New Age Islam
Wed Jun 24 2026, 01:13 PM

Urdu Section ( 20 Feb 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Indiscipline And Mob Mentality Among Muslims مسلمانوں میں ڈسپلن کا فقدان اور ہجومی نفسیات

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

20فروری،2025

مسلمانوں میں درس اخلاقیات اور مذہبی تعلیم کا ایک اعلی اور ترقی یافتہ نظام ہے۔ مسلم بچوں کو گھروں یا مدرسوں میں ابتدائی دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہر جمعہ کو نماز سے پہلے امام مقامی زبان میں تقریر کرتے ہیں ۔اس تقریر میں مذہبی تعلیمات مسلمانوں کے ذہن نشیں کرائی جاتی ہیں۔ وقفے وقفے سے محلوں میں مذہبی جلسے اور میلاد منعقد کئے جاتے ہیں۔ان جلسوں میں بھی واعظین مسلمانوں کو قرآن اور حدیث کے احکام۔اور تعلیمات سے آگاہ کرتے ہیں۔آج کل دینی تعلیمات کی اشاعت کا ایک بڑا ذریعہ سوشل۔میڈیا بن چکا ہے جس میں واٹس ایپ ، فیسبک اور یوٹیوب شامل ہیں۔سوشلمیڈیا پر ہزاروں دینی اسکالر اور علماء اسلامی تعلیمات کی تبلیغ واشاعت کرتے ہیں۔ غرض جتنی وعظ و نصیحت مسلمانوں کو کی جاتی ہے اتنی کسی دوسرے قومکو نہیں کی جاتی کیونکہ دوسری قوموں میں دینی تعلیم اور وعظ و نصیحت کا اتنا وسیع نظام موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود جتنی بے راہ روی ، ڈسپلن کا قدان ، تنی سماجی اور اخلاقی برائیاں مسلمانوں میں ہیں اتنی دوسری قوموں میں نہیں۔ پاکستان اور مشرقی ایشیا کے اسلامی ممالک بدعنوانی میںنسرفہرست ہیں۔ڈسپلن کے معاملے میں بھی مسلم معاشرہ بہت پیچھے ہے۔ اس کے علاوہ ہجومی نفسیات مسلمانوں میں زیادہ غالب ہے اور اس کا مظاہرہ ہمیں پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان کے مسلم۔معاشروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔چند دن قبل شب برات کے موقعے پر مسلمانوں کی ہجومی نفسیات اور ڈسپلن کے فقدان کا مظاہرہ دوسرے شہروں کے علاوہ کلکتہ اور دہلی میں نایاں طور پردیکھنے کو ملا۔رات کے وقت کلکتہ کے نیو ٹاؤن علاقے میں اسلامی لباس اور ٹوپی و دستار میں ملبوس مسلم۔نوجوانوں کے ساتھ عمررسیدہ مسلمان بھی سڑکوں پر موٹر سائیکل اور ٹوٹو رکشہ کے ساتھ خطرناک اسٹنٹ کرتے نظرآئے اور مسلمانوں کی بھیڑ مسجدوں میں عبادت کرنے کے بجائے سڑکوں پر ہڑدنگ کرتی نظرآئی۔

دوسری طرف نئی دہلی میں بھی ہرسال شب برات کے موقع پر نوجوانوں کو سڑکوں پر تیزرفتاری سے بائیک چلاتے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اس بار ہجومی نفسیات کا ایک اور مظاہرہ دیکھنے کو ملا جس نے ملک میں مسلمانوں کے تئیں اس اسٹیریو ٹائپ کو تقویت پہنچائی کہ مسلمانوں میں ڈسپلن کا فقدان ہے اور یہ لوگ ہجومی نفسیات میں مبتلا ہوتے ہیں۔ شب برات کو جامع مسجد میٹرو اسٹیشن پر مسلم نوجوانوں کی بھیڑ نے عدم ضبط اور وانون شکنی کا مظاہرہ کیا۔ بہت سارے مسلم نوجوان پلیٹ فارم۔کے گیٹ سے نکلنے کے بجائےگیٹ پھلانگ کر باہر نکل گئے کیونکہ وہ گیٹ کوپن کے ذریعے گیٹ کے کھلنے کا انتظار نہیں کرسکتے تھے۔ان کا یہ عم غیر قانونی بھی تھا اور اسٹیشن پر انتشار اور سراسیمگی کا بھی باعث تھا۔ ان کی اس حرکت سے دوسرےمسافروں کو پریشانی ہوئی اور ان کے ذہن میں مسلمانوں کے متعلق غلط تاثر بھی پیدا ہوا جبکہ اس ہجوم۔میں بزرگ بھی تھے لیکن ان نوجوانوں پر کسی کا زور نہیں چلا۔

ایسا اکثر دیکھا گیا ہے کہ مسلمان جب ہجوم کی شکل میں ہوتے ہیں تو ان میں ہجومی نفسیات کرفرما ہوتی ہے۔ اس وقت وہ کسی ڈسپلن اور قانون کو ماننے کے موڈ میں نہیں ہوتے۔ چونکہ ان کے اندر اس نفسیات کی پرورش مسلم۔محلوں میں بچپن سےی جاتی ہے اس لئے جب وہ محلے سے باہر ہجوم۔کی شکل۔میں نکلتے ہیں تو وہی نفسیات ان پر باہر بھی حاوی ہوتی ہے اور وہ بھیڑ میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

ہر سال شب برات کے آنے سے ہفتے بھر پہلے سے ہی مولانا اور عالمدین حضرات شب برات کی فضیلت پر مضامین کا انبار لگادیتے ہیں جن میں اس رات کو عبادت کی فضیلت بیان کی گئی ہوتی ہے لیکن کسی مضمون میں شب برات کو سڑکوں پر ہڑدنگ کرنے ، موٹر سائیکل پر اسٹنٹ کرنے یا آوارہ گردی کرنے کے خلاف اسلامی نقطہء نظر سےوعظ و نصیحت نہیں ہوتی اور نہ۔ہی قرآن وحدیث کے حوالے سے اس طرز عمل کو فتنہ وفسادسے تعبیر دیتے ہوئے مسلمانوں خصوصاًمسلم نوجوانوں کو اس رات سڑکوں پرہنگامہ کرنے اور پڑوسیوں کو ذہنی اذیت دینے سے باز رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شب برات میں مسلم۔نوجوانوں کا یہ طرز عمل ایک قومی مسئلہ بنتا جارہا ہےاور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو یہ کسی بڑےفساد کا باعث بن سکتا ہے۔

---------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/indiscipline-mentality-among-muslims/d/134672

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..