New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 04:50 AM

Urdu Section ( 5 Apr 2015, NewAgeIslam.Com)

A close look at Mouta موطا پر ایک نظر

 

اقبال شیخ

امام مالک بن انس ( 93ھ – 197ھ) نے جب پہلی مرتبہ موطا مدون کی تو اس میں دس ہزار احادیث درج تھیں۔ بعد میں اس پر نظر ثانی کی تو  آٹھ ہزار سات سو اسی احادیث مشکوک نظر آئیں۔ انھیں نکال لیا اور صرف ایک ہزار سات سو بیس رہنے دیں۔ انھوں نے انتخاب احادیث کے لئے کون سا معیار استعمال کیا ہم نہیں جانتے۔ اس میں قطعاً کوئی کلام نہیں کہ امام مالک کا کردار تقدس اور خلوص تمام شبہات سے وا تر تھا۔ اور یہ کہ انھوں نے صحیح کو غلط سے جدا کرنے کے لئے تمام تر انسانی ذرائع استعمال کئے ہوں گے۔ لیکن پونے دو سو برس کا عرصہ گزر چکا تھا۔ احادیث بڑھتے بڑھتے اور بگڑتے بگڑتے کیا سے کیا بن چکی تھیں۔ اس ذخیرے میں سے قول رسول کو تلاش کرنا اگر ناممکن نہیں تو دشوار ضرور تھا۔ ہم موطا کی تعظیم ضرور کرتے ہیں۔ لیکن وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کے مندرجات واقعی اقوال رسول ہیں ۔ اور خصوصاً ان حالات میں کہ اس کی بعض روایات محل نظر ہیں۔ مثلاً موطا [i]میں درج ہے کہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد نماز پڑھنے سے پہلے وضو ضروری ہے۔ اور اذ قمتم الی الصلوٰۃ کی تفسیر اے من المضاجع یعنی النوم دی ہوئی ہے۔ لیکن صحیح بخاری (کتاب الوضو) میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت  سے یہ حدیث دی ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلعم رات کو جاگے صلوۃ تہجد ادا کی۔

ثم اضطحع و نام حتی نفخ ثم اتاہ المنادی فقام معہ الی الصلوٰۃ فصلی و لم یتوضا

پھر بستر پر دراز ہو گئے۔ پھر سو گئے یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی۔ اس کے بعد نماز کے لئے بلانے والا آیا۔ آپ اٹھ کر اس کے ساتھ چل دئیے اور وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی۔

چند اور اقوال ملاحظہ ہوں۔

من قبل امراتہ اوجھا بیدہ لوضو

جو شخص اپنی عورت کو چوم لے یا صرف چھو لے۔ اس پر وضو لازم ہو جاتا ہے۔ (موطا ص33)

لیکن اسی صفحے پر یہ حدیث بھی موجود ہے۔

من عائشۃ ان النبی قبل بعض نسائہ ثم خرج الی الصلوٰۃ ولم یتوضا

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلعم نے اپنی ازواج میں سے کسی کے بوسے لئے اور پھر وضو کئے بغیر نماز ادا فرما لی۔

صحیح مسلم (جلد اول مع فتح الملہم طبع مجتبائی ص 485) میں درج ہے۔

 عن ابی بن کعب قال سئالت رسول اللہ صلعم عن الرجل یصیب من المراۃ ثم یکسل قال یضل ما اصابہ من المراۃ تم یتوضاء و یصلی

ابی بن کعب کہتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلعم سے  ایک ایسے شخص کے متعلق فتویٰ پوچھا کہ جو اپنی بیوی کے پاس بغرض مجامعت گیا۔ کام شروع کیا۔ لیکن انزال سے پہلے ہی اسکی شہوت ختم ہو گئی۔ فرمایا وہ تمام نجاستوں کو دھو لے اور پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے۔

مزید تشریح کے لئے اسی صفحہ کی اگلی حدیث دیکھئے۔

ان رسول اللہ صلعم قال فی الرجل یاتی اھلہ ثم لاینزل قال نیصل ذکرہ، و یتوضا

ایک ایسے شخص کے متعلق  جس نے اپنی بیوی سے مجامعت کی لیکن انزال سے پہلے ہی علیحدہ ہو گیا۔ رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ وہ شخص آلہ تناسل دھو کر وضو کر لے۔      (مسلم ص 485)

اسی مسئلہ پر اب موطا کا فیصلہ سنیے

عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن بن عوف  قال سئالت عائشہ مایوجب الضل قالت ۔۔۔ اذا جاوز الختان الختان فقد و جب الغسل (ملخص موطا ص 16)

ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کہتے  ہیں کہ حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کس صورت  میں غسل واجب ہو جاتا ہے ۔۔۔ فرمایا جب آلہ تناسلؔ کا سر [ii]عورت کی شرمگاہ کے ابتدائی حصہ میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔

 سب سے پہلے تو یہ دیکھئے کہ اس زمانہ میں سینکڑوں صحابہ مدینہ میں موجود تھے۔ اور عبدالرحمن بن عوف خود بھی فقیہہ صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ اس موضوع پر احادیث بھی لوگوں کو یاد ہوں گی۔ با ایں ہمہ ابو سلمہ نے یہ کمال کیا کہ ایک نہایت نازک  سامسئلہ حضور علیہ السلام کی سب سے کم عمر زوجہ مطہرہ سے جا پوچھا۔ کیا مدینہ بھر میں اس چھوٹی سی بات کو بتانے والا کوئی مرد موجود نہیں تھا؟ کیا کوئی غیر مرد کسی معزز خاتون سے اس قسم کی بات دریافت کرنے کی جرات کر سکتا ہے ؟ اور اگر بالفرض تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ابو سلمہ یہ غلطی کر بیٹھے تھے تو حضرت عائشہ کو چاہیے تھا کہ ان کو اس جسارت پہ ڈانٹیں، کہ تم کو حرم نبویؐ سے ایسا سوال کرنے کی جسارت کیسے ہوئی؟ یا خاموشی اختیار فرما لیتیں۔ اور اگر خوامخواہ کوئی جواب دینا ہی تھا تو کنایہ و استعارہ سے کام لیتیں۔ یہ "آلہ تناسل کا شرمگاہ میں داخل ہونا" ایسے الفاظ ہیں جو ایک خاتون اپنے شوہر کے سامنے بھی منہ سے نہیں نکال سکتی چہ جائیکہ غیر مردوں کے سامنے۔

چونکہ یہ حدیث ہمارے مشاہدے ، عام تجربہ، عورت کی مسلمہ کیفیات نفسی اور حضرت عائشہؓ کے بلند مقام سے متصادم ہو رہی ہے نیز صحیح مسلم کی دو احادیث اس کی تردید کر رہی ہیں۔ اس لئے ہم اس نتیجہ پر پہنچنے کے لئے مجبور ہیں کہ اس قول کو حضرت عائشہ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ میری اس رائے پر حدیث پرست علماء چیخ اٹھیں گے کہ تو کون ہوتا ہے امام مالک کی حدیث کی تردید کرنے والا۔ ایاز قدر خود بشناس، اس حدیث کے فلاں فلاں راوی ہیں۔ جن کے متعلق ابن ذہبی، ابن معین اور خدا جانے کس کس نے لکھا ہے کہ نہایت معتبر اور نیک لوگ تھے۔ اور تم جیسا جاہل کہتا ہے کہ حدیث غلط ہے۔ میں ان علماء کی خدمت میں قبل از وقت عرض کر دوں کہ عصر حاضر کا انسان یہ نہیں دیکھتا کہ کہنے والا کون ہے ۔ بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ کہا کیا ہے؟ راوی راوی کا شور مچائے جانا اور یہ نہ دیکھنا کہ روایت نے حقیقت کو کتنا صدمہ پہنچایا ۔ نبی اور حرم نبوی کی منزلت کو کتنا دھکا لگایا۔ پیروان اسلام کے دل میں کتنے شبہات پیدا کیئے۔ اور دشمنان اسلام کو اسلام پہ ہنسنے کے کتنے مواقع بہم پہنچائے ہیں۔ ایک مُلا کا کام ہی ہو سکتا ہے۔ مُلا کہتا ہے کہ میری حدیث کا ہر ہر لفظ محفوظ رہے۔ اسلام رہے یا نہ رہے۔ حضور کی منزلت زیادہ ہو یا کم۔ لوگ اسلام پہ ہنسیں یا روئیں ، میری بلا سے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم حدیث کے نیچے دبے ہوئے قرآن کو نکالیں اور اہل عالم کے سامنے ایک مرتبہ پھر اعلان کریں۔

ذالک الکتب لا ریب فیہ (سورۃ بقرۃ)

(کہ یہ کتاب تمام شبہات سے وراء الورا ہے)

 لیلۃ القدر کی تلاش مسلمانوں کے ہر طبقے میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ رمضان کے آخری ہفتے میں ایک رات "لیلۃ القدر" کہلاتی ہے۔ اس کی خاص علامات یہ ہیں کہ زمین و آسمان بقعہ نور بن جاتے ہیں۔ کائنات کی ہر چیز سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔ اور اس وقت جو بھی دعا مانگی جائے قبول ہوتی ہے۔ اس رات کی تلاش میں ہمارا ایک طبقہ ہفتہ بھر جاگتا  رہتا ہے۔ اور ان میں سے بعض اپنی کامیابی کے فرضی افسانے بھی گھڑ لیا کرتے ہیں۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ قرآن حکیم میں لیلۃ القدر کا ذکر آیا ہے۔

انا انزلنا ہ فی فی لیلۃ القدر

ہم نے یہ قرآن لیلۃ القدر یعنی فیصلہ کن رات میں اتارا۔

لیکن وہ لیلۃ القدر حدیث والی لیلۃ القدر سے الگ چیز ہے۔ اس کا مفہوم ہے کہ ایک فیصلہ کُن رات یعنی حق و باطل کے جھگڑے کو چکا دینے والی اور قیاصر و اکاسرہ کی تقدیر کا فیصلہ کر دینے والی رات۔ اور اس میں قطعاً کوئی مبالغہ نہیں تھا۔ جس مقدس رات میں یہ انقلابی کتاب ساری دنیا کو دی جا رہی تھی وہ رات یقیناً تمام نسل انسانی کے لئے فیصلہ کن رات تھی۔ اسی رات کو یہ  اٹل فیصلہ لکھا جا رہا تھا کہ جو لوگ ہماری طرف بڑھیں گے ہم انھیں گلے لگا لیں گے اور جو ہم سے بھاگیں گے ہم انھیں مٹا دیں گے۔ لیکن حدیث کی لیلۃ القدر کا تصور بالکل جدا ہے اور اسلامی دنیا اسی لیلۃ القدر کو ڈھونڈتی رہتی ہے۔

تحرو الیلۃ القدر فی العشر الاواخر من رمضان

رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی تلاش کرو۔(موطا ص 98)

 التمسو ھا فی التاسعۃ والسا بعۃ و الخامسۃ الباقیۃ من الرمضان

لیلۃ القدر کو  اکیسویں ، تئیسویں اور پچیسویں رات میں ڈھونڈو۔ (موطا ص 98)

پہلے زمانہ میں زاہد قسم کے مسلمان ان راتوں کو جاگتے تھے ، رات بھر عبادت کرتے تھے اور صبح اٹھ کر دوسروں کو بتاتے کہ یوں رات کو جلووں کا طوفان اٹھا تھا اور یوں درخت سجدے میں گر گئے تھے۔ نہ جاگنے والے یہی سمجھتے ہوں گے کہ مولانا سچ کہہ رہے ہیں۔ لیکن ہم صرف اتنا دریافت  کرنے کی جرات کرتے ہیں کہ اگر واقعی لیلۃ القدر ہر رمضان میں آتی ہے تو وہ گذشتہ تین سو برس میں شب بھر جاگنے والے چوکیداروں ، ریلوے ملازموں، ملاحوں، ہوا بازوں اور مورچے میں ڈٹے ہوئے فوجیوں کو کیوں نظر نہ آئی؟

قرآن میں ردو بدل قرآن شریف میں مذکور ہے

نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون

ہم نے یہ قرآن شریف نازل کیا اور ہم اس کی حفاظت ضرور کریں گے۔

اور ہمارا ایمان ہے  کہ الٰہی  پیغام کا ہر ہر لفظ محفوظ ہے۔ لیکن بعض اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ چند آیات پہلے قرآن میں موجود تھیں لیکن بعد میں نکال دی گئیں۔ مثلاً

 لولا ان یقول الناس زاد عمر فی کتاب اللہ لکبتتھا الشیخ و الشیخۃ انا زنیا فاد جموھا فااناً قراءناھا

اگر لوگ مجھے یہ نہ کہتے کہ عمر بن خطاب نے قرآن میں اضافہ کر دیا ہے تو میں یہ آیت اس میں اضافہ کر دیتا "الشیخ و الشیخۃ ۔۔۔۔۔" کہ جب کوئی بوڑھا اور بڑھیا زنا کے مرتکب ہوں تو انھیں سنگسار کر دو۔ ہم یہ آیت قرآن میں پڑھتے تھے۔ (موطا ص 348)

اگر پڑھتے رہے تو نکالی کس نے؟ اور اگر نکال دی گئی تھی تو اللہ کا وعدہ حفاظت قرآن کیا ہوا؟

اس موضوع پر ایک قول بخاری میں بھی موجود ہے۔

عن عمر بن خطاب قال ان اللہ بعث محمد صلی اللہ علیہ وسلم و انزل علیہ الکتاب فکان فیما انزل آیۃ الرجم

عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ اللہ نے محمد ؐ کو رسول بنا کر بھیجا اور اس پر ایک کتاب نازل کی۔ جس میں آیت رجم بھی موجود تھی۔

یعنی امام بخاری نے بھی تسلیم کر لیا کہ قرآن میں آیت رجم موجود تھی۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ گئی کہاں؟

یہ خرابی محض اس لئے پیدا ہوئی کہ امام بخاری اور دیگر ائمہ حدیث کی نظر ہمیشہ راویوں پر رہی اور یہ نہ دیکھا کہ مضمون روایت کیا تھا اور اس سے کس قدر مفاسد پیدا ہونے کا احتمال تھا۔ آج اعدائے اسلام یہی احادیث ہمیں پیش کر کے کہتے ہیں کہ تمھارے قرآن میں رد و بدل ہوتا رہا ہے۔ اور اس کی آیات انسانی دست برد سے محفوظ نہیں رہ سکیں۔ کوئی بتاؤ کہ ہم اس الزام کا کیا جواب دیں؟

تحریف کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو۔

حضرت علقمہؓ فرماتے ہیں کہ میں شام میں حضرت ابو الدرداؓ سے ملا تو آپ نے پوچھا کہ حضرت عبداللہ سورہ و اللیل کی تلاوت کیسے کرتے ہیں۔ تو میں نے کہا ، اس طرح

و اللیل اذا یغشی والذکرونی الا نتی

آپ نے فرمایا:  خدا کی قسم میں نے رسول اللہ صلعم سے یہ آیات بالکل اسی طرح سنی ہیں اور میں اسی طرح پڑھوں گا۔ (صحیح مسلم جلد 2 ص 366)

تو گویا تین جلیل القدر  صحابہ نے شہادت دے دی کہ یہ آیات مذکورہ بالا صورت میں نازل ہوئی تھی۔ لیکن آج قرآن شریف میں یوں درج ہے۔

واللیل اذا یغشی و النھار اذا تجلی و ماخلق الذکر و الانثی

اب کس کو صحیح تسلیم کریں ؟ ان صحابہ کو ؟ صحیح مسلم کو؟ ہا قرآن شریف کو؟ لازماً یہی کہنا پڑے گا  کہ ہمارا قرآن صحیح ہے اور یہ حدیث مشتبہ۔

 اسی قسم کی ایک اور حدیث دیکھئے۔ واقعہ یوں ہے کہ حضورؐ نے اصحاب صفہ میں سے چند حضرات کو اہل نجد کے پاس تبلیغ اسلام کے لئے بھیجا۔ جب وہ بئیر معونہ (مکہ اور عسفان کے درمیان ایک مقام) میں پہنچے تو عامر بن طفیل ۔ رعل۔ ذکوان وغیرہ نے انھیں قتل کر ڈالا۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ ان لوگوں کے متعلق مندرجہ ذیل آیت اتری تھی جو بعد میں منسوخ ہو گئی۔

بلغو اتومنا انا قد لقینا ربنا فرضیٰ عنا و رضینا عنہ

ہماری قوم کو کہہ  دو  کہ ہم اللہ سے اس  حال میں ملے کہ وہ ہم سے خوش تھا اور ہم اس سے۔

(بخاری جلد 2 صفحہ 93 ۔ مسلم جلد 2 صفحہ 237)

اگر یہ آیت واقعی نازل ہوئی تھی تو مسلمان کی حوصلہ افزائی کے لئے اس کا باقی رہنا لازم تھا۔ قرآن شریف  میں غزوات اور اس قسم کے دیگر واقعات کے متعلق بیسیوں آیات نازل ہوئیں جو بعینہ محفوظ ہیں۔ اور ان میں سے ایک حرف بھی منسوخ نہیں ہوا۔ اس آیت میں کیا بات تھی کہ پہلے اتری پھر منسوخ  کر دی گئی۔ کیا ہم تنسیخ کی وجہ یہ سمجھیں کہ شہدا اس تعریف کے قابل نہ تھے۔ یا اس آیت کو قرآن میں باقی رکھنے سے آئندہ نسلوں پر کوئی برا اثر پڑتا تھا؟ چونکہ تنسیخ کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی اور چونکہ اس قسم کی احادیث سے قرآن کی قطعیت پر چوٹ پڑتی ہے اس لئے ہمارے لئے محفوظ ترین راستہ یہی ہے کہ ہم اس قسم کی تمام احادیث کو ناقابل اعتماد قرار دیں۔

 چلتے چلتے اسی نوعیت کی ایک اور  حدیث بھی سنتے جائیے۔

عن البراء بن عاذب قال تزلت  ھذہ الایتہ حافظو علی الصلوت و الصلواۃ العصر فقرآنا ھاما شاءاللہ ثم  نسخھا اللہ، نزلت  حافظوا علی الصلوت و الصلواۃ الوسطی

(صحیح مسلم  جلد 2  ص  205)

"براء بن حازب سے روایت  ہے کہ  پہلے  یہ آیت  اتری حافظوا علی الصلوات و الصلواۃ العصر ہم کچھ عرصے تک اسے پڑھتے رہے ، پھر منسوخ ہو گئی اور اس  کی جگہ یہ نازل ہوئی حافظوا ۔ ۔ ۔ ۔ "

تقریباً  تمام مفسرین اور بڑے بڑے صحابہ   و الصلواۃ الوسطی کے  معنی  الصلواۃ العصر لکھتے آئے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اللہ کو صلواۃ العصر منسوخ کر کے صلواۃ الوسطیٰ نازل کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی۔

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ دشمنان اسلام ایک خاص سازش کے تحت اس قسم کی احادیث معتبر راویوں کے نام سے وضع کرتے رہے تاکہ مسلمان کا ایمان قرآن کے متعلق متزلزل ہو جائے اور چونکہ ائمہ حدیث صرف اسناد کو دیکھتے تھے اس لئے مسلم جیسے محقق بھی اس چال کے شکار ہو گئے۔ اور انھوں نے اس روایت کو اپنے مجموعے میں شامل کر لیا۔

 یہ حقیقت تسلیم کی جا چکی ہے کہ گوشت میں غذائیت بہت زیادہ ہے۔ اس سے ایک انسان نہ صرف تندرست، پھرتیلا اور چاق و چوبند رہتا ہے بلکہ گوشت خور ، سبزی خوروں کی نسبت زیادہ فراخ حوصلہ کریم الطبع اور بہادر ہوا کرتے ہیں۔ ۔ قرآن نے سواری اور گوشت خوری کو اللہ کا ایک انعام قرار دیا ہے۔

وذللنھا لھم فمنھا رلو بھم و منھا یاکلون و لھم فیھا منافع و مشارب افلا تشکرون

ہم نے بہائم کو انسان کا مطیع بنا دیا وہ ان پر سوار ہوتا ہے اور انھیں کھاتا بھی ہے ان مویشیوں (کے بالوں ہڈیوں گوبر اور چمڑے وغیرہ) میں انسان کے لئے بےشمار فوائد ہیں۔ کیا انسان ہماری اس نعمت کا شکریہ ادا  نہیں کرے گا۔

سرور عالم صلعم اور ان  کے صحابہ گوشت کو ایک نعمت سمجھ کر کھایا کرتے تھے۔ لیکن موطا کی ایک حدیث ہمیں گوشت جیسی نعمت سے اجتناب کا حکم دیتی ہے۔

عن عمر ابن الخطاب قال ایاکم و اللحم فان لہ ضراوۃ کضراوۃ الخمر

عمر بن خطاب  فرماتے ہیں کہ گوشت خوری سے بچو۔ اس لئے کہ شراب کی طرح اس کی بھی عادت پڑ جاتی ہے۔

ایک اچھی چیز کی عادت بھی پڑ جائے تو ہرج کیا اور چیز بھی ویسی کہ صحت کے لئے مفید۔ جرات و ہمت جیسے جذبات کی خالق ، شرعاً حلال اور اللہ کے ہاں ایک نعمت جیسی چیز سے اجتناب کا مطلب؟ کیا ہم یہ فرض کرنے میں حق بجانب نہیں کہ مسلمانوں کو صحت اور چستی اور جذبہ جاں فروشی سے محروم کرنے کے لئے کسی دشمن اسلام نے یہ قول وضع کیا تھا۔ حضرت امام مالک اس جعلساز کا کھوج نہ لگا سکے اور اسے موطا میں شامل کر لیا۔

[i]طبع مجتبائی 1345 ھ ص  31۔

[ii] اصل الفاظ  ہیں اذا جاوز الختان الختان۔ مرد کی صورت میں ختان کے معنی ہوں گے آلہ تناسل کا ختنہ شدہ حصہ۔ اور عورت کی صورت میں شرمگاہ کا حصہ۔

URL: http://newageislam.com/urdu-section/iqbal-sheikh/a-close-look-at-mouta--موطا-پر-ایک-نظر/d/102304

 

Loading..

Loading..