرح جس طرح آگ کی آنچ سے پھول عرق میں تبدیل ہو جاتا ہے ، ہمارے عشق کی تپش نے بھی اس ظلم کرنے والے محبوب کو کرم کرنے پر مجبور کردیا ۔

شغل بہتر ہے عشق بازی کا

کیا حقیقی و کیا مجازی کا

اس شعر میں شاعر ولی دکنی نے صوفیانہ خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیںکہ عشق کا شغل ، محبت کا کام در اصل سب سے بہتر کام ہے ۔ وہ عشق چاہے عشق حقیقی ہو یا عشق مجازی ۔ یعنی عشق حقیقی تو محبت خدا ہے اور خدا کے بندوں سے عشق بھی در اصل خدا تک پہنچانے کا ایک زینہ ہے ۔

جو ہوا راز عشق سوں آگاہ

وہ زمانے کا فخر رازی ہے

شاعر کہتا ہے کہ جو آدمی عشق کے رازوں کا آشنا ہو جائے یعنی جو عشق کے رازوں کو جان لے اس کو زمانے میں وہ مرتبہ مل جاتا ہے کہ جس پر وہ فخر کر سکتا ہے ۔

اب جدائی نہ کر ، خدا سوں ڈر

بے وفائی نہ کر ، خدا سوں ڈر

چونکہ کسی کا دل دکھانا اللہ تعالی کو پسند نہیں لہذا شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کرکہتا ہے کہ ہم کو جدائی کا در مت دے کیونکہ اس عمل سے خدا ناراض ہوگا اور اس کی ناراضگی سے ڈرنا چاہیے ۔  

ولی دکنی کی شاعری بلا شبہ انسانیت اور محبت کا شاعر تھا ۔انسان سے ہمدردی نے ولی دکنی کے کلام کو عام آدمی کے محسوسات اور روز مرہ زندگی کے تجربات سے اتنا قریب کر دیا تھا کہ ان کی شاعری میں انہیں اپنے دل کی دھڑکنیں سنائی دیتیں اور اپنے دکھ درد کی آئینہ داری کا احساس ہوتا اور اپنے تجربات کا التہاب محسوس ہوتا تھا ۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/wali-dakni-poet-love-humanity/d/129374

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..