New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:53 AM

Urdu Section ( 31 Dec 2015, NewAgeIslam.Com)

Religious Extremism or Extremely Religious مذہبی انتہا پسندی یا انتہائی مذہبی؛ ایک نسوانی نقطہ نظر

 

 

 

 انس یونس، نیو ایج اسلام

30 دسمبر 2015

شہ سرخی: انتہاپرست امن پسندوں نے دنیا میں رحمت و مہربانی کا پرتشدد کارنامہ انجام دیا۔ مشہور مزاح کار نے اس کا جواب اس انداز میں دیا کہ، ‘‘آپ آسانی کے ساتھ کے کسی بھی پر امن مذہب کو داغدار کر سکتے ہیں، اس کے انتہا پسند ارکان انتہائی پرامن ہوں گے"۔ یقینا اس سے اس کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ ، اعتدال پسند یا انتہاپسند امن جیسی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ تمام مذہبی اصولوں کی طرح امن کو بھی کسی لاحقہ کی ضرورت نہیں ہے۔ امن جیسا ہے ویسا ہی ہے۔ اور چونکہ مذہب کا تعلق انسانی زندگی کے روحانی پہلو سے ہے اسی لیے اسے انتہا پسندی سے بھی پاک ہونا چاہئے۔ ایک مرتبہ اگر مذہب میں انتہاء پسندی داخل ہو گئی تو وہ مذہب اب کوئی مذہب نہیں رہ جاتا بلکہ وہ ایک سیکولر نظریہ بن جاتا ہے۔ یہ جس لمحے اپنے ماحول سے باہر قدم نکالتا ہے اسی لمحے اپنی نوعیت بدل دیتا ہے۔ لیکن صرف مذہب کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں ہی خدا کے سچے بندوں کو انتہا پسند بننے سے نہیں روکتی ہیں۔ بلکہ حقیقت حال اس سلسلے میں مزید تفصیل طلب ہے۔

انتہا پسندی بڑی حد تک ایک سیکولر رجحان ہے کیونکہ انتہا پسندی در اصل قدرتی قوانین کے نفاظ کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ طبیعیاتی قوانین میں تبدیلی نہیں ہوتی ہے، اور ان کے نفاظ میں لوگوں کو سخت اور دو ٹوک ہونا ضروری ہے۔ ایک ریاضی مساوات کا صرف ایک ہی جواب ہوتا ہے، اور اندازہ خواہ جتنے بھی قریب کا کیوں نہ ہو وہ کافی نہیں ہوتا۔ کوئی بھی انسان معتدل مردہ، یا کوئی عورت معتدل حاملہ نہیں ہو سکتی۔ اور جب کوئی درخت جنگل میں گرتا ہے تو ایک آواز ہوتی ہے اگر چہ اسے سننے والا وہاں کوئی نہ ہو۔

سیکولر دنیا میں ہمارے تصورات غیر افادیت بخش ہیں۔ سیکولر دنیا منطق، قوانین اور کل موجودات تصحیح اور تنظیم کے زبردست التزام کا نتیجہ ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اس عمل سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی واقعی صرف مستحکم قوانین کے نفاذ کی ایک ناکام کوشش ہے۔ اور یہ ایک ایسی کوشش ہے جو بیکار اور مہلک دونوں ہے۔

کسی انسان کے شعور کو اپنی گرفت میں کرنے کے لیے ریاضی جیسی منطق کو لاگو کرنے کا تعلق مقصدیت کی نرینہ ضرورت سے ہے۔ مرد جسمانی دائرے میں سب سے بہترین خدمات انجام دیتے ہیں، اس لیے کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں وہ مادی دنیا کے ماہرین کی طرح مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ مرد ابہام اور پوشیدگی کی دنیا میں اچھی طرح سے انصاف نہیں کر سکتے ہیں، اور اسی لیے وہ مذہب کو سائنس کی سیاہ اور سفید فارمولوں میں مقید کرنے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

جب ہم سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارا مذہب تضادات سے بھرا ہوا ہے ہم اکثر دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتے ہیں، اور اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ مذہب میں متعدد متضاد عناصر کو اس لیے گنجائش دی گئی ہے تاکہ ایک متفکر اور حساس دماغ کی سالمیت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس سے دین و مذہب میں لچک اور گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ہمیں امن قائم کرنے اور جنگ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ اپنے دوسرے گال کو پیش کریں لیکن انہیں دوسرے ہاتھ سے تمانچہ ماریں۔ عفت و عصمت کے روادار رہیں اور جنسی تعلق بھی بنائیں۔ رحمت و محبت کا انتخاب کریں اور انصاف سے کام لیں۔ اس بات کو تسلیم کریں کہ اچھے اعمال ہمیں بچائیں گے لیکن بالآخر اس بات کو تسلیم کریں کہ ہماری نجات ہمارے اپنے اعمال پر نہیں بلکہ اس خدا کی مرضی پر موقوف ہیں۔ ہمیں آزاد مرضی اور مقدر پر یقین کرنا ضروری ہے۔ ان فقہی تناقضات اور تضادات کے ذریعے لوگوں کو اپنے طریقے سے گفت و شنید کرنے کےلیے اپنی ایک الگ اور آزادانہ طور پر غور و فکر کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگا۔ اسے مختلف تصورات کو ضم کرنے اور انہیں مختلف سیاق و سباق نافذ کرنے کے قابل ہونا ضروری ہے۔ مذہبی ہونے کا مطلب ذہین اور روشن خیال ہونا ہے۔ مذہبی ہونے کا مطلب کشادہ ذہن ہونا نہیں ہے اس لیے کہ یہ اسی قدر خطرناک ہو سکتا ہے جس قدر ایک تنگ ذہن ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ایک حساس، فعال اور ذہین انسان ہونا ضروری ہے۔ مذہبی ہونے کا مطلب زندہ دل ہونا ہے۔ جبکہ دوسری جانب انتہا پسندی کسی بھی قیمت پر سماجی نظام کے مفاد میں ایسے تمام جذباتی تحفظات سے خالی ہونا ہے۔

انتہا پسندی کی تمام مختلف توضیحات واضح طور پر خدا یا مذہب سے مستفاد نہیں ہیں بلکہ ان کا ماخذ یہ ثابت کرنے کے لئے ایک انسان کی اشد ضرورت ہے کہ وہ اس ایک بات کو کنٹرول کر سکتے ہیں جو انسانی شعور کےمتعینہ قوانین سے اختلاف رکھتے ہیں۔ انتہا پسند دنیاوی خوشی کی خواہش نہیں رکھتے بلکہ وہ پیشن گوئی کی قابلیت کی خواہش رکھتے ہیں۔ خواہ وہ نفسیاتی حالت ہو یا کوئی سیاسی معاملہ ہو بے چینی اور خوف ہر قسم کی انتہا پسندی کی جڑ ہے۔

سب سے افسوس ناک المیہ یہ ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کا سب سے بڑا تریاق در حقیقت خود مذہب میں ہی ہے۔ اور ہم نے ہٹلر جیسے سیکولر نظر یات کے حامل ایک انسان کو برا بھلا کہہ کر ایک زبردست غلطی کی ہے۔ بلکہ ہم اسی نظریہ کے حامل دوسرے لوگوں کو بھی ایک مسلم انتہا پسند قرار دیتے ہیں۔ مذہب کے ساتھ انتہا پسندی کو منسلک کر کے ہم صرف اس طاقت کو بے اثر کر سکتے ہیں جو انسان کو اس کے میلان سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اگرچہ، ہم اعتدال پسند انتہا پسندی میں اضافہ کے لئے ذمہ دار نہیں ہیں، لیکن ہم اپنے ذہن و دماغ میں اس ربط کو مضبوط کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ ہم ایک ایسے وقت میں مذہبی رسومات کی ادائیگی میں جمود و تعطل کا شکار رہے جب ہمیں محبت اور ہمدردی کو فوقیت دینی چاہیے تھی۔ ہم نے مذہب کے ایسے روحانی ماحول کو چھوڑ دیا ہے جس میں لامحدود امکانات مضمر ہیں۔ لیکن اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ ہم نے اعتدال پسندی کو سوشل لبرل ازم کے مساوی کرنے کی غلطی کی ہے۔

ایک اعتدال پسند وہ شخص نہیں ہے جس کے حق میں تمام معاملات ہوں۔ بلکہ ایک اعتدال پسند شخص وہ ہے جو ہمارے سماجی اور روحانی ارتقاء کے لئے تکثریت اور تخلیقی کشیدگی کو شرط اولین مانتا ہو۔ ایک اعتدال پسند شخص موجودہ حالات سے مطمئن نہیں رہتا، اس لیے کہ وہ خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے، اور شرکت کے ذریعہ سماجی سرمایہ یا حیثیت حاصل کرنے کے لیے خود کو مجبور محسوس نہیں کرتا۔ اعتدال پسند ہونے کا مطلب مذبذب ہونا نہیں ہے۔ اس کے برعکس اعتدال پسند ہونے کا مطلب اس بات کا پختہ یقین رکھنا ہےکہ ضمیر کی آزادی جبر یا کسی بھی قسم کے نفسیاتی خوف کی سطح پر منظم شکل میں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ جہاں اعتدال پسندی ناکام ہو چکی ہو اسے سرکاری طور پر ایک کیس بنانا قانونی اہلکاروں کے لیے مناسب نہیں ہے۔

لہٰذا، جب تک ہم معاملات میں اس حد تک نرمی نہیں پیدا کرتے کہ ہمارے پاس ایک شناخت ہو جو کہ ہمارے چند دینی بھایئوں کے جذباتی بلیک میل کے لئے دشوار گزار ہے، ہمیں پرسکون نہیں رہنا چاہئے بلکہ ہمیشہ جد و جہد کرنی چاہیے، ہمیشہ مذاکرات کرنا چاہیے اور ہمیشہ آگے بڑھنا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے اور خود کے ساتھ پرسکون نہیں بلکہ ہمیشہ امن کے ساتھ رہنا چاہیے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/inas-younis,-new-age-islam/religious-extremism-or-extremely-religious;-a-feminine-perspective/d/105799

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/inas-younis,-new-age-islam/religious-extremism-or-extremely-religious--مذہبی-انتہا-پسندی-یا-انتہائی-مذہبی؛-ایک-نسوانی-نقطہ-نظر/d/105818

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..