New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 01:26 AM

Urdu Section ( 6 Feb 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Interpreting Allegorical or Mutashabihat Verses of Quran قرآن کریم کی آیات متشابہات کی تعبیر و تفسیر: عمران نذر حسین کا نقطہ نظر


کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام

20 اگست 2018

اس مضمون کا مقصد معروف جدید اسلامی اسکالر، مصنف اور فلسفی ڈاکٹر عمران نذر حسین کے نقطہ نظر پر مبنی قرآن کی آیات متشابہات کا مطالعہ پیش کرنا ہے ۔ اس کے بعد اس بحث و تمحیص میں نیو ایج اسلام کے اور دیگر اہل علم و فن کو شرکت کی دعوت دینا ہے ، اس امید پر کہ وہ مضبوط اور معقول دلائل کے ساتھ ڈاکٹر عمران کے نقطہ نظر کا جواب دیں گے یا ان کا رد کریں گے ۔

قرآن متشابہات آیتوں کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟

قرآن میں اللہ کا فرمان ہے کہ

"وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔ کنز الایمان "(3:7)

ڈاکٹر عمران مندرجہ بالا آیت کا حوالہ پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ: قرآن کریم میں دو قسم کی آیتیں موجود ہیں ،پہلی محکمات جو بالکل سادہ اور واضح ہیں جنہیں صرف تفسیرکی ضرورت ہوتی ہے ۔ قرآن کی ان محکم آیتوں کو قرآن کا دل کہا جاتا ہے۔ اس میں وہ تمام آیات شامل ہیں جن میں حلال اور حرام چیزوں کے متعلق قانونی احکام وارد ہیں ۔ اور دوسری قسم کی آیات متشابہات ہیں جن کے لئے تاویل درکار ہے تاکہ ان کے معانی دریافت کئے جا سکیں ۔ یہ لفظ متشابہ کا سب سے زیادہ آسان اور بنیادی معنی ہے ، کیونکہ اس کا ماخذ قرآن مجید کی وہ آیت ہے جس نے اس موضوع کو متعارف کرایا ہے۔ قرآن نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کا معنیٰ صرف اللہ اور علم میں رسوخ رکھنے والے (راسخون فی العلم) ہی جانتے ہیں اور ان آیات کے معانی (اولوا الالباب) ارباب عقل و دانش ہی پا سکتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عالم کو نہ صرف اپنی پوری زندگی کو کافی مناسب طریقہ کار اور بصیرت فکر و نظر کے قرآن کے مطالعہ میں صرف کرنا چاہئے ، بلکہ اسے براہ راست اللہ تعالی سے بھی علم حاصل ہونا ضروری ہے (جیسا کہ خضر علیہ السلام کا معاملہ ہے) لہذا محمد اسد نے اسی کو درج ذیل آیت کی اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے ، "وہ انسان کے دائرہ قدرت میں موجود انتہائی گہری روحانی بصیرت میں داخل ہوتا ہے:

" تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا۔" (18:65)

قرآنی آیات 187-2:183 ان آیات متشابہات کی ایک مثال بن سکتی ہیں جنہوں نے روزے کے متعلق توریت میں نازل ہونے والے سابقہ احکام کو بدل دیا (اور وہ حکم غروب آفتاب سے لیکر غروب آفتاب تک روزہ رکھنے کا حکم تھا اور ان اوقات میں کھانا پینا ممنوع تھا) اور اس کی جگہ روزہ کا ایک نیا حکم پیش کیا جس کے مطابق روزہ کے راتوں میں کھانا کھانے اور پینے کے کی اجازت مل گئی حتیٰ کہ صبح کی سفیدی رات کی سیاہی سے نمایاں ہو جائے اور اسی وقت سے روزہ شروع ہو گا اور دن کے ختم ہونے تک جاری رہے گا۔

".........اور کھاؤ اور پیئو یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو...... ۔" (2:187)

عمران کے اوپر آیت کے سلسلے میں نظارہ حسین لکھتے ہیں

"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی جنہوں نے اس آیت کا لفظی معنیٰ مراد لیا وہ روزے کے دنوں میں اپنے ساتھ دو دھاگے رکھتے تھے ایک کا رنگ سفید ہوتا اور دوسرے کا سیاہ اور طلوع فجر کے وقت انہیں دو دھاگوں سے ابتدائے صوم کے وقت کا تعین کرتے تھے۔ چونکہ ان کے لئے یہ عمل کافی مشکل تھا لہٰذا، وہ اپنا یہ مسئلہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ گئے جس کا آپ ﷺ نے فوری طور پر ایک تاویل یا تشریح کے ذریعہ ایک حل پیش کیا اور فرمایا کہ آیت میں 'سفید' اور 'سیاہ' دھاگے سے مراد یہ ہے کہ روزے کا وقت اس وقت شروع ہوگا جب دن کی سپیدی رات کی تاریکی سے عیاں ہو جائے۔ اور جب آپ ﷺ نے اس آیت کی توضیح و تفسیر کر دی تو یہ ثابت ہو گیا کہ یہ آیت آیات متشابہات میں سے ہے(یعنی یہ وہ آیت جس کی تاویل یا تفسیرکی ضرورت ہے)۔

"اگر مذکورہ آیت کی یہ تفسیر پیش نہیں کی گئی ہوتی تو آج کے دن تک تمام مسلمانوں کو اپنے ساتھ ایک سفید اور ایک سیاہ رنگ کے دو ٹکڑے دھاگے رکھنا ضروری ہوتا اور وہ رمضان المبارک کے مہینے میں ہر صبح ابتدائے صوم کے وقت کا تعین انہیں دو دھاگوں کی مدد سے کرتے۔

"مذکورہ بالا حدیث کے باوجود ، یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا کہ یہ آیت اللہ عزوجل نے نازل کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی توضیح و تشریح کے اسے امت تک پہنچا دیا۔ بلکہ ایسا کرنے کے پیچھے اللہ کے تین مقاصد تھے: 1) آیات متشابہات کی ایک واضح مثال فراہم کرنا؛ 2) واضح طور پر ایک ایسی صورت حال پیدا کرنا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود کسی آیت کی تفسیر پیش فرمائیں؛ 3) اور اپنے علم ازلی کے مطابق بعد کے ادوار میں انسانوں کے ذریعہ قرآن کی کسی آیت میں کسی غلط معنیٰ کے داخل کئے جانے کے امکان کا قبل از وقت سد باب کرنا۔

وہ آیت جس کی غلط اور بے بنیاد تعبیر پیش کی گئی:

"..... اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔ "(3:7)

"اس غلط تعبیر نے لوگوں کے اندر یہ بات پیدا کر دی کہ آیات متشابہات کے معانی اللہ تعالی کے سوا کوئی نبی حتیٰ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نہیں جانتے ۔ جس سے یہ مضحکہ خیز اور واضح طور پر بے بنیاد نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ حکیم و دانا اللہ نے اپنے آخری نبی ﷺ پر اپنی آخری کتاب نازل کیا اور انہیں اس کتاب کا معلم مقرر کیا، لیکن اس کتاب میں ایک حصہ ایسا بھی ہے جس کا معنی خود معلم قرآن کو بھی نہیں معلوم اور نہ ہی قیامت تک کوئی اس کا معنی جان سکتا ہے۔ لہٰذا ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ : ایسی وحی کا کیا فائدہ ؟ ایسی کیسے انسانوں کو ہدایت دے سکتی ہے؟ کیا ایک حکیم و دانا خدا ایسی بیوقوفی کر سکتا ہے؟ اللہ تعالی کو ہر چیز کا علم ہے، لہٰذا اسے یہ معلوم تھا کہ یہ جھوٹا تصور قرآن کے بارے میں پیدا کر دیا جائے گا اسی لئے اللہ نے ایک ایسی صورت حال پیدا کر دی جس میں معلم قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی ایک آیت متشابہ کی تعبیر و تشریح پیش کر کے خود اس باطل تصور کی تردید کر دی۔ "(ڈاکٹر عمران نذرحسین ، " Methodology for the Study of The Quran" باب 9)

"قرآن میں ایک دوسری قسم کی متشابہات آیات بھی موجود ہیں یعنی ایسی آیات جن کے معانی کے تعین کے لئے توضیح و تشریح کی ضرورت ہے، اور ان کے مطالعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ان کا موضوع آخر الزمان ہے (یعنی ان میں آخری زمانے کے متعلق پیغامات دئے گئے ہیں)۔ تاہم، اب ہم قرآن کی سب سے زیادہ مشکل اور چیلنجنگ آیت متشابہ یعنی آیات مقطعات کی طرف اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ "

متشابہات آیتیں: حروف مقطعات

ڈاکٹر عمران حسین کہتے ہیں کہ عربی زبان کے وہ چند مخصوص حروف جن سے بعض آیات قرآنیہ کی ابتدا ہوتی ہے قرآن کے اندر تمام آیات متشابہات میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ جیسا خود قرآن مجید کی ابتداء عربی کے تین حروف تہجی الف ، لام ، میم سے ہوتی ہے جو کہ قرآن کی دوسری سورت سورہ بقرۃ کے آغاز میں ہی واقع ہے۔ ان کے علاوہ بھی عربی کے کچھ ایسے حروف تہجی بھی ہیں جن سے قرآن کریم کی دوسری آیتیں شروع ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر عمران حسین کا کہنا ہے کہ، "یہ کوئی امرِ اتفاق نہیں تھا کہ متنِ قرآن کی ابتداء عربی کے تین حروف تہجی سے کی گئی ، بلکہ یہ اللہ کا منصوبہ تھا، اور نہ ہی یہ کوئی امر اتفاق تھا کہ معلم قرآن ﷺ نے قرآن کے اندر ان حروف تہجی کی کبھی کوئی تعبیر و تفسیر بیان نہیں کی بلکہ یہ بھی ایک خدائی منصوبہ کے تحت تھا۔ البتہ! اس الہی منصوبہ کا مقصد ان لوگوں کو چیلنج پیش کرنا معلوم ہوتا ہے جو مطالعہ قرآن کا ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنے کے لئے قرآن کا مطالعہ کرتے جس کے نتیجے میں وہ حروف مقطعات کی توضیح و تشریح پیش کرنے کی کوشش کرنے کے قابل ہو سکتے تھے"۔

موصوف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: حروف مقطعات کی ممکنہ تعبیر و تشریح کے لئے تعینِ معانی کا ایک نظام وضع کرنے کی کوئی بھی مخلصانہ کوشش اس اعتراف حقیقت پر مبنی ہونی چاہئے کہ ہمارے پاس نہ اللہ عزوجل کی ، نہ اس کے رسول ﷺ کی، نہ گزشتہ ابنیائے علیہم السلام کی ماضی میں ایسی کوئی مثال ہے کہ جس میں تمثیل و مجاز کے انداز میں پہونچائے گئے کسی پیغام یا کسی معنی کے تعین کے لئے کسی ایک حرف تہجی کا استعمال کیا گیا ہو۔ اگر ہم کلام الٰہی میں عدم تضاد، تسلسل اور نظم و ضبط کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں تو ہم اس نظریہ کو مسترد کر سکتے ہیں کہ یہ حروف کچھ ایسے معانی کی نمائندگی کرتے ہیں جو علامتی طور پر ہم تک پہنچائے جا رہے تھے، مثلاً الف سے مراد اللہ ، م سے محمد اور ل سے مراد جبرائیل کے نام کا آخری حرف ہے ۔ "

اس کے بعد وہ کہتے ہیں، "ہاں! قرآن میں ہمیں ایک عددی نظام کا ثبوت ملتا ہے جس کا مقصد ان بری قوتوں سے قرآن کی حفاظت کرنا ہے جو آیات قرآنی میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ہم کس طرح اس غیر معمولی حقیقت کی وضاحت پیش کر سکتے ہیں کہ سورہ توبہ کے علاوہ قرآن کی تمام سورتیں "بسم اللہ الرحمیٰن الرحیم" کے ساتھ شروع ہوتی ہیں ؟ چونکہ قرآن خود کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ اس میں نہ کوئی نقص ہے اور نہ ہی کوئی تضاد ہے، لہٰذا، اس کا ہمارے پاس اس عددی نظام کو تسلیم کرنے کے علاوہ اور کیا جواب ہے جو قرآن کی تمام سورتوں کو ، حتیٰ کہ اس کے ایک ایک حرف کو باہم مربوط اور منضبط رکھتا ہے؟ قرآن میں 114 سورتیں ہیں اور اس عدد کی ایک عددی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ اس حقیقت کے مدنظر کہ قرآن میں 114 سورتیں ہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" بھی 114 مرتبہ ہونا چاہئے تھا۔ اگر یہ جملہ سورہ توبہ کے آغاز میں بھی ہوتا تو قرآن میں اس کی تعداد 114 کے بجائے 115 ہو جاتی ، اس لئے کہ یہ جملہ سورہ النمل کے اندر بھی ایک مرتبہ آچکا ہے:

" بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک وہ اللہ کے نام سے ہے نہایت مہربان رحم والا۔" (قرآن، النمل ، 27:30)

عمران حسین کہتے ہیں کہ: اگر ہم یہ مان لیں کہ قرآن میں استعمال ہونے والے عربی حروف تہجی کہ عددی اہمیت بھی ہے تو پھر قرآن کو تحفظ فراہم کرنے اور قرآن کے سکیورٹی سسٹم کا حصہ ہونے میں ہم حروف مقطعات کے کردار کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ قرآن کی دوسری سورت کو حروف مقطعات سے آغاز کے لئے منتخب کیا گیا نہ کہ پہلی سورت کو، چونکہ سورہ فاتحہ کا کام قرآن کے سکیورٹی سسٹم کو غیر مقفل کرنا یا کھولنا ہے اسی لئے اس سورت کا نام فاتحہ رکھا گیا ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ اسی لئے سب سے پہلے سورہ فاتحہ کی تلاوت کئے بغیر قرآن کی تلاوت کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور وہ بھی دل میں اس نیت کے ساتھ کہ اس سورت کی تلاوت بعد ہی قرآن ایمان رکھنے والوں پر منکشف ہو سکتا ہے۔ "

اس کے بعد ڈاکٹر عمران حسین قرآن کی آیات متشابہات کی چند مثالیں پیش کرتے ہیں مثلاً؛ 1) فرعون کی لاش محفوظ رکھے جانے سے متعلق قرآن کی آیت، 2) ابراہیم علیہ السلام کے اس خواب سے متعلق آیت جس میں انہوں نے خود اپنے بیٹے کی قربانی پیش کرتے ہوئے دیکھااور 3) تیسری ذوالقرنین سے متعلق آیت۔

آیت متشابہ: فرعون کا جسم

ڈاکٹر عمران حسین لکھتے ہیں کہ : یہ بات مشہور و معروف ہے کہ جب فرعون ڈوب رہا تھا تو اس وقت انتہائی ڈرامائی انداز میں پانی کی لہروں کے اندر کچھ باتیں پیش آئیں جو کہ ہزاروں سالوں تک راز بنی رہیں ، حتیٰ کہ قرآن نازل ہوا جس نے یہ خبر دی کہ :‘‘ اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے ا ٓ لیا بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں۔" (قرآن، یونس ، 10:90)

اللہ عزوجل نے ایمان کے اس مندرجہ بالا اعلان کے جواب میں فرمایا:

"کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا"- (10:91)

" آج ہم تیری لاش کو اوترا دیں (باقی رکھیں) گے تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو اور بیشک لوگ ہما ری آ یتو ں سے غافل ہیں۔ (قرآن، یونس ، 10:92)۔ قرآن نے یہ جانکاری بار بار پیش کی ہے کہ فرعون کا خاتمہ انسانیت کے اختتام کی نشانی ہے۔ "پھر جب انہوں نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا ہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو ڈبودیا ۔ انہیں ہم نے کردیا اگلی داستان اور کہاوت پچھلوں کے لیے ۔ (قرآن، زخرف ، 56-43:55)

ڈاکٹر عمران حسین مزید لکھتے ہیں کہ، "اس بات کے پختہ ثبوت ہیں کہ فرعون کی لاش جو کہ ڈوب کر مرا تھا 1898 میں دریافت کی گئی تھی اور اس دریافت نے اس کے جسم کے تحفظ سے متعلق قرآن میں حیرت انگیز الہی فرمان کی تصدیق کر دی۔ لیکن قرآن نے صرف یہ نہیں کہا کہ اس کے جسم کو محفوظ رکھا جائے گا؛ بلکہ اس نے یہ بھی کہا کہ جب اس کا جسم دریافت کر لیا جائے گا تو ہم اسے اس کے بعد آنے والے لوگوں کے لئے ایک نشان عبرت کے طور پر باقی رکھیں گے۔ اس کے بعد قرآن نے یہ افسوس ناک نتیجہ بیان کیا کہ زیادہ تر لوگ اللہ کی نشانوں سے غفلت برتتے ہیں ۔ اسلامی علماء و مفکرین نے 1898 ء میں فرعون کے جسم کی دریافت پر اور اس کے بعد 1980 میں عظیم فرانسیسی سائنسدانوں کی جانب سے اس کی تصدیق پر بالکل اسی انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا جس انداز میں اللہ نے اسے بیان کیا تھا۔ ان کا ردعمل کبھی بھی اس امر کی تصدیق سے آگے نہیں بڑھا کہ قرآن میں بیان کردہ الہی پیشین گوئی پوری ہو گئی اور یہ کہ اس وقعہ نے قرآن کے سچے ہونے کے دعویٰ کو ایک بار پھر ثابت اور مستحکم کیا ہے۔ بلکہ، یہ ایک آیت متشابہ ہے جس کے لئے ایک توضیح و تشریح درکار ہے اور یہ توضیح و تشریح اس وقت تک دریافت نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس موضوع پر تعینِ معنی کا نظام وضع کرنے کے لیے مجموعی طور پر مطالعہ قرآن کا ایک مستقل طریقہ کار اختیار نہ کیا جائے ۔"

ڈاکٹر عمران حسین اس کے بعد اپنی کتاب "Jerusalem in the Quran" سے مندرجہ ذیل اقتباس نقل کرتے ہیں جسے وہ فرعون کے جسم کی دریافت کے واقعے کا تجزیہ اور تشریح کےقرار دیتے ہیں:

"فرعون کی لاش کی دریافت جو یہ دکھا رہی ہے کہ یہود کا انجام بھی اس کی طرح ہوگا۔

"قرآن ایک اور نشانی عطا کرتا ہے جس سے مادہ پرست انسانوں کو اندازہ ہو سکے کہ آخری دور شروع ہو چکا ہےاور بنی اسرائیل کے لئے حتمی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہےجس کے بعد وہ بدترین سزا سے دوچار ہوں گےیہ نشانی اس فرعون کی لاش کی دریافت ہے جو حضرت موسی اور آپ کے پیروکاروں کا تعاقب کرتا ہوا غرق ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سمندر کو پھاڑ کر بنی اسرائیل کے لئے راستہ بنا دیااور جب فرعون اور اس کی فوجیں ان کے تعاقب میں اس راستے سے گزریں تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے سمندر کو پھر پہلے کی طرح کر دیا اور فرعون اور اس کی فوجیں غرق ہو گئیں۔ قرآن اسی کو بیان کرتا ہے: "اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا پھاڑ دیا تو تمہیں بچالیا اور فرعون والوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا۔" (قرآن، البقرۃ ، 2:50)۔

اس وقت بنی اسرائیل کو علم نہ تھا اور آج بھی نہیں ہے کہ وہ خود ایک دن اسی طرح تباہ ہونگےجس طرح فرعون تباہ ہوا تھااگر وہ احکام حق سے بے وفائی کریں گے اور کچھ گناہوں میں ملوث ہوں گے۔ معزز قارئین کو یہ پڑھ کر حیرت ہو گی کہ فرعون کس طرح مرا۔

"اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے ا ٓ لیا بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں - کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا - آج ہم تیری لاش کو اوترا دیں (باقی رکھیں) گے تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو اور بیشک لوگ ہما ری آ یتو ں سے غافل ہیں، "(قرآن، یونس ، 92-10:90)" پھر جب انہوں نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا ہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو ڈبودیا - انہیں ہم نے کردیا اگلی داستان اور کہاوت پچھلوں کے لیے۔ "(قرآن، الزخرف ، 56-43:55)

اور اس طرح قرآن نے حیرت انگیز پیشن گوئی کی کہ ایک دن فرعون کی لاش نکالی جائے گی، اور جب ایسا ہوگا تو وہ ایک حیرت ناک آسمانی نشانی ہوگی فرعون کی لاش عجیب طور پر پچھلی صدی کے اختتام کے قریب دریافت ہوئی۔ یہ عالم اسلام کی علمی اور روحانی زوال کی ایک افسوس ناک مثال ہے کہ علمائے اسلام اس حیرت ناک واقعے کو اہمیت دینے سے قاصر رہےجس کا وہ مستحق تھا۔ اور وہ بس اسے قرآن کی ایک پیشین گوئی کا پورا ہونا کہہ کر رہ گئے۔ تقریباً اسی وقت عالمی صہیونی تنظیم نے اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ صاف ظاہر ہے کہ مسیح دجال صہیونی تنظیم کے قیام کا ذمہ دار تھا۔ یاجوج ماجوج کا دور دجال کا دور بھی ہے۔ مندرجہ بالا دریافت کے مضمرات یہ ہیں کہ یہود آج دجال کی پیروی کر رہے ہیں اور یاجوج ماجوج اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اور نتیجۃً وہ بدترین سزا بھگتیں گے۔ اور ان کا انجام اسی طرح ہوگا جس طرح فرعون کا انجام ہوا۔ وہ انجام کیا ہوگا؟ ۔ فرعون رعمسیس دوم کی لاس کی دستیابی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی ہےکہ دنیا ایک عجیب و غریب ڈرامہ دیکھے گی۔ ایسا ڈرامہ جو انسانی تاریخ میں کبھی نہ دیکھا گیا۔ وقت آگیا ہے یہود کے لئے خاص طور پر اور عامۃ الناس کے لئے عام طور پر۔ جو فرعون کی طرح جیتے تھے وہ فرعون کی طرح مریں گے بھی۔ " (ماخوذ از ، القدس اور اختتام وقت ، اردو ترجمہ ‘‘Jerusalem in the Qur’an’’ دوسرا ایڈیشن۔ ص 167-164)

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ، سوال یہ ہے کہ کیا علمائے اسلام ڈاکٹر عمران حسین کی ان باتوں سے اتفاق رکھتے ہیں جو انہوں نے اپنی کتاب میں بیان کی ہیں۔ انہوں نے مندرجہ بالا قرآنی آیات کی تفسیر پر تبصرہ کرنے کے لئے اس دور کے جید اور ممتاز علماء کو چیلنج بھی پیش کیا لیکن کسی نے ابھی تک ان کے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا ہے، جیسا کہ وہ خود لکھتے ہیں "میری بہترین فروخت ہونے والی کتاب ‘‘Jerusalem in The Quran’’ کی اشاعت کا 13 سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا ، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کتاب کو کثیر تعداد میں لوگوں نے مطالعہ کیا، درجن سے زائد مرتبہ اس کی اشاعت ہو چکی ہے ، بہت سی مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے، لیکن اب تک اس دور جدید کے کسی بھی جید اور ممتاز عالم دین نے قرآن کریم کی مندرجہ بالا تفسیر پر اپنا تبصرہ بھی پیش کرنے کی جرأت نہیں دکھائی؛ اور نہ ہی یہ ممکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ کبھی ایسا کریں گے، کیونکہ ان میں سے اکثر قرآن مجید کی ایک آیت متشابہ کی تعبیر و تشیرح سے متعلق آیت کی غلط تعبیر و تشریح کا شکار معلوم ہوتے ہیں ۔ راقم الحروف ریسرچ کرنے والے طالب علموں کو ان جیسے واقعات سے متعلق بشمول عالمی جنگوں کے، ایک اسلامی اسکوٹولوجی (آخری زمانے کے واقعات سے متعلق علم) تجزیہ کا موضوع منتخب کرنے کا مشورہ دیتا ہے کیوں کہ عالمی جنگوں کی شروعات 1898 ء میں فرعون کی لاش دریافت ہونے کے بعد سے ہوئی۔ اس قسم کی تحقیق سے یقینی طور پر اس بات کی تصدیق ہوگی کہ یہ دنیا اب اپنی تاریخ کے آخری پڑاؤ پر کھڑی ہے۔ تاریخ انسانی کا خاتمہ ان یہودیوں کے ساتھ ہو گا جو اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا بھی انجام بالکل وہی ہو گا جو ڈوبتے وقت فرعون کا ہوا تھا۔ "

ڈاکٹر عمران حسین کی یہ تشریح بڑی تشویش کا موضوع ہے کیونکہ ابھی تک کسی نے اس کا جواب نہیں دیا ہے۔ میں یہ چاہتی ہوں کہ نیو ایج اسلام سے منسلک اہل علم و دانش ان کی تعبیر و تشریح پر نظر ڈالیں اور اس کا جواب دیں۔

آیت متشابہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب

یہ بات عام طور پر بیان کی جاتی ہے کہ ایک بار حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں اپنے بیٹے کو قربان کرتے ہوئے دیکھا۔ ڈاکٹر عمران حسین قرآن مجید کی ان آیتوں کا حوالہ پیش کرتے ہیں جن میں یہ واقعہ بیان کیا گیا اور اپنے قارئین کو یہ بتاتے ہیں کہ " اسی واقعہ کے بعد اللہ عزوجل نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری دی کہ آپ کا ایک اور بیٹا ہوگا جس کا نام اسحاق ہوگا ۔ لہذا قرآن سے یہ واضح ہے کہ جس بیٹے کی قربانی دی جانی تھی ان کا نام اسماعیل ہی تھا۔ لہٰذا جب تک کوئی مسیحی یا یہودی اس قرآنی نظریہ سے انکار کرتا         رہے گا اور اس کے برعکس نظریہ پر اڑا رہے گا کہ جس بیٹے کی قربانی دی گئی وہ حضرت اسحاق علیہ السلام تھے تب تک وہ اسکوٹولوجی (آخری زمانے کے واقعات سے متعلق علم) کو سمجھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا، جس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ آخر زمانے میں دنیا کو صحیح طریقے پر جاننے سے قاصر ہی رہے گا ۔ "

"اور کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں اب وہ مجھے راہ دے گا

الٰہی مجھے لائق اولاد دے،

تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی،

پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے کہا اے میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہتا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے،

تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ

اور ہم نے اسے ندائی فرمائی کہ اے ابراہیم،

بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

بیشک یہ روشن جانچ تھی،

اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا

اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی،

سلام ہو ابراہیم پر

ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،

اور ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کی کہ غیب کی خبریں بتانے والا نبی ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں (سورہ الصافات۔ 112-37:99) (قرآن، باب الافت ، 37: 99- ) ترجمہ کنزالایمان

ڈاکٹر عمران حسین قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیات کا حوالہ دینے کے بعد لکھتے ہیں:

"اس واقعے کا تجزیہ کرتے وقت ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی سب سے بڑا منصف ہے اور رہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا! چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا تھا جس کی پاداش میں ان کے حق میں سزائے موت انصاف کی بات ہوتی ، اور اگر اللہ تعالی واقعی ان کی زندگی لینے کا فیصلہ کر لیتا تو یہ اللہ عزوجل کے ہاتھوں ایک نا انصافی کا         عمل ہوتا۔ اس کے علاوہ قرآن مجید قربانی کی تمام مشرکانہ قسموں کو ختم کرنے کے لئے آیا تھا جس میں انسانی قربانی بھی شامل تھی۔ البتہ! قربانی ہمیشہ جانور کی ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا انسانی قربانی کا حکم دینا اللہ عزوجل کے لئے ایک تضاد ثابت ہو جاتا ۔ آخر کار، اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے واقعتاً اپنے بیٹے کو کبھی قربان نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اللہ عزوجل نے اس بات کا اعلان کر دیا کہ ابراہیم نے وہ مطالبہ پورا کر دکھایا جو اس کے رب نے اس سے کیا تھا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے کبھی بھی حقیقۃً بیٹے کی قربانی کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی اس نے کبھی کسی بھی وجہ سے انسانی قربانی کا حکم دیا ہے ۔ "

"مطالعہ قرآن کے ہمارے طریقہ کار سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں جو نشانی دکھائی گئی وہ متشابہ تھی یعنی اس کے لئے تعبیر و تشریح درکار تھی اور یہ کہ اس نشانی کی تعبیر و تشریح آخری زمانے سے متعلق تھی۔ تو پھریہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نشانی کی تعبیر کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی صرف ایک ہی تعبیر ہوسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل حضرت ابراہیم سے کسی عظیم الہی منصوبے کے تحت ان کے بیٹے کی بیج (اولاد) کی شکل میں ان کے بیٹے کی قربانی قبول کروانا چاہتا تھا۔ لہٰذا، ان کی بیج (یعنی ان کی اولاد) کون ہیں اور وہ لٰہی منصوبہ کیا ہے؟ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب براہ راست حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملتا ہے جس کی قربانی مقصود تھی:

"واثلة بن الأسقع سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: بے شک اللہ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو بڑی عزت بخشی ؛ اور اس نے بنو کنانہ میں سے قریش کو بڑی عزت و فضیلت عطا کی؛ اور اس نے بنو قریش میں سے بنو ہاشم کو بڑی عزت و فضیلت عطا کی؛ اور اور بنو ہاشم میں سے مجھے بڑی عزت و فضیلت عطا کی'(صحیح مسلم: کتاب الفضائل)۔

ڈاکٹر عمران حسین مندرجہ بالا بحث و تمحیص کا نتیجہ یہ اخذ کرتے ہیں کہ ‘‘عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہیں ، لہٰذا، اس خواب کے ذریعہ یہ اشارہ دیا گیا کہ آخری زمانے میں ایک الہی منصوبے کی تکمیل کے لئے عربوں سے ایک قربانی لی جانے والی ہے ، اور اللہ عزوجل یہ چاہتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس قربانی پر راضی ہو جائیں۔ جب انہوں نے ایسا کر دیا تو علیم و خبیر اللہ نے یہ اعلان کردیا کہ میں نے اس واقعہ کو آخری زمانے میں واقع کرنے کے لئے اٹھا لیا ہے(ملاحظہ ہو 37:108)۔ ہمارے پاس عربوں کی اس عظیم قربانی کے بارے میں کچھ مخصوص معلومات ہیں جو ان سے لی جانے والی ہے، اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک خواب میں اس پر مطلع بھی کیا جا چکا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کب ہوگا۔ ایک مرتبہ ہمارے نبی ﷺ اپنی زوجہ مطہرہ ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے گھر میں محو استراحت تھے جب آپ ﷺ اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا۔ آپ نے ایک خوفناک خواب دیکھا تھا جو کہ آپ ﷺ کی ذات مقدس پر زبردست اثر انداز ہوا، اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ نامبارک کلمات ارشاد فرمائے جن کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب کی تکمیل سے تھا۔ "عربوں کی ناک خاک آلود ہو اس ایک شر کی وجہ سے جو اب ان کے قریب ہو رہی ہے" اور اس کے بعد آپ ﷺ نے آخری زمانے میں عربوں کی تباہی و بربادی کی تصدیق بھی فرمادی:

زینب بنت جحش سے مروی ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنی نیند بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اورآپ ﷺ نے فرمایا : کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے سوائے اللہ کے۔ عربوں کی ناک خاک آلود ہو اس ایک عظیم شر کی وجہ سے جو اب ان کے قریب ہو رہی ہے ۔ آج یاجوج و ماجوج کے حصار میں ایک سوراخ ہو گیا ہے (سفیان نے اپنی انگلیوں سے نمبر 90 یا 100کا اشارہ کر کے اس کی مثال پیش کی)، زینب بنت جحش نے پوچھا : یا رسول اللہ کیا ہم تباہ ہو جائیں گے درآنحالیکہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی موجود ہیں؟ "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں! (یہ واقع ہو کر رہے گا) جب خبث میں اضافہ ہو جائے (یعنی پھیل جائے)۔ "( صحیح بخاری )

ڈاکٹر عمران حسین کا ماننا ہے کہ "خبث’’ اب ہر جگہ پھیل چکی ہےجس کی مثال یہ سیاسی نظام، معیشت، مارکیٹ، کرنسی کا نظام، جنسی تعلقات، تحریک نسواں، وغیرہ جیسی چیزیں ہیں ۔ اور آج جب یہ کتاب لکھی جا رہی ہے تب بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیج (یعنی عربوں) کی تباہی تدریجا بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ تاہم اس تباہی کو مکمل ہونے کے لئے وقت کی ایک حد ہے - اور وہ حد پیکس امریکانہ (Pax Americana)کی جگہ پیکس جوڈائیشا (Pax Judaica) کے قیام تک کا وقت ہے ۔ "

وہ کہتے ہیں، "اب یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ کیوں عربوں کی تباہی متعین ہے۔ اسلامی اسکوٹولوجی (آخری زمانے کے واقعات سے متعلق علم) کی اپنی تفہیم کے ذریعہ ہم یہ قیاس لگا سکتے ہیں کہ نام نہاد پیکس جوڈائیشا (Pax Judaica) کو پیکس امریکانہ (Pax Americana)کی جگہ لانے کی کوشش ہو گی ، بالکل اسی طرح جس طرح پیکس امریکانہ (Pax Americana) نے پیکس بریٹانیکا (Pax Britannica) کی جگہ لے لی۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ پیکس جوڈائیشا (Pax Judaica) یا دنیا بھر پر یہودی اسرائیلی حکمرانی ان باتوں کے بغیر ممکن نہیں ہو گی: 1) اسلامی خلافت کا خاتمہ 2) فریضہ حج سے دستبرداری اور 3) عربوں کی تباہی۔ تاہم، اللہ عزوجل نے عربوں کے درمیان اپنے مومن بندوں کو ایک پیغام بھیجا دیا ہے جس سے انہیں تسلی ہونی چاہئے۔ اور وہ پیغام یہ ہے کہ ان کے جدِ کریم حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود ان لوگوں کی تباہی و بربادی پر اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے یا اسے قبول کر لیا ہے جو ان کی بیج حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہوں گے تاکہ مقدس سرزمین پر یہودیوں کے ظلم و برکت پر عتاب الٰہی کی انتہا ان درختوں اور پتھروں کی شکل میں ظاہر ہو جو ان ظالموں کی سزا کے لئے دعا کریں۔ واللہ اعلم بالصواب

یقینا ایسے علماء ہوں گے جو آیات متشابہات کے متعلق اور خاص طور پر جیسا کہ اور ذکر کیا گیا ، آخری زمانے سے متعلق قرآانی آیتوں کے حوالے سے ڈاکٹر عمران نذر حسین کی تعبیر و تشریح پر معترض ہوں گے، لیکن ان کے لئے بہتر یہ ہو گا کہ وہ اس تعبیر و تشریح پر اپنی رائے اچھے انداز میں پیش کریں یعنی اپنی رائے کی تائید میں ٹھوس اور قابل قبول دلائل پیش کریں۔

اعتراف: ڈاکٹر عمران نذر حسین کی کتاب، " Methodology for the Study of The Quran” chapter 9" پر مبنی مطالعہ۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/kaniz-fatma,-new-age-islam/interpreting-allegorical-or-mutashabihat-verses-of-quran--imran-nazar-hosein’s-methodological-approach/d/116160

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/interpreting-allegorical-mutashabihat-verses-quran/d/117669

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..