New Age Islam
Sun Sep 19 2021, 07:53 PM

Urdu Section ( 24 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Indian Muslims Must Reject the ‘Islamic Emirate’ In Afghanistan: IMSD ہندوستانی مسلمانوں کو افغانستان میں ’امارت اسلامیہ‘ کو مسترد کرنا چاہیے: آئی ایم ایس ڈی

 پریس ریلیز: انڈین مسلمز فار سیکولر ڈیموکریسی

23 اگست ، 2021

انڈین مسلمز فار سیکولر ڈیموکریسی دنیا میں کسی جگہ بھی   اسلامی ریاست کے نظریے کو مسترد کرتا ہے

 اہم نکات:

1.       آئی ایم ایس ڈی "امارت اسلامیہ" کی مشروعیت پر سوال اٹھاتا ہے جو طالبان افغانستان کے جنگ زدہ اور جنگ سے بدحال لوگوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

2.       ہم طالبان کے اقتدار پر قبضے سے ہندوستانی مسلمانوں کے ایک طبقے میں جوش و خروش سے بہت پریشان ہیں۔

--

 انڈین مسلمز فار سیکولر ڈیموکریسی (آئی ایم ایس ڈی) دنیا میں کسی بھی خطہ میں اسلامی ریاست قائم ہو تو وہ  اسلامی ریاست کے تصور کو مسترد کرتا ہے۔ لہٰذا یہ "امارت اسلامیہ" کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے جو طالبان افغانستان کے ان جنگ زدہ اور جنگ سے بدحال لوگوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں جو امن کے لیے تڑپ رہے ہیں۔

ہم ہندوستانی مسلمانوں کے ایک طبقے میں طالبان کے اقتدار پر قبضہ سے پائے جانے والے جوش و خروش سے بہت پریشان ہیں بشمول مذہبی رہنما مثلا آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عہدیداران مولانا عمرین محفوظ رحمانی اور مولانا سجاد نعمانی، اور جماعت اسلامی ہند کے۔

 بھارت جیسے ملک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ایک سیکولر ریاست کی حمایت میں کھڑا ہونا اور جہاں وہ اکثریت میں ہیں وہاں شریعت کی حکمرانی کے نفاذ کو سراہنا کھلی ہوئی موقع پرستی اور منافقت کے سوا کچھ نہیں۔ اس طرح کا دوہرا معیار سنگھ پریوار کے ہندو راشٹر کے ایجنڈے کو قانونی حیثیت دیتا ہے۔

 آئی ایم ایس ڈی دنیا بھر کے ان اسلامی علماء، مذہبی رہنماؤں اور مسلم دانشوروں کے خیالات کا احترام کرتا ہے جن کا یہ ماننا ہے کہ "اسلامی ریاست" کا تصور ہی اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق اسلام کی بنیادی قدریں سیکولر جمہوری ریاست اور مذہبی تکثیریت کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہیں ہیں۔

 آئی ایم ایس ڈی ان لاکھوں افغان خواتین اور مردوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے جو ایک لمبے عرصے سے قابض امریکی اور نیٹو افواج کی کھڑی کی گئی انتہائی بدعنوان کٹھ پتلی حکومتوں اور رجعت پسند طالبان کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی گزشتہ ادوار حکومت میں افغانستان کے لوگوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو پامال کیا ہے۔

 قابضین کی بے دخلی اور ان کی کٹھ پتلیوں کے خاتمے کا خیرمقدم کرنا ایک چیز ہے اور ان لوگوں کے اقتدار میں واپسی کا جشن منانا جو اپنے وحشیانہ اسلامی طرز عمل سے پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

طالبان کے کچھ رہنما عام معافی، پریس کی آزادی اور خواتین کے حقوق کا شور مچا رہے ہیں جب کہ دوسرے رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغانستان میں "شرعی قانون ہو گا جمہوریت نہیں"۔ تاہم، گھبراہٹ میں مبتلا خواتین، مردوں اور بچوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر اور دنیا بھر میں نشر ہونے والی خبریں اور صحافیوں اور مخالفین کے تعاقب کی خبروں کی ایک اپنی کہانی ہے۔

 ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ طالبان پر فیصلہ کن دباؤ ڈالنے کے لیے '24/7 افغانستان واچ 'کا آغاز کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان کے سابقہ ظالمانہ دور حکومت کے برعکس کہ جس نے افغانستان کو زمین پر ایک حقیقی جہنم میں تبدیل کر دیا تھا، بالخصوص عورتوں کے لیے، وہ اپنے اس دور حکومت میں خواتین، مردوں اور بچوں کی آزادی اور حقوق کاحترام کریں۔

 دریں اثنا آئی ایم ایس ڈی جمہوری ممالک اور بالخصوص امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سرحدیں ان افغانوں کے لیے کھول دیں جو اپنے ملک سے بھاگنے پر مجبور ہیں۔ یہ بی جے پی کی زیرقیادت حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ 1951 کے اقوام متحدہ کے ریفیوجی کنونشن اور اس کے 1967 کے پروٹوکول پر فوری دستخط کرے اور اس کنونشن کے مطابق عمل کرے۔ بھارت کو چاہیئے کہ وہ تمام افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول دے ، چاہے وہ کسی بھی مذہب کے ہوں۔

 بیان پر دستخط کرنے والے۔

 اس میں آئی ایم ایس ڈی کے وہ ممبران اور دیگر افراد شامل ہیں جو اس بیان کی حمایت کرتے ہیں:

1.       عارفہ جوہری ، صحافی ، سماجی کارکن ، ممبئی۔

2.       عبدالصمد شیخ ، ایڈیٹر ، ایم وی پی نیوز ، لاتور۔

3.       عبدالوارشی، کاروباری شخصیت ، نڈیاڈ۔

4.       (ڈاکٹر) آدتیہ مکھرجی ، تعلیمی شخصیت، دہلی۔

5.       آفاق آزاد ، موسیقار ، ممبئی۔

6.       (پروفیسر) علی احمد فاطمی ، صدر جوش اور فراق ادبی سوسائٹی ، الہ آباد۔

7.       اجیت کمار جھا ، صحافی ، دہلی۔

8.       اکبر شیخ ، کسان ، سماجی کارکن ، سولاپور

9.       (جسٹس) امر سرن (ریٹائرڈ) ، الہ آباد ہائی کورٹ۔

10.   آنند پٹوردھن ، دستاویزی فلم ساز، ممبئی۔

11.   انیل سنگھ ، سماجی کارکن ، دہلی

12.    انجل لیلیے، ٹریول کنسلٹنٹ ، دہلی۔

13.   انوراگ چترویدی ، صحافی ، ممبئی۔

14.   عامر رضوی ، ڈیزائنر ، ممبئی۔

15.   امجد شیخ ، سماجی کارکن ، پونے

16.   امجد شیخ ، سماجی کارکن ، سولاپور

17.   انجم ملانی ، کسان ، اندا پور۔

18.    انجم راجابلی ، فلم رائٹر ، ممبئی۔

19.   انشو مالویہ ، شاعر ، سماجی کارکن ، الہ آبد۔

20.    انور راجن ، سماجی کارکن ، پونے۔

21.   انور خان ، سماجی کارکن ، وسائی۔

22.   عارف کپاڈیہ ، کاروباری ، سماجی کارکن ، ممبرا

23.   ارشد عالم ، ماہر تعلیمات ، تبصرہ نگار ، دہلی۔

24.   ایشلے این پی ، اسسٹنٹ پروفیسر ، دہلی۔

25.   آصف شیخ ، کاروباری، سولاپور۔

26.    عسکری زیدی ، مواصلات ، دہلی۔

27.    ڈاکٹر عزیز پاشا ، اکیڈمک ، دہلی۔

28.   باران اجلال ، کلاکار۔

29.   بابا اعظمی ، فلم ساز، ممبئی۔

30.    بابا صاحب پٹھان ، سانگلی۔

31.    بدر سعید ، وکیل ، سیاسی کارکن ، چنئی۔

32.   بلال خان ، سماجی کارکن ، ممبئی۔

33.   بوبی نقوی ، سینئر صحافی۔

34.   چندر شیکھر تبریوال ، امریکہ۔

35.   دانش جاوید ، مصنف-پروڈیوسر ، ممبئی۔

36.   (پروفیسر) دیپک ملک ، وارانسی۔

37.   فیاض انعامدار ، سماجی کارکن ، پونے۔

38.   فراز انصاری ، فلم ساز۔

39.   فرحانہ پروین ، بھوپال۔

40.    فرحت سلیم۔

41.    فرمان نقوی ، سینئر وکیل ، الہ آباد ہائی کورٹ۔

42.   فاطمہ انصاری ، ٹیچر ، گورکھپور۔

43.   فاطمہ شیخ ، اورنگ آباد۔

44.   فیروز عباس خان ، ڈائریکٹر ، ڈرامہ نگار ، ممبئی۔

45.   فیروز خان پٹھان ، ایڈووکیٹ ، لاتور۔

46.   غلام محی الدین۔

47.    حافظ علی ، سماجی کارکن ، جلگاؤں۔

48.   حسن پاشا ، مصنف ، الہ آباد۔

49.   عمران پونیکر ، کاروبار ، سانگلی۔

50.    امتیاز حسین ، مصنف و اداکار ، ممبئی۔

51.    اقبال پینٹر ، سماجی کارکن ، بیڈ

52.   (جسٹس) ارشاد حسین (ریٹائرڈ) ، اتراکھنڈ ہائی کورٹ۔

53.    اسماعیل شیخ ، کاروباری، کولہاپور۔

54.   جامی رضوانی ، ماہر تعلیم ، فرانس۔

55.   جاوید اختر ، مصنف ، شاعر ، گیت نگار ، سابق ایم پی ، ممبئی۔

56.   جاوید آنند ، کنوینر ، آئی ایم ایس ڈی۔

57.   جاوید انصاری ، صحافی ، دہلی۔

58.   جاوید جعفری ، اداکار۔

59.   جاوید صدیقی ، مصنف ، ممبئی۔

60.   (کیپٹن) جنید احمد ، میرین کنسلٹنٹ۔

61.    ڈاکٹر کنہیا لال شرما ، راجستھان یونیورسٹی۔

62.   قاسم سیٹ ، کاروبار ، انسان دوست ، چنئی۔

63.    خدیجہ فاروقی ، سماجی کارکن ، دہلی۔

64.    خلیل دیشمکھ ، سیاسی کارکن ، جلگاؤں۔

65.   (ڈاکٹر) لئیق احمد (ریٹائرڈ ایچ او ڈی ، تاریخ) ، ایونگ کرسچن کالج الہ آباد۔

66.   لارا جسانی ، ایڈووکیٹ ، بمبئی ہائی کورٹ

67.   (ڈاکٹر) مدھو راؤ ، تعلیمی ، امریکہ۔

68.   منصور سردار ، سماجی کارکن ، بھیونڈی۔

69.    معصومہ رانالوی ، سماجی کارکن ، دہلی۔

70.   (پروفیسر) محمد اسلم ، الہ آباد یونیورسٹی (ریٹائرڈ) ، الہ آباد۔

71.    مہدی بخت ، پرنسپل ، بال بھارتی اسکول ، وارانسی۔

72.   محمد علی منتظر ، پورنیہ ، بہار۔

73.    محمد عمران ، دہلی/نیویارک۔

74.   محسن خان ، سماجی کارکن ، لاتور۔

75.   75۔ (ڈاکٹر) مردولا مکھرجی ، تعلیمی ، دہلی۔

76.   منیر باگوان ، سماجی کارکن ، سنگولا۔

77.   منیر ملا ، سماجی کارکن ، سانگلی۔

78.   منیزہ خان ، سماجی کارکن ، وارانسی۔

79.   ناہیدہ آسیہ ، طالبہ ، ستارہ۔

80.   ناجد حسین ، سائنسدان ، امریکہ۔

81.   نجمہ جمعدار ، استاد ، سولاپور۔

82.   نجمہ ملانی ، سولاپور۔

83.   نندیتا سہگل ، آئی اے ایس (مستعفی)

84.   نصیر الدین شاہ ، اداکار ، ممبئی۔

85.   نسرین ٹھیکیدار ، سماجی کارکن ، ممبئی۔

86.   نواز حیدر۔

87.   اسامہ منظر ، ڈیجیٹل امپاورمنٹ فاؤنڈیشن ، دہلی۔

88.   پونم متریجا ، دہلی۔

89.   (پروفیسر) پرشوتم اگروال ، مصنف ، دہلی۔

90.   (پروفیسر) قمر جہاں ، لکھنؤ۔

91.   قیصر سلطانہ ، گھر بنانے والا ، الہ آباد۔

92.   قطب جہاں ، سماجی کارکن ، ممبئی۔

93.   رحمان عباس ، مصنف ، میرا روڈ ، تھانے۔

94.   راجتی سلما (روککیہ) ، تامل مصنف ، تمل ناڈو۔

95.   (ڈاکٹر) رام پونیانی ، مصنف ، سماجی کارکن ، ممبئی۔

96.   (ڈاکٹر) رمیش دکشت ، تعلیمی ، لکھنؤ۔

97.   رنجیت ، صحافی ، دہلی۔

98.   راشد خان ، ایڈووکیٹ ، سپریم کورٹ

99.   رتنا پاٹھک شاہ ، اداکار ، ممبئی۔

100. رضیہ پٹیل ، تعلیمی ، سماجی کارکن ، پونے۔

101. روی کرن جین ، صدر ، پی یو سی ایل ، سینئر وکیل ، الہ آباد ہائی کورٹ

102.  ریتمبھرا شاستری ، صحافی ، دہلی۔

103. ریاض چودھری ، کاروبار ، سولاپور۔

104. رضوان ملک ، سماجی کارکن ، مراد آباد۔

105. روچیتا تالکدار ، سماجی شعبہ ، کولکتہ۔

106. صباح خان ، سماجی کارکن ، ممبئی۔

107. صادق شیخ ، سولاپور۔

108. صدیق باشا ، سیاسی کارکن ، میرا روڈ ، تھانے۔

109. ساحر خان ، طالب علم ، اچلرنگی۔

110. (ڈاکٹر) سیف محمود ، ایڈووکیٹ ، سپریم کورٹ ، دہلی۔

111. ساجد شیخ ، کسان ، سولاپور۔

112. سلیم مجاور ، سولاپور۔

113. ثمینہ نقوی ، ماہر تعلیم ، سماجی کارکن ، الہ آباد۔

114. سمیر ملانی ، کسان ، پنڈھر پور۔

115. سمیر پٹیل ، سیاسی کارکن ، لاتور۔

116. سنجے لودھا ، جے پور۔

117. ستیش مشرا ، صحافی ، دہلی۔

118. ستیہ جیت چوہان ، سماجی کارکن ، ناسک۔

119. سید بھائی ، سماجی کارکن ، پونے۔

120. سیلون جوسی ، کلکتہ یونیورسٹی ، کولکوٹا۔

121. شبانہ اعظمی ، اداکار ، سابق رکن پارلیمنٹ ، ممبئی۔

122. شبانہ مشرکی ، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ، ممبئی۔

123. شاداب رشید ، ناشر ، نیا ورق۔

124. شاہجن شیخ ، کارکن ، سولاپور۔

125. شاہنواز عالم ، معاون۔ پروفیسر ، سلطان پور

126. شکھا سین ، ایڈیٹر۔

127. سکندر پٹھان ، بارامتی۔

128. سراج عائشہ سیانی ، پروڈیوسر ڈائریکٹر ، ممبئی۔

129. ایس ایم ایم اوسجا ، فلمی تاریخ دان۔

130. ایس آر ملک ، ریٹائرڈ آئی آر ایس۔

131. سہیل اکبر ، ایسوسی ایٹ پروفیسر ، جامعہ ملیہ یونیورسٹی ، دہلی۔

132. سلطان شاہین ، ایڈیٹر پبلشر ، نیو ایج اسلام ، دہلی۔

133. (پروفیسر) طاہر محمود ، لیگل لائومینری ، دہلی۔

134. تائزون خراکی والا ، کاروبار ، فلاتھروپسٹ ، ممبئی۔

135. تنویر اختر ، آئی پی ٹی اے ، بہار۔

136. تیستا سیٹلواد ، سماجی کارکن-صحافی ، ممبئی۔

137. توفیق اکبر ، طالب علم ، ہاپور۔

138. اتپالا شکلا ، سماجی کارکن ، الہ آباد۔

139. (پروفیسر) وسنتھی رمن ، دہلی۔

140. وی وی پی شرما ، صحافی ، دہلی۔

141. یوسف سعید ، دستاویزی فلم بنانے والا ، دہلی۔

142. ظفر بخت ، ماہر تعلیم ، سماجی کارکن ، الہ آباد۔

143. ظاہر مانیری ، سماجی کارکن ، سولاپور

144. زمان حبیب ، مصنف-پروڈیوسر ، ممبئی۔

145. زویا اختر ، فلم ڈائریکٹر ، مصنف ، ممبئی۔

 مزید تفصیلات کے لیے رابطہ کریں:

 جاوید آنند:

javedanand@gmail.com

 

Related Article:

Indian Muslims Must Reject the ‘Islamic Emirate’ In Afghanistan: IMSD

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/indian-muslim-islamic-emirate-afghanistan/d/125270

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..