New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 07:43 AM

Urdu Section ( 17 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Jihad An-Nikah: Things are Sold Here جہاد النکاح ، یہاں ہر چیز بکتی ہے

 

جاوید عباس رضوی

12 اکتوبر، 2013

یہاں ہر چیز بکتی ہے ، سستے دام میں بکتی ہے ، بہت ارزاں بکتی ہے اور صبح و شام بکتی ہے، میں دنیا کی بات کرتا ہوں، میں عالم اسلام کی بات کرتا ہوں، جہاں عزتیں بکتی ہیں، جہاں عصمتیں بکتی ہیں ، جہاں بیٹیاں  اپنوں کے ہاتھ بکتی ہیں، ماں باپ کے ہاتھ بکتی ہیں، جہاد کے نام پر بکتی ہیں ،اسلام کے نام پر بکتی  ہیں، فتووں کے نام پر بکتی ہیں، سرعام بکتی ہیں ، چپ سادھ کر بکتی ہیں ، جہادیوں کے ہاتھ بکتی ہیں، مفتیان دین کے ہاتھ بکتی ہیں ، عصمتیں فتووں میں بکتی ہیں ، فتوے عصتموں میں بکتےہیں ، آئے روز دل کو دھلانے والی حقیقتیں سامنے آتی ہیں ، کبھی سادہ لوح خواتین کا استحصال  کیا جارہا ہے  ، تو کبھی بندوق کے زور پر آبرو ریزی انجام دی جاتی ہے، کبھی ٹی وی اینکر پر سن غادی عویس  کوجہاد النکاح  کو حاملہ ہو کر ماں باپ کے پاس لوٹا یا جارہا ہے تو کبھی معصوم 15 سالہ روان میلاد الدہ کو نام نہاد جہادی اپنی ہوس کا شکار بناتے ہیں ۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسلامی قوانین و احکامات کا پس و لحاظ کئے بغیر قرآنی احکامات و تعلیمات کی پرواہ کئے بغیر ، مسلمانوں کے جذبات کی قدر کئے بغیر بعض مفتیان کو صیہونیت و استکبار کی جانب سے جو حکم ملتاہے اس پر بعینہ عمل کرتے ہیں، مفتی حضرات جب تک ڈالر وں کے لئے کام کرتے رہیں گے یہ المناک مسائل سامنے  آتے رہیں گے ، مفتی  حضرات جب تک  امریکہ و اسرائیل کی امداد سے چلنے والی فتووں کی فکٹیریاں بند نہیں  کرتے مسلمانوں کی غیرت سر عام پائمال ہوتی رہے گی، نام نہاد مفتیوں کے ذریعے امریکی اسلام کی تبلیغ و تر ویج  ہوتی رہے گی ، جب  تک حقیقی مسلمان اپنی راہیں ان سے الگ نہیں کرتے، صیہونیت کی باہوں  میں پلنے والے مفتیان اسلام، انسانیت ، بشریت کے لئے سم قاتل ثابت ہوتے رہیں گے ، جب تک ان کی لاشیں صدام، اسامہ و قدافی کی قبر میں دفنائی نہیں جاتیں ، اسلام جو عالم بشریت کے لئے امن، آشتی ، پیغام اخوت، برابری ، انسانی قدروں کی پاسبانی ،مساوات وسکون کا علمبردار بن کر آیا تھا  ، آج اسی اسلام کی شبیہ اس قدر مسخ کردی گئی ہے کہ غیر مسلم حضرات اسلام یا مسلمان کا نام سنتے ہی کانپ جاتے ہیں۔

میں جس سر زمین پر رہتا ہوں ، وہاں مسلمانوں کی اکثریت رہتی ہے لیکن آس پا س غیر مسلم بھی رہتے ہیں ، عام لوگوں کا تاثر ہے کہ ایسے مسلمانوں سے کافر ہی بہتر ہیں ، اگر یہاں  خدانخواستہ عصمتیں لٹتی ہیں تو جہاد کے نام پر نہیں، اگر عفتیں پائمال ہوتی ہیں تو اسلام کے نام پر نہیں، اگر خواتین کے حقوق کی دھجیاں  اڑائی جاتی ہیں تو شریعت نافذ کرنے کے نام پر نہیں، اگر یہاں خواتین کو وحشی درندے اپنی جنسی ہو س کا شکار بناتے ہیں تو جنت کی لالچ دے کر نہیں، عام لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ ایسے اسلام، ایسے جہاد ، ایسی جنت  سے اللہ ہمیں بچائے ۔

عام لوگ جب تکفیر ی دہشت گردوں کے ٹریننگ سنٹرز ( خود کش تربیت  گاہوں،اسلام دشمن مراکز) کا مشاہدہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ دہشت گرد وں نے ان ضد اسلام مراکز ( ٹریننگ سنٹر ز ) کی دیواروں پر خوبصورت جنت کی تصاویر ، خوبصورت دودھ کی نہریں اور ان میں نہاتی خوبصورت حوروں کی تصاویر سجی ہوتی ہیں، یہ تکفیر ی جو کچھ بھی کرتے ہیں اسی جنت کی خاطر اور انہیں حوروں کی خاطر ، درندگی کی تربیت کے دوران انہیں بتایا جاتا ہے کہ جتنی  جلدی ہوسکے اس جنت میں داخل ہوجاؤ ، حوریں  تمہاری تلاش کررہیں ہیں، یہ جملہ کہ حوریں  تمہاری  تلاش میں ہیں، ان سے برداشت نہیں  ہوتا جس  کے نتیجے  میں آئے روز خود کش حملے رونما  ہوتے ہیں۔

یہ تکفیری دہشتگرد اپنی ان حوروں کے ساتھ ہی مست و مگن رہتے  اور ‘‘ وصال جنت’’ تک انتظار کرتے تو بات قابل برداشت تھی، لیکن ان سے کہی گئی حوروں کے لئے وہ  دو دن کا انتظار بھی نہیں  کر سکتے ۔ ہمیں جلدی  حوریں چاہیئے ، وہاں حوریں ملیں نہ ملیں کیا بھروسہ ، ہوسکتا ہے کہ اسی لئے تکفیر ی دہشتگردوں کے سر کردہ ملا ، مفتی حضرات اور ان  کے سرغنہ بھی ان سے کہتے ہوں کہ جب تک حوریں نہیں ملتی،تب تک اپنی بہنوں سے جنسی روابط قائم کرسکتے ہو (سعودی عرب کے درباری مفتی شیخ ناصر العمر نے شامی دہشتگرد وں کے لئے اپنی بہنوں کے ساتھ ‘‘جہاد النکاح’’ کا فتویٰ صادر کیا تھا، اس وہابی شیخ  نے اپنے فتویٰ میں واضح  کیا تھا کہ نا محرم خواتین تک دسترسی نہ ہونے کی صورت میں شامی مجاہدین اپنی محروم خواتین او ربہنوں سے ‘‘عقد نکاح’’ کرسکتے ہیں)۔

اسی لئے               مفتی حضرات فراخ دلی کا مظاہرہ کرتےہوئے اپنی بہنیں  ، اپنی ز وجات  انہیں پیش کرتے ہیں ، کبھی فتوے دیئے جاتے ہیں کہ تکفیری دہشتگرد جہاں کہیں بھی مصروف جہاد فی سبیل امریکہ  ہیں وہاں کی ہر خاتون ان کے لئے جائز و حلال ہے، افسوس صد افسوس جہاں باپ اپنی بیٹی کو زنا کے لئے آمادہ کرے، بیٹی  چیخے، چلائے فریاد کرے اور باپ اسے خاموش ہونے کو کہے، جنت  کی آس دے، بے گناہی کی سرٹیفیکٹ  دے، جہاں شوہر اپنی بیوی  کو ‘‘سیکس جہاد ’’ کے لئے اکسائے ،جہاں زنا بالجبر  کو جہاد النکاح کا نام دیا جاتا ہو، جہاں ماں ، بہن ، بیٹی  و زوجہ کی عفت ، عظمت  ومنزلت ختم کردی گئی ہو، ایسے اسلام، ایسے مسلمان ، ایسے جہاد،  ایسی شریعت ، ایسی جنت اور دیواروں  پر سجی ہوئی نہاتی ہوئی حوروں کو دور سے ہی خدا حافظ۔

صیہونی مفتیوں  کے فتووں کے چکر میں عالم اسلام کے مختلف ممالک سے کتنے اچھے خاصے لوگ اپنے ہوش  و حواص کھو بیٹھے اور انہوں نے خود کو ، پارٹی کار کنان  کے اہل خانہ کو ملک شام میں عروج  پکڑنے والے سیکس جہاد میں شامل کیا، بعض ممالک ابھی بھی اپنی ‘‘ معزز خواتین ’’ کو سیکس جہاد کا حصہ بننے کے لئے آمادہ کررہے ہیں ، بعض ممالک اپنی خواتین کو حاملہ کی شکل میں  وطن واپسی  پر استقبال  کرچکے ہیں، بعض ممالک نئی تکفیری نسل کے انتظار  میں ہیں، بعض ممالک نئی تکفیری نسل کے انتظار میں ہیں، بعض کشمکش  میں ہیں، بعض تذبذب میں اور بعض  سوچ میں کہ یہاں  کیا کیا بکتا ہے ۔ بس وہ سمجھ لیں کہ یہاں ہر چیز بکتی  ہے، سستے دام میں بکتی  ہے اور صبح و شام بکتی ہے۔

12 اکتوبر، 2013  بشکریہ : روز نامہ صحافت ، لکھنؤ

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/javed-abbas-razvi-جاوید-عباس-رضوی/jihad-an-nikah--things-are-sold-here-جہاد-النکاح-،--یہاں-ہر-چیز-بکتی-ہے/d/14038

 

Loading..

Loading..