New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 04:20 PM

Urdu Section ( 1 Oct 2019, NewAgeIslam.Com)

Good Manners and Sufism in the Context of Indian Sub-Continent – Part 1 ہندوستانی عوام کے ساتھ صوفیائے کرام کا حسن سلوک ،قسط اول


کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام

صوفیائے کرام نے ہندوستانی عوام بشمول مسلم وہنود جو امور سماجی تناظر میں انجام دیے وہ یقینا ان کی اعلی انسانی اقدار وروایات کی عکاسی کرتا ہے ۔صوفیائے کرام نہ صرف ہندوستانی عوام کے اعمال وکردار کی درستگی کے لیے کوشاں رہے بلکہ ان کے دکھ، درد ، غم گساری ، حاجت روائی ، اور دیگر تمام حقوق انسانی کے لیے جن کارناموں کا مظاہرہ کیا وہ بلا شبہ ہمارے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔

صوفیائے کرام ومشائخ عظام ہی تھے جنہوں نے سیرت رسول کی اپنے اعمال وکردار کے ذریعے صحیح ترجمانی کی اور سماجی ومعاشرتی پہلووں پر جو نمونہ عمل پیش کیا وہ یقینا آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔آج کے ہندوستانی معاشرت میں منافرت اور عناد وتعصب کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے ، باہمی تعلقات بگاڑے جا رہے ہیں ، منفی اثرات چھوڑے جا رہے ہیں ، ایسے دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ صوفیائے کرام کے نہج پر اسلام کو سمجھا جائے اور انہی کی اخلاقی وروحانی تعلیمات کو عام کیا جائے تاکہ مفید اثرات زیادہ مرتب ہوں ، کیونکہ جتنی زیادہ منافرت سے متعلقہ امور پر بحث کی جاتی ہے اتنی ہی نفرت پھیلتی چلی جاتی ہے اور نتیجہ بالکل برعکس ہوتا ہے ۔

ہر دور میں فتنے اور قتل وخوں کا بازار گرم رہا ہے ۔اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی آمد سے قبل بھی لوگوں میں مذہبی منافرت ہوتی تھی ، عناد وتعصب ہوتی تھی ، مختلف ادیان کے لوگ آپس میں لڑتے جھگڑتے ، قرآن کریم کی متعدد آیات ان پرانے واقعات پر شاہد ہیں ۔ہر قوم میں انبیائے کرام بھیجے گئے ، لوگ ان کی تعلیمات سے براہ راست سرفراز ہوئے لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ منکرین میں سے تھے ، انبیائے کرام نے معجزات بھی دکھائے ، لیکن پھر بھی وہ ایمان نہ لائے ۔

کہنا یہ مقصود ہے کہ انبیائے کرام کی آمد کا سلسلہ تو خاتم النبیین پر ختم ہو چکا ، اب کوئی نبی نہیں آنے والا ، بس جو کچھ تعلیمات ہمیں قرآن وسنت سے ملتی ہیں وہی ہمارے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ اب اگر اس زمانے میں کوئی شخص ہتھیار اٹھا کر ، مسلح ہو کر ، جہاد ی بن کر یا اسلام کی غلط ترجمانی کرکے ، عوام کا ناحق بہانے پر مصر ہے تو اس پر رنج وغم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یا تو انہیں خوش اسلوبی کے ساتھ سمجھائے ، یا قانونی کارروائی کی جائے ، یا پھر بقیہ عوام کو ان کی خطرناک افہام وتفہیم سے بچایا جائے ۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایسے اسلام دشمن عناصر سے کسی طرح کی ہمدردی پیدا کی جائے یا ان کا مقابلہ کرنے میں کسی طرح کی جھجھک محسوس کی جائے ۔

اس قسط وار مضمون میں ہم اسلامی نقطہ نظر سے غیر مسلموں سے سماجی روابط پر گفتگو کریں ، اس امید کے ساتھ کہ اس پر عمل کیا جائے نہ صرف یہ کہ پڑھ کر بالائے طاق رکھ دیا جائے ، کیونکہ کسی بھی تعلیم سے فائدہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے ۔اگر ان تعلیمات پر عمل کر لیا جائے تو ان شاء اللہ ہندوستان میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان خیر سگالی کے جذبات کا فروغ ہوگا اور آپسی رواداری کی فضا قائم ہوگی ۔

غیر مسلموں کا سماجی حیثیت سے احترام

غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کے ساتھ بات چیت ، ملنے جلنے اور دیگر تعلقات میں اعلی انسانی اخلاق وآداب کا لحاظ رکھا جائے ۔ درج ذیل واقعہ غیر مسلموں کے ساتھ حسن معاشرت پر اسلامی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے :

‘‘قاضی اسماعیل بن اسحاق کی خدمت میں ایک ذمی پہنچا تو انہوں نے اس کی تعظیم وتوقیر کی ، حاضرین میں سے بعض نے اس پر ناگواری کا اظہارکیا تو قاضی اسماعیل نے اپنے اس عمل کے جواز پر قرآن کریم کی سورہ ممتحنہ کی آیت نمبر ۸ سے اپنے طرز عمل پر استدلال کیا ’’ (احکام القرآن ، ابن عربی مالکی ، ج ۲، ص ۲۵۰ ، مطبع السعادہ مصر )۔ یہ وہ آیت ہے جس میں غیر محاربین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے ۔

ایک قول یہ ہے کہ سورہ ممتحنہ کی آیت ۸ کا حکم عورتوں اور بچوں کے ساتھ مخصوص تھا جو قتال نہیں کرسکتے تھے، سو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا۔ ایک قول میں ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے لیکن یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اکثر مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت محکمہ ہے اور منسوخ نہیں ہوئی۔ لہذا ان اختلافات کی صورت میں عمل اکثر کے قول کے مطابق ہوگا ، کیونکہ قاعدہ ہے اعتبار اکثر یعنی جمہور کا ہوتا ہے ۔ تو جو مفسرین اس آیت کے محکم ہونے کا قول پیش کرتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا وہ اپنی ماں کے ساتھ نیکی کریں جب وہ حالت شرک میں ان کے پاس آئیں، آپ نے فرمایا : ہاں ! (صحیح البخاری رقم الحدیث :2620-3183 صحیح مسلم رقم الحدیث :٣سنن ابو دائود رقم الحدیث :1668 مسند احمد ج ٦ ص 347)

اس آیت میں تم کو ان کے ساتھ نیکی کرنے سے منع نہیں فرمایا، جنہوں نے تم سے قتال نہیں کیا، اس سے مراد بنو خزاعتہ ہیں جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس پر صلح کی تھی کہ وہ آپ سے نہ قتال کریں گے اور نہ آپ کے خلاف کسی کی مدد کریں گے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا۔(جاری)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/kaniz-fatma,-new-age-islam/good-manners-and-sufism-in-the-context-of-indian-sub-continent-–-part-1--ہندوستانی-عوام-کے-ساتھ-صوفیائے-کرام-کا-حسن-سلوک-،قسط-اول/d/119886

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..