New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 06:05 PM

Urdu Section ( 6 Apr 2018, NewAgeIslam.Com)

Commentary of Tibyanul Quran on The Mercy for All Worlds تبیان القرآن کے حوالے سے رحمۃ للعالمین کی تفسیر

 

کنیز فاطمہ، نیو ایج اسلام

میں قارئین کی خدمت میں علامہ سعیدی کی تبیان القرآن کے حوالے سے  رحمۃ للعالمین کی تفسیر پیش کر رہی ہوں ۔ قارئین علامہ سعیدی صاحب علیہ الرحمہ کی اس تفسیر پر اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے (الانبیاء :107)

وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین کے مختلف متراجم

شیخ محمود الحسن دیوبندی متوفی 1339 ھ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر کے جہان کے لوگوں پر۔

 شیخ اشرف علی تھانوی متوفی 1364 ھ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :

اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہان کے لوگوں پر مہربانی کرنے کے لئے پھر اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں یعنی مکلفین پر مہربانی کرنے کے لئے۔ (بیان القرآن ج ٢ ص 651، مطبوعہ تاج کمپنی لاہور)

سید ابوالاعلیٰ مودودی متوفی 1399 ھ اس  آیت کا ترجمہ یوں کرتے  ہیں :

اے محمد ! ہم نے جو تم کو بھجیا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔ (تفہیم القرآن ج و ص 189)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی 1340 ھ اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے  ہیں: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔

رحمۃ للعالمین کی تفسیر صدر الافاضل سے

صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی 1367 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

کوئی ہو جن ہو یا انس، مومن ہو یا کافر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور کا رحمت ہونا عام ہے، ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا ہو۔ مومن کے لئے تو آپ دنیا اور آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان  نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت تاخیر عذاب ہوئی اور خسف (زمین میں دھنسانے کا عذاب) و مسخ ( شکل بدل دینے کا عذاب) اور استیصال (کسی قوم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا) کے عذاب اٹھا دیئے گئے۔ تفسیر روح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں اکابر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمت مطلقہ تامہ کاملہ، عامہ، شاملہ، جامعہ، محیطہ، بہ جمیع مقیدات، رحمت، غیبیہ و شہادت علمیہ، وعینیہ و وجود یہ وشہودیہ و سابقہ و لاحقہ وغیرہ ذالک تمام جہانوں کے لئے عالم ارواح ہوں یا عالم اجسام، ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول اور جو تمام عالموں کے لئے رحمت ہو لازم ہے کہ وہ تمام جہانوں سے افضل ہو۔ (حاشیہ برکنز الایمان ص 531، مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور)

رحمۃ للعلمین کی تفسیر امام رازی سے

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین میں بھی رحمت ہیں اور دنیا میں بھی رحمت ہیں۔ دین میں اس لئے رحمت ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس وقت بھیجا گیا لوگ جہالت اور گمراہی میں تھے، اور اہل کتاب میں سے یہود و نصاریٰ اپنے دین کے معاملہ میں زحمت میں تھے ان کا اپنی کتابوں میں بہت اختلاف تھا، اللہ تعالیٰ نے اس وقت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجا جب طالب حق کے سامنے نجات کا کوئی راستہ نہیں تھا، اس وقت آپ نے لوگوں کو حق کی دعوت دی اور نجات کا راستہ دکھایا اور ان کے لئے احکام شرعیہ بیان کئے اور حلال اور حرام میں تمیز دی۔

(آل عمران :164) بیشک اللہ نے مسلمانوں پر احسان فرمایا جب ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج دیا جو ان پر اس کی آیتیں تلاوت کرتا ہے ان کا باطن صاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور بیشک اس سے پہلے وہ کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔ اور آپ دنیا میں اس لئے رحمت ہیں کہ آپ کی وجہ سے ان کو ذلت، قتال اور مختلف جنگوں سے نجات ملی اور آپ کے دین کی برکت سے انہیں فتح حاصل ہوئی، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ رحمت کیسے ہوں گے جب کہ آپ تلوار اور مال غنیمت کے احکام لے کر آئے ؟ اس کے حسب ذیل جواب میں :

(١) آپ ان منکرین اور متکبرین کے لئے تلوار لے کر آئے جنہوں نے تفکر اور تدبر نہیں کیا۔ نیز اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان اور رحیم ہے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نافرمانوں سے انتقام لیتا ہے۔ پانی اور بارش بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے :

(الشوریٰ :28) اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت کھول دیتا ہے۔

حالانکہ بارش سے بعض اوقات فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں، مکان گرجاتے ہیں، مال اور مویشی بہہ کر ڈوب جاتے ہیں سمندری طوفان اور سائیکلون آتے ہیں تو شہر کے شہر تباہ و برباد ہوجاتے ہیں اور ہزاروں اور لاکھوں لوگ مرجاتے ہیں۔

(٢) ہمارے نبی کی آنے سے پہلے جب بھی کوئی قوم اپنے نبی کی تکذیب کرتی تھی تو اللہ تعالیٰ مکذبین کو غرق کر کے یا زمین میں دھنسا کر یا ان کی شکلیں مسخ کر کے ان کو ہلاک کردیتا تھا اور ہمارے رسول کی جس نے تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے عذاب کو اس کی موت یا قیامت تک کے لئے مئوخر کردیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(الانفال :33) اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ آپ ان میں ہوں اور وہ ان پر عذاب بھیج دے۔

رحمۃ للعالمین کی تفسیر علامہ آلوسی سے

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے آپ کو صرف اس سبب سے بھیجا ہے کہ آپ تمام جہانوں پر رحم کریں یا ہم نے آپ کو صرف اس حال میں بھیجا ہے کہ آپ تمام جانوں پر رحم کرنے والے ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ تمام جہانوں میں کفار بھی شامل ہیں کیونکہ آپ کو جو دین دے کر بھیجا ہے اس میں دنیا اور آخرت کی سعادت اور مصلحت ہے یہ اور بات ہے کہ کافروں میں آپ سے استفادہ کی صلاحیت نہ تھی تو انہوں نے اپنے حصہ کی رحمت کو ضائع کردیا، جیسے کوئی پیاسا شخص دریا کے کنارے کھڑا ہو اور پانی کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے یا کوئی شخص دھوپ میں آنکھیں بند کر کے کھڑا ہو تو اس سے دریا کی فیاضی اور سورج کے روشنی پہنچانے میں کوئی قصور نہیں ہے۔ قصور ان کا ہے جنہوں نے پانی کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا یا روشنی کے باوجود آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے رحمت ہونا اس اعتبار سے ہے کہ آپ تمام ممکنات پر ان کی صلاحیت کے اعتبار سے فیضان  الٰہی کے لئے واسطہ ہیں اسی لئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نور اول المخلوقات ہے اور حدیث میں ہے اے جابر!  سب سے پہلے اللہ نے تمہارے نبی کے نور کو پیدا کیا، اور حدیث میں ہے اللہ عطا کرنے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں اور ابن القیم نے مفتاح السعادۃ میں لکھا ہے اگر نبی نہ ہوتے تو جہان میں کوئی چیز کسی کو نفع نہ دیتی، نہ کوئی نیک عمل ہوتا، نہ روزی حاصل کرنے کا کوئی جائز طریقہ ہوتا اور نہ کسی حکومت کا قیام ہوتا اور تمام لوگ جانوروں اور درندوں کی طرح ہوتے، ایک دوسرے پر حملہ کرتے اور ایک دوسرے سے چھین کر کھا جاتے۔ سو دنیا میں جو بھی خیر اور نیکی ہے وہ آثار نبوت سے ہے اور جو شر اور برائی ہے وہ آثار نبوت کے مٹ جانے یا چھپ جانے کی وجہ سے ہے۔ پس یہ عالم ایک جسم ہے اور نبوت اس کی روح ہے اور جب زمین پر نبوت کے آثار میں سے کوئی اثر باقی نہیں رہے گا تو آسمان پھٹج ائے گا، ساترے بکھر جائیں گے، سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند تاریک ہوجائے گا، پہاڑوں کو جڑ سے اکھاڑ کر روئی کے گالوں کی طرح منتشر کردیا جائے گا، زمین میں زلزلہ آجائے گا اور جو لوگ زمین کے اوپر ہیں وہ سب ہلاک ہوجائیں گے۔ پس اس جہان کا قیام آثار نبوت کی وجہ سے ہے اور جب نبوت کا کوئی اثر نہیں رہے گا تو یہ جہان بھی نہیں رہے گا ۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ العالمین سے مراد صرف مومنین ہیں (جیسے شیخ محمود الحسن اور شیخ تھانوی وغیرہم)تو  میرے نزدیک یہ لوگ اس حق پر مطلع نہیں ہو سکے جس کی اتباع واجب ہے اور حقائق پر مطلع ہو کر ان لوگوں کا رد کرنا بہت آسان ہے اور میرا یہ نظریہ کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) العلمین کے ہر فرد کے لئے رحمت ہیں خواہ وہ فرشتوں کا عالم ہو یا انسانوں کا عالم ہو یا جنات کا عالم ہو، اور انسانوں میں بھی آپ مومنوں اور افروں سب کے لئے رحمت ہیں، اسی طرح جنات میں بھی سب کے لئے رحمت ہیں، البتہ رحمت کا فیضان ہر فرد پر اس کی صلاحیت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ (روح المعانی جز 17 ص 155 ملحضاً مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1417 ھ)

علامہ سعیدی کے قلم سے  رحمۃ للعالمین کی تفسیر (جس سے  تھانوی  اور  مودودی صاحبان کا رد ہوتا ہے)  

ہمارے نزدیک اس آیت کریمہ کا مصداق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی ذات گرامی ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو سراپا اور مجسم رحمت بنا کر بھیجا ہے اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے : ‘‘اے محمد ! ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے’’۔ اس آیت کا یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے اور تواتر اور اجماع سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو رحمتہ للعالمین کا مصداق قرار دیا گیا ہے اس کے خلاف ہے۔ اسی طرح مفسرین کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر عالم کے لئے رحمت ہیں خواہ فرشتوں کا عالم ہو، جنات کا عالم ہو، انسانوں کا عالم ہو اور خواہ انسانوں میں سے کافر ہوں، مسلمان ہوں، اولیاء ہوں یا انبیاء (علیہم السلام) ہوں، آپ سب کے لئے رحمت ہیں اور خواہ حیوانوں کا عالم ہو، یا نباتات کا عالم ہو یا جمادات کا عالم ہو، آپ ہر ہر عالم کے لئے رحمت ہیں، اس لئے شیخ محمود الحسن کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے کہ آپ صرف لوگوں کے لئے رحمت ہیں اور نہ شیخ تھانوی کا یہ ترجمہ  اور تفسیر صحیح ہے کہ آپ صرف مکلفین کے لئے رحمت ہیں۔ مکلف ہو یا غیر مکلف انسان ہو، جن ہو یا فرشتہ ہو، حیوان ہو یا شجر و حجر ہو آپ سب کے لئے رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ رب العلمین ہے اور آپ رحمتہ اللعالمین ہیں جس جس چیز کے لئے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہے اس اس چیز کے لئے آپ رحمت ہیں، وجود عین جود ہے اور ہر چیز کو وجود آپ کے واسطہ سے ملا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو عطا کرنے والا ہے اور آپ ہر چیز کو تقسیم کرنے والے ہیں۔ آپ کی کنیت ابو القاسم صرف اس لئے نہیں تھی کہ آپ کے فرزند اور جمند کا نام قاسم تھا، بلکہ ابوالقاسم کا معنی ہے سب سے زیادہ تقسیم کرنے والے اور ابتداء آفرینش عالم سے لے کر قیامت تک جس کو بھی جو نعمت ملتی ہے وہ آپ کی تقسیم سے ملتی ہے۔ تمام دینی اور دنیاوی امور میں آپ ابتداء آفرینش عالم سے تقسیم کرنے والے ہیں۔

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے عقل غیاب و جستجو عشق حضور و اضطراب

شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود فقر جنید و بایزید تیرا جمال بےنقاب

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

نگاہ شعق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طہ

ہم رحمۃ للعالمین کی تفسیر میں پہلے آپ کی رحمت کے متعلق قرآن مجید کی دیگر آیات اور ان کی تفسیر پیش کریں گے پھر آپ کی رحمت کے عموم پر احادیث اور آثار کا ذکر کریں گے، پھر خصوصیت کے ساتھ مومنین پر رحمت کی احادیث کو بیان کریں گے پھر حیوانوں، درختوں اور جمادات پر آپ کی رحمت کی احادیث کو بیان کریں گے جس سے ظاہر ہوجائے گا کہ آپ عالم کے ذرہ ذرہ کے لئے رحمت ہیں۔ غالب نے کہا ہے :

ہر کجا ہنگامہ عالم بود رحمت للعالمین ہم بود

اور آخر میں آپ کی رحمت پر اعترضا ات کے جوابات بیان کریں گے فنقول وباللہ التوفیق و بہ الاستغانۃ یلیق

رسول اللہ کی رحمت کے متعلق دیگر آیات اور ان کی تفسیر میں احادیث

اس آیت کے علاوہ قرآن مجید کی اور آیات میں بھی ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحمت کا ذکر فرمایا ہے :

(آل عمران :159) سو اللہ کی عظیم رحمت سے آپ مسلمانوں کے لئے نرم ہوگئے اور اگر آپ بدمزاج اور سخت دل ہوتے تو وہ ضرور آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر ایک شخص نے اپنے قرض کا سختی سے تقاضا کیا آپ کے اصحاب نے اس کو ڈانٹنے یا مارنے کا قصد کیا۔ آپ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو کیونکہ جس کا حق ہوتا ہے، اس کو بات کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2401 سنن النسائی رقم الحدیث :4417، سنن الترمذی رقم الحدیث :1316، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث، 2423)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی  اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو زیادہ دیا، آپ نے اقرع بن حابس کو سوا اونٹ دیئے اور عینیہ کو بھی اتنے ہی دیئے اور عرب سرداروں کے لوگوں کو بھی کچھ عطا فرمایا اور اس دن آپ نے تقسیم میں (بعض لوگوں کو) ترجیح دی۔ ایک شخص نے کہا اس تقسیم میں عدل نہیں کیا گیا اور نہ اس میں اللہ کی رضا کا ارادہ کیا گیا ہے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم ! میں ضرور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی خبر دوں گا۔ میں نے جا کر آپ کو خبر دی، آپ نے فرمایا : جب اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر اور کون عدل کرے گا۔ اللہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ان کو اس سے زیادہ ایذاء دی گی تھی تو انہوں نے صبر کیا تھا۔ (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تالیف قلب کے لئے بعض مسلموں کو دوسروں سے زیادہ حصہ دیتے تھے) (صحیح البخاری رقم الحدیث :3150 صحیح مسلم رقم الحدیث :1068، مسند احمد رقم الحدیث :3608، مسند حمیدی رقم الحدیث 110)

حضرت عائشہ (رضی  اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ قطر تابد گو تھے، نہ تکلفاً بدگوئی کرتے تھے اور نہ بازاروں میں بلند آواز سے بات کرتے تھے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معاف کردیتے تھے اور درگزر کرتے تھے۔ (شمائل ترمذی رقم الحدیث :348، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص 330 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :6409 سنن بیہقی ج ٧ ص 45)

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاد کے سوا کبھی کسی کو نہیں مارا نہ کبھی کسی عورت پر ہاتھ اٹھایا اور نہ کبھی کسی خادم کو مارا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2328 شمائل ترمذی رقم الحدیث :349، مسند احمد ج ٦ ص 31 مصنف ابن شیبہ ج ٨ ص 368)

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی کسی زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا سوا اس کے کہ اللہ کی حدود کو پامال کیا جائے جب اللہ کی حد توڑی جاتی تو آپ سب سے زیادہ غضب ناک ہوتے اور آپ کو جب بھی دو چیزوں میں ایسی ایک کا اختیار دیا جاتا تو آپ آسان چیز کو اختیار کرتے اس شرط کے ساتھ کہ وہ گناہ نہ ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3560، 6126، صحیح مسلم رقم الحدیث :2327، سنن ابودائود رقم الحدیث :4785 شمائل ترمذی رقم الحدیث :350 مسند احمد ج ٦ ص 85 مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث 17924)

حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ جب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی چیز کا سوال کیا گیا تو آپ نے اس کے جواب میں ” نہ “ نہیں فرمایا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6034 صحیح مسلم رقم الحدیث :2311، شمئال ترمذی رقم الحدیث :353 مسند حمد ج ٣ ص 307)

حضرت عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ سے سوال کیا کہ آپ اس کو کچھ عطا فرمائیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت میرے پاس نہیں ہے، تم اس کو میری طرف سے ادھار خرید لو جب میرے پاس رقم آئے گی تو میں ادا کر دوں گا۔ حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ! آپ اس کو عطا کرچکے ہیں اور جس چیز پر آپ قادر نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا مکلف نہیں کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کی بات کو ناپسند فرمایا پھر انصا میں سے ایک شخص نے کہایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ خرچ کیجیے اور عشر والے سے تنگی کا خوف نہ کیجیے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبسم فرمایا اور آپ کے چہرے پر انصاری کی بات سے خوشی کے آثار دکھائی دیئے پھر آپ نے فرمایا : مجھے اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے۔ (شمائل ترمذی رقم الحدیث :356، مسند البزار رقم الحدیث :3662 البحر الزخار رقم الحدیث :273، مجمع الزوائد ج 10 ص 242)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تورات اور انجیل میں بعض یہ صفات مذکور ہیں :

ویضع عنھم اصرھم والاغلل التی کا نت علیھم (الاعراف :157) جو ان سے ان کے (مشکل احکام کے) بوجھ اتارے گا اور ان کے گلے میں پڑے ہوئے (سختیوں کے) طوق اتار کر پھینک دے گا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا ہے۔ فرمایا میں اپنا عذاب تو جسے چاہے اسے پہنچاتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے تو عنقریب میں اس (دنیا اور آخرت کی بھلائی) کو ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو گناہوں سے بچیں گے اور زکوۃ دیں گے اور ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔ (الاعراف :156)

اس آیت میں دنیا کی بھلائی سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں احکام شرعیہ آسان ہوں کیونکہ بنو اسرائیل پر بہت مشکل احکام تھے۔ ان کی توبہ یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کردیں، ان کو تیمم کی سہولت حاصل نہ تھی، مال غنیمت حلال نہیں تھا، قربانی کو کھانے کی اجازت نہیں تھی، قصاص لازم تھا، دیت کی رخصت نہیں تھی، ہفتہ کے دن شکار کی اجازت نہیں تھی روزے کا دورانیہ رات اور دن کو محیط تھا، غرض بہت سخت احکام تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چاہا کہ ان کے یہ سخت احکام آسان ہوجائیں اور آخرت کی بھلائی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کم عمل پر زیادہ اجر عطا فرمائے، ان کو ایک نیکی پر ایک ہی اجر ملتا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ ایک نیکی پر دس گنا یا سات سو گنا اجر عطا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کی یہ خیر اور رحمت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کے بجائے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے لئے لکھ دی فرمایا میں ان لوگوں کے لئے یہ خیر اور رحمت لکھ دوں گا جو :

(الاعراف :157) جو لوگ اس عظیم رسول نبی امی کی پیروی کریں گے جس کو وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو ان کو نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا جو ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرے گا اور ان پر ناپاک چیزوں کو حرام کرے گا اور جو ان سے (مشکل احکام کے) بوجھ اتارے گا اور ان کے گلے میں پڑے ہوئے سختویں کے طوق اتار کر پھینک دے گا۔

نبی صلی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحمت کا ذکر اس آیت میں بھی ہے :

(التوبۃ :128) بیشک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول آگئے ہیں، تمہارا مشقت میں پڑنا ان پر بہت شاق ہے، تمہاری فلاح پر بہت حریص ہیں اور مومنوں پر بہت شفیق، نہایت مہربان ہیں۔

امت کے سخت اور مشقت والے احکام کون سے تھے اور آپ نے ان کو کیسے دور فرمایا اور دنیا اور آخرت کی فلاح آپ نے کیسے عطا فرمائی، اس کی تفصیل ہم نے تبیان القرآن ج ۵ ص ۳۰۵ تا  ۳۰۷  بیان کردی ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

آپ کی رحمت کے عموم کے متعلق احادیث

امام ابن جریر حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لایا اس کے لئے دنیا اور آخرت میں رحمت لکھ دی جاتی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لایا اس کو دنیا میں زمین میں دھنسانے اور اس پر پتھر برسانے کے اس عذاب سے محفوظ رکھا جاتا ہے جس عذاب میں پہلی امتیں مبتلا ہوتی رہی ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث :8820، الدرا المنثور ج ٥ ص 687)

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے خلاف دعا کیجیے آپ نے فرمایا : مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، مجھے صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2599، الوفاء رقم الحدیث :754)

حضرت ابوامامہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے مجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت اور تمام متقین کے لئے ہدایت بنا کر بھیجا ہے۔ (مسند حمد ج ٥ ص 257 المعجم الکبیر رقم الحدیث :7803 مجمع الزوائد ج ٥ ص 72)

حضرت سلمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنی امت کے جس شخص کو بھی غصہ میں برا کہا یا اس پر لعنت کی تو میں بنو آدم کا ایک فرد ہوں، مجھے بھی اس طرح غصہ آتا ہے جس طرح انہیں غصہ آتا ہے اور اللہ نے تو مجھے صرف تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اے اللہ ! قیامت کے دن اس برا کہنے کو اس کے لئے دعائے خیر بنا دے۔ (مسند احمد ج ٥ ص 1437، المعجم الکبیر رقم الحدیث :6156)

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، میں صرف رحمت ہوں، اللہ کی طرف سے ہدایت۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ج ۃ ص 158 المعجم الصغیر رقم الحدیث :264 المستدرک ج ١ ص 35 کامل ابن عدی ج ٤ ص 231)

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا یا رسول اللہ ! کیا غزوہ احد کے دن سے بھی کوئی سخت دن آپ پر آیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : مجھے تمہاری قوم کی طرف سے جن سختیوں کا سامنا ہوا سو ہوا اور ان کی طرف سے سب سے زیادہ سخت دن وہ تھا جو یوم العقبہ (جب آپ طائف کی گھاٹیوں میں تبلیغ کے لئے جاتے تھے) کو پیش آیا جب میں نے ابن عبدیالیل بن عبدکلال کو اسلام کی دعوت دی، اس نے میری دعوت کو قبول نہیں کیا۔ میں اپنے غمزدہ چہرے کے ساتھ واپس آیا، ابھی میں قرن الثعالب میں پہنچا تھا کہ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو مجھ پر ایک بادل نے سایہ کیا ہوا تھا میں نے دیکھا اس بادل میں جبریل (علیہ السلام) تھے۔ انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا بیشک اللہ نے سن لیا کہ آپ کی قوم نے کیا کہا اور آپ کو کیا جواب دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپس کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے، آپ ان کافروں کے متعلق اس کو جو چاہیں حکم دیں، پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو سلام کر کے کہا اے محمد ! آپ جو چاہیں میں وہ کر دوں ! اگر آپ چاہیں تو میں ان کے اوپر مکہ کے دو پہاڑوں کو گرا کر انہیں زمین میں پیس دوں ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلکہ میں یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی پیٹھوں سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3231 صحیح مسلم رقم الحدیث :1795، السنن الکبری للنسائی 7706)

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ذات کے لئے کبھی اتنقام نہیں لیا، ہاں اگر اللہ کی حدود کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کے لئے انتقام لیتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :68530 سنن ابو دائود رقم الحدیث :4785 شمائل ترمذی رقم الحدیث :349، مئوطا امام مالک رقم الحدیث :563 اور ایک نجرانی (یمنی) چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ راستہ میں ایک اعرابی (دیہاتی) ملا، اس نے بہت زور سے آپ کی چادر کھینچی۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو کندھوں کے درمیان نشان پڑگیا تھا پھر اس نے کہا اے محمد ! آپ کے پاس جو اللہ کا مال ہے، اس میں سے مجھے دینے کا حکم دیجیے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف متوجہ ہو کر مسکرائے پھر اس کو مال دینے کا حکم دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3149، صحیح مسلم رقم الحدیث :1057، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3553)

سراقہ بن مالک آپ کا سر اتارنے کے لئے آپ کا پیچھا کر رہا تھا، آپ نے اس پر قابو پا کر اسے معاف کردیا۔ صفوان بن امیہ نے عمیر بن وہب کو زہر میں بجھی ہوئی تلوار دے کر آپ کو قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا جب وہ آپ کی دسترس میں آیا تو آپ نے اس کو معاف کردیا، بعد میں صفوان کو بھی معاف کردیا۔ ابوسفیان نے معتدد بار مدینہ پر حملے کئے۔ وحشی نے آپ کے عزیز چچا کو قتل کیا، ہند نے حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر چا چبایا۔ ہبار بن اسود نے آپ کی صاحبزادی کو سواری سے گرا دیا جس سے ان کا حمل ساقط ہوگیا اور جب ان سب کی گردنیں آپ کی تلوار کے نیچے تھیں، آپ نے ان سب کو معاف کردیا۔ عبداللہ بن ابی نے بہت ایذائیں پہنچائی تھیں لیکن جب اس نے مرتے وقت درخواست کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھادی۔ ان تمام احادیث کی تفصیل اور حوالہ جات تبیان القرآن ج ٢ ص 419427 میں ملاحظہ فرمائیں۔

مسلمانوں پر آپ کی رحمت کے متعلق احادیث

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا، اے لوگو ! اللہ نے تم پر حج فرض کردیا ہے سو تم حج کرو۔ ایک شخص نے کہا کیا ہر سال ؟ یا رسول اللہ ! آپ خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے تین بار سوال کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج فرض ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے پھر فرمایا جس چیز میں میں تم کو (بیان کرنا) چھوڑ دوں اس چیز میں تم مجھ کو چھوڑ دیا کرو تم سے پہلی امتیں زیادہ سوال کرنے اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں جب میں تم کو کسی چیز کا حکم دوں تو تم اس کو بہ قدر استطاعت کرلو اور میں جب تم کو کسی چیز سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دو ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :1337، سنن النسائی رقم الحدیث :2619)

حضرت زید بن خالد (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مئوخر کر کے پڑھنے کا حکم دیتا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :23، سنن ابودائود رقم الحدیث :47، شرح السنتہ رقم الحدیث :198، مسند حمد ج ٤ ص 116 المسند الجامع رقم الحدیث 3908)

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آدھی رات کو باہر آئے اور مسجد میں نماز پڑھی لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر لوگوں نے ایک دوسرے سے اس کا ذکر کیا، پھر (دوسری رات) اس سے بہت زیادہ لوگ جمع ہوگئے پھر صبح انہوں نے (دوسرے لوگوں کو) بتایا، پھر تیسری رات کو مسجد میں بہت زیادہ لوگ جمع ہوگئے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر آئے اور آپ نے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی نماز پڑھی، چوتھی رات کو اتنے زیادہ لوگ آگئے کہ مسجد تنگ پڑگئی حتیٰ کہ آپ صبح کی نماز پڑھانے کے لئے آئے جب آپ نے صبح کی نماز پڑھا دی تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا : حمد و صلاۃ کے بعد مجھ پر تمہارا اشتیاق مخفی نہیں تھا لیکن مجھے یہ خوف تھا کہ تم پر یہ نماز فرض کردی جائے گی پھر تم اس کو پڑھنے سے عاجز ہو جاو گے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور لوگوں کا عمل اسی طرح رہا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2012 سنن ابودائود رقم الحدیث :710 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :956، سنن النائی رقم الحدیث :758 مسند احمد رقم الحدیث 25069 عالم الکتب)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول کو پڑھا :

رب انھن اضللن کثیراً من الناس فمن تبغنی فانہ منی (ابراہیم :36) اے میرے رب ! ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے سو جس نے میری پیروی کی، وہ میرے طریقہ پر ہے۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا :

ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم (المائدہ :118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو بیشک تو بہت غلبہ والا بہت حکمت والا ہے۔

پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کئے اور دعا کی اے اللہ ! میری امت، میری امت اور آپ روئے، تب اللہ عزوجل نے فرمایا : اے جبریل ! محمد کے پاس جاو اور تمہارا رب خوب جانتا ہے، ان سے سوال کرو، انہیں کیا رلاتی ہے ؟ پھر آپ کے پاس عزوجل نے فرمایا، اے جبریل ! محمد کے پاس جاو اور ان سے کہو ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں رضائی کردیں گے اور آپ کو رنجیدہ ہونے نہیں دیں گے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :202، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :11269)

حیوانات اور جمادات پر رحمت کے متعلق احادیث

حضرت عبداللہ بن جعفر (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری پر مجھے اپنے ساتھ بٹھایا پھر مجھے چپکے سے ایک بات بتائی جو میں کبھی بھی کسی کو نہیں بتاوں گا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضاء حاجت کے لئے کسی ٹیلہ یا گنجان اور گھنے کھجور کے درختوں کی اوٹ میں جانا پسند کرتے تھے۔ آپ انصار کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہوئے وہاں ایک اونٹ آیا اور اس نے بڑ بڑ کر کے آپ سے کچھ کہا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے کان کی ہڈی کے پیچھے ہاتھ پھیرا تو وہ پر سکون ہوگیا پھر آپ نے فرمایا یہ اونٹ کس کا ہے ؟ انصار کا ایک جوان آیا اور اس کے کان کی ہڈی کے پیچھے ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہوگیا پھر آپ نے فرمایا یہ اونٹ کس کا ہے ؟ انصار کا ایک جوان آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ یہ اونٹ میرا ہے۔ آپ نے فرمایا کیا تم ان جانوروں کے معاملہ میں خدا سے نہیں ڈرتے ؟ جن کا اللہ نے تمہیں مالک بنادیا ہے۔ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ اس کو تم بھوکا رکھتے ہو اور کام لے لے کر اس کو تھکا دیتے ہو۔ (مسند احمد ج ۃ ص 436 طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث :1745 دارالفکر، جدید، البدایہ والنہایہ ج ٤ ص 531 دارالفکر جدید)

حضرت یعلیٰ بن مرہ الثفقی (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تین چیزیں دیکھیں ایک دن ہم آپ کے ساتھ ایک سفر میں جارہے تھے، ہمارا ایک اونٹ کے پاس سے گزر ہوا جب اونٹ نے آپ کو دیکھا تو بڑ بڑ کرنے لگا اور اپنی گردن آگے بڑھائی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس ٹھہر گئے اور فرمایا اس کا مالک کون ہے وہ شخص آگیا۔ آپ نے فرمایا اس اونٹ کو مجھے بیچ دو ۔ اس نے کہا نہیں میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا نہیں مجھ کو فرخت کردو۔ اس نے کہا نہیں، میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں، ہمارے گھر والوں کی گزر اوقات کے لئے اس کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : جب تم نے یہ کہا ہے تو سنو، اس اونٹ مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو او اس کو چارہ کم ڈالتے ہو، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ (مسند احمد رقم الحدیث :17570، دارالفکر، البدایہ والنہایہ ج ٤ ص 532، دارالفکر بیروت، 1418 ھ)

حضرت ابو سعید (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہرنی کے پاس سے گزرے جو ایک خیمہ میں بندھی ہوئی تھی، اس ہرنی نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے کھول دیجیے تاکہ میں اپنے بچوں کو جا کر دودھ پلا آوں پھر میں واپس آجاوں گی تو آپ مجھے باندھ دیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایک قوم کا شکار ہے اور اس کی باندھی ہوئی ہے پھر آپ نے اس سے عہد لیا کہ وہ ضرور واپس آئے گی پھر اس کو کھول دیا۔ وہ تھوڑی دیر میں واپس آگئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو باندھ دیا پھر خیمہ والے آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ان سے مانگ لیا۔ انہوں نے وہ ہرنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہبہ کردی، آپ نے اس کو کھول دیا۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص 34، البدایہ والنہایہ ج ٤ ص 543، الخصائص الکبریٰ ج ٢ ص 61)

امام بیہقی کی ایک اور روایت میں ہے :

حضرت زید بن ارقم نے کہا اللہ کی قسم ! میں نے دیکھا، وہ ہرنی جنگل میں چلاتی ہوئی جا رہی تھی اور کہہ رہی تھی : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص 35، البدایہ والنہایہ ج ٤ ص 543 الخصائص الکبریٰ ج ٢ ص 61 دلائل النبوۃ ابی نعیم رقم الحدیث :320)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں تھے، ہمارا درختوں کے پاس سے گزر ہوا ایک شخص ان میں گیا اور سرخ پرندہ کے انڈے نکال لایا، وہ سرخ پرندے آ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کے اوپر اپنے بازو پھیلانے لگے۔ آپ نے فرمایا ان کے انڈے کس نے جمع کئے ہیں ؟ ایک شخص نے کہا میں نے ان کے انڈے لئے ہیں۔ آپ نے ان پرندوں پر رحمت فرماتے ہوئے فرمایا ان کے انڈے واپس کرو۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص 32)

ایک اور سند سے امام بیہقی نے حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ہمارا ایک درخت کے پاس سے گزر ہوا، اس میں سرخ پرندہ کے دو چوزے تھے ہم نے وہ اٹھا لیے وہ سرخ پرندہ آ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کرنے لگا، آپ نے فرمایا : ان کو واپس رکھ دو ۔ سو ہم نے ان کو واپس رکھ دیا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :52682675 دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص 3233 البدایہ والنہایہ ج ٤ ص 546547 الخصائص الکبریٰ ج ٢ ص 63)

ان احادیث میں حیوانوں اور پرندوں پر آپ کی رحمت کا ذکر ہے اور درختوں اور جمادات پر رحمت کا ذکر درج ذیل احادیث میں ہے :

حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن ایک درخت یا کھجور (کے تنے) کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، انصار کی کسی عورت یا مرد نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے لئے منبر نہ بنادیں تو آپ نے فرمایا اگر تم چاہو، انہوں نے منبر بنادیا جب جمعہ کا دن آیا تو آپ منبر کی طرف گئے تو وہ کھجور کا تنا بچے کی طرح زور زور سے رونے لگا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر سے اتر کر اس کو اپنے ساتھ لپٹایا تو وہ سسکیاں لینے لگا پھر سرکون ہوگیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3584)

امام بخاری کی ایک اور روایت میں ہے وہ کھجور کا تنا اس طرح چلا رہا تھا جیسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی اپنے بچے کے فراق میں چلاتی ہے پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ پرسکون ہوگیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3585 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :495 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :1124، مسند احمد رقم الحدیث :21295، عالم الکتب بیروت)

حافظ ابن کثیر متوفی 774 ھ نے اس حدیث کو متعدد اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے :

امام ابویعلی اپنی سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھ گئے تو وہ مجور کا تنابیل کی طرح آواز نکال کر چلا رہا تھا اور رسول اللہ اللہ تعالیٰ (کے فراق) کے غم کی وجہ سے اس کی آواز میں لرزش تھی پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر سے اترے اور اس کو لپٹا لیا پھر وہ پرسکون ہوگیا پھر آپنے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں محمد کی جان ہے اگر میں اس کو نہ لپٹاتا تو وہ قیامت تک رسول اللہ اللہ تعالیٰ کے (فراق کے) غم میں روتا رہتا پھر اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے زمین میں دفن کردیا گیا۔

امام بزار نے اپنی سند کے ساتھ حسن سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنے ساتھ چمٹایا تو وہ پرسکون ہوگیا۔ آپ نے فرمایا اگر میں اس کو نہ چمٹاتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔

امام بغوی نے اس حدیث کو حسن سے روایت کر کے کہا حسن جب اس حدیث کو بیان کرتے تو روتے اور کہتے اے اللہ کے بندو ! درخت کا تنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شوق میں روتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آپ کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیا مقام ہے تو تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کا شوق رکھنے کے زیادہ حق دار ہو۔ (البدایہ والنہایہ ج ر ص 518519 مطبوعہ دارالفکر بیروت، طبع جدید، 1418 ھ)

امام ابونعیم اصفہانی متوفی 430 ھ نے متعدد اسانید کے ساتھ حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) سے ایک حدیث کو روایت کیا ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے کہ اگر میں اس کو اپنے ساتھ نہ لپٹاتا تو یہ قیامت تک روتا اور چلاتا رہتا۔ (دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث :302305، سنن الداری رقم الحدیث :39 حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند صحیح ہے، مجمع الزوائد ج ١ ص 182)

نیز حافظ ابونعیم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس درخت کے ستون سے فرمایا : تو پرسکون ہوجا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا یہ میری محبت میں رو رہا ہے پھر آپ نے اس سے فرمایا تو پرسکون ہوجا اگر تو چاہے تو میں تجھ کو جنت میں اگا دوں، تیرا پھل نیک لوگ کھائیں گے اور اگر تو چاہے تو میں تجھے دنیا میں پہلے کی طرح تروتازہ درخت اگا دوں تو اس درخت نے آخرت کو دنیا پر اختیار کرلیا۔ (دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث :306 سنن الدارمی رقم الحدیث :36 الخصائص الکبریٰ ج ٢ ص 307 مجمع الزوائد ص 180) ان احادیث میں درختوں اور جمادات پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحمت کا ذکر ہے۔

آپ کی رسالت کا ہر چیز کو علم ہے

ہم نے حیوانات پر رحمت کے سلسلہ میں جو احادیث ذکر کی ہیں اس میں اونٹ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کلام کرنے کا ذکر ہے، اس حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :

لیس شی بین السماء والارض الایعلم انی رسول اللہ الا عاصی الجن والانس کفار جن اور انس کے سوا آسمان اور زمین کے درمیان ہر چیز یہ جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ (مسند احمد ج ٣ ص 110، قدیم، مسند احمد رقم الحدیث :14385، عالم الکتب، مسند عبدبن حمید رقم الحدیث :1123، سنن الدارمی رقم الحدیث :18 دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث :279 مصنف ابنی ابی شیبہ ج ١١ ص 473 مجمع الزوائد ج 9 ص، مسند البزار رقم الحدیث :2452)

حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے کہا یا رسول اللہ ! گویا یہ اونٹ جانتا تھا کہ آپ نبی ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ،

مابین لابتیھا احد الا یعلم انی نبی الاکفرۃ الجن والانس۔ مدینہ کے دوسروں کے درمیان ہر چیز کو علم ہے کہ میں نبی ہوں، سوائے کافر جن اور کافرانس کے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث :12003 مجمع الزوائد رقم الحدیث :14154، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص 30)

حضرت یعلی (رضی اللہ عنہ) کی حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

مامن شیء الا یعلم انی رسول اللہ الا کفرۃ اوفسقۃ الجن والانس۔ ہر شے کو علم ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، سوا کافر یا فاسق جن اور انس کے۔ (المعجم الکبیرج ج 22 ص 262، البدایہ والنہایہ ج ٤ ص 534 مجمع الزوائد رقم الحدیث :14159)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رحمۃ للعالمین ہونے پر اعتراضات

بعض اوقات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض کفار اور مشرکین کے لئے ہلاکت اور ضرر کی دعا فرمائی۔ اس وجہ سے آپ پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب آپ تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں تو آپ نے ان کافروں کے لئے ہلاکت اور ضرر کی کیوں دعائی فرمائی ؟ وہ احادیث حسب ذیل ہیں :

(١) حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو اپنا مکتوب دے کر عظیم البحرین کی طرف بھیجا، عظیم البحرین نے وہ مکتوب کسریٰ کو دے دیا جب کسریٰ نے آپ کے مکتوب کو پڑھا تو اس کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ میرا گمان ہے کہ ابن مسیب نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے خلاف دعا کی کہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :493964)

علامہ بدر الدین عینی حفنی متوفی 855 ھ لکھتے ہیں :

جس شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکتوب پھاڑا تھا، اس کا نام پرویز بن ہرمز تھا جب اس نے آپ کے مکتوب کے ٹکڑے ٹکڑے کئے تو آپ نے فرمایا : اس کا ملک ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے اور آپ نے فرمایا : جب کسریٰ مرجائے گا تو پھر کسریٰ (نام کا کوئی) بادشاہ نہیں ہوگا۔ علامہ واقدی نے کہا کسریٰ کے اوپر اس کا بیٹا شرویہ مسلط ہوگیا اور اس نے سات ہجری میں کسریٰ کو قتل کردیا اور اس کے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے گئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو اس کے خلاف دعا کی تھی، وہ پوری ہوگئی۔ (عمدۃ القاری جز ٢ ص 28 مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ، 1348 ھ)

(٢) حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے ساتھ وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت ان میں سے کسی نے کہا بنو فلاں کے ہاں اونٹنی ذبح ہوئی ہے، تم میں سے کون جا کر اس کی اوجھڑی لے کر آئے اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ میں جائیں تو اس کو ان کی پشت پر رکھ دے تو ان میں جو سب سے بدبخت شخص تھا (عقبہ بن ابی معیط) وہ اٹھا اور اوجھڑی لے کر آیا اور دیکھتا رہا حتیٰ کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ میں گئے تو اس نے وہ اوجھڑی آپ کے کندھوں کے درمیان آپ کی پشت پر رکھ دی۔ (حضرت ابن مسعود کہتے ہیں) میں یہ منظر دیکھ رہا تھا اور میں اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا تھا، کاش کہ میرے پاس مددگار ہوتے۔ وہ کافر ہنس رہے تھے اور بعض بعض کی طرف اشارہ کر کے کہہ رہے تھے کہ تم نے یہ کیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (تقاضائے بشری سے) سجدہ سے سر نہیں اٹھا سکے حتیٰ کہ حضرت سیدتنا فاطمہ (رضی اللہ عنہا) آئیں اور انہوں نے اس اوجھڑی کو اٹھا کر آپ کی پشت سے پھینکا۔ آپ نے سجدہ سے سر اٹھا کر تین بار فرمایا اے اللہ ! قریش کو پکڑ لے، ان کو یہ دعا بہت سخت معلوم ہوئی کیونکہ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے پھر آپ نے نام لے لے کر فرمایا اے اللہ ! ابوجہل کو پکڑ لے، عتبہ بن ربیعہ کو پکڑ لے، شیبہ بن ربیعہ کو پکڑ لے اور ولید بن عتبہ کو پکڑ لے اور امیہ بن خلف کو پکڑے لے اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ لے اور ساتویں کا نام بھی لیا، وہ راوی کو یاد نہیں رہا۔ (امام بخاری نے ایک اور جگہ ذکر کیا ہے کہ وہ ساتواں شخص عمارہ بن الولید بن مغیرہ تھا۔ عمدۃ القاری جز ٣ ص 174) حضرت ابن مسعود نے کہا اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جن جن کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نام لئے تھے وہ ساتوں بدر کے کنوئیں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :240، صحیح مسلم رقم الحدیث :1794، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :8669)

حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ (قبیلہ) رمل، ذکوان، عصیہ اور بنولحیان نے اپنے دشمنوں کے خلاف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مدد طلب کی (ان کے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان معاہدہ تھا) آپ نے ستر انصاریوں کو ان کی مدد کے لئے بھیجا۔ ہم ان کو اپنے زمانہ میں قراء کہتے تھے، وہ دن میں لکڑیاں چنتے تھے اور رات کو نماز پڑھتے تھے جب وہ قراء بیر معونہ پہنچے تو ان کو بلانے والوں نے ان کو قتل کردیا اور عہد شکنی کی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر پہنچی تو آپ ایک مہینہ تک صبح کی نماز میں عرب کے ان قبیلوں کے خلاف دعا کرتے رہے۔ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنولحیان کے خلاف۔ (صحیح البخاری رقم الدیث :409, 4088)

(٣) حضرت علی (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ الاحزاب کے دن فرمایا اللہ تعالیٰ کفار کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے، ہم ان کی وجہ سے غروب آفتاب تک عصر کی نماز نہیں پڑھ سکے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث، 2939، صحیح مسلم رقم الحدیڑ :627، سنن ابو دائود رقم الحدیث :409، سنن الترمذی رقم الحدیث :2984 سنن النسائی رقم الحدیث :472473)

اعتراضات مذکورہ کے جوابات

ان احادیث میں یہ مذکور ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کے خلاف دعائے ضرر کی، ان پر اعتراض ہے کہ آپ تو رحمتہ للعلمین ہیں۔ کفار کے لئے عذاب کی دعا کرنا آپ کی شان اور منصب کے خلاف ہے، اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن اور رحیم ہے اس کے باوجود وہ کفار کو عذاب دے گا تو جب اللہ تعالیٰ کا رحمن اور رحیم ہونا، اس کے عذاب دینے کے خلاف نہیں ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رحمتہ للعالمین ہونا، عذاب کی دعا کے خلاف کیسے ہوگا۔

باقی رہا یہ شبہ کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن اور رحیم ہو کر کفار کو عذاب کیسے دے گا۔ اس کا جواب رحمت کے معنی سمجھنے پر موقوف ہے۔

امام شعرانی نے ابن عربی (رحمۃ اللہ علیہ) کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ سہل بن عبداللہ تستری کے پاس شیطان آیا اور کہنے لگا بتاو میری بخشش ہوگی یا نہیں، سہل نے کہا نہیں۔ شیطان نے کہا اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ” ورحمتی وسعت کل شی “ (الاعراف 156) ” میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے “ اور ہر شے کے عموم میں میں بھی داخل ہوں تو میری مغفرت بھی ہونی چاہیے۔ سہل نے کہا یہ مومنین کے ساتھ خاص ہے تم اس کے عموم سے خارج ہو۔ شیطان نے کہا پہلے تو میں تم کو عالم سمجھتا تھا آج تمہارا جہل مجھ پر آشکار ہوگیا تم اللہ تعالیٰ کی صفت (یعنی رحمت کے شمول) میں تقید کر رہے ہو حالانکہ تقید اور تحدید مخلوق کی صفات میں ہوتی ہے اس کی صفات غیر مقید اور لامحدود ہوتی ہیں۔ شیطان کا یہ جواب سن کر سہل بالکل لاجواب اور مبہوت ہوگئے۔ (الکبریت الاحمر علی ہامش الیواقت ج ١ ص 2, 3

علامہ عبدالوہاب شعرانی (رحمۃ اللہ علیہ) نے بھی اس سوال کا کوئی جواب ذکر نہیں کیا۔ میں نے اس حکایت کو پڑھ کر غور کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ جواب منکشف فرمایا کہ ضرورت کے وقت کسی کو کوئی چیز دینا بھی رحمت ہے اور اس چیز کے اسباب فراہم کردینا بھی رحمت ہے۔ مثلاً کسی کو آپ کھانا کھلا دیں یہ اس کے حق میں رحمت ہے اور اگر اسی کھانے کے پیسے دے دیں تو یہ بھی اس کے لئے رحمت ہے۔ اسی طرح جنت کا معاملہ ہے بنفسہ جنت عطا کردینا بھی رحمت ہے اور جنت کے اسباب مہیا کردینا بھی رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت، مغفرت اور رضا مندی کے حصول کا سبب اپنے احکام کی اطاعت مقرر کیا ہے۔ یہ احکام فرشتوں کے ساتھ شیطان کو بھی دیئے گئے تھے اور فرشتوں کے ساتھ اسے بھی حضرت آدم کی تعظیم کا حکم دیا گیا لیکن اس نے اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے خود منہ موڑ لیا، بلکہ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے کہا آدم (علیہ السلام) کی قبر کو سجدہ کرلے، تیرا گناہ معاف کردیا جائے گا اور تیری توبہ قبول کرلی جائے گی۔ اس لعین نے اللہ تعالیٰ سے کہا جب میں نے آدم کو سجدہ نہیں کیا تو اب ان کی قبر کو کب سجدہ کروں گا۔ (روح البیان ج ۃ ص 105) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اسے کل بھی شامل تھی، آج بھی شامل ہے۔ اس لعین نے خود اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی پیکراں رحمت سے دور رکھا ہوا ہے۔ دریا کے ساحل پر کھڑا ہو کر کوئی شخص کہے دریا میری پیاس نہیں بجھاتا تو یہ دریا کی سیرابی میں کمی نہیں ہے، خود اس شخص کے ظرف میں کمی ہے جو دریا کے قریب آ کر پانی نہیں پی رہا۔ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمتہ للعالمین ہیں بایں معنی کہ آپ نے تمام جہان والوں کو توحید و رسالت کی دعوت دی اور ابدی رحمت کے حصول کا دروازہ دکھایا جو لوگ جان کے دشمن اور خون کے پیاسے تھے، ان میں سے ایک ایک کے گھر جا کر پیغام حق سنایا جو راستہ میں کانٹے بچھاتے تھے اور غلاظت بکھیرتے تھے، ان کے دروازوں پر دستک دے کر جنت اور دائمی سلامتی کی دعوت دی۔ اس کے باوجود جن لوگوں نے آپ کی دعوت کو مسترد کر کے جنت اور رحمت سے منہ موڑ لیا تو اس میں آپ کی رحمت کے عموم اور شمول کا قصور جن لوگوں نے آپ کی دعوت کو مسترد کر کے جنت اور رحمت سے منہ موڑ لیا تو اس میں آپ کی رحمت کے عموم اور شمول کا قصور نہیں۔ قصور ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اپنے آپ کو آپ کی رحمت سے دور رکھا۔ جب نصف النہار کے وقت آفتاب روئے زمین پر نور افگن ہو اور کوئی شخص آنکھیں بند کر کے کھڑا ہوجائے تو قصور آفتاب کے فیض کا نہیں، قصور اس شخص کا ہے جس نے آفتاب کے سامنے ہوتے ہوئے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

کفار کے لئے عذاب کی دعا کرنے کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ کفار اور مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو تکلیفیں اور اذیتیں پہنچائیں آپ نے ان کے خلاف دعا نہیں کی۔ طائف کی وادیوں میں آپ پیغام توحید سنانے گئے جو اب میں انہوں نے پتھر مار مار کر آپ کو لہولہان کردیا دل آزار باتیں کیں، آواز کسے، آپ نے اف نہ کی۔ ان کا ظلم دیکھ کر جبریل (علیہ السلام) سے بھی یارائے ضبط نہ رہا، پہاڑوں کے فرشتہ نے حاضرہو کر کہا آپ حکم دیں تو مکہ کے لوگوں کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں لیکن آپ نے کہا تو یہی کہا، بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی پیٹھوں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا۔ جو اللہ کی عبادت کریں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3231)

جبل احد کی گھاٹیوں پر ابوسفیان کی قیادت میں مشرکین حملہ آور ہوئے، کسی شقی نے پتھر مارا اور آپ کا چہرہ خون آلود ہوگیا، دانت کا ایک کنارہ شہید ہوگیا پھر بھی آپ نے ان کے خلاف بد دعا نہیں کی۔ اسی غزوہ میں آپ کے پیارے اور محبوب چچا سیدنا حمزہ کو وحشی نے قتل کردیا، ان کے جسم کو گھائل کیا گیا، جسم کے نازک حصے کاٹ ڈالے گئے۔ ابوسفیان کی بیوی ہند نے ان کا کلیجہ نکال کر دانتوں سے کچا چبایا۔ آپ نے یہ سارے ظلم و ستم دیکھے اور کچھ نہ کہا بلکہ فتح مکہ کے بعد جب یہ سارے اشقیاء مغلوب ہو کر پیش خدمت ہوئے جب عربوں کے روایتی انتقا م کی آگ کے خوف سے مارے ڈر کے یہ سارے سہمے ہوئے تھے آپ نے قادر اور غالب ہونے کے باوجود بدل نہیں لیا۔ بار بار حملہ آور ہونے والے ابوسفیان کو معاف کردیا۔ حضرت حمزہ کے قاتل وحشی کو بخش دیا۔ حمزہ (رضی اللہ عنہ) کا کلیجہ چبانے والی ہندہ سے درگزر کرلیا۔ وحشی نے قبول اسلام کے لئے شرائط پیش کیں اس کی ایک ایک شرط پوری کر کے اسے آغوش رحمت میں لے لیا۔ قاتل حمزہ کا ایک ایک نخرہ برداشت کر کے اسے مشرف بہ اسلام کیا۔ ایسے بےعدیل، رحمی و کریم اور بےمثیل مہربان آقا کو ہم دیکھتے ہیں کہ غزوہ خندق میں مشرکوں سے جنگ کی وجہ سے نماز عصر رہ گئی تو ان کے خلاف دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ جس صابر و شاکر شخص نے طائف کے ظلم سہہ کر کسی ظالم کے خلاف دعا نہیں کی، ابوسفیان، وحشی اور ہند کو کچھ نہ کہا، بڑی سے بڑی زیادتی کے بعد جس کا پیمانہ صبر لبریز نہیں ہوا، وہ نماز میں خلل ڈالنے، تبلیغ دین کو سبوتاژ کرنے اور مسلمانوں کو قتل کرنے کی وجہ سے کفار کے خلاف دعائے ضرر کرتا ہے۔ اس سے یہی بتلانا مقصود تھا کہ اپنی جان، اپنی عزت، آبرو اور اپنے عزیزوں کے خون کی بہ نسبت دین کی تبلیغ نماز اور مسلمانوں کا خوف مجھے پیارا ہے۔ میں اپنی جان پر زیادتی برداشت کرسکتا ہوں، اپنے عزیزوں کا خون معاف کرسکتا ہوں لیکن تم مجھے تبلیغ نہ کرنے دو ، اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کرنے دو یہ برداشت نہیں کرسکتا۔ سوچئے ہم اسی نبی کے نام لیوا ہیں جو اپنی ذات پر زیادتیوں سے درگزر کرلیتا ہے مگر دین کی کسی بات سے صرف نظر نہیں کرتا۔ آج ہمارا یہ حال ہے کہ اسلام کے خلاف جو شخص جو چاہے کہتا رہے، ہمیں غیرت نہیں آتی اور ہماری ذات کے معاملے میں ذرا سی زیادتی ہو تو ہم سلگ اٹھتے ہیں۔

طائف میں جب آپ گئے تو انہوں نے بھی آپ کے ساتھ بہت ناروا سلوک کیا اور دل آزار باتیں کیں لیکن آپ نے ان کے لئے دعائے ضرر نہیں فرمائی کیونکہ آپ کو علم تھا کہ اہل طائف اسلام قبول کرلیں گے اور پھر نو ہجری کو وہ لوگ مسلمان ہوگئے۔

رحمتہ اللہ عالمین کی تفسیر میں میں نے کوشش کی ہے کہ ہر اعتبار سے آپ کا رحمت ہونا واضح ہوجائے، اللہ تعالیٰ میری اس کاوش کو قبول فرمائے، میرے گناہوں پر پردہ رکھے، مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے، مرنے سے پہلے رحمت عالم اللہ تعالیٰ کی زیارت اور مرنے کے بعد آپ کی شفاعت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ حبیبک سیدنا محمد قائد المرسلین رحمۃ للعلمین شفیع المذنبین صلوت اللہ علیہ وعلی آلہ و اصحابہ وازواجہ و علماء ملتہ واولیاء امتہ اجمعین

(تبیان القرآن ،  سورہ انبیا  ۱۰۷)

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/kaniz-fatma,-new-age-islam/commentary-of-tibyanul-quran-on-the-mercy-for-all-worlds--تبیان-القرآن-کے-حوالے-سے-رحمۃ-للعالمین-کی-تفسیر/d/114853

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..