New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 02:00 PM

Urdu Section ( 15 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Science and Sensibility سائنس اور حساسیت

 

جاوید قاضی

28 جون، 2013

(انگریزی سے ترجمہ  ،  نیو ایج اسلام)

دی اسلامک آئیڈیولوجی کونسل جو اس بات کا تعین کرتی  ہےکہ  پاکستان میں اسلامی قانون کا اطلاق کس طرح ہونا چاہئے، نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ  ڈی این اے کے نمونے کو عصمت دری کے مقدمات میں بنیادی ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ اس متنازعہ بیان نے  ڈی این اے شواہد کی نوعیت اور اہمیت کے تعلق سے ملک میں ایک بحث چھیڑ دیا ہے۔

ڈی این اے مواد جو موقع واردات ، شکار یا مشتبہ شخص سے لیا جاتا ہے  خاص طور پر جنسی تشدد کی صورت میں ایک تصدیق کن واقعاتی اور عدالتی ثبوت ہے۔ مزید خاص طور پر، یہ تفصیلات  اور رائے کی بنیاد پر واقف کار ثبوت ہے۔ کچھ ایسی بعض صورتوں میں جب چشم  دید گواہ غلط ہو  واقعاتی ثبوت زیادہ قابل اعتماد ہیں ۔

چشم دیدی گواہ  کی تین قسمیں ہیں: مکمل طور پر قابل اعتماد،  مکمل طور پر ناقابل اعتماد  اور جزوی طور پر قابل اعتماد یا جزوی طور پر ناقابل اعتماد ۔ مؤخر الذکر بھی تصدیق کن ہے (اسے دوسرے کی حمایتی مادے اور شواہد کے ذریعہ  توثیق کی ضرورت ہوتی ہے) ۔

عام طور پر عصمت دری کے مقدمات میں، صرف ایک شکار یا جرم میں شریک کار  ایک عینی شاہد ہوتا ہے۔ اس لئے اس جرم کا کوئی عینی شاہد  تلاش کرنا  عملی طور پر ناممکن ہے۔ عصمت دری کے  بہت سے واقعات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک تکلیف دہ تجربے سے گزرنے کے بعد  مظلوم کو  مجرم کا چہرہ یاد نہیں رہتا۔ ڈی این اے ٹیکنالوجی تمام عدالتی اور واقعاتی ثبوت میں ایک پیش رفت کے طور پر ظاہر ہوا ہے ۔

1966 ء میں سکیمر بر  بمقابلہ  کیلی فورنیا میں نطفی معاملے میں امریکی سپریم کورٹ نے ریاست کو ثبوت کے طور پر ایک مشتبہ شخص سے خون نکالنے  کی اجازت دے کر  امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کی لغوی تشریح کی خلاف ورزی کی۔ پانچویں ترمیم ایک مشتبہ شخص کو "کسی بھی مجرمانہ کیس میں خود کے خلاف گواہ بننے کے لئے مجبور " ہونے کی  اجازت نہیں دیتی۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 13 (ب) بھی  اسی حق کی ضمانت دیتا ہے، اور اسی انداز میں اس کی تشریح کی جا سکتی ہے۔

آئین کے آرٹیکل 10 (ا) کا کہنا ہے کہ ہر ملزم  "کو ایک منصفانہ مقدمہ اور مناسب عمل کا حق ہے" اور اسلامی فقہ - عدل کی ابتداء کے ساتھ قطار میں ہے ۔ یہ عدالتوں تشریح کی اہم طاقت کی توسیع کرتا ہے ، تاکہ نہ صرف یہ کہ انصاف کیا جائے بلکہ ہوتا ہوا دیکھا جائے  ۔ جب کوئی  طریقہ کار انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بنتا ہے تو اسے  نظر انداز کر دیا جانا چاہیے۔ بالآخر عدل سے  فرق پڑتا، اس طریقۂ  کار سے نہیں جو انصاف کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

سینٹ انتونیو، ٹیکساس میں ایک حالیہ معاملے میں  ایک مرد  جس پر ایک 38 سالہ خاتون  کی عصمت دری کا الزام عائد کیا گیا تھا اسے  مجرم ثابت کرنے کے لئے اس کا  ڈی این اے نمونے لیا گیا  جس کی اگلی صبح اسے ہوش آتا اور ہوش  کھو بیٹھتا  ۔

پاکستان میں عورت کو ایک شرط کے طور پر چار عینی شاہدین کی ضرورت ہوتی، اور اگر  وہ کسی کو بھی پیش نہ کر سکے تو  ڈی این اے کی شہادت قابل قبول نہیں ہو گی ۔ اس سے مانندگان کے لئے تمام قانونی راستے  مسدود کرتے  ہوئے  مجرم کو  بغیر کسی  سزا کےبار بار جرم کا ارتکاب کرنے کی اجازت ملے گی ۔

اسی طرح کے حالات میں واقعاتی ثبوت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے  ۔ عدالتی  ماہرین کو  ثبوت کی قدر دانی کرنی چاہئے ، جن میں سے ایک سب سے زیادہ قابل اعتماد ڈی این اے ہے۔ دنیا بھر میں عدالتیں ڈی این اے شواہد کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دے رہی ہیں۔

لیکن پاکستانی اسلامک  آئیڈیولوجی کونسل اس سے  اتفاق نہیں کرتی ۔ اس کے ایک رکن مولانا شیرازی نے کہا کہ "سائنس میں  ہمیشہ اصلاح  ہوتی  ہے اور وہ اس عمل میں اپنے گزشتہ نظریات کو مسترد کر تی ہے،" ۔ "لہذا، ہم سائنس پر انحصار نہیں کر سکتے۔"

وہ اس بات پر دھیان نہیں دیتے  کہ ڈی این اے ثبوت صرف ثبوت کی ایک قسم ہے، اور لہٰذا وہ  ایک عینی شاہد ہے۔ ثبوت کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ثبوت جتنا زیادہ  اعلی معیار کا ہو گا  وہ انصاف کا نظام قائم کرنے میں اتنا ہی زیادہ مفید ہوگا  ۔ عینی شاہدین بھی تعصب، خوف، یا خطرے کی وجہ سے جھوٹ بول سکتے  ہیں یا حاضر ہونے  سے انکارکر سکتے ہیں ۔ عدالتیں جب عینی شاہدین کو پیش کرتی ہیں تو انتہائی محتاط ہوتی ہیں ۔ اس کے برعکس، واقعاتی ثبوت زیادہ قابل اعتماد ہیں، اور واقعاتی ثبوت میں سب سے زیادہ قابل اعتماد ڈی این اے ثبوت ہے۔ ڈی این اے ثبوت کے استعمال سے پہلے امریکہ میں عصمت دری کے مقدمات میں سزا کی شرح 33 فیصد تھی جو کہ اب یہ 50 فیصد ہے۔

بنیادی ثبوت کیا ہے اور کیا ثانوی  ہے یہ کیس کے حقائق پر منحصر ہے۔ اس کا فیصلہ اس وقت کیا جاتا  ہے جب کسی مقدمے کی سماعت شہادتی  مرحلے میں ہوتی ہے  ۔ عینی شاہدین کی طرح عدالتی ماہرین کے ذریعہ  جو کہ ڈی این اے شواہد پیش کرتے ہیں  اس کی جانچ کی گئی  ہے ، اور کسی بھی عینی ثبوت یا واقعاتی ثبوت کی طرح  ڈی این اے ثبوت کو بھی  عدالت کے ذریعہ  مسترد کیا جا سکتا ہے اگر وہ  ناقابل اعتماد ہو یا دوسرے مادی حقائق اور گواہ کی تفصیلات کے ذریعہ اس کی تصدیق نہ ہو۔

لیکن عصمت دری کے معاملے میں بنیادی ثبوت کے طور پر ڈی این اے شواہد کو ناقابل قبول بنانا  جرائم کی حوصلہ افزائی کرنے ،اور ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے مترادف ہے جو ہمارے جیسے مقامی معاشرے میں قانون کو غالب رکھنے کی ہمت رکھتے ہیں ۔ یہ آئین کے آرٹیکل  4، 10 (ا) اور 25 میں محفوظ غیر منفک  حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

(سلمان اکبر راجہ اور پنجاب کے طاہرہ عبداللہ بمقابلہ گورنمنٹ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈی این اے ثبوت کے قابل تسلیم ہونے کی حمایت  میں  اپنے حالیہ فیصلے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ بمقابلہ یی  (134 FRD 161) پر انحصار کیا ہے۔ جب پولیس کے پاس عصمت دری کا کوئی معاملہ رپورٹ کیا جائے  تو عدالت نے  ڈی این اے ٹیسٹ کو  لازمی قرار د یا ہے۔ لیکن ہمارے قوانین میں ایک بڑی تعداد میں ایسی قانونی خامیاں موجود ہیں جو  عصمت دری کا ارتکاب کرنے والوں کو سہولت فراہم کرتی ہیں ۔ ایسے عدالتی  اور سائنسی ثبوت کو یقینی بنانے کے لئے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے جسے انصاف کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکے ۔

ماخذ: http://www.thefridaytimes.com/beta3/tft/article.php?issue=20130628&page=8

URL for English article:

http://newageislam.com/islam-and-science/javed-qazi/science-and-sensibility/d/12374

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/javed-qazi,-tr-new-age-islam/science-and-sensibility-سائنس-اور-حساسیت/d/13047

 

 

Loading..

Loading..