New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:30 AM

Urdu Section ( 28 Jan 2015, NewAgeIslam.Com)

Peace under Islam Requires Submission اسلام میں امن مکمل اطاعت شعاری کا مطالبہ کرتا ہے

 

 

جان جی اسٹیک ہاؤس

18 اگست، 2014

" تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔"

"نہیں، نہیں: اسلام امن کا مذہب ہے۔"

اکثر غیر مسلم اس طرح کے غیر معقول بیانات دیتے رہے ہیں، جبکہ اسلام کے نام پر تشدد مشرق وسطی، جنوبی ایشیاء اور افریقہ کے اکثر علاقوں پر اپنا شکنجہ کس رہا ہے۔ دریں اثنا، دوسرے نقطہ نظر کے حامل اپنے ہمسایوں کی طرح بہت سے مسلمانوں کے قدم خوف و دہشت سے اکھڑ رہے ہیں۔

چند بنیادی حقائق سے ہم ان دقیانوسی تصورات کو سمجھ سکیں گے جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو ان اسلامی تاریخی واقعات کو سمجھنے میں مدد ملے گی جو ہمیں یہاں اور بیرون ملک میں متنبہ کر رہے ہیں۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسلام یقینا امن کا مذہب ہے لیکن ایک اہم اور خاص معنی میں۔ "مسلم" اور "اسلام" دونوں کا مادہ لفظ"سلم" ہے جو کہ "سلام" کا بھی مادہ ہے- لیکن ان سب کا بنیادی طور پر معنیٰ (خدا) کی مکمل طور پر "اطاعت شعاری" قبول کرنا ہے۔

لہذا امن کا قیام تبھی عمل میں آ سکتا ہے جب دنیا بھر میں قانون الٰہی کا نفاذ ہو۔ یہ ایک واحد نظریہ اور ایک واحد حکومت کا امن ہے، ایک سلطنت کا امن ہے جو ایک خدا اور ایک مذہب کے ارد گرد متحد ہے۔ عالمی امن کا حصول اب تک نہیں ہو سکا ہے اس لیے کہ دنیا اب بھی دو خانوں میں منقسم ہے: ایک دار الاسلام، جہاں لوگ مکمل طور پر اللہ کی اطاعت شعاری میں زندگی گزارتے ہیں، دوسرا دار الحرب، جنگ کی سر زمین جہاں غیر مسلموں نے اب تک اللہ کی اطاعت شعاری قبول نہیں کی ہے۔ ایک بار اگر اسلام پوری دنیا پر غالب آ جائے تو پوری انسانیت عالمی امن سے فیض یاب ہو جائے گی۔

دوسری بات یہ ہے کہ اسلامی صحیفے جبرا تبدیلی مذہب کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیتے ہیں۔ قرآن کا فرمان ہے "دین میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے"۔ کافروں کو ہمیشہ جلاوطنی یا تبدیلی مذہب میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ (عیسائیوں اور یہودیوں "اہل کتاب" کو دوسرے درجے کے شہری کے طور پر ہی سہی لیکن انہیں روایتی طور پر مسلم حکومت میں رہنے اور اپنی روایات پر عمل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ لیکن تمام اسلامی حکومتیں انہیں یہ استحقاق نہیں دیتیں۔)

تیسری بات یہ ہے کہ ، اسلامی صحیفوں میں نہ صرف یہ کہ طاقت کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے بلکہ چند مواقع پر تو اس کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے۔ خاص طور پر قرآن کی نام نہاد تلوار والی آیتیں مومنوں کو اسلام اور امت مسلمہ کا دفاع کرنےاور اسلام کے دشمنوں کو محکوم بنانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ مسلم علماء کے درمیان ان آیات کی تفسیر اور انطباق میں کافی تنازعات اور اختلافات ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ان مسلمانوں کی ایک اہم ذمہ داری کی حیثیت سے ان آیات کی تبلیغ و اشاعت کرتے ہیں جو مورچہ بند یا جارحانہ محسوس کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ آزاد خیال مسلمان ہیں جنہیں ان آیات کی صداقت پر شک ہے جن کی بنیاد خاص طور پر قرآن پاک میں امن کی تعلیم دینے والی آیتیں ہیں۔ لیکن ہر تعلیم یافتہ مسلمان جانتا ہے کہ تلوار والی بھی آیتیں ہیں۔

چوتھی بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دور حیات سے ہی اسلام سے عام طور پر یہ امید کی جاتی ہے کہ خدا کی بادشاہی (یا یوں کہاجائے کہ اسلامی حکومت) پوری روئے زمین پر غالب ہو جائے گی۔ اور یہ کہ یہ غلبہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دور حیات کے بعد سے کبھی حکمت عملی اور ترغیب و تحریک سے حاصل کیا گیا اور کبھی فوجی کارروائیوں کے ذریعے بھی حاصل کیا گیا ہے۔ "دار الاسلام" کی توسیع کے لئے بار بار مسلح طاقت پر انحصار کے اس حربے کو تسلیم کئے بغیر کوئی اسلامی تاریخ کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔

(ابتدائی 20ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ اور پھر اس کے بعد خلافت کے خاتمے سے اسلامی شناخت کو ایک زبردست دھچکا لگا۔ خدا کی فوج کیسے شکست خوردہ ہو سکتی ہے؟ خلافت کو بحال کرنے کی آئی ایس کی حالیہ کوششیں اسلام کی توسیع کے عالمی ایجنڈےکا احیائے نو ہیں)

آخر کار یہ بات ضرور تسلیم کی جانی چاہیے کہ اس دنیا میں بہت کم مذاہب سختی کے ساتھ اور یکساں طور پر غیر متشدد ہیں۔ ہندوستان میں جین اور اور مغرب میں مینونی اور کوئکر کو "امن کا مذہب" کہا جا سکتا ہے۔

لیکن جنوبی ایشیا میں ایک دوسرے سے لڑنے والے بدھشٹ، ہندوؤں اور مسلمانوں سمیت کنعان سے لیکر قسطنطنیہ اور قرون وسطی میں عیسائی سلطنت شارلیمین تک کو فتح کرنے والے قدیم اسرائیل تک تقریبا دنیا کے تمام بڑے مذاہب نے تشدد کو جواز فراہم کیا ہے اور تشدد کو بھڑکانے کی بھی کوشش کی ہے جبکہ مختلف مذہبی پیشواؤں نے چینی، کورین اور جاپانی فوجوں کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازا ہے۔

اور اس سے پہلے کہ جدید ملحدوں کو اس طرح کی تخلیص سے کوئی راحت پہونچے ، یہ بات یاد رہے کہ خون میں ڈوبی تاریخ کی گزشتہ صدیوں اور خاص طور پر آخری صدی کے لئے بڑی حد تک سیکولر حکومتیں ذمہ دار تھیں۔ لہذا، انتہائی حیرت کی بات ہے کہ: ہم جو بھی ہیں اور جو بھی ہمارے مقاصد ہیں ان کی خاطر لڑنے کے لئے انسانوں کو متاثر کن بینرز دستیاب ہیں۔

لہٰذا، ہمارے خیالات و نظریات جو بھی ہوں ، انصاف اور امن کے حصول کے لئے اپنی متعلقہ روایات میں وسائل تلاش کرنا اور دوسری روایات سےتعلق رکھنے والے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا جو انصاف اور امن کے حصول کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں ، ہم سب پر منحصر ہے۔

ماخذ:

http://www.theaustralian.com.au/opinion/peace-under-islam-requires-submission/story-e6frg6zo-1227027369482

URL for English article: http://newageislam.com/interfaith-dialogue/john-g-stackhouse/peace-under-islam-requires-submission/d/98619

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/john-g-stackhouse,-tr-new-age-islam/peace-under-islam-requires-submission--اسلام-میں-امن-مکمل-اطاعت-شعاری-کا-مطالبہ-کرتا-ہے/d/101242

 

Loading..

Loading..