New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 08:28 PM

Urdu Section ( 1 Apr 2014, NewAgeIslam.Com)

Daughters in Islam اسلام میں بیٹیوں کا مقام

 

اسلام ویب

20 مارچ2014

اللہ کا فرمان ہے "(تمام) بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہےیا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے "[ قرآن 49:50 ] اللہ ایک ہے وہ اپنی حکمت کی بنیاد پر جسے چاہتا ہے بیٹا اور بیٹیاں دیتا ہے وہ بیٹا صرف انہیں دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور بیٹیاں بھی صرف انہیں ہی دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے لاولد ہی رکھتا ہے۔

مندرجہ بالا آیت میں ہم نے یہ نوٹس کیا کہ اس آیت میں بیٹیوں کا ذکر بیٹوں سے پہلے ہے اور علماء کرام نے اس پر یہ تبصرہ کیا ہے: "یہ بیٹیوں کی ہمت افزائی کے لیے ہے اور ان کے تئیں احسان مندی کے سلوک کو فروغ دینے کے لئے ہے اس لیے کہ بہت سارے والدین بیٹی کی پیدائش کو بوجھ محسوس کرتے ہیں۔ اسلام سے قبل کے ادوار میں لوگوں کا عام رویہ یہ تھا کہ وہ بیٹی کی والادت سے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ وہ انہیں زندہ دفن کر دیتے تھے، لہٰذا اس آیت میں گو کہ اللہ لوگوں سے یہ کہہ رہا ہے کہ : تمہاری نظر میں اس کمتر بچی کا مرتبہ اللہ کی بارگاہ میں بلند و برتر ہے۔ اللہ نے آیت میں بیٹیوں کا ذکر سب سے پہلے ان کی کمزوری کی طرف اشارہ ہے کرنے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے کیا ہے کہ وہ تمہاری دیکھ بھال اور توجہ کی زیادہ مستحق ہیں۔"

بیٹیوں کو اس طرح کا اعزاز بخشنا مکمل طور پر اس کے بر عکس ہے کہ جس طرح لوگ ماقبل اسلام کے ادور میں عورتوں کے ساتھ پیش آنے کے عادی تھےکہ جب وہ عورتوں کی تذلیل و توہین کرتے تھے اور انہیں اپنے مال و دولت کا ایک حصہ سمجھتے تھے اور اگر ان میں سے کسی کو بھی بچی کی ولادت کی خبر ملتی تو انہیں اتنا ناگوار گزرتا کہ ان کے اوپر بجلی گر پڑی ہو۔ اس سلسلے میں اللہ کا فرمان ہے: "حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑ جاتا ہے اور (اس کے دل کو دیکھو تو) وہ اندوہناک ہوجاتا ہے، اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔"[ قرآن 16:59]

روایت کی گئی ہےکہ قبل از اسلام کے ایک عرب قیس ابن عاصم التمیمی کے کچھ دشمنوں نے ان کے گھر پر حملہ کیا اور ان کی بیٹی کو قید کرلیا۔ بعد ازاں ان کے دشمنوں میں سے کسی ایک نے ہی ان کی بیٹی سے شادی بھی کر لی۔ چند عرصے کے بعد قیس اور اس کے دشمنوں کے قبیلہ میں صلح ہو گئی تو انہوں نے اس کی بیٹی کو اس بات کی آزادی دی کہ وہ چاہے تو اپنے باپ کے پاس واپس چلی جائے یا اگر چاہے تو اپنے شوہر کے ساتھ بھی رہ سکتی ہے اور اس نے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔ اسی وقت قیس نے خود سے ایک عہد کیا کہ اب اگر اس کی کوئی بھی بیٹی پیدا ہوتی ہے تو وہ اسے زندہ دفن کر دیگا اور اس کے بعد پورا عرب اسی کے راستے پر چل پڑا۔ لہٰذا قیس ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے اس برے عمل کو عرب کے معاشرے میں متعارف کرایا اور اس طرح اس کے اپنے اس برے عمل کا گناہ تو اس کے کندھوں پر  ہے ہی، ان لوگوں کا بھی گناہ اس کے کندھوں پر ہے جنہوں اس کے اس عمل کو زندہ رکھا۔

ایک صحابہ نے جنہوں نے اسلام سے پہلے اپنی بیٹی کو زندہ در گور کر دیا تھا وہ اپنا ماجرا اس طرح بیان کرتے ہیں: "ہم اسلام کی آمد سے قبل بتوں کی عبادت کرتے اور اپنی بیٹیوں کو قتل کرتے تھے۔ میری ایک بیٹی تھی جب وہ بڑی اور سمجھدار ہو گئی تو وہ جب بھی مجھے دیکھتی خوش ہوتی اور جب میں پکارتا تو فوراً جواب دیتی۔ ایک دن میں نے اسے بلایا اور میرے پیچھے آنے کو کہا وہ میرے پیچھے پیچھے آتی رہی یہاں تک کہ ہم اپنے قبیلے کے ایک کوئیں کے پاس پہنچے۔ پھر میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کنویں میں پھینک دیا اور جب میں نے آخری بار اس کی آواز سنی تو وہ یہ چلا رہی تھی: ‘‘اے میرے والد! اے میرے والد!’’ (الدارمی)

اسلام کی آمد سے پہلے دو طریقے سے لوگ اپنی بیٹیوں کا قتل کرتے تھے:

1  بچے کی پیدائش کے وقت مرد اپنی بیوی کو یہ حکم دیتا تھا کہ وہ زمین میں کھودے گئے ایک گڈھے کے پاس بچے کو جنم دے اور اگر وہ نوزائیدہ لڑکا ہوتا تو ماں اسے اپنے ساتھ گھر لے جاتی اور بصورت دیگر وہ اس نو مولود کو گڈھے میں ڈال دیتے اوراسے زندہ دفن کر دیتے، یا:

2  بیٹی کی عمر جب چھ سال کی ہو جاتی تو مرد اپنی بیوی کو یہ کہتا کہ وہ اس کی بیٹی کو سجا سنوار کر خوشبو لگا دے اور جب اسے تیار کر دیا جاتا تو وہ اپنی بیٹی کو ریگستان میں ایک کنویں کی طرف لے کر چل پڑتا اور وہاں پہنچ کر وہ اپنی بیٹی کو اس کنویں میں جھانکنے کے لیے کہتا اور جب وہ ایسا کرتی تو وہ اسے پیچھے سے اس کنویں میں دھکا دے کر گرا دیتا۔

ایسے بھی کچھ مرد تھے جو لوگوں کو اس عمل سے منع کرتےتھے اور انہیں میں سے ایک ابن ناجیہ التمیمی ہیں جو بیٹیوں کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والوں کے پاس جاتے اور ان کی زندگی بخشنے کے لئے تاوان کی رقم پیش کرتے تھے۔

آج کل بھی کچھ لوگوں میں ماقبل اسلام کے یہی عقائد و نظریات پائے جاتے ہیں اس لیے کہ اگر ان کے گھر میں صرف لڑکی ہی کی پیدائش ہو جو کہ یقیناً اللہ کے فیصلے سے ہی ہے تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں اوربے چینی اور رنج و الم کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اسلام کی آمد کے ساتھ ہی اس دور کی تاریکی ختم ہو گئی اور اللہ نے لڑکیوں کے لیے احسان، محبت اور ہمدردی کوضروری قرار دیا۔ لڑکیوں کی اچھی دیکھ بھال اور ان کی پرورش کے عمل میں ان کی خصوصی توجہ دینے کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔ در اصل اسلام نے بیٹوں کی پرورش پر ایک خصوصی اجر مقرر کیا ہے جو کہ جو کہ بیٹوں کی پرورش پر نہیں ہے۔ انس (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : "سن بلوغت تک پہنچنے تک جو شخص دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کرتا ہے وہ اس طرح جنت میں میرے ساتھ ہو گا" اور قربت کی علامت ظاہر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معمولی فرق کے ساتھ اپنی دونوں انگلیوں کو ظاہر کیا۔"(مسلم)

عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) روایت کرتی ہیں: "جمیلہ نامی ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ میرے پاس آئی۔ اس نے مجھ سے صدقہ طلب کیا لیکن میرے پاس ایک کھجور کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا جو میں نے اسے دے دیا۔ اور اس خاتون نے اپنی دو بیٹیوں کے درمیان اس کھجور کو تقسیم کر دیا اور خود کچھ نہیں لیااس کے بعد وہ اٹھ کر چلی گئی۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے یہ سارا ماجرا ان سے بیان کیا اس پر انہوں نے فرمایا کہ: "جس شخص نے بیٹیوں کی پرورش کا ذمہ اٹھا رکھا ہے اور ان کی پرورش میں فیاضی سے کام لیتا ہے تو بیٹیاں اس کے لیے جہنم کے خلاف حصار کا سبب بنیں گی" (بخاری اور مسلم)۔ اس واقعے کی ایک اور روایت میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا کہ: "ایک غریب خاتون اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ میرے پاس آئی۔ میں نے اسے تین کھجوریں دی، اس نے ان میں سے ایک ایک کھجور دونوں بیٹیوں کو دی اور وہ تیسرا کھجور کھانے ہی والی تھی کہ اس کی بیٹیوں نے اس خاتون سے اس تیسرے کھجور کا مطالبہ کر لیاتو اس نے اس ایک کھجور کو اپنی دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کر دیا اور خود کچھ بھی نہیں کھا یااور اس نے جو کیا وہ مجھے اچھا لگا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تشریف لائے تو میں یہ سارا ماجرا ان سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا:' اللہ نے اس کھجور کی وجہ سے اس کےلئے جنت واجب کر دیا اور اسے جہنم سے آزاد بھی کر دیا۔" (مسلم)

مندرجہ ذیل روایت کے الفاظ کو پوری توجہ کے ساتھ پڑھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : "جس کسی کو بھی بیٹیوں کے والدین ہونے کے تجربے سے آزمایا گیا ..." اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ "... آزمایا گیا.." کیوں استعمال کیا ہے؟ اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ "... آزمایا گیا..." اس لیے کہا ہے کہ ان کی پرورش کرنا ایک ذمہ داری ہے اور اللہ کی طرف سے ایک آزمائش بھی کہ بندہ اپنی ذمہ داری کس طرح نبھاتا ہے: کیا وہ ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرے گا؟ کیا وہ درست طریقے سے ان کی پرورش کرے گا؟

اس ذمہ داری کی نوعیت کو دیگر روایات میں اس طرح مزید واضح کیا گیا ہے: "اگر وہ برد باری کے ساتھ انہیں کھانا کھلاتے ہیں اور انہیں اچھے لباس مہیا کرواتے ہیں.." ( ابن ماجہ ) اور: "... اور ان کی شادی کر دیتے ہیں.." (طبرانی) اور: ".... ان کی مناسب طریقے سے پرورش کرتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ پیش آنے کے طریقے میں اللہ سے خوف کرتے ہیں "۔ (ترمذی)

بیٹیوں کے ساتھ معاملات کرنے میں احسان اور حسن سلوک سے پیش آنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے جیسا کہ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس کسی کو بھی اللہ نے دو بیٹیاں عطا کی ہے اور وہ ان کے ساتھ احسان اور حسن سلوک سے پیش آتا ہے تو یہی ان کے لیے جنت میں داخل ہونے کا سبب بنے گا۔ اور "جسے اللہ نے تین بیٹیاں دی ہے اور وہ ثابت قدمی کے ساتھ ان کی پرورش کرتا ہے تو قیامت کے دن ان کا یہی عمل اس کے لیےجہنم سے بچنے کا ایک ڈھال بنے گا"۔

ایک بیٹی اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم فضل اور ایک اعزاز ہے۔ امام حسن نے کہا کہ: "لڑکیاں اجر کا ذریعہ ہیں اور بیٹے نعمت ہیں، (قیامت کے دن) انعامات لوگوں کے حق میں ہیں جبکہ نعمتوں کے لئے اس دن لوگ جوابدہ ہوں گے۔"

لہٰذا یہ ماننا کہ اللہ نے کسی شخص کو لڑکی عطا کر کے ذلیل و رسوا کیا ہے سراسر غلط ہے بلکہ یہ اللہ کا ایک فضل اور اعزاز ہے اور جنت کی طرف ایک دروازہ ہے۔ بیٹیوں کی پرورش ایک عظیم ذمہ داری ہے اور ان کی پرورش میں اخراجات بھی زیادہ ہیں، یہی وہ ہے کہ ان کی صحیح طریقے سے پرورش کرنے پربیٹوں سے زیادہ اجر ہے۔

ایک مرتبہ مومنوں کا ایک لیڈر لوگوں سے ہم کلام تھاتبھی کمرے میں اس کی ایک چھوٹی سی بیٹی داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دیا اس مجلس میں ایک اعرابی بھی حاضر تھا اور اس نے جب یہ  دیکھا تو اس نے بہت برے انداز میں بیٹیوں کا ذکر کیا۔ وہاں ایک عقل مند آدمی بھی موجود تھا جو یہ سب کچھ دیکھ رہا تھااس نے کہا: " ائےمومنوں کے رہنما! اس کی بات نہ سنیں۔ اللہ کی قسم یہ لڑکیاں ہی ہیں جو خاندان میں بیمار لوگوں کی دیکھ بھال کرنے کے لئے بیدار رہتی ہیں، بزرگوں کے ساتھ رحم کا معاملہ کرتی ہیں اور مشکلات کے ایام میں مردوں کا ساتھ دیتی ہیں۔"

ایک شخص کے گھر ایک بچی کی پیدائش ہوئی تو اس تو اس نے غضبناک ہو کر ایک طویل وقت کے لئے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی اور چند مہینوں کے بعد اس نے اپنی بیوی کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنی (جس کا مطلب ہے): "... شاید وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو [قرآن 2:216]

کتنی لڑکیاں اپنے والدین کے لیے اپنے بھائیوں سے کہیں زیادہ مہربان اور فائدہ مند ہیں؟ کتنی بار ایسا ہوا ہے کہ لڑکے اپنے والدین کے لیےرنج و ملال کا ذریعہ بنیں ہیں اس حد تک کہ انہوں نے خواہش کی کہ وہ پیدا نہیں ہوا تھا؟

ہم اب اس موضوع کو کیوں چھیڑ رہے ہیں؟ یہ سب ' حقوق نسواں ' کا دفاع کے بہانے مسلمانوں پر ان شیطانی حملوں کی وجہ سے ہے جو کہ حقیقت میں خواتین کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی ایک بری کوشش ہے تاکہ وہ اپنے باپ اور شوہر کے تئیں سرکش بن جائیں اور اس کا مقصد انہیں اس بات پر ابھارنا بھی ہےکہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ دیں اور اپنی 'آزادی' کا مطالبہ کریں۔ یہ برائی اور بداخلاقی کی طرف لے جانے والا ایک راستہ ہے جو کہ آہستہ آہستہ خواتین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور پھر انہیں ممانعتوں کے جال میں پھنسا دیتا ہے۔ لڑکیوں کے اس کا شکار ہونے کی ایک وجہ یہ ہےکہ وہ بیٹیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ آسانی کے ساتھ ان (مرد و عورت) منافق ادیبوں اور کالم نگاروں کا شکار ہو جاتی ہیں جو کرپشن کو غالب ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

لڑکیوں کے لئے یہ ایک اعزاز ہی کافی ہے کہ انبیاء کی بیٹیاں تھیں اور ہمارے پیارے رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی زیادہ تر اولاد بیٹیاں ہی تھیں، یعنی: زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ماخذ:  http://www.islamweb.net/emainpage/index.php?id=140381&page=articles

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/islam-web/daughters-in-islam/d/66238

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/islam-web,-tr-new-age-islam/daughters-in-islam-اسلام-میں-بیٹیوں-کا-مقام/d/66376

 

Loading..

Loading..