New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 12:19 AM

Urdu Section ( 7 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

The Contribution of Indian Sufis to Peace and Amity امن اور ہم آہنگی کے قیام میں ہندوستانی صوفیوں کا کردار

 

کے اے نظامی

7جولائی، 2014

دنیا کے تمام مذاہب میں اعلی روحانی تجربہ کا مقصد  اعلی اخلاقی نظریات سرشار کر انسانوں کے درمیان خلیج کو کم کرنا ہے۔ برگسن  (Bergson ) نے بجا طور پرمشاہدہ کیا  کہ 'ایک عظیم صوفی خود میں حقیقت کو اپنے ماخز سے ایک قوت کے عمل کی طرح  بہتا ہوا  محسوس کرتا ہے۔  ان کی خواہش خدا کی مدد سے  نوع انسانی کی تخلیق کو مکمل کرنا ہے۔ صوفیاء کرام  کی سمت زندگی کی امنگ  کی سمت ہے۔

معاشرے کے لئے ہندوستانی  صوفیہ کے تعاون  کو  اس کی ناموافق اجزا  میں اتحاد  قائم کرنے  کے لئے مخلص  اور سرشار جدو جہد  کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ صوفیہ نے کثیر نسلی، کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ہندوستانی معاشرے کی بڑی تعریف کی ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کے الفاظ میں  وہ  'تمام انسانوں کے اختلافات کو خدا کے بارے میں ان کے شعور  سے  دور کرنا چاہتے تھے۔  صوفیہ کے مطابق، خدا کوئی مافوق الفطری منطقی تصور نہیں بلکہ ذات خدا وندی ایک جاوداں حقیقت ہے جس کی معرفت لوگوں کی بے لوث خدمت اور معاشرے کی فلاح و بہبود جیسے عظیم سماجی و رفاہی کاموں کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی ہے۔  ان کی جد و جہد کی تمام تر تونائیاں ایک ایسے صحت مند اور پرامن سماجی نظام کی تعمیر پر مرکوز تھیں جو تمام تر اختلافات اور تنازعات سے آزاد ہو۔ یہ ایک مشکل کام تھا لیکن انہوں نے اسے  الہامی مشن کے طور پر چلایا۔  محبت، ایمان، رواداری اور ہمدردی میں انہوں نے انسانی خوشی کو پایا۔  شیخ ابو سعید الخیر  (ob. 1049)   کہتے ہیں کہ  شیخ نظام الدین اولیاء  اکثر  یہ بات کہا کرتے تھے کہ،  خدا تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں،  لیکن ان میں سے  انسانوں کے دلوں میں  خوشی  پیدا کرنے والے سے زیادہ تیز اور مؤثر کوئی نہیں ہے۔ ابن بطوطہ نے دمشق میں ایک ایسے ٹرسٹ کو موجود  پایا جو پریشان حال لوگوں کی  مدد کرتا تھا۔  

بنیادی طور پر نظریہ تصوف تین اہم اصولوں پر مبنی ہے جن سے خالق کائنات، انسانیت اور انسانی معاشرے کے تئیں ان کے رویہ کا تعین ہوتا ہے۔

روئے زمین پر بسنے والے تمام انسان اللہ کے ہی بندے ہیں ۔  سنن ابو داؤد میں مروی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم آدھی شب کو جب عبادات میں مشغول ہوتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے ‘‘ ائے اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے تمام بندے آپس میں بھائی ہیں’’۔

شیخ سعدی نے کہا ہے کہ،  تمام بنی نوع انسان کی تخلیق ایک ہی مٹی سے ہوئی ہے اور ایک دوسرے پر اس طرح باہم منحصر ہیں جیسے انسانی جسم میں اعضاء ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں۔

ایک مرتبہ ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کے ایک عظیم شیخ شاہ محب اللہ سے دارا شکوہ نے یہ سوال کیا کہ کیا مذہب میں ہندو اور مسلمان کے درمیان کوئی خط امتیاز کھینچنا جائز ہے تو شیخ شاہ محب اللہ (رحمۃ اللہ علیہ) نے تاکید کے ساتھ جواب دیا 'نہیں'۔ اور انہوں اپنی اس رائے کو پختہ کرنے کے لیے مزید فرمایا کہ پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین 'تمام جہانوں کے لئے رحمت' بنا کر بھیجا گیا ہے لہٰذا صرف مذہب کی بنیاد پر دو لوگوں کے درمیان کوئی فرق پیدا کرنا زیب نہیں دیتا۔ (مکتوبات شاہ محب اللہ)

خواجہ معین الدین چشتی  کے ممتاز   شاگرد شیخ حمید الدین ناگوری  اپنے شاگردوں کو  کافر اور مومن  کے زمرہ  کی بنیاد پر کسی  سماجی  امتیاز کی اجازت نہیں دی۔  سولہویں صدی کے ایک معروف چشتی صوفی گنگوہ کے شیخ عبد القدوس  نے  اس طرح  ایک خط میں اپنے شاگردوں  کو نصیحت کرتے ہیں:

مومن کے بارے میں یہ غیر ضروری بات چیت کیوں،  

کافر، فرمانبردار، گنہگار،  راہ حق پر ،  گمراہ، مسلم، متقی، کافر، آگ کے پجاری؟

یہ سبھی ایک مالا میں موتیوں کی طرح ہیں۔  

(مکتوبات، صفحہ 205 )

یہاں اس بنا پر یہ رائے قائم کرنا ایک بہت بڑی غلط فہمی اور ذہنی بھرم ہوگا کہ اس معاملے میں صوفیہ نے اپنے مذہبی تشخص کو نظر انداز کر دیا اس لیے کہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اپنے مذہبی معمولات، روایات اور اصول و معتقدات پر سختی کے ساتھ عمل پیرا رہتے ہوئے صوفیہ نے مذہبی اصول و معتقدات کے اس فرق کو دوسرے مذہبی پیرو کاروں کے ساتھ سماجی تعلقات میں کبھی خلل انداز نہیں ہونے دیا بلکہ اپنے مذہب کو ان کے سامنے اس طور پر پیش کیا کہ بتوں کی پرستش کرنے والے گم گشتہ راہ لوگ اسلام کے گرویدہ ہوتے چلے گئے۔

شیخ نظام الدین اولیاء  جب ہندو لوگوں کو جمنا میں نہاتے اور بھکتی گیت گاتے دیکھا تو انہوں نے کہا کہ ،

(ہر قوم کی اپنی راہ ہے، اپنے مذہب اور عبادت کا مرکزہے۔ )

مذہبی وسیع نظری اور رواداری کی ایک پوری دنیا اس نصف مصرع میں  شامل تھی جس کا  کثرت سے حوالہ قرون وسطی کے اولیاء کی خانقاہوں  کے ندر اور باہر دیا جاتا تھا۔  امیر خسرو کی مندرجہ ذیل مصرع کو اقبال مذہبی رواداری کی بہترین مثال مانتے تھے:

(اے! ہندو بت پرستی کا مذاق اڑانے والوں،

عبادت کیسے کی جاتی  ہے اسے بھی  ان سے  جانو)

جیسا کہ گبّن  نے کہا ہے اور اقبال نے منظور کرتے ہوئےحوالہ دیا ہے، رواداری کی روح انسان کے ذہن سے بہت مختلف رویوں سے جنم لیتی ہے۔ اس میں فلسفی کی رواداری بھی ہے جو تمام مذاہب کو یکساں طور پر حق مانتا ہے،  مؤرخ  جس کے مطابق  سب یکساں طور پر جھوٹے ہیں؛ اور سیاستدان، جس مطابق  سبھی یکساں طور پرمفید ہیں۔  ایک انسان کی رواداری ہے جو  دوسرے انداز کی  فکر اور  رویے کو بر داشت کرتا ہے کیونکہ وہ خود فکر اور رویے کے تمام تر طریقوں سے بالکل لاتعلق ہو گیا ہے۔  کمزور انسان کی  بھی رواداری ہے جو سراسر کمزوری کی وجہ سے، وہ جن چیزوں یا افراد  کو  عزیز رکھتا ہے ان کے  لئے تمام قسم کی توہین کو برداشت کرتا ہے۔  یہ واضح ہے کہ  اس اقسام کی رواداری کی کوئی اخلاقی قدر  نہیں ہے۔  دوسری طرف، وہ صریحا ایسے لوگوں کی روحانی ابتری کو واضح کرتا ہے جو  اس پر عمل کرتے ہیں۔  یہ سچ ہے کہ رواداری فکری وسعت اور روحانی توسیع سے پیدا ہوتی ہے۔ (اسلام اور احمدی مذہب) صوفیہ کی رواداری ان کے  اپنے ایمان میں اعتماد کا اظہار تھا۔  ان کے لئے اس زمین پر تمام انسان اللہ کے ہی بندے ہیں اور  ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا سماجی امتیاز ایمان کی حقیقی روح کے منافی تھا۔  

صوفی نقطہ نظر اور نظریہ کا دوسرا بنیادی اصول (اللہ کی صفات حسنہ سے خود کو متصف کرنا) تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد اللہ عزو جل کے (مشترکہ) صفات حسنہ کی بیج انسانوں کے افکار و معمولات میں بونا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت اپنی منتہاء کمال کو اسی وقت پہنچ سکتی ہے جب انسانوں کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ ملکوتی صفات پیدا کئے جائیں۔ مثال کے طور پر، سنت الٰہیہ یہ رہی ہے کہ وہ اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش اپنے تمام بندوں پر کرتا ہے خواہ وہ نیک ہوں یا گنہگار، مومن ہوں یا غیر مومن، اعلیٰ ہوں یا اسفل ۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ تمام انسانوں کو روشنی اور گرمی پہنچاتا ہے؛ جب بارش ہوتی ہے تو پوری کائنات اس سے مستفید ہوتی ہے؛ زمین اپنا سینہ سب کے لیے کھلا رکھتی ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد قدرت کے ان مظاہر کو ربویت کی نشان قرار دیتے ہیں اور اس کی وضاحت مندرجہ ذیل الفاظ میں اس طرح کرتے ہیں: 'رزاقی کا یہ طرز اگر چہ بہت ظاہر و باہر ہے لیکن اس میں سب سے انوکھی بات یکسانیت اور ہم آہنگی ہے جو اس میں پوشیدہ ہے۔ اس کائنات کی ہر موجود شئی کو رزق اور اسباب زندگی فراہم کرنے کا طریقہ کار اور انداز ہر جگہ یہی ہے۔ تمام چیزوں میں ایک ہی اصول کار فرما ہے۔ ہو سکتا کہ پتھر خوشبودار پھول سے مختلف ظاہر ہو لیکن دونوں کو ایک ہی وسیلے سے رزق حاصل ہوتا ہے اور وہ دونوں ایک ہی طریقے سے پھلتے پھولتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ '(ترجمان القرآن، انگریزی نسخہ، جلد1، صفحہ۔ 24)

برصغیر ہندوستان میں ایک عظیم سلسلہ طریقت سلسلہ چشتیہ کے بانی خواجہ معین الدین چشتی اپنے شاگردوں کو دریا کی مانند سخاوت، سورج کی مانند پیار اور زمین کی مانند مہمان نوازی کی خوبی پیدا کرنے کی تعلیم دیتے تھے(سیر الاولیاء)۔ اس لیے کہ خلق خدا کے درمیان کسی بھی فرق سے گریز کرے والے یہ مظاہر فطرت اس بات کی طرف غماز ہیں کہ انسانوں کے درمیان امتیاز و تفریق کے کسی بھی تصور کو ختم کر دیا جائے۔ شیخ نظام الدین اولیاء نے اپنے یہاں موجود  لوگوں  کو بتایا کہ، ایک بار حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک غیر مومن سے کھانہ کھانے کے لئے مدعو کرنے  میں تزبزب  کا شکار تھے، فورا خدا کی طرف سے نصیحت آئی 'اے ابراہیم! ہم اس آدمی کو زندگی دے سکتے ہیں لیکن آپ اس کو کھانہ نہیں دے سکتے۔ صوفی خانقاہوں نے  تمام لوگوں ان کے مذہب اور عقیدہ   پر توجہہ دئے بغیر  کھانہ  اور پناہ فراہم کی۔ شیخ نظام الدین اولیاء  باقاعدگی سے روزہ رکھتے تھے۔  جب سہری کے وقت  ان کے لئے کھانہ لایا جاتا تھا، تو لقمہ ان کے گلے  میں ہی رہ جاتا تھا جب وہ  اس شخص کے بارے میں سوچتے تھے جو بغیر کھانے کے سو گیا تھا۔

اس نقطہ نظر کا لازم و ملزام یہ ہے کہ  انسان دوسروں کے مصائب پر فوری طور پر  جوابا عمل کرتا ہےاور بھوک اور مصائب سے دوچار لوگوں کو بچانے کے لئے تمام جدو جہد کرتا ہے۔  صحیح مسلم میں مندرجہ ذیل حدیث قدسی ہے:

اللہ رب العزت قیامت کے دن ایک بندے کو اپنی بارگاہ میں طلب کر کے اس سے فرمائےگا: ‘‘اے ابن آدم! میں بیمار پڑا تھا تو نے میری خبر نہیں لی؟ بندہ عرض کرے گا کہ اے میرے مالک اور پروردگار! میں کیسے تیری تیمار داری یا بیمار پرسی کرسکتا تھا، تو تو رب العالمین ہے(بیماری کا تجھ سے کیا واسطہ اور تیری بارگاہ میں اس کا کہاں گزر) اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا تجھے علم نہیں ہوا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار پڑا تھا، تو نے اس کی عیادت نہیں کی اور خبر نہیں لی، کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ اگر تو اس کی خبر لیتا اور تیمار داری کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا، اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو نے مجھے نہیں کھلایا؟ بندہ عرض کرے گا (خدا وند!) میں تجھے کیسے کھانا کھلا سکتا تھا تو تو رب العالمین ہے(تجھے کھانے سے کیا واسطہ!)اللہ تعالیٰ فرمائے گا، کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو نے اس کو کھانا نہیں دیا، کیا تجھے علم نہیں ہے کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو اس کو میرے پاس پالیتا، اے ابن آدم میں نے پینے کے لیے تجھ سے (پانی) مانگا تھا، تو نے مجھے نہیں پلایا؟ بندہ عرض کرے گا، میں تجھے کیسے پلاتا تو تو رب العالمین ہے(تجھے پینے سے کیا واسطہ) اللہ تعالیٰ فرمائے گا، میرے فلاں بندے نے تجھ سے پینے کے لیے پانی مانگا تھا تو نے اس کو نہیں پلایا، سن! اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو اس کو میرے پاس پالیتا۔‘‘ ۔ (صحیح مسلم)

صوفیہ نے خلق خدمت کوخدا کی خدمت بتایا ہے۔ شیخ جنید بغدادی نے دہلی کے صوفیانہ حلقوں میں بیان کیا ہے کہ، میں نے مدینہ منورہ کی گلیوں میں غریب لوگوں کے درمیان خدا کو پایا ہے۔  

ہندوستان کی ایک بہت ہی قابل احترام  صوفی  خاتون بی بی فاطمہ سام جن کی   دہلی میں واقع جھونپڑی  دور دراز اور قریب  دونوں جگہوں کے لوگوں کو  اپنی طرف متوجہہ کیا ، وہ کیا کرتی تھیں کہ  کسی بھوکے کو  روٹی کا ایک ٹکڑا اور پانی کا ایک گلاس دینے کا اجر الہی ہزاروں رکعات نماز اور ہزاروں روزوں   کے مقابلے  میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔  (معارج الولایت)

شیخ نظام الدین اولیاء  نےاللہ کی بندگی کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: طاعت لازمی اور طاعت متعدی۔ طاعت لازمی ان فرض نمازوں اور توبہ و استغفار کو کہتے ہیں جو مسلمان ایک مذہبی فریضہ کی شکل میں ادا کرتے ہیں جبکہ طاعت متعدی کے زمرے میں کسی ضرورت مند اور محتاج کی مدد کرنا اور غریب کی مدد کرنا اور بھوکوں کو کھانا کھلانا شامل ہے۔ انہوں نے شاگردوں کو بتایا کہ طاعت متعدی کا ثواب فرض عبادات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔عالمی سطح کے مشہور و معروف صوفی شاعر شیخ سعدی کا کہنا ہے:

طریقت بجزو خدمت خلق نیست

بہ تسبیح و سجادہ و دلق نیست

ترجمہ: اعلی روحانی اقدار انسانیت کی خدمت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، اور نہ ہی یہ تسبیح گردانی کرنا، جائے نماز (بیٹھے رہنا) یا پر تکلف کپڑے پہننا ہے۔

نظریہ تصوف کا آخری بنیادی اصول وحی الہی کی وحدت کے ان کے عقیدے پر مبنی ہے جس کی وجہ سے باہمی افہام و تفہیم، مختلف مذاہب اور فرقوں کے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ماحول اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کی راہیں ہموار ہوئیں۔قرآن کی روشنی میں اس تصور پر مولانا آزاد کا تبصرہ قابل دید ہے:

‘‘قرآن انسانوں کے اس المیہ کو بیان کرتا ہے جو نبیوں کے درمیان فرق پیدا کرنے یا بعض کو قبول کرنے اور بعض کو مسترد کرنے کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا۔ اس رویہ کی تلخیص مندرجہ ذیل آیت میں پیش کی گئی ہے:

کہ ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرماں بردار ہیں (3:84)۔

(ترجمان القرآن، انگریزی، صفحہ۔78)’’

‘‘اس بنیادی نقطہ نظر نے مختلف مذہبی پیروکاروں کے ساتھ گہرے نظریاتی ربط کے دروازے کھول دیئے اور ‘‘علیحدگی پسندی کے تمام تصورات کا خاتمہ کر دیا جو کہ اس وقت تک لوگوں کے درمیان مروج تھا کہ وہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کو اپنے ہی حق میں خاص مانتے تھے۔’’ (ترجمان، جلد 1، صفحہ۔8)’’

ہندو مذہبی لٹریچر کا عمیق علم رکھنے والے  حضرت امیر خسرو  نے کہا ہے :

(اگرچہ ہم جس مذہب پر یقین کرتے ہیں ، ہندو اس پر یقین نہیں کرتے ہیں

بہت سے معاملات میں وہ اور ہم ایک ہی بات پر یقین رکھتے ہیں۔)

(Nuh Sipihr, p.163).

مرزا مظہر جان جانان ویدوں کے الہی ہونے  میں یقین رکھتے تھے۔ اس بنیادی نظریہ کی عدم موجودگی میں بحر الحیات، جواہر خامسہ اور مرجس بحرین جیسی تخلیقات   وجود میں ہی نہیں  آ سکتی تھیں۔  اپنشد  جن میں وحدت الوجود  کے ابتدائی انکشافات موجود ہیں وہ  مسلمان صوفیانہ فکر کی کئی معنی  میں تحریک دیتے ہیں۔

ٹوئن بی  (Toynbee) نے بجا طور پر  مشاہدہ کیا ہے کہ،  مذاہب کا مشن مسابقت نہیں بلکہ  ایک دوسرے کی تکمیل کرنا ہے۔  اگروحی الہی کے اتحاد کو قبول کر لیا جائے تو  یہ خود بخود ہمیں  دماغ اور روح کے اس رویہ کی طرف لے جائے گا۔ صوفیہ نے نہ صرف اس کی تبلیغ کی بلکہ  اس پر عمل بھی کیا اور اس نے مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کی۔  اس طرح بریلی کے شاہ نیاز احمد تمام مذاہب کے لازمی اتحاد کا اعلان کیا:

(یہ تمام مذاہب اور عقائد ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں،

یہ تمام  ایک ہی جڑ سے پھوٹے ہیں)

مختلف عقائد کے مذہبی انزاد میں فرق کو انہوں نے اس طرح بیان کیا ہے:

جب عندلیب  اپنا سریلا نغمہ گانا شروع کرتی ہے، تو  یہ سینکڑوں طرح کی آواز نکالتی ہے،

یہ ہر پل ایک نئی دھن نکالتی ہے، لیکن یہ  آواز ایک ہی گلے سے  اور ایک ہی چونچ  سے آتی ہے)

بھکتی سنتوں کے گانے بھی اس طرح کے خیالات کی  گونج  پیدا کرتے ہیں۔  اسی طرح جنوبی ہندوستان کا  ایک  لوک گیت عالمی امن اور بھائی چارے کے جذبات کی باز گشت پیدا کرتا ہے:

ایک عظیم سمندر کے سینےمیں  

ہر طرف پہاڑوں سے آتی  نہروں  کی روانی

ان کے نام ان کے چشموں کی طرح  مختلف ہیں،

اور اسی طرح ہر ملک میں انسان  سجدہ کرتے ہیں

اس ایک عظیم خدا کو ، اگرچہ وہ  بہت سے ناموں سے جانا جاتا ہے۔

(گوور، جنوبی ہندوستان کے  فوک سانگس ، p.165 )

چیتنیہ، کبیر، گرو نانک، نام دیو، پیپا، سین اور دوسروں نے صوفی فرقے کے آفاقی  خیالات سے خود کو واقف کر کے،  ان کی اپنےمتعلقہ علاقوں میں اشاعت کی۔  

تمام مذاہب کے تین ضروری عناصر ہیں۔ روحانی، ادارتی اور سماجی یعنی اعلی ہونے کا تصور، رسومات اور ضابطہ اخلاق۔  ضابطہ اخلاق کی دو شکلیں ہیں:

ذاتی اخلاقیات اور سماجی اقدار۔ رچرڈ گریگوری  نے ریلیجیئن  ان سائنس اینڈسوسائٹی اور سالٹر نے  اپنی کتاب  اتھیکل  ریلیجیئن میں کسی بھی مذہبی جانچ  کے مرکزی موضوعات کے طور پر ان پر غور کیا ہے۔  ٹائم اور اسپیس میں  انسانیت کے مارچ کا سروے کرنے کے بعد ٹوئن بی  (Toynbee) اس نتیجہ پر پہنچے کہ،  مذہب کا  اصل ٹیسٹ، ہمیشہ اور ہر جگہ، مصائب اور گناہ کے چیلنجوں کا جواب دینے میں  انسانی روح کی مدد کرنے میں اس کی کامیابی یا ناکامی ہے۔  

ہندوستان میں  صوفیہ نے بھی  یہی  کردار ادا کیا ہے۔ وہ معاشرے کے نچلے طبقے کے درمیان میں رہے اور لوگوں کے مسائل اور الھجنوں سے خود کو جوڑا۔  شیخ حمیدالدین صوفی، راجستھان کے ناگور ضلع کے سووال نام کے ایک چھوٹے سے گائوں میں رہتے تھے، راجستھانی کسانوں کی طرح تمام ذات اور عقائد کے لوگوں کے ساتھ گھل مل کر  رہتے تھے  اور ان کے ہی جیسے کھانے  کا شوک بھی اپنا لیا تھا۔  شاہ ولی اللہ نے اپنی تصنیف  حجت اللہ البالغہ میں شہری زندگی اور تنظیم پر ایک بہت ہی روشن باب میں انسانی فلاح کو حاصل کرنے کے لئے معاشرے کے تمام اجزاء اور  ان کے ہم آہنگ کام کاج  کے لئے  پر امن انضمام کی وکالت کرتے ہیں۔ اصل میں، انسانوں کے درمیان امن اور خیر سگالی  تمام لوگوں اور صوفیہ کی بھی کوششوں کا  مقصد تھا۔ شیخ فرید گنج شکر سے ملنے آئے ایک شخص نے آپ کو ایک قینچی پیش کی لیکن آپ  نے  اسے لینے سے  انکار کر دیا  اور کہا کہ، 'مجھے ایک سوئی دے دو،  میں سلائی کر سکتا ہوں، میں کاٹ نہیں سکتا۔'

صوفی سنت معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے فکر مند رہتے تھے۔  ان کا اصول نفرت کا جواب محبت سے دینا تھا، تشدد کا جواب پیار سے دینا تھا۔  شیخ نظام الدین اولیاء  شیخ ابو سعید ابولخیر  کے اس مصرع کو اپنی زندگی کے مقصد کے طور پر  اکثر  اپنی زبان پر رکھا کرتے تھے:

 (جو بھی ہمارے لئے تکلیف کا  سبب بنتا ہے،

اس کی زندگی کو اور زیادہ خوشیاں حاصل ہوں)

غیر متشدد نقطہ نظر، کمزوروں اور ناداروں  کے تئیں  ہمدردی اور  انسانوں  کے دلوں میں خوشیاں لانے کے الہی مشن کا شعور ہندوستان میں صوفی سنتوں کی کوششوں کی خصوصیات تھیں۔ صوفیہ دوسروں  کے رسم و رواج یا طرز عمل پر تنقید کرنے میں مشغول نہیں ہوئے۔  صوفیہ نے لسانی شاونیت (chauvinism)  کوناپسند  کیا اور تمام زبانوں کو جذبات کے ترسیل کا  مختلف ذریعہ مانا۔  صوفیہ نے  علاقائی زبانوں- بنگالی، پنجابی، مراٹھی وغیرہ کی ترقی میں بھی مدد کی۔  صوفیہ نے ایک مشترکہ زبان کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔  ہندی کےابتدائی جملے خانقاہوں  میں ہی  بولے گئے تھے۔  زبان کے معاملے میں صوفیہ کا  نقطہ نظر مندرجہ ذیل تھا:

(جب آپ عقیدے کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ  آپ عبادت میں عبرانی یا شامی الفاظ ادا کرتے ہیں؟)

انسانی تعلقات کے  بارے میں  صوفیہ کا  نقطہ نظر واضح طور پر آنکھوں کی تمثیل  میں  ظاہر ہوا ہے:

(آنکھوں سے سیکھو، جیسا وہ  اتحاد اور وحدانیت قائم کرتی ہیں

دونوں آنکھیں ظاہر طور مختلف ہیں لیکن ان کا نظریہ ایک ہے)

ماخذ: http://ignca.nic.in/cd_09019.htm

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/k-a-nizami/the-contribution-of-indian-sufis-to-peace-and-amity/d/97931

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/the-contribution-of-indian-sufis-to-peace-and-amity-امن-اور-ہم-آہنگی--کے-قیام-میں-ہندوستانی-صوفیوں-کا-کردار/d/97976

 

Loading..

Loading..