New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 05:05 PM

Urdu Section ( 27 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Literature in the Present Utilitarianist Era موجودہ افادیت پسند عہد میں ادب

 

انتظار حسین

26 اکتوبر، 2014

آخر ادب کیوں پڑھایا جائے ؟ جب ایک محفل میں  مجھے اس سوال کا جواب دینا پڑا تھا تو مجھے سوال کرنے والا بہت فضول آدمی نظر آیا ۔ اب میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا تو یہ طے کیا کہ فضول آدمی  میں ہوں ۔ سوال کرنے والا شخص تو اپنے زمانے کی ترجمانی کررہا تھا ۔ بات  یہ ہے کہ وہ زمانہ تو گزر گیا جب ایسے  کاموں کو بھی اہم اور بامعنی  سمجھا جاتا تھا جن کی بظاہر کوئی افادیت نظر نہیں  آتی تھی  مگر اب ہم ایک افادیت پسند عہد میں سانس لے رہے ہیں ۔ کاموں اور چیزوں کی اہمیت اور معنویت کاتعین  ہم اس طور کرتے ہیں کہ ان کی ہمارے لئے افادیت کیا ہے۔ اس عمل میں ہم پر یہ کھلا کہ ہماری غزل تو نری گل و بلبل کی شاعری ہے اور یہ گل و بلبل کی شاعری کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے مگر مرغے کی وہی  ایک نانگ ، نت نئی  اصلاحی اور انقلابی تحریکوں کے باوجود ہماری شاعری گل و بلبل سے گلو خلاصی نہیں پا سکی ۔ سو یہ سوال اٹھنا ہی تھا کہ شاعری پڑھنے کا فائدہ کیا ہے اور ادب کیوں پڑھا جائے۔

میں نے بہت سوچا کہ آخر اس سوا ل کا جواب دیا جائے ۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ آخر میں نے یہ طے کیا کہ اس سوال کا کوئی قطعی اورعمومی جواب نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے ادب نہ تو سب لوگ پڑھتے ہیں او رنہ سب لوگوں کو ادب پڑھنا چاہئے ۔ اسی طرح نہ تو سب لوگ عشق کرتے ہیں  نہ ہی سب لوگوں کو عشق کرناچاہئے ۔ پھر میں نے سوچا کہ آدمی کواپنے ہی گناہوں کے لئے جوابدہ ہوناچاہئے  ، دوسروں کے گناہوں  کے لئے نہیں ، میرے لئے اپنے گناہوں کا بوجھ بہت ہے۔ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ  میں کیوں اٹھاؤں ۔ تو میں اپنی حد تک تو اس سوال کا جواب دے سکتا ہوں اور میرا جواب یہ ہے کہ چونکہ میں اب اس عمر میں نیم کے پیڑ پر چڑھ کر توتے کے بچے پکڑنے کی ہمت نہیں رکھتا  ا س لئے نظیر اور اکبر الہ آبادی کو پڑھتا ہوں اور افسانے لکھتا ہوں۔

میرے اس جواب سے ایک غلط فہمی پیدا ہونے کااندیشہ ہے۔ وہ یہ کہ ادب کو زندگی کے تجربوں کابدل سمجھتاہوں ۔ ہر گز نہیں ۔ نیم کے اونچے پیڑ پر چڑھ کر شکھل سے توتے کے بچے نکالنا او رانہیں لے کر سلامتی کےساتھ نیچے اتارنا اپنی جگہ پر جوکھم ہے۔ کوئی شاعری اس جوکھم کا بدل نہیں بن سکتی ۔ نظیر  کی نظمیں  نیم کی کسی شکھل میں توتے کے بچے دریافت کرنے او ر پکڑنے کا بدل نہیں ہیں  او رمیر کی غزلیں عشق کا بدل نہیں ہیں ۔ پھر بچپن او ر لڑکپن کے تجربے تو یوں  بھی بدل ہوتے ہیں ۔ اس عمر میں  غلیل  سے چڑیا مارنا،  اونچے ٹیم کی شکھل  سے توتے کے بچے چرانا  ، عشق کرنا، یہ سب تجربے ایسے ہیں جن کی مہک ہی الگ ہے۔ عمر  کے اگلے مرحلوں  کاکوئی تجربہ اس مہک کو نہیں پا سکتا ۔ افسوس ہے ان نوخیز وں پر کہ جس  عمر میں انہیں نیم کے پیڑ پر چڑھ کر توتے کےبچے پکڑنے چاہئیں  اس عمر میں وہ چائے خانوں  میں آجاتے ہیں، ادب و انقلاب پر بحث کرتے ہیں یا نئی شاعری  کرتے ہیں۔ شیخ علی  حزیں نے اپنی خود نوشت میں لکھ رکھا ہے کہ میری زندگی میں صرف دو راتیں ایسی گزری ہیں جب میں نے مطالعہ نہیں کیا تھا ۔ ایک وہ رات جب میری والدہ کا انتقال ہوا تھا  اور  ایک وہ  رات جب میرا نکاح ہوا تھا ۔ چھوٹامنہ بڑی بات، میری کیا مجال  ہے کہ شیخ علی حزیں جیسے بزرگ پر اُنگلی اٹھاؤں مگر ان کا یہ بیان پڑھتے ہوئے مجھے حیرت ضرور ہوئی تھی کہ شیخ علی حزیں  بنارس میں رہتے ہوئے بھی دو راتوں کے سوا اپنی کسی رات کو کتابوں کی دستبرد سےنہ بچا  سکے ۔ حالانکہ بنارس  کے آسمان پر چاند بھی نکلتا  ہے  اور ساون کی گھٹائیں بھی بہت گھر آتی ہیں۔ صاحب اگر میر نے بھی اپنی سب راتیں شیخ علی حزیں  کی طرح مطالعہ کی نذر کردی  ہوتیں تو اسے چاند میں پری کی شکل کہاں سے نظر آتی؟

بس اسی قسم کے باتیں سوچ کر میں شاعری اور افسانے کی سب کتابیں اٹھا کر طاق میں رکھ دیتا ہوں اور افسانہ لکھنا موقوف کر دیتا ہوں ۔ مگر پھر ہوتا کیا ہے کہ کتابیں  تو طاق میں رکھی گئیں ، مگر میں پھر ٹی وی دیکھتا ہوں ، ریڈ یو پروگرام سنتا ہوں ، فلمیں  دیکھتا ہوں ، اخبار پڑھتا ہوں اور اخبار میں چھپی ہوئی ہر اچھی برُی تحری مع  اپنے کالم  کے اَناپ شناپ پڑھتا  چلا جاتا ہوں ، پھر سیاسی گروہوں کے مفت میں بھیجے ہوئے پمفلٹ  پڑھنے لگتا ہوں اور اچانک مجھے وسوسہ ہوتاہے کہ میری جون بدل رہی ہے ۔ اب خوانخواستہ چالیس  قدم دور میں کسی  ملّاؤں  کی  جماعت میں بھرتی ہو جاؤں گا یا سو  شلسٹو ں  کی پارٹی کا ورکر بن جاؤں گا۔ اس عالم  ہر اس میں ،  میں طاق میں رکھی  ہوئی کتابیں  اُتار تاہوں ، فسانہ ٔ عجائب کھول کر دیکھتا ہوں کہ شہزادہ جان عالم  آدمی سے بندر کیسے بنا اور بندر کے قالب سے آدمی کےقالب  میں کیسے واپس آیا ۔ پھر کلیات  میر کہیں بیچ میں کھول لی ۔ کوئی شعر یہاں سے پڑھا ۔ کوئی وہاں سے پڑھا ۔ کسی غزل کا مطلع دیکھا اور ایسا آسودہ ہوا کہ باقی غزل کو دیکھا ہی نہیں ۔ کسی غزل کے مقطع پر نظر ڈالی اور اوپر کے شعر وں کو دیکھا ہی نہیں ۔ آپ کہیں گے کہ ادب پڑھنے کا یہ کیا طریقہ  ہے تو صاحب بات یہ ہے کہ میں نہ پروفیسر ہوں نہ محقق نہ نقاد ۔ اس لئے ادب کابالاستعیاب مطالعہ کرنے سے قاصر ہوں ۔ میں تو ادب ایسے پڑھتا ہوں  جیسے بچپن میں ساون کی صبحوں میں گھر سے نکل بھاگتا اور جنگل جاکر بیر بہوٹیاں پکڑتا ، بھیگی گھاس پر چل رہا ہوں ، کوئی بیر بہوٹی  نظر آگئی تو جھک کر چٹکی میں پکڑ لیا نہیں  تو آگے نکل گیا ، بس اسی طور میر کو پڑھتا ہوں ، پھر کلیات نظیر ، کہیں بیچ میں سے کھول لی ۔ گلہری  کے بچہ والی نظم پڑھی، ہنس نامہ، بنجارہ نامہ ، آدمی نامہ، رفتہ رفتہ مجھے اپنا آپا یا د آتا ہے ، میں اطمینان کا سانس لیتاہوں کہ میں اپنے آپے میں ہوں ۔

نظیر کی شاعری  تو میرا حافظہ ہے ۔ جب میں اپنے آپ کو بھولنے لگتا ہوں تو اپنے اس حافظے کی مدد سے ان تجربوں کو جن سے میرا خمیر اُٹھا ہے ، یاد کر تاہوں  ۔ اپنے تصور میں از سر نو زندہ کرتا ہوں، ان کی شناخت کرتا ہوں ۔ جس حد تک میں یہ عمل کرسکتا ہوں اس حد تک میں اپنے آپ کو پا لیتا ہوں ۔ خیر ، یہ میرا اور نظیر کا نجی تعلق  ہے مگر  ہم دونوں ہی اپنے آپ میں مکمل نہیں بلکہ ایک بڑی ذات کا حصہ ہیں ، سو میں میر و غالب کو پڑھتا ہوں ، انیس کو پڑھتا ہوں ، کبیر اور میرا بائی کو پرھتا ہوں ، الف لیلہ پڑھتاہوں ، جتنی فارسی  آتی ہے اُتنی  حد تک فارسی کےشعر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں اور حسرت  کرتا ہوں کہ کاش مجھے فارسی ویسی  ہی آتی جیسی میرےپہلو ں کو آتی تھی  کہ میں حافظ  اور سعد ی کو بھی بے تکلفی سے پڑھ سکتا ۔ اصل میں ان راستوں سے میں ان تجربوں تک پہنچتا ہوں جنہوں نے مل جل کر اس تہذیب  کو جنم دیا تھا جس سےمیر ی ذات پھوٹی ہے۔ میں حسرت کرتاہوں کہ  کاش میں اپنے سارے  ادب کو اس طرح پڑھ سکتا کہ اس اجتماعی  ذات کو اپنے دائرہ ادراک میں لے آتا جس کا یہ میری چھوٹی سی ذات  ایک حصہ ہے ۔ آپ کہیں گے کہ ادب  پڑھنے کے  اگر یہ معنی ہیں تو پھر تو پورے معاشرے کیلئے  ادب پڑھنے کے ایک معنی ہیں ۔ بے شک ہیں۔ لیکن اگر ایک معاشرہ اپنے تجربوں ہی سے خائف  ہو اور اپنی ذات سے دو چار ہونے ہی سے کتراتا ہو تو پھر اس کیلئے ادب کیا معنی رکھتا ہے ۔ ایسا معاشرہ ادب کے معنی سمجھنے کے لئے تر دو نہیں  کرتا ۔  اپنے مزعومات کے تحت ادب کے معنی بتانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ادب کے معنی  بتاتے وہ لوگ ہیں جن کے لئے ادب معنی نہیں رکھتا۔ بتا تے ان ستم زدوں کو ہیں جو عمر عزیز اسی  میں صرف کرتے ہیں، انہیں بتا یا جاتا ہے کہ ادب کو کیسا  ہوناچاہئے ۔ ادب پیدا کرنے کے نسخے لکھے جاتےہیں ،تقاضے کئے جاتےہیں ، شرطیں  پیش کی جاتی ہیں ۔

آدمی جہا ں دیکھو، اب بے مقام ہے، جہاں دیکھو ایک بھیڑ ہے، بھیڑ کی ریل پیل میں قدریں ، روایتیں  اور معیار پامال ہورہے ہیں ۔ ذوق کازوال  ، کم نظری  کا عروج ابتدال کا چلن ، یہ نیا عہد ہے جس میں کم تجربے کا منطقہ سکڑتا جارہا ہے  اور اطلاعات و معلومات کا جنگل  پھیلتا جارہا ہے ۔ چیزوں  سے ناطہ  ٹوٹ رہا ہے ۔ زندگی ہمارے لئے  ابنہ تو تخیل کا عمل ہے نہ مشاہدہ  ہے بلکہ اخبار کی خبر ہے یا ریڈیوں  کی آواز ہے یا ٹی وی پر نظر آنےوالی تصویر  ہے ۔ ایسے زمانے میں ہر کسی سے شعری  ادب  کی قدر  کی توقع  کرنا اور بلا امتیاز پورے اجتماع کو ادب کے تجربے میں شرکت کی دعوت  دینا کہاں کی دانائی ہے۔ اس سے ادب  کو قبول عام کی سند مل جائے گی؟ ہر گز نہیں ۔ اس سے تو ادب کیلئے نئی مصیبتیں پیدا ہوں  اور ہوچکی ہیں ۔ بات یہ ہے کہ جو آدمی جیسا خود ہوتا ہے،  ویسا ہی ہر کسی کو دیکھناچاہتا ہے ۔ نئے زمانے کی بھیڑ نے چیزوں کو ناپنے  تو لنے کیلئے اپنے گز بنائے ہیں، اپنی ترازو تیار کی ہے ۔ ادب کوبھی وہ اپنے گزوں سے ناپے کی اور اپنی ترازو میں تولے گی۔

26 اکتوبر، 2014  بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/intezar-hussain/literature-in-the-present-utilitarianist-era--موجودہ-افادیت-پسند-عہد-میں-ادب/d/99751

 

Loading..

Loading..