New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 09:10 PM

Urdu Section ( 28 March 2018, NewAgeIslam.Com)

Terrorism and Misuse of the word Jihad دہشت گرد او ر لفظ جہاد کا غلط اطلاق

 

  ان کے شان نزول اور تاریخی سیاق و سباق سے الگ کرکے  کر رہے ہیں۔جن آیات و احادیث کا تعلق جنگی واقعات سے ہے ان کا اطلاق یہ لوگ ایسے ماحول میں کر رہے ہیں جہاں مسلم اور غیر مسلم  پر مشتمل لوگ امن و شانتی سے گزر بسر کر رہے ہیں۔دہشت گردوں کی جماعت  اپنے غیر اسلامی اہداف کے پیش نظر جہاد، شہادت ، خلافت ، دار الحرب اور دار الاسلام جیسی اصطلاحات کا غلط  استعمال کرکے عام مسلمانوں اور خصوصا نوجوانوں کو گمراہ کر تے ہیں اور وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ قرآن و حدیث میں ہے۔ جبکہ دہشت گردوں کی جانب سے یہ اسلام پر بہت بڑا الزام اور شریعت پر محض افترا ہے ۔ ان کے اس  خطرناک نظریے کا قرآن و حدیث اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ کسی زمانے میں اسلام  کی ان اصطلاحات کا استعمال خالص دین ، جان و مال کی حفاظت اور ہر طبقہ کے شہریوں کے تحفظ کے لئے ہوتا تھا لیکن آج لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ان اصطلاحات کا بے دریغ استعمال کر کے سادہ لوح مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیل رہے ہیں ۔ایسے لوگوں کے پاس عوام کو متاثر کرنے کے لیے کوئی منظم پروگرام نہیں ہوتا اس لیے وہ قرآن و حدیث کے اصطلاحات کا استعمال کرکے عوام کو مشتعل کرنے اور پھر اپنے ذاتی مقاصد کی تحصیل کی کوشش کرتے ہیں۔دہشت گردوں کے ذریعے سب سے زیادہ غلط استعمال جس لفظ کا ہوتا ہے وہ لفظ  جہاد ہے ۔اور لفظ جہاد کے غلط استعمال کے سبب ہی بعض لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جہاد کا معنی قتال ہے ۔حسب ذیل ہم اسی  بد گمانی کو دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔

 مگر جہاد کے متعلق پانچ آیات کریمہ نازل ہوئیں ۔اب سوال پیدا ہوتا ہے اگر مکی دور میں  ستر آیات کریمہ کے نزول نے جنگ کی ممانعت کر دی تو  پھر جہاد کے متعلق  تب پانچ آیتیں کیوں نازل  ہوئیں ؟ کیا جہاد کا معنی قتال نہیں ؟ آئیے ہم حسب ذیل میں تحریر میں بخوبی سمجھیں۔

  جہاد کا حکم دیا گیا ہے ؟ یہ پانچوں آیتیں ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں نازل ہوئیں جب  اپنی حفاظت میں بھی ہتھیار اٹھانے کی سختی سے ممانعت تھی اور تاریخ اس بات پر گواہ ہے مسلمانوں نے اس مکی دور میں عملا کوئی جنگ نہیں لڑی۔ اگر جہاد کا معنی لڑنا ہوتا یا قتال ہوتا  تو  مکی دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ضرور ہتھیار اٹھاتے اور اپنی حفاظت میں جنگ لڑتے ، لیکن ان میں سے کسی کو بھی اس وقت جنگ کی اجازت نہیں حالانکہ جہاد کے متعلق پانچ آیات کا نزول ہو چکا تھا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ لفظ جہاد کا استعمال مسلح لڑائی کے علاوہ کئی اور معانی میں ہوتا ہے ۔ایک نقطہ بہت اہم ہے کہ آج اگر کوئی ملک کسی ملک پر حملہ کرے تو دوسرا ملک فوری طور پر دفاعی جنگ شروع کر دے گا لیکن مکی دور کے مسلمانوں کی صبر  کا اندازہ لگائیے کہ تقریبا  تیرہ سال تک صعوبتوں اور ظالموں کے ظلم و ستم کا سامنا کرنے کے باوجود بھی دفاعی  جنگ کے لیے ہتھیار نہیں اٹھائے۔یہ وہ نقطہ ہے جسے ہر صاحب علم و دانش کو غور کرنا چاہئے ۔آئیے  مکی دور میں جہاد کے متعلق نازل ہونے والی  درج ذیل پانچ  آیات پر غور کریں  ۔

  مراد ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ اس آیت میں  میں جہاد سے مراد قتال یا جہاد بالسیف ہر گز نہیں ۔

  ۔ تو معلوم ہوا کہ اس آیت میں  میں جہاد سے مراد قتال یا جہاد بالسیف ہر گز نہیں ۔

  ترقی دینے کی کوشش کو جہاد کا نام دیا گیا ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ اس آیت میں  میں جہاد سے مراد قتال یا جہاد بالسیف ہر گز نہیں ۔

  میں جہاد سے مراد قتال یا جہاد بالسیف ہر گز نہیں ۔

  ان  میں صراحۃ جہاد کا تذکرہ ہوا ہے لیکن پھر بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے کوئی جنگ مکی دور میں نہیں لڑی بلکہ انہیں دفاعی جنگ کی اجاز ت ہجرت مدینہ کے بعد دی گئی تھی ۔اگر جہاد کا معنی قتال ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکی دور میں ہی جہاد بالسیف کی اجازت دے دیتے ۔لیکن اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت ہجرت مدینہ کے بعد ملی ۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہوا ؟  اس کا معقول جواب ہے کہ جہاد کا معنی قتال ، جنگ یا لڑائی ہے ہی نہیں ۔ جو لوگ جہاد کا معنی جنگ یا لڑائی لیتے ہیں وہ  غلطی پر ہیں ۔

  مندرجہ بالا پانچ آیات  پر غور کریں جن  میں جہاد کی تلقین دی گئی ہے  تو آپ کو معلوم ہوگا جہاد کا معنی صرف یہ نہیں ہے کہ بندوق لے کر جنگ یا لڑائی شروع کردی جائے بلکہ جہاد  کا معنی علم و معرفت کی ترویج و اشاعت   ، اخلاقی و روحانی ترقی، فکری و فلاحی کوشش، اور سماجی طور پر  مالی تعاون و خیرات ہے ۔ہاں جب جارحیت کی جنگ ملکی سطح پر آپ پر مسلط کر دی جائے تب آپ کو اجازت ہے کہ آپ اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت اور دفاع کی جنگ لڑیں ۔دفاعی جنگ وہ لڑائی ہے جس کی اجازت  یو این (UN URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/kaniz-fatma,-new-age-islam/terrorism-and-misuse-of-the-word-jihad-دہشت-گرد-او-ر-لفظ-جہاد-کا-غلط-اطلاق/d/114754

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..