New Age Islam
Mon Sep 27 2021, 09:51 PM

Urdu Section ( 17 Dec 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

In The Case Of National Citizenship Amendment Act, Supreme Court Has Failed Miserably On Its Own Scale - Whose Responsibility Is It? قومی شہریت ترمیمی معاملے میں سپریم کورٹ اپنے ہی پیمانے پر بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے، اس پر جواب دہی کس کی؟


جسٹس (ریٹائرڈ) انجنا پرکاش

13 دسمبر 2020

بنگلور پرنسپلس آف جیوڈیشیل کنڈکٹ۲۰۰۲ء کی ایک شق  میں یہ درج ہے کہ’’ایک جج  اس بات کو یقینی بنائےگا کہ اس کا رویہ کسی مناسب نگراں کی نظر میں الزامات سے پرے ہے۔‘‘جس طریقے سے ہندوستان کی عدالت عظمیٰ نے ہندوستانی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع  قوانین میں سے ایک ’قومی شہریت ترمیمی قانون‘ جو عا م طور پر ’سی اے اے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، سے نمٹا ہے،اس نے ’بنگلور  پرنسپلس آف جیوڈیشیل کنڈکٹ‘کے اصولوں کی جانب سب کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ برائے مہربانی ’الزامات سے پرے‘ اور ’مناسب نگراں‘ جیسے الفاظ پر توجہ دیں۔ ایک جج کے کردار کی جانچ مناسب نگراں کا نظریہ ہوتا ہے... نہ صرف چند من مانے اصولوں میں بلکہ گزشتہ دو عشروں سے  ہندوستان میں   اعلیٰ عدالتی نظام  نے جو ضابطہ اخلاق اپنایا ہے،اس میں بھی یہ جھلکتا ہے۔ جس طریقے سے ریکارڈ تعداد میں داخل سی اے اے کی قانونی حیثیت کو چیلنج دینے والی عرضداشتوںکو لسٹ کرنے اور ان کی سماعت کرنے میں سپریم کورٹ ناکام رہا،اس بارے میں ’مناسب نگراں‘ کیا کہتے ہیں؟کیا عدالت کے رخ پر بے اطمینانی ہے؟اوراس کی تنقید ہورہی ہے؟ایسا دیکھا گیاہے کہ اس نے اپنے قدم پیچھے کھینچ لئے ہیں ا ور ۲۲؍ جنوری کو اس تعلق سے دیئے گئے فیصلے کہ’ چار ہفتے بعد اسے لسٹ کیا جائے ‘ پر عمل کرانے میں ناکام رہا ہے۔ کیا یہ مناسب طریقے سے الزامات سے پرے ہے؟

کئی بار  یہ ضروری ہوتا ہے کہ کسی خاص کارروائی اوراس کے اثرات کو سمجھنے کیلئے اس کے ’ٹائم لائن‘ پر نظر ڈالیں۔

۱۲؍ دسمبر ۲۰۱۹ء: ایک سال قبل صدر جمہوریہ نےسی اے اے کو اپنی رضامندی دی تھی جو ایک دن قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور ہوا  تھا۔جس طریقے سے شہریت کے سوال میں مذہب کو گھسیٹا جارہا تھا اور ایک ’کرونولوجی‘ کا خطرہ نظر آرہا تھا جو آگے چل کر ’این آ ر سی‘ کا روپ اختیار کرتا،اسے دیکھتے ہوئے یہ فطری تھا کہ قانون بننے سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر اس کی مخالفت ہوتی۔ ۱۲؍ دسمبر کو ہی انڈین یونین مسلم لیگ نے سپریم کورٹ میں سی اے اے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنےوالی پہلی عرضداشت داخل کی ۔اس معاملے پر جلد ہی ۱۴۰؍  کے قریب عرضداشتیں داخل کردی گئیں۔ اب یہ تعداد بڑھ کر ۲۰۰؍ کے قریب ہوگئی ہے۔

۱۳؍دسمبر: دہلی میں جامعہ ٹیچرس اسوسی ایشن نے سی اے اے کے خلاف ایک مارچ نکالا۔اس کے بعد کئی اورمظاہرے ہوئے۔شمال مشرقی ریاستوں میں سی اے اے کی مخالفت میں دائر ہونے والی عرضداشتوں میں ’آسام اسٹوڈنٹس یونین‘ پیش پیش تھا۔وہاں بھی اس قانون کے نافذ کرنے کی کوششوں کے دوران کئی بڑے مظاہرے ہوچکے تھے۔

۱۴؍ دسمبر:شاہین باغ میں ۱۴؍ دسمبر کومظاہرے کا اآغاز ہوا۔ جامعہ ملیہ کے احاطے میں دہلی پولیس نے ۱۵؍ دسمبر کو چھاپہ ماری کی،اس  دوران طلبہ پر حملے ہوئے، ان کی گرفتاریاں ہوئیں اور انہی پر فساد برپا کرنے کے الزامات بھی عائد ہوئے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرح ملک کی دوسری یونیورسٹیوں اور جامعہ میں بھی پولیس کی جارحیت کے خلاف ہدایت دینے کی اپیل کو خارج کردیا۔

۱۸؍ دسمبر:چیف جسٹس اور دو دیگر معزز ججوں کے بنچ  کے روبرو سی اے اے کے خلاف عرضداشتیں لسٹ کی گئیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کے ساتھ ساتھ تمام فریقین کونوٹس بھیجا ۔ ہندوستانی حکومت کواس نوٹس سے بچا لیاگیاکیونکہ ایک وکیل حکومت کی جانب سے موجود تھا۔

۱۶؍ جنوری ۲۰۲۰ء: انڈین یونین آف مسلم لیگ اور دوسرے عرضی گزاروں نے ایک درخواست دے کرسی اے اے پر روک لگانے  کی عدالت سے مانگ کی جسے ۱۰؍ جنوری کو سماعت کیلئے لسٹ کیاگیا۔

۲۲؍ جنوری:یہ عرضداشتیں ایک بار پھر لسٹ کی گئیں۔اٹارنی جنرل آف انڈیا  ’کے کے وینو گوپال‘ نے عدالت سے وقت مانگااور انہیں حکومت کی جانب سے عرضی گزاروں کو جواب دینے کیلئے چار ہفتے کا وقت مل بھی گیا۔ججوں کا کہنا تھا کہ عرضداشتوں کو اس کے بعد لسٹ کیا جانا چاہئے تھا۔(حکم کے پانچویں ہفتے میں)۔

۲۷؍ فروری:دہلی میں انتخابی مہم کے دوران رائے دہندگان سے اپیل کرتے ہوئے وزیرداخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ ’’ اتنی زور سے بیلٹ کا بٹن دباؤکہ شاہین باغ میں مظاہرین کو بجلی کا جھٹکا محسوس ہو۔ بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر اور رکن پارلیمان پرویش ورما نے بھی مظاہرین کو بدنام کرتے ہوئے قابل اعتراض باتیں کہی تھیں لیکن پھر بھی دہلی کے الیکشن میں بی  جے پی کو شکست فاش کا سامنا کرنا  پڑا۔

۲۳؍ فروری:  بی جے پی لیڈر کپل مشرا۲۰؍ دسمبر کواپنی تقریر کے بعد لگاتا ر سی اے اے مخالف مظاہرین کے خلاف زہر اگلتے رہے۔

۲۳؍ فروری:مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فساد ہواجس میں دونوں طبقے کے لوگ مارے گئے، ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی وارداتیں ہوئیں۔ اس کی وجہ سے بہت سارے لوگ بے گھر ہوئے۔

۱۷؍ مارچ:سی اے اے سے متعلق عرضداشتو ں کے خلاف مرکز نے بالآخرایک ماہ بعد جوابی حلف نامہ داخل کیا۔اس نے جواز پیش کیا کہ سی اے اے قانون کا حصہ ہے،یہ کسی کے حقوق پر حملہ نہیں کرتا، نہ ہی من مانے طریقے سے وجود میں آیا ہے۔ عوام کیلئے لائی گئی اس پالیسی سے فائدہ ہوگا یا نہیں،یہ  عدالتی جائزے کا موضوع نہیں ہے۔

اپنے حکم کے باوجودسپریم کورٹ نے فروری یا مارچ میںسی اے اے مخالف عرضداشتوں کوسماعت کیلئے لسٹ نہیں کیا، نہ ہی گزشتہ ۹؍ ماہ میں کبھی اس کی ضرورت محسوس کی۔ اس معاملے میں جو وکیل بحث کرنے والے ہیں یا جو جج فیصلہ سنانے والےہیں،ان کے دائرہ اختیار میں دخل اندازی کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ ان کا کام ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں لیکن مجھے جواب اس بات کا چاہئے کہ۲۲؍ جنوری کوعدالتی حکم کے باوجودعرضداشتوں کو لسٹ کیوں نہیں کیاگیا؟ عرضی گزاروں سے مجھے یہ معلوم پڑا کہ کئی بار کی اپیلوں کے باوجود سماعت کیلئے ان کی درخواست قبول نہیں کی گئی۔ انہیں بتایاگیا تھا کہ سبری مالا معاملے کے بعد آئینی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ ٹائم لائن اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ سپریم کورٹ  میں معاملہ زیر التوا ہے اور اس دوران پورا ملک اس معاملے پرسلگ رہا ہے۔اس قانون کی وجہ سے ملک بھر میں پھیلی بے اطمینانی سے عدالت بھی اچھی طرح واقف ہے، پھر بھی اس معاملے پر کوئی قدم اٹھانے میں عدالت کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ یہاں پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ  معاملے کی لسٹنگ میں عدالت کی ناکامی کتنی اہم تھی؟

ہم بدنام زمانہ ’ماسٹر آف روسٹرس‘ معاملے کے بعد بھی جانتے ہیں کہ ملک کے چیف جسٹس ، انتظامی  امور کے سربراہ ہیں، جن کے پاس دوسروں کے مقابلے کچھ الگ سےقانونی برتری حاصل نہیں ہے۔ اگر میں غلطی نہیں کررہی ہوں تو میرا خیال ہے کہ اس کیلئے انہیں تھوڑا زیادہ ملتا ہے اورپروٹوکال کے ساتھ کچھ سہولیات زیادہ میسر ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔تو کیا ہوتا ہے جب ایک جج ایک عدالتی حکم صادر کرتے ہوئے کسی معینہ دن ، اصولوں کے مطابق کسی معاملے میں کسی بات کوآگے بڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ چیف جسٹس بھی کسی انتظامی حکم کے ذریعہ اسے نظر انداز نہیں کرسکتے.... اور اگر رجسٹری کسی معاملے کولسٹ کرنے میں عدالتی حکم کے باوجودناکام ہوجاتی ہے تورجسٹرار پر توہین کے معاملے میں گرفت کی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے عدالتی نظام میں رخنہ ڈالا ہے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب چیف جسٹس نے خودیہ حکم صادر کیا کہ اس معاملے کو ۲۲؍ جنوری کے بعد ۵؍ ویں ہفتے میں لسٹ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے لسٹ نہ کیا جائے۔اس معاملے میں ہونا تو یہ چاہئے کہ عدالت جواب طلب کرتی کہ اسے ابھی تک لسٹ کیوں نہیں کیاگیا؟ اور میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتی ہوں کہ اکثر جج ایسا کرتے ہیں۔ بہرحال بار میں ہمارے جونیئر ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ سپریم کورٹ اکثر اس اصول کو نظر انداز کرتا ہے... اور اب یہ عام بات ہوگئی ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود معاملے لسٹ نہیں کئے جاتے۔ جب وکیل اس سلسلے میں پوچھ تاچھ کیلئے رجسٹری سے رجوع کرتے ہیں تو  انہیں بتایا جاتا ہے کہ انہیں زبانی حکم ملا ہے کہ اسے لسٹ نہیں کرنا ہے۔

13 دسمبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/in-case-national-citizenship-amendment/d/123794


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..