New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 05:00 PM

Urdu Section ( 9 Feb 2015, NewAgeIslam.Com)

Prophet Muhammad's Normative Ways to Establish Peace and Security امن و سلامتی کے فروغ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کااسوہ و عمل

 

کبیر الدین فاران مظاہری

30 جنوری، 2015

(ڈرتے رہو بےشک اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کو سخت عذاب دینے والا ہے)

نبی رحمت امن و سلامتی کےعلمبردار ہیں :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ اللعالمین ہیں ۔ محسن انسانیت ہیں ۔ امن و سلامتی کے پیامبر ہیں ۔ قرآن شاہد ہے: ‘‘لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ’’( 9:128) ( اے لوگو! تحقیق کہ آیا تمہارے پاس ہماری طرف سے ایک پیغمبر جو تمہاری ہی جنس سے ۔ جس سے بوجہ جنسیت کے استفادہ اور استفاضہ آسان ہے اس پر تمہاری تکلیف شاق اور گراں ہے اور ایک صفت اس رسول کی یہ ہے کہ وہ تمہاری  بھلائی اور ہدایت پر غایت درجہ حریص ہے اور خاص کر اہل ایمان پر تو حد درجہ کا شفیق و مہربان ہے)، میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی اس رافت و رحمت کا تعارف کرایا ہے۔ چنانچہ پورا مکی دور ظلم و تشدد کی واردات سے لبریز ہے۔ کونسا ظلم ہے۔

جو آپ پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر نہیں کیا گیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ اس اس کو در گذر فرمایا بلکہ ان لوگوں کے لئے راتوں میں اٹھ کر دعائیں کیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے اُس انجمن میں زبردست کردار ادا کیا جو امن و امان قائم کرنے اور غریبوں کی مدد کےلئے وجود میں آئی تھی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جانور اور پرند کیلئے بھی باعث امن و سلامتی   نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا دائرہ صرف انسانوں تک ہی محدود  نہیں بلکہ آپ کی ذات مبارکہ جن وانس اور حیوانات پر بھی محیط  ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمہ جہت اور نورانی  شخصیت کی مثال کسی تپتے ہوئے صحرا میں ایک چشمہ شیریں ہے۔

ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں جارہے تھے ایک ایسے مقام پرپڑاؤ کیا جہاں  پر پرندے نے انڈا دیا تھا ایک شخص نے وہ انڈا اٹھا لیا چڑیا بے قرار   ہوکر مار رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کس نے اس کا انڈا چھین کر اذیت پہنچائی ہے ان صاحب نے کہا یا رسول اللہ مجھ سے یہ حرکت ہوئی ہے آپ نے فرمایا اس کو وہیں رکھ دو ۔ ( الادب المفرد : ص 98 مصنف محمد بن اسماعیل بخاری دارالحدیث القاہرہ طبع نشر توریع 140 شارع جوہر القائد امام جامعہ الازہر سنن اشاعت 2005) ۔

ایک صحابی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ان کے ہاتھوں میں چادر سے چھپے ہوئے کسی پرندے کے بچے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تو عرض کیا کہ ایک جھاڑی  سے آواز آرہی تھی  جاکر دیکھا تو یہ بچے تھے میں نے ان کو نکال کیا بچے کی ماں نے دیکھا تو میرے  سر پر منڈلانے لگی  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ بچے کو وہیں رکھ آؤ۔ ( سیرت  النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ص 575 ج 2 مصنف: علامہ شبلی نعمانی مکتبہ مدنیہ لاہور سن اشاعت 2006)۔

عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے باغ میں تشریف لے گئے ایک بھوکے اونٹ پر نظر پڑی آپ کو دیکھ کر وہ اونٹ بلبلا رہا تھا حضور کو دیکھتے ہی اس کی آواز نکل آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے شفقت  سے اس پر ہاتھ پھیر ا اور تھوڑی دیر اس کے پاس بیٹھے رہے لوگوں  سے اونٹ کے مالک کا نام معلوم کیا جو ایک انصاری کا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے انصاری سے فرمایا کہ تم اس جانور کے بارے میں  خدا سے نہیں ڈرتے ۔ ( سنن ابی داود : ص 345 ج ا مصنف : سلیمان بن اشعث مکتبہ البدر دیوبند)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک پیغمبر کو محض چیونٹی کے بل کو جلادینے کے باعث اللہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ( الصخیح البخاری : ص 424 ج ا محمد بن اسماعیل بخاری مکتبہ البدر د یوبند)

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو جانور ذبح کرنے کے لئے بھیڑ کے سامنے چھڑی تیز کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا تم اسے ذبح کرنے سے پہلے مار دینا چاہتے ہو۔

ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص چڑیا یا اس سے چھوٹے پرندہ کو ناحق مار ڈالے گا تو اللہ اس سے باز پرس کرے گا ( مشکوٰۃ المصابیح : ص 359 ج 2 مصنف : شیخ ولی الدین بن عبداللہ الخطیب التبریزی ۔ مکتبہ رشیدیہ محلّہ مبارک شاہ سہارنپور)

رسول اکرم نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں امن و سلامتی کے فروغ اور ظلم سے باز آنے کی تاکید ہے جس سے قسی القلب انسانوں میں محبت کی شمع روشن او رجس کے سوز سے غم انسانیت پیدا ہوتی ہے۔

‘‘ عن جابر بن عبداللہ قال : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اتقوا لظلم ، فاِن الظلم ظلمات یوم القیامۃ ، واتقوا لشح ، فان الشح أھلک من کان قبلکم ، و حملھم علیٰ ان سفکو ادمائہم و استحلو ا محار مہم ’’۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ظلم کرنے سےپرہیز کرو کیونکہ قیامت کے روز ایک ظلم بہت سے ظلمات کی شکل میں سامنے آئے گا۔ ( الادب المفرد : ص 120 مصنف : محمد بن اسماعیل بخاری مکتبہ دارالحدیث القاہرہ سن اشاعت 2005)

‘‘ عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکون فی آخر اُمتی مسخ و قذف و خسف ، و بید أبأھل المظالم ’’ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے آخری زمانے میں مسخ کیا جانا ( چہرے پر پھٹکار ظاہر ہونا) قذف ( پتھراؤکیا جانا) خسف کیا جانا ( زمین میں دھنسا یا جانا) بھی ہوگا اور اس طرح کے عذاب کی ابتداء ان لوگوں سے ہوگی جو مظالم ڈھانے والے ہونگے ۔ ( الادب المفرد : ص 120 مصنف : محمد بن اسماعیل بخاری مکتبہ دارالحدیث القاہرہ سن اشاعت 2005)

‘‘ عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال الظلم ظلمات یوم القیامۃ’’ ( الصحیح البخاری ص 331 ج ا مصنف : محمد بن اسماعیل مکتبہ البدر دیوبند) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا ظلم قیامت کے روز سخت تاریکیوں کی شکل میں ظاہر ہوگا ،یعنی دنیا میں کسی پر زیادتی کرنا ایسا جیسے کسی کو بینائی سے محروم کردیا جائے لہٰذا یہ زیادتی ہزاروں  قسم کی تاریکیاں  لائے گی۔

پورے اسلامی انقلاب میں صرف ایک ہزار کے قریب افراد کام آئے :

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اسلام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو 82 جنگیں ہوئی ہیں وہ تو آپ کے امن و سلامتی کے کردار کو مشکوک کرتی ہیں؟ اس کے جوابات ہمارے سیرت نگار وں نے بڑی تفصیل کے ساتھ نقل کئے ہیں ۔ جنگ دفاعی اور جنگ اقدامی  کی بحثیں وجود میں آئیں ہیں۔ دولفظوں میں اتنا عرض کرناہے کہ ان جنگوں  کا پس منظر بھی امن و سلامتی عدل و انصاف کو قائم کرنا تھا اور ان تمام کے تمام غزوات و سرایا میں ہر دو جانب سے جو مقتول ہوئے ہیں ان کی تعداد ایک ہزار اٹھارہ ہیں  اور قیدیوں کی تعداد 6 ہزار 564 ہیں جن میں سے 6 ہزار 347 کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے از راہ لطف و احسان بلا کسی شرط کے آزاد کردیا صرف دو قیدی ایسے تھے جو سابقہ جرم کی پاداش میں قتل کئے گئے ۔ آپ اندازہ لگائیے کہ اتناعظیم انقلاب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برپا فرمایا جس کے احسان مند مسلمان قوم نہیں بلکہ پوری دنیا ہے۔ احادیث کی کتابوں میں اس کی تفصیل پڑھیں تو حیرت ہوتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں اور چیونٹی کے محسن ہیں۔

حضرات گرامی! میں نے سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے امن و سلامتی کے  یہ چندگوشے پیش کئے ان میں ایک درس ہے ، پیغام ہے ، عمل کی راہیں ہیں  ، ہر طبقہ انسانی کیلئے اس میں روشنی ہے ، ہدایت ہے، وسعت ہے۔ وہ کسی بھی ماحول میں اس چشمہ صافی سے استفادہ کرسکتا ہے معاشروں  کو بچا سکتا ہے ۔ اور امن و سلامتی کا درس دنیا کے ہر طبقہ کا انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے حاصل کرسکتا ہے۔

غیروں نے بلا مقصد کتنی تباہی مچائی :

اس کے بر خلاف اگر آپ دوسرے حضرات کا جائزہ لیں تو معمولی  مقصد بلکہ محض  وہم و گمان اور ایک مفروضہ کی بنیاد پر انہوں نے ملکوں کو تباہ و برباد کردیا ۔ انسانی معاشروں کو ویران کردیا ۔ جبروت شدد کا ہر ہتھیار استعمال کیا۔ اپنی طاقت و قوت کے زعم میں وہ حیوانیت کی نچلی سطح پر اتر آئے ۔ آپ کے سامنے افغانستان و عراق کی مثالیں  ابھی تازہ ہیں ۔ شام و مصر کے حالات آپ کے روبرو ہیں اور دنیا بھر میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے آپ باخبر ہیں۔

عظیم ترین جنگ جو 14 اگست 1914 سے شروع ہوکر 3 مارچ 1917 تک تمدن دنیا کے حصہ کثیر پر جارہی رہی اس کے نقصانات کا اندازہ لگائیے لاکھوں  انسانوں کو تہہ تیغ کیا گیا، اربوں اشرفیوں کو خاک و خون میں ملا دیا گیا ، سینکڑوں جہاز سمندر میں غرق ہوگئے ۔ تجارت عالم مخدوش ہوئی عیش و آرام کے سب سامان تباہ ہوگئے ۔ اور جب اسلامی عظیم الشان امن و آشتی کا انقلاب برپاہوا تو صرف 1018 نفوس کام آئے مہا بھارت کے مقتولین کی تعداد کروڑوں سے کم نہیں یورپ کی مقدس مذہبی  انجمنوں  نے جس قدر نفوس کو ہلاک کیا ان کی تعداد لاکھوں سے زائد ہے ۔ جان ڈیون پورٹ نے اپنی کتاب ‘‘ آئیڈ یا لوجی آف محمد اینڈ قرآن ’’ میں مذہبی  عدالت کے احکام سے ہلاکت نفوس کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ بتائی ہے جو عیسائیوں کے ہاتھوں سےعیسائیوں کی ہوئی تھی تنہا سلطنت اسپین ( اندولس) نے تین لاکھ چالیس ہزار عیسائیوں کو قتل کیا تھا جن میں 32 ہزار فرزند آگ میں جلائے گئےتھے افسوس ہے کہ آج انہیں اہل عالم امن و سلامتی  کے علمبردار کہتے ہیں  یہ متحدہ امن کے ٹھیکیدار ہیں جو ذات گرامی امن و سلامتی  کا داعی ہے اس کا پیامبر ہے اس کو اس کے کردار اور اس کےشبیہ بگاڑ نے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔ ( رحمۃ للعالمین ص 214 ص 2 مصنف : قاضی محمد سلیمان فرید بکڈپو پرائیویٹ لمیٹیڈ دہلی  سن اشاعت اگست 1999)

نبی رحمت کا امن و سلامتی کا مشن ۔ بین الاقوامی غیر مسلموں کی نظر میں :

یہ پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم خشک روٹی تناول فرماتا ہے چٹائی پر سوتا ہے اور ایک مضبوط نظام اہل عالم کے حوالہ کرتا ہے۔ بقول مار گولیتھ ‘‘ محمد کی وفات کےوقت ان کا سیاسی کام غیر مکمل نہیں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سلطنت  کی جس کا ایک سیاسی و مذہبی  دارالسلطنت مقرر کیا گیا تھا بنیاد ڈال چکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے منتشر قبائل کو ایک قوم بنا دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کو ایک مشترک مذہب عطا ء کیا اور ان میں ایک ایسا رشتہ قائم کیا جو خاندانی رشتوں سے  زیادہ مستحکم اور مستقل تھا ’’ ( سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ص 652 ج 2 مصنف : علامہ شبلی نعمانی مکتبہ مدنیہ لاہور 2006)

اس کے برخلاف قدیم یونان کے مقنن روم و ایران کا فوجی نظام میں ہر جگہ تباہی تھی، شہوت پرستی لڑائیوں کامقصد تھا ان کے فرما رواؤں کے سامنے جنگ کا کوئی اخلاقی نصب العین نہیں تھا، ان کے حملے سے بچے محفوظ رہتے نہ بوڑھے، عورتیں بچتیں نہ جانور او رمعابد ومنادر یہاں تک کہ درختوں کو تباہ و برباد کر دیتے تھے ۔ روم نے افریقہ کے ونڈالو پر چڑھائی کی، 16 لاکھ نبرد آزما تھے ۔ عورتیں ، بچے اور اس کے علاوہ اور رومیوں نے سب کو تباہ کردیا۔ فارمین تیتوس اولیٰ نے جب بیت المقدس فتح کیا تو دراز قامت حسین لڑکیاں فاتح کےلئے چن لی گئیں ۔ 17 سال سے زائد عمر کے ہزاروں آدمی پکڑ کر مصری  کانوں میں کام کرنے کیلئے بھیج دیئے گئے ۔ 97 ہزارگرفتار کر لیےگئے ۔ 11 ہزار ، ان میں کھانا مہیانہ ہونے کی وجہ سے لقمہ اجل ہوگئے ۔ نوشیرواں نے  شام پر چڑھائی کی تو انطاکیہ کی اینٹ سے اینٹ سے بجادی گئی ۔ موجودہ جنگ کامنظر نامہ پڑھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ معمولی فائدے کیلئے جو تباہی اور بربادی کی گئی اور قتل خونریزی ہوئی اور ہورہی ہے شام میں ڈھائی لاکھ افراد کو تہہ تیغ کیا گیا ۔ بوسینیا میں 16 لاکھ افراد کو موت کے گھات اتار دیا گیا ۔ عراق میں 13 لاکھ، افغانستان میں بھی تقریباً 12 لاکھ ، مصر ، تیونس اورلیبیا وغیرہ میں 30 لاکھ افراد قتل کردئے گئے ہیں۔

غرض یہ کہ بہیمانہ خصلتیں اور ظالمانہ حرکتیں تمام حدود کو پار کر چکی ہیں ۔ ضرورت ہے کہ نبی رحمت پیغمبر اول و آخر جس نے ایک متمدن اور پر امن معاشرہ کی عملی تشکیل اور عظمت انسانیت کے فروغ کیلئے انفرادی اور اجتماعی حقوق کا جس قدر پاس و لحاظ فرمایا وہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک حیات و  پیغامات کا روشن اور زرّیں باب ہے۔ آج دنیا کے پاس مخلوقات کے حقوق کی جو بھی پونجی ہے وہ سب محسن  کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیات بخش تعلیمات کی رہین منت ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان تعلیمات نے دنیا کے اخلاق و کردار ،تہذیب و تمدن اور معاشرہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس لئے آج ضرورت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امن و سلامتی  کے اسوۂ حسنہ کو دنیا میں عام کیا جائے تاکہ امت کا ہر طبقہ  اس کی روشنی سے اس ڈوبتی او رتباہ ہوتی انسانیت کو بچانے کےلئے میدان میں آئے، آگے بڑھے اور اپنی قربانیاں پیش کرے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس دور میں مبعوث ہوئے ۔ ان دنوں معاشرہ انسانی برائیوں کی آماجگاہ  تھا، انسانیت خوف و حزن کی آتش خاموش میں جل رہی  تھی، انسان مضطرب  و بیقرارتھا، زندگی  جمود و تعطل کا شکار ہوچکی تھی ، عدل و احسان کا فقدان تھا ، ظلم و جہل کی گرم بازاری تھی، معاشرہ امن و سلامتی کو اور انسانیت طمانیت و سکون کو ترس رہی تھی ۔

چھٹی صدی کے پر خطر او رمہیب حالات کے بارے میں قرآن پاک ناطق ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ( 30:41) ( خشکی اور تری میں ، جنگل او ردریا میں یعنی تمام دنیا میں لوگوں کے برے اعمال کی وجہ سے فساد اور تباہی ظاہر ہوگئی )۔ ‘‘ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا’’ ( 3:103) ( اور یاد کرو تم اللہ کے اس انعام کو اور احسان کو جو تم پر مبذول ہوا کہ جب تم اسلام سے پہلے ایک دوسرے کے دشمن تھے اور باہم بر سر پیکار تھے پھر خدا نے تم کو اسلام کی توفیق دے کر تمہارے دلوں میں  الفت ڈال دی پس ہوگئے تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی  اور برسوں کی عداوت مبدل بالفت ہوگئی حالانکہ  تم جہنم کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے بچالیا)۔ قرآن میں ہے : ‘‘وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ’’ (16:58)( اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے جس کو وہ اللہ کیلئے تجویز  کرتے ہیں تو غم کے مارے ان کا چہرہ کالا پڑ جاتا ہے او رغم و غصہ میں گھٹا ہوا ہوتا ہے)۔

مشرکین عرب لڑکی کے پیدا ہونے سے سخت نا خوش ہوتے ہتک محسو س کرتے او راس غریب کو زندہ در گور کر ڈالتے تھے بایں ہمہ یہ احمق خدا کیلئے لڑکیاں تجویز کرتے تھے۔

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ‘‘ان اللہ نظر الی اھل الارض قمقتہم عر بھم و بمھم ’’( اللہ نے زمین پر نگاہ ڈالی تو عرب و عجم  کے بگاڑ اور فساد نے اللہ کو ناراض کیا)۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ص 460 ج 2: مصنف : شیخ ولی الدین بن عبداللہ الخطیب التبریزی ۔ مکتبہ رشیدیہ محلّہ مبارک شاہ  سہارنپور)

غرضیکہ قرآن سادس میں ہر طرح کا بگاڑ و فساد ظلم و زیادتی اپنے شباب پر تھا ۔ قتل و خو نریزی کا ماحول اتنا گرم ہوچکا تھا کہ وہ بڑے فخر سے کہتے تھے کہ کئی دن سے کسی کو قتل نہیں کیا اس لئے طبیعت ہمارے بے  کیف ہے۔ اور انسانی لاشوں پر دستر خوان لگانا ان کامزاج تھا ۔

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی رحمتہ اللہ نے اس کانقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے۔

‘‘ انسانیت کا جسم تر و تازہ تھا مگر دل نڈھال ، دماغ تھکا ہوا، ضمیر بے حس و مردہ نبضیں ڈوب رہی تھیں اور آنکھیں  پتھرا نے والی تھیں ۔ بادشاہ دوسروں کے خون  پر پلتے تھے اور بستیوں کو اجاڑ کر بستے تھے ان کے کتے موج  کرتے انسان دانے دانے کو ترستے’’۔

( کاروان مدینہ ص 27 مصنف سید ابوالحسن علی الحسینی الندوی : مجلس تحقیقات و نشریات اسلام طباعت جمادی الثانی 1385 ھ ہٰذا ایضامن الطریق الی المدینہ)

مولانا نعیم صدیقی لکھتےہیں :

‘‘ پوری انسانیت تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ کہیں  دور وحشت چل رہا تھا ۔ کہیں شرک و بت پرستی کی لعنتوں نے مدنیت کا ستیاناس کر رکھا تھا ۔ مصرو ہندوستان، بابل و نینوا اور چین میں تہذیب اپنی شمعیں گل کر چکی تھیں ۔ زندگی کے زخموں سے تعفن اٹھ رہا تھا ۔ بادشاہ خدا کے اوتار ہی نہیں خدا بنے ہوئے تھے ۔ روم و ایران کے دونوں خطوں میں اس تگڑم نے عام انسانوں کا گلا اچھی طرح دبوچ رکھا تھا ۔ یہ لوگ ان سےبھاری خراج وصول کرتے تھے ۔ عرب پر دور وحشت کی رات چھائی ہوئی تھی ۔ تمدن کی صبح  ابھی تک جلوہ گر نہیں  ہوئی تھی اور انسانیت نیند سے بیدار نہ ہوپائی تھی ۔ ہر طرف ایک انتشار تھا انسان اور انسانوں کے درمیان تصادم تھا ۔ جنگ و جدال اور لوٹ مار کا دور دورہ تھا۔ انسان خواہش پرستی کی ادنیٰ سطح پر گر کر درندوں اور چوپاؤں کی شان سے جی رہا تھا۔ جو زور والا تھا اس نے کمزور وں کو بھیڑ بکریوں کے گلوں کی طرح قابو میں کر رکھا تھا اور کمزور قوت والوں  کےقدموں میں سجدہ پاش تھے ۔ گویا جزیرۃ العرب پر شب دیجور کا سیاہ بادل او رجہالت و عصیاں کی تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔ ظلم و استبداد کی اندھی اور بہری قوتیں انسانیت کے وجود سے تہذیب و اخلاق کے پیرہن نوچ رہی تھی’’۔ (محسن انسانیت : ص 20 مصنف : نعیم صدیقی مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی اشاعت اپریل 2008)

پیغمبر انقلاب نے امن و آشتی کا پیغام دیا:

ایسے حالات میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم مبعوث ہوئے آپ نے اس معاشرے کو امن و آشتی کاپیغام دیا ۔ جوقتل و خونریزی کے خوکر تھے وہ انسانیت کے بچانے والے بن گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشنگوئی فرمائی تھی وہ حرف بحر ف پوری ہوئی کہ ایک خاتون محمل نشین جب صنعا ء سے حضرت تک تنہا سفر کرے گی اور اسے اللہ کے سوا کسی او رکا ڈر نہ ہوگا۔ یعنی ایسا نظام رحمت قائم ہوا اور ایسا پر امن ماحول وجود میں آیا کہ دوسرے کی عزت اپنی عزت بن گئی ۔ دختر کشی کی ناپاک رسموں کا صفایا ہوگیا دوسرے کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دی جانے لگی۔ ایثار اور اعتراف کیلئے نئے باب قائم ہوئے ۔ دنیا کا ضمیر جاگ گیا۔ اونچ نیچ دور ہوئی ۔ قومی و نسلی غرور ٹوٹ گیا۔ کمزوروں و بے بسوں کی ڈھاڑس بند گئی۔

مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں  صاحب ندوی رحمۃ اللہ علیہ کےالفاظ میں ‘‘ غرض دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بدل گئی ۔ جہاں پورے پورے ملک میں کوئی انسان نظر نہ آتا تھا وہاں لاکھوں کی تعداد میں ایسے انسان پیدا ہوگئے جو اندھیرے اجالے میں خدا سے ڈرنے والے تھے ۔ جو یقین کی دولت سے مالا مال تھے جو دشمن کے ساتھ انصاف کرتے تھے جو حق کے معاملے میں اولاد کی پرواہ نہ کرتے تھے ۔ جو  اپنے خلاف گواہی دینے کے لئے تیار رہتے تھے جو کمزوروں کو طاقتوروں پر ترجیح دیتے تھے ۔ رات کے عبادت گذار دن کے شہسوار تھے ’’۔

قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں  ‘‘فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا’’ (3:103) کہیں ان کے بارے میں ارشاد فرمایا : ‘‘وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ’’ (59:9) ( اپنی ذات پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ خود ان میں سخت ضرورت ہو)۔ او رکہیں قرآن پاک نے ان کا تعارف اس طرح کرایا : ‘‘مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ’’ ( 48:29) ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ بہت سخت ہیں کافروں پر آپس میں نہایت مہربان ہیں)۔

ایک مرتبہ میدان جنگ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی لاش پڑ ی دیکھی ناراض ہوکر فرمایا : ‘‘ مَا کاَنَتْ ھٰذِہ لِتُقَا تِلِ ’’ ( سنن ابی داود : ص 362 ج 2 مصنف : سلیمان بن اشعت مکتبہ البدر دیوبند)

یہ تو لڑنے والوں میں شامل نہ تھی ۔ پھر سالار فوج حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو کہلا بھیجا کہ :  لاَ تقلتن امراۃ ولا عسیفا’’ ( سنن ابی داود: ص 362 ج 2 مصنف : سلیمان بن اشعت مکتبہ البدر دیوبند ) عورت اور اجیر کو ہر گز قتل نہ کرو ۔ ایک روایت کے مطابق اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں او ربچوں کی قتل کی ممانعت فرمادی ‘‘ فنھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل النساء و الصبیان ’’ ۔( الصحیح البخاری : ص 423 ج ا مصنف: محمد بن اسماعیل مکتبہ البدر دیوبند)

حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنی خزیمہ کے پاس دعوت اسلام کیلئے بھیجا تھا ۔ لیکن جب انہوں نے کشت و خون کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور قبلہ رخ دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا خدایا میں خالد کے فعل سے بری ہوں۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے ایک مقتول کو خون بہا ادا کیا یہاں تک کہ کتوں کا بھی ۔ حدیث میں آیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرایا : ‘‘ لا تقتلوا شیخا فانیا ولا طفلا صغیرا ولا امراۃ ولا تغلوا و ضموا غنا ئمکم و اصلحوا و احسنوا ان اللہ بحب المحسنین ’’ ( سنن ابی داود : ص 352 ج ا مصنف : سلیمان بن اشعت مکتبہ البدر دیوبند) نہ کسی بوڑھے کو قتل کرو نہ چھوٹے بچوں کو نہ عورتوں کو ۔ نہ اب مال غنیمت میں چوری کرو ۔ جو جنگ میں  ہاتھ آئے سب کا سب ایک جگہ جمع کرو۔ نیکی اور احسان کرو کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ نیکی و احسان کرنے والوں کو پسند کرتےہیں ۔

امن و سلامتی  کے نمو نے:

اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے جانی دشمنوں کونہ صرف یہ کہ امان و پناہ دی بلکہ ان کے گھروں کو امن کا مرکز بنا دیا اور فرمایا کسی  زخمی پر حملہ نہ کرو۔ جو کوئی جان بچا کر بھاگے اس کاپیچھا نہ کرنا جو کوئی اپنا دروازہ بند کرکے بیٹھ جائے اسے امان دینا۔

8 ھ میں فتح مکہ کے بعد صحن حرم میں دشمنان اسلام، سرداران قریش جمع تھے ۔ان میں وہ بھی تھا جو راہ مبارک پر کانٹے بچھایا کرتا تھا۔ ان میں وہ شقی بھی تھا جس نے گردن مقدس پراوجھ ڈالی تھی ان میں وہ ننگ انسانیت بھی تھا جس نے حضرت سمیہ رضی اللہ عنہ کو شرمناک طریقہ سے شہید کیا تھا سرکار دوعالم نے سب کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ اے قریش ! کیا خیال ہے میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ قریش مزاج شناس تھے تاڑ گئے کہ آواز میں رحمت کی بو آرہی ہے رحمت کا سہارا لےکر بولے ‘‘ خیر اً اخو کریم و بن اخ کریم ’’ ( البدایہ و النہایہ ص 300 ج 4 مصنف : علامہ ابن اسیر مکتبہ نسختہ البیر وتیہ)

ملخص سیرت النبی  صلی اللہ علیہ وسلم ص 293 مصنف : علامہ شبلی نعمانی مکتبہ مدنیہ لاہور سن اشاعت 2006)

آپ سےبھلائی کی توقع رکھتے ہیں اس لئے کہ آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں ۔ شریفوں سے نیکی کی ہی امید کی  جاسکتی ہے۔نبی رحمت نے فرمایا ‘‘ کہ گھبراؤ نہیں بلکہ ماؤں سے کہہ دو کہ تمہاری ممتا نہیں لوٹی جائے گی ۔ مکہ کےبچوں سےکہہ دو کہ تمہیں  یتیم نہیں بنایا جائے گا۔ مکہ کے بہنوں سےکہہ دو کہ تمہارے دو پٹے نہیں اتارے جائیں گئے ۔ جس نے گلے پر تلوار چلا ئی تھی آج اس کو گلے سے لگایا جائے گا جس نے سینے پر خنجر گھونپا تھا  اس کو سینے سے چمٹا یا جائے گا جو پیغام موت بنکر حملہ آور ہوا تھا اس کو جام حیات دیا جائے گا۔ میں وہی کہتاہوں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا ‘‘لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ’’ ( 12:92) ( آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں جاؤ تم سب کےسب آزاد او رامان میں ہو) ۔ پھر اعلان فرمایا : ‘‘ آج جو ابوسفیان کے گھر چلا گیا اس کو امان ہے جو مسجد حرام میں  داخل ہوگیا اس کو امان ہے جس نے گھر کا دروازہ بند کرلیا اس کو امان ہے’’۔ ایک صحابی کی زبان سے نکل گیا ‘‘الیوم امو الملحمہ ’’ ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ‘‘  الیوم یوم المرحمہ’’ یہ  جنگ نہیں یہ بدلہ کانہیں بلکہ معافی اور حفظ و امان کا دن ہے۔ پھر فرمایا ‘‘لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ’’ ( 12:92) ‘‘اِذْ ھَبُوا اَنتُمْ الطلَقَاء ’’ تم پر کچھ الزام نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو ( سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص 293 ج ا مصنف : علامہ شبلی نعمانی مکتبہ مدنیہ  لاہور سن اشاعت 2006ء)

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب  کہیں فوج بھیجتے تو ہدایت کرتے کہ معاہد کے  بے ضرر خادموں اور خانقاہ نشینوں کو قتل نہ کرنا ‘‘ لا تقتلوا اصحاب الصوامع ’’ ۔ اہل عرب کاقاعدہ تھا کہ راتوں کو خصوصاً آخری شب میں حملہ کرتے تھے آنخصرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ کوبدلا اور یہ ضابطہ طے فرمایا  کہ صبح سےپہلے کسی دشمن پر حملہ نہ کیا جائے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ غزوہ خبیر کا ذکر کرتےہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی دشمن قوم پر رات کے وقت پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہوجاتی  حملہ نہ کرتے تھے  ‘‘ کَانَ اِذَا جَاء قَومَا بِلَیْل لَمْ یغرٍ علیھِمْ حَتیٰ یُصبح ’’ ( مشکوٰۃ المصابیح : ص 341 ج 2 مصنف : شیخ ولی الدین بن عبداللہ الخطیب التبریزی مکتہ یا سرندیم اینڈ کمپنی دیوبند)

عرب  اور غیر عرب قوموں کا مزاج دشمنوں کو زندہ جلانے کا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس وحشیانہ حرکت کو ممنوع ٹھہرایا اور فرمایا آگ کا عذاب دینا بجز آگ کے پیدا کرنے والے کے اور کسی کو سزا وار نہیں  ‘‘ لَا یَنبغی اَنْ یُعذَبَ بِا لنَّارِ اِلاَّ رَبُّ النَّار ’’ ۔( سنن ابی داود ص 363 ج ا : مصنف : سلیمان بن اشعث مکتبہ البدر دیوبند)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو زنا دقہ کو آگ کا عذاب دینے سے روکا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم بیان کیا  ‘‘ لاَ تُعذَ بُو ا بِعَذَ اب ِ اللہ ’’ (الصحیح البخاری : ص 423 ج ا مصنف محمد بن اسماعیل مکتبہ البدر دیوبند) آگ اللہ کا عذاب ہے اس سے بندوں کو عذاب نہ دو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کو باندھ کر قتل کرنے اور تکلیفیں دے دے کر مارنے کی ممانعت فرمائی ۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل صبر یعنی  باندھ کر مارنے سے منع فرمایا،  خدا کی قسم اگر مرغی بھی ہوتی تو میں ا س کو اس طرح باندھ کر نہ مارتا اس کی خبر  جب عبدالرحمٰن بن خالد کو پہنچی تو انہوں نے چار غلام آزاد کر دیئے ‘‘ نبی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل الصر فو الذی نفسی بیدہ لوکانت الد جاجۃ ماصبر تہا’’  ( سنن ابی داود : ص 366 ج 2 مصنف : سلیمان بن اشعث مکتبہ البدردیوبند)

عبداللہ بن یزید روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹے ہوئے مال کو حرام قرار دیا ‘‘ نہی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من النھبیٰ و المثلۃ ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  فوجوں کو بھیجتے وقت ہدایت کرتے کہ بد عہدی نہ کرو، غنیمت میں خیانت نہ کرو اور مثلہ نہ کرو۔ ( الصحیح البخاری : ص 336 ج ا مصنف : سلیمان بن اشعث مکتبہ الندردیوبند)

مسیلمہ کذاب کا قاصد عبادہ بن الحارث جب اس کا گستاخانہ پیغام لے کر حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ‘‘ اگر قاصدوں کا قتل ممنوع نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا ’’۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ‘‘ یہ غداری اور عہد شکنی  ہے بے ایمانی  کا اعلان کرنے والے کیلئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جو اس کے غدر کے ہم قدر ہوگا اور یاد رکھو جو سردار قوم غدر کرے اس سے بڑا غدر نہیں  ‘‘ لکل غادر لواء یوم القیامۃ ’’۔ ( الصحیح البخاری : ص 452 ج ا مصنف : سلیمان بن اشعث مکتبہ البدر دیوبند)

ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بلاد روم پر حملہ کرنے کیلئے جارہے تھے حالانکہ ابھی معاہدہ صلح  کی مدت ختم نہ ہوئی تھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ارادہ تھا کہ مدت ختم ہوتےہی حملہ کردیں گے مگر ایک صحابی  حضرت عمر بن عتبہ رضی اللہ عنہ نے زمانہ صلح میں جنگ کی تیاری اور سرحدوں کی طرف روانگی کو بھی بد عہدی سے تعبیر کیا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس دوڑ تے او رپکارتے ہوئے پہنچے اورکہا ‘‘ وفا ء لا غدر ’’ ( جامع الترمذی : ص 287 ج ا مصنف ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ مکتبہ البدر دیوبند)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی قوم سےمعاہدہ ہوتو اس سے تغیر و تبدل نہ کرے تاوقت یہ کہ اس کی مدت نہ گذر جائے یا پھر اگر خیانت کا خوف ہوتو برابری کو ملحوظ رکھ کر اس کو  خط میں معاہدہ کا نوٹس دے دیا جائے۔

عرب کے انسانیت سوز جنگی دستور اور روایات کے برعکس مفتوحین کے مال و جان اور عزت و ناموس سے قطعاً تعرض نہ کیا ۔ بڑے سے بڑے جنگی مجرم سےبھی مواخذہ نہ کیا اور سب کو امان آزادی دے دی ۔ آپ  کے اس رویے نے جنگ کے عالمی  دستور کو انسانی اقدار کے منافی سمجھ کر رد کردیا اور دنیا کو اپنا جنگی دستور دیا جو رحمت یا انسانی اقدار کا حامل اور بیسویں صدی کے اقوام کے دستور جنگ کا ماخذ ہے اور اس سے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت ثابت ہوتی ہے کہ اس نے چودہ سو برس پہلے کہا تھا کہ پیغمبرانہ زندگی میں نوع انسانی کیلئے امن و سلامتی کانمونہ ہے۔

مشرکین مکہ نے 6 ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کرنے سے روکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امن عام کیلئے ان حضرات سے چھ نکات پر صلح فرمائی جس کو بظاہر دب کر صلح کرنے کا نام دیا گیا مگر حقیقت میں وہ فتح  مبین تھی ۔ ( الصحیح البخاری ص 452 ج ا صلح حدیبیہ مصنف : محمد بن اسماعیل بخاری مکتبہ البدر دیوبند)

امن و سلامتی  کے پس منظر میں آیت قرآنی  کا نزول :

حاتم بن عدی نے مسلمانوں کے ساتھ زبردست دھوکا و غداری کی۔

30 جنوری، 2015 بشکریہ : روز نامہ اخبار مشرق ، نئی دہلی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/kabiruddin-faran-mazahiri/prophet-muhammad-s-normative-ways-to-establish-peace-and-security--امن-و-سلامتی-کے-فروغ-میں-حضور-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-کااسوہ-و-عمل/d/101440

 

Loading..

Loading..