New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 10:14 AM

Urdu Section ( 31 March 2019, NewAgeIslam.Com)

Spiritual Concept of Mujahadah and Jihad In Islamic Mysticism اسلامی تصوف میں جہاد اور مجاہدہ کا روحانی تصور


کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام 

شیخ ولی تراش امام نجم الدین کبری (۱۱۴۵ ءتا ۱۲۲۱) مجاہدہ کا معنی بیان اس طرح بیان کرتے ہیں: ومعنى المجاهدة :بذل الجهد في دفع الأغيار ، والأغيار : الوجود والنفس والشيطان (فوائح الجمال ص 122)۔یعنی مجاہدہ کا معنی ہے اغیار  کو دور کرنے کی کوشش کرنا  اور اغیار کی تین قسمیں ہیں : وجود ، خواہش اور شیطان۔

امام ابو نجیم عبد القاہر سہروردی   (۵۶۳ھ) مجاہدہ  کی تشریح بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: هو فطم النفس عن مألوفتها، وحملها على خلاف أهويتها، ومنعها من الشهوات، وأخذها بالمكابدات وتجرع المرارات بكثرة الأوراد، واستدامة الصوم والنوافل من الصلوات، مع الندم على المخالفات ونقلها عن قبيح العادات (آداب المريدين ص 28) یعنی مرغوبات سے قطع تعلق کرنا ، خواہشوں کے خلاف لگنا ، شہوات سے باز رہنا ، نفس کی سرکشیوں پر سختی سے گرفت کرنا ، کثرت اوراد ، روزہ ونفل کے ذریعے اسے کڑوے گھونٹ پلانا ، اس کی سرکشیوں پر احساس ندامت وشرمندگی اور بری عادتوں سے بھلائی کی طرف منتقل ہونے کا نام مجاہدہ ہے ۔

آیات جہاد کی صوفیانہ تفسیر پر نگاہ ڈالنے سے قبل صوفیانہ تفسیر جو تفسیر اشاری کے نام سے بھی مشہور ہے کی تعریف بیان کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو جائے ۔

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ اس کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں : عبارۃ عن تاویل الآیات القرآنیۃ علی خلاف مایظھر منھا فمقتضی اشارات خفیۃ تظھر لارباب السلوک ویمکن التطبیق بینھا وبین الظواھر المرادۃ

یعنی تفسیر اشاری آیات قرآنیہ کی اس تاویل کو کہتے ہیں جو ظاہری معنی کے علاوہ ایسے معنی پر محمول ہو جو سالکین پر منکشف ہونے پوشیدہ اشارات کے مطابق ہو اور اس کے اور ظاہری معنی کے درمیان جمع وتطبیق کی بھی صورت ہو ۔

قرآن مجید کے ظاہری معنی کے علاوہ باطنی معانی بھی ہیں ، چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان القرآن علی سبعۃ احرف لکل آیۃ منھا ظھر وبطن ،ولکل حرف حد ومطلع ، یعنی قرآن مجید سات حروف پر نازل ہوا ، ہر آیت کا ایک ظاہر وباطن ہے اور ہر حرف کی حد ہے اور مطلع ہے ۔(صحیح ابن حبان )۔ اس کے علاوہ یہ جاننا ضروری ہے کہ تفسیر اشاری میں قرآن کی آیات کریمہ کو اس کے ظاہری مقتضی ومعنی پر باقی رکھتے ہوئے اس میں پوشیدہ اسرار ورموز کو بیان کیا جاتا ہے ۔

صوفیانہ تفسیر سے مراد ہے اصحاب تصوف کا حاصل شدہ پوشیدہ اشارات کی مدد سے قرآن کریم کی ایسی تفسیر کرنا جو اس کے ظاہری مفہوم کے خلاف تو ہو مگر اس کے ظاہری اور باطنی مفہوم میں جمع وتطبیق ممکن ہو۔صوفیانہ تفسیر کی ضروت اور اہمیت دور صحابہ میں بھی خوب رہی ۔مثال کے طور پر جب سورہ المائدہ کی آیت (الیوم اکملت لکم دینکم ) کا نزول ہوا تو اکثر صحابہ کرام بہت خوش ہوئے ۔مگر محدث ابن ابی شیبہ کی روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو عرض کیا کہ جب دین کامل ہوگیا تو اس کی تکمیل کے بعد اب تنزل کا آغاز ہوگا (اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہے)۔ اس پر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘تم سچ کہتے ہو ’’۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام صحابہ نے دین کی تکمیل کو ظاہری معنوں پر محمول کیا تھا اس لیے خوشی منائی تھی مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس آیت کے باطن سے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرقت کی بو آنے لگی اور یہ اس آیات کا اشاری مفہوم تھا ۔امام رازی نے حضرت عمر کے بجائے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہما کا نام لیا ہے اور اس بات کو آپ کے علمی کمال کے طور پر بیان کیا ہے ۔

درج ذیل چند آیات جہاد کی صوفیانہ تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔

۱۔ ارشاد باری تعالی ہے :(( لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا)

ترجمہ : برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنے والوں کا درجہ بیٹھنے والوں سے بڑا کیا اور اللہ نے سب سےبھلائی کا وعدہ فرمایا اور اللہ نے جہاد والوں کو بیٹھنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے۔ (النساء ۹۵)

امام صدر الدین ابو محمد روز بہان بقلی (۶۰۶ھ) مندرجہ بالا آیت کریمہ میں مذکور مجاہدین کی صوفیانہ تفسیر اس طرح کرتے ہیں : ‘‘(المجاہدین) الذین بدلوا بھجتھم فی طلب مشاھدۃ اللہ بوصف المراقبۃ ۔(والقاعدین) اھل الفترۃ ، قعدوا عن طلب جمالہ تعالی بحظوظ البشریۃ (والاجر العظیم) مشاھدۃ اللہ ووصول قربتۃ  (عرائس البیان فی حقائق القرآن  ج ۱ ص ۲۶۸) یعنی مجاہدین سے مراد وہ ہیں جنہوں نے مشاہدہ الہی کی طلب میں اپنی خوشیوں کو نفس کی نگہبانی سے تبدیل کردیا ۔یہ حضرارت ہمہ وقت نفس کی نگہبانی میں لگے رہتے ہیں ، اس کو حق تعالی کے ذکر وفکر سے غافل اور خواہشات ولذات میں منہمک نہیں ہونے دیتے ۔اور قاعدین سے کم ہمت اور سست لوگ مراد ہیں جو لذات دنیوی میں مبتلا ہو کر جمال باری کی طلب سے باز رہے ۔

شیخ نجم الدین کبری اسی آیت کریمہ کی صوفیانہ تفسیر اس طرح بیان کرتے ہیں (عربی سے ترجمہ ): اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طلب حق سے باز رہنے والے مومنین اگرچہ معذور ہوں لیکن وہ متقی مومنین سے درجہ میں برابر نہیں  ہیں ۔(اللہ کی راہ میں مجاہدہ کرنے والے) یعنی طلب حق میں حقوق طلب کی انجام دہی میں ڈٹے رہنے  والے (اپنے اموال کے ذریعے) یعنی ترک دنیا کرکے (اور اپنی جانوں کے ذریعے) یعنی طلب معبود میں اپنی ہستی کو فنا کرکے  (تکلیف میں مبتلا ہوئے بغیر) یہ حالت رفع میں مجاہدین کی صفت ہے ، یعنی اللہ کی راہ میں حق جہاد ادا کرنے والے اور مال وجان قربان کرکے جہاد سے کسی قسم کے کوئی ضرر کا اندیشہ نہ کرنے والے ۔اسی جانب یہ آیت دلالت کرتی ہے : (آپ کے فیصلے پر اپنے نفوس میں کوئی حرج نہیں پاتے ) پھر اللہ تعالی نے فرمایا : (اللہ تعالی نے جان ومال لگا کر جہاد کرنے والوں کو فضیلت عطا فرمائی ) یعنی انہیں فضیلت ولایت سے مشرف فرمایا اور جان ومال قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائی ۔

۲۔ ارشاد باری تعالی ہے : یجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ (ترجمہ: وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے )(المائدہ ۵۴)

اسی آیت کی صوفیانہ تفسیر میں امام ابوالقاسم  القشیری  رقمطراز ہیں : (اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ) یعنی اپنے نفوس سے طاعت کی مداومت کے ذریعے اور اپنے قلوب سے  اس کی خواہشوں اور مرادوں کو قطع کرکے اور اپنی ارواح سے تعلقات کو ہٹا کے اور اپنے اسرار سے ہمیشہ شہود پر استقامت کے ذریعے جہاد کرتے ہیں ۔پھر فرمایا (اور یہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خائف نہیں) یعنی کسی ہمدردی کی چارہ گری کی فکر نہیں کرتے۔

اسی طرح دیگر آیات جہاد کی بھی  صوفیانہ  تفسیر کی گئی ہے لیکن اس سے یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ صوفیا کرام جہاد بمعنی قتال کے منکر تھے ۔ان کا نظریہ ہے کہ جہاد بمعنی قتال بالکل آخری صورت میں ہوتی ہے اور وہ بھی متعدد شرائط کے ساتھ نفاذ کے قائل ہیں  کیونکہ اگر ان شرائط کی رعایت نہ کی گئی تو وہ جہاد کے بجائے حرام خوں اور بربریت ہوگی ۔ان کی تفصیلات ا ن کی کتب میں موجود ہیں۔

URL: http://newageislam.com/urdu-section/kaniz-fatma,-new-age-islam/spiritual-concept-of-mujahadah-and-jihad-in-islamic-mysticism--اسلامی-تصوف-میں-جہاد-اور-مجاہدہ-کا-روحانی-تصور/d/118185

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..