New Age Islam
Sat Feb 14 2026, 04:38 AM

Urdu Section ( 25 Sept 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Are Divorce Rates on The Rise Primarily the Fault of Women? کیا طلاق کا بڑھتا رجحان بنیادی طور پر خواتین کی غلطی ہے؟

کنیز فاطمہ، نیو ایج اسلام

25 ستمبر،2023

خواتین کی ضد شادیوں کے ٹوٹنے کی ایک وجہ ہے

دنیا میں طلاق کا رجحان آخر کیوں بڑھ رہا ہے ۔  مسلم دنیا میں بھی اس کا رجحان بہت زوروں پر ہے اور ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ طلاق کے بڑھتے واقعات کے پیچھے کیا اسباب ہیں ۔یہ ایسا موضوع بن چکا ہے کہ ہمارے بہت سے سماجی اور پارلیمانی اداروں میں بھی اس  کے اسباب اور حل تلاش کرنے پر گفتو کی جاتی ہے ۔

طلاق کے بڑھتے واقعات کو روکنے کے لیے جو بھی فیصلے اب تک لیے گئے وہ پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے ۔ لہذا ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا واضح حل  پیش کیا جائے کہ جس پر توجہ دے کر طلاق کے نتیجے میں پیش آنے والے بڑے مشکلات و مصائب سے خواتین کو روکا جا سکے ۔ اسلام میں طلاق کا تصور اگرچہ ملتا ہے لیکن اس کی مذمت بھی بہت زوروں پر کی گئی ہے کیونکہ یہ نہ صرف میاں بیوی کے درمیان جدائی کا سبب ہے ، بلکہ مطلقہ عورت کی پریشانی بھی بڑھ جاتی ہے اور بچوں کا مستقبل بھی خراب ہو جاتا ہے ۔ ازدواجی زندگی میں  خوشی اور غم کا ماحول امر یقینی ہے ۔ ایسا ممکن نہیں کہ انسان ہمیشہ خوش رہے ۔نفسیاتی طور پر دنیا کا کوئی انسان ایسا نہیں جو ہمیشہ خوش رہے یا ہمیشہ غم میں مبتلا رہے ۔ انسان کے  اندر مزاج اور حالت کا تغیر امر یقینی ہے ۔

شوہر اور بیوی کے درمیان بہت سارے معاملات ایسے ہوتے ہیں جہاں شوہر اپنی رائے رکھتا ہے تو بیوی اس رائے سے اختلاف کرتی ہے یا پھر اسے ناپسند کرتی ہے ۔یہ حالت بہت حساس ہوتا ہے ۔ کبھی مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ عدم اتفاق کی صورت میں صبر سے کام لے تو کبھی عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ عدم اتفاق کی صورت میں نرمی اور صبر کا مظاہرہ کرے ۔ اگر عورت نرمی کا مظاہرہ نہ کرے اور اپنی رائے کو ترجیح دیتے وقت شدت اور ضد کا مظاہرہ کرے تو اس کا نتیجہ بہت سنگین ہوتا ہے اور اس کے منفی اثرات مرتب ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔عورت اس وقت بھول جاتی ہے کہ اگر اس نے جذبات میں آکر اپنی بات منوانے کی کوشش کرنے پر ضد کرتی رہے اور اپنے شوہر کی رائے کو مسترد کرنے پر مصر رہے تو دونوں کے درمیان نفرت کی فضا قائم ہوگی اور پھر اس طرح نوبت طلاق تک پہنچ سکتی ہے ، جس سے عورت اور ان کے بچوں کا مستقبل بھی خراب ہو سکتا ہے ۔ طلاق کے  بڑھتے رجحان کے اسباب میں مرد اور عورت دونوں  کسی نہ کسی حد ذمہ دار ہیں ۔مگر اس مضمون میں عورت کی ذمہ داری پر خاص توجہ دیں گے۔

خواتین کی ضد شادیوں کے ٹوٹنے کی ایک وجہ ہے

اگر ہم  عورت کی بات کریں تو وہ  خاندان کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتی ہے اور اس زندگی میں ایک استاد کے طور پر کام کرتی ہے۔  تو اگر آپ   ایک بیٹی کی تربیت بہترین طریقے سے کریں تو وہ مستقبل میں  ایک ایسی عورت اور بیوی بن کر ابھرے گی جو اچھی نسل کو تیار کرے گی  اور وہ اپنے بچوں کو جو کچھ سکھائے گی وہ بہترین معاشرے کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کرے گی ۔   لیکن اس کے بر عکس اگر عورت تربیت یافتہ نہ ہو ، اور اس کے اندر اخلاقی اور جذباتی طور پر دور اندیشی اور معاملہ فہمی نہ ہو بلکہ وہ ضدی ہو اور اپنی بات کے سامنے کسی کی بھی بات کو نہ مانتی ہو تو یاد رکھیے کہ اس کی یہ ضد اس کے والدین کے گھر پر تو بآسانی نظر انداز کر دیا جاتا ہے مگر اس کے سسرال میں اس کی یہ ضد اس کے لیے مصیبت کا سبب بن سکتی ہے ۔ ہم نے بہت سی  ضدی خواتین کو دیکھا ہے  جو   بہت آسانی سے ازدواجی زندگی  اور خاندان سمیت دیگر رشتے ٹوٹنے کی وجہ بن جاتی ہیں۔ ایک عورت جس میں  صبر ، قوت برداشت کی صلاحیت نہ ہو اور اس  کی بجائے  اس میں ضد اور تفوق پرستی ہو  وہ   ازدواجی زندگی   کے ناکام ہونے کا سبب  بنتی ہے کیونکہ وہ کامیاب ہونے کے لیے پش پل تکنیک استعمال کرے گی اور اپنی خود غرضی  اور ضد کو دوسرے رشتہ داروں کے مقابلے زیادہ ترجیح دے گی ۔

نرم مزاج، مہربان، محبت کرنے والی، عقیدت مند اور شوہر کی رائے قبول کرنے والی خاتون کی خوبیاں متعدد اسلامی روایات اور احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد آنے والے صحابہ کرام نے ہمارے لیے بہترین نمونہ پیش کیا۔ انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ شوہروں سے  اپنی محبت جیتنے کے لیے اپنے شوہروں کو ذہانت، نرمی اور فرمانبرداری کے ساتھ قابو میں رکھیں۔

عقلمند اور ہوشیار  عورت جو مستقل گھر بناتی ہے وہ ہے  جو اس قدر  نرمی اور قوت برداشت  کا مظاہرہ کرتی ہے کہ اس کے سامنے سے بڑے سے بڑے مشکلات کا طوفان گزر جاتا ہے  اور پریشانی کے ایام گزر کر خوشحالی کے ایام گزارتی ہے  ۔ اور وہ عورت جو  ضدی ہوتی ہے وہ اس  سوکھی  چھڑی کی مانند ہوتی ہے جو خود ٹوٹ کر  اس قدر بکھر جاتی ہے کہ   اس کی ٹوٹ پھوٹ شاید بحال نہ ہو۔ تعلیمی  تجربات نے مجھے سکھایا کہ ضدی خواتین اپنی خاندانی اور سماجی زندگیوں میں جدوجہد کرتی ہیں۔ عربوں کے اعرابی اپنی بیٹیوں کو اس بات کی تعلیم دیتے ہیں بیٹی تو اپنے شوہر  کو اپنا آقا بنالے تو وہ تجھے رانی بنا لے گا یعنی اگر تو  اس کے لیے ایک باندی کی مثل بن گئی تو وہ خود تجھے ایک مہارانی بناکر  ایک غلام کے مثل بن جائے گا ا ور پھر تو اس سے جو چاہے حاصل کر سکتی ہے ۔  اس نصیحت پر کامیاب بیویوں نے  خوب عمل کیا ہے۔ مرد فیاض، دوستانہ اور بہت اچھے ہوتے ہیں، لیکن ضدی عورتیں انہیں دشمن بنا دیتی ہیں۔ نتیجے کے طور پر، خاندان ٹوٹ جاتے ہیں، طلاق کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے، اور ہماری ثقافت میں بیوہ کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

ایک آخری بات

زیادہ تر ازدواجی تنازعات جن کے نتیجے میں طلاق ہوتی ہے مختلف وجوہات کی بناء پر ہوتی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں بیوی کی  ضد اور اس کے ذریعے اپنے شوہر کی  مخالفت ہے ۔ وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہے وہ ہر چیز میں اپنے شوہر کی مثل ہے  بلکہ بسا اوقات اپنی ضد کے سامنے اپنے شوہر کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ اس سے بہتر کوئی نہیں ۔اس  کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ  وہ خود ایک ایسا کھلونا بن جاتی ہے جو زیادہ تر ان  گھروں میں کھیلا جاتا ہے جہاں  میاں بیوی کے درمیان  نااتفاقی  اور تشدد کا سلسلہ دراز ہوتا ہے ۔ اور اس کھیل میں، بیوی اپنی  ضد  پر اڑی رہتی ہے  اور اپنے شوہر کے سامنے   اپنی خود غرضی اور ضد کی ناک  اٹھا لیتی ہے۔ شوہر پھر بدلے میں اپنی بیوی کی ناک توڑنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ وہ بھی اپنی بات منوانے کی  کوشش کرتا ہے۔ ہمیں اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ جب دو مضبوط سر آپس میں ٹکراتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کا شکار ہوتے ہیں اور جب دو مضبوط شخصیتیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو ان میں سے ایک ٹوٹ جاتی ہے اور اس کے ساتھ  ساتھ  کسی ایک  کی عزت  بھی داغدار ہو جاتی  ہے۔

ہم ہر بیوی سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی نسوانیت، نرمی اور اپنے شوہر کے سامنے سر تسلیم خم کرے۔ اسی طرح ہم ہر فرعونی شوہر  جو  ظالم فطرت، سخت مزاج اور سخت دل کے حامل ہوتے ہیں ان سے گزارش  کرتے ہیں کہ وہ اپنی مردانگی کو عقلمندی اور بردباری سے استعمال کرے،  اور فرعونی عادت کو ترک کرکے نرمی اور عفو و در گزر کا مظاہرہ کرے  اور  اپنے اندر سے یہ تکبر کلی طور پر نکال دے کہ وہ اس کی کفالت کرتا ہے تو اسے بات کا اختیار ہے کہ جو چاہے کرے ۔

اب اگلے مضمون میں   طلاق کے اس رجحان کے عروج  پر  مطالعہ کریں گے جس میں مرد حضرات زیادہ ذمہ دار ہوتے ہیں ،  جس کا مقصد اس رجحان کو  ختم کرنا اور ایک ایسی تہذیب قائم کرنا ہوگا  جو ہمارے مذہب کی توقعات اور خواہشات کے مطابق ہو۔

…………

کنیز فاطمہ عالمہ و فاضلہ اور نیو ایج اسلام ویب سائٹ کی مستقل کالم نگار ہیں ۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/divorce-rates-primarily-women/d/130752

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..