New Age Islam
Fri Apr 16 2021, 10:18 PM

Urdu Section ( 9 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Triple Talaq in One Sitting: A Correct Practice or Innovation? ایک وقت کی تین طلاقیں.... دین یا بدعت

 

عمران احمد

5 جولائی، 2013

اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہے جس کامعاشرتی نظام انتہائی  سادہ، پر کشش او ر عمدہ ہے ۔ جو ہر قسم  کی قانونی پیچیدگیوں سے پاک  اور مبرا ہے۔ جس کا تعارف اللہ تعالیٰ  نے ان الفاظ میں کرایا ہے۔

ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ  نے تمہارے لیے دین میں کوئی تنگی  نہیں رکھی ۔ ( الحج :87)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی یوں وضاحت  فرمائی ہے کہ :

اسلام سیدھا سادہ اور ایک طرفہ دین ہے۔

قارئین یہ وہ دین ہے جس میں زندگی کے ہر شعبہ  کی رہنمائی کا سامان رکھا  گیا ہے تاکہ  انسان دنیا و آخرت کی فلاح و نجات او رکامیابی اور کامرانی حاصل کرسکے اور اس کا معاشرتی نظام مضبوط بنیادوں  پر استوار  ہوسکے یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرہ کی بقا اور ترویج  کے لئے مرد  اور عورت  کو تخلیق  کیا اور ان کو از دو اجی بندھن میں پرونے کی ہدایت  فرمائی تاکہ انسان شرعی  نکاح  کےذریعے اپنی نسل کی ترویج کے لیے کوشاں  ہو۔ اس مقصد  کے حصول  او ر تکمیل  کے لیے  عورت کو نصف انسانیت قرار دے کر انسانی معاشرہ  میں اس کا وقار اور عظمت بلند کیا تاکہ کوئی  بھی اس کو حوس کی بھینٹ  نہ چڑھائے۔

عورت کے بغیر انسانی زندگی ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتی انسانی تاریخ اس بات کی گواہ  ہے کہ جب بھی معاشرہ  میں عورت کو بازئچہ اطفال بنایا گیا اور اس کی عفت و عصمت کی چادر کو چاک کیا گیا تو انسانی معاشرہ میں بگاڑ  اور بد امنی نے جنم لیا ۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے مقام نبوت پر فائز  ہوتے ہی عورت کی عزت و عصمت کی پاسبانی کرتے ہوئے اس کو اعلیٰ مقام دیا اور جاہلیت کی تمام رسومات کو روندتے ہوئے اس کے معاشرتی  کردار  اور مقام کی وضاحت فرمائی  او ر معاشرہ میں عورت کےمتعلق قائم نظریات اور توہمات کی بیخ  کنی کی تاکہ عورت اپنے مقام کو پا سکے۔

لیکن اندھی تقلید  میں گرفتار علماء  نے اپنے نظریات کے تحفظ کی خاطر قرآن و حدیث کے واضح  نفوص  میں تاویلات  کر کے شکوک  و شبہات کو پیدا کر کے عوام الناس کو الجھا کر اصل دین کے کوسوں  دور کردیا۔ انہی الجھنوں  میں ایک الجھن  طلاقِ  ثلاثہ  کےبارے میں شکوک و شبہات  ہیں ۔ اسی موضوع کو آگے لےکر چلتے ہوئے ایک پرانہ اسکینڈل قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ آج سے تقریباً 20 سال پہلے پاکستان ٹیلی ویژن  کے مشہور اداکار عثمان پیر زادہ  اور ان کی اہلیہ سمینہ پیر زادہ  کا ایک اسکینڈ ل سامنے آیا تھا ۔

ٹی وی کے یہ دونوں مشہور اداکار ایک ٹی وی ڈرامہ میں اپنی اداکاری  کے دوران میاں بیوی کا کردار نبھا رہے تھے  اس ڈرامہ میں عثمان پیر زادہ  نے اپنی بیوی کو طلاق دینی تھی  لہٰذا  اس نےڈرامہ میں پر فارم کرتے ہوئے اپنی بیوی کو طلاق بول دیں اب چونکہ بیوی کا کردار عثمان پیرزادہ کی حقیقی بیوی سمینہ  پیر زادہ نبھا رہی تھیں حنفی علماؤں نے فتویٰ لگا دیا کہ جناب ان کی حقیقی طلاق واقعے ہوگئی ہے اور تقریباً تمام حنفی علماؤں نے اس فتوے پر اتفاق بھی کیا۔

یہ دونوں اداکار جو حقیقی میاں بیوی تھے پریشان ہوگئے اور اس بات کو ماننے سے صاف انکار کردیا اور اپنی صفائی پیش کرنےلگے بقول سمینہ کہ ایسا قرآن حدیث سے کہیں ثابت نہیں ہے میں ایک پڑھی لکھی لڑ کی ہو اس فتوے کو کیسے مان لوں۔ لیکن حنفی علما اپنے فتوے پر بضد رہے اورکہنےلگے ہم امام کےمقلد ہیں۔ جب یہ بات کافی مشہور ہوگئی تو بات اہلحدیث  علماتک پہنچی ان دونوں  نے ان سے رابطہ  کیا اہلحدیث  علما  نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنے فتوے جاری کئے اور کہا کہ اب تک آپ  کی صرف ایک طلاق واقع ہوئی ہےلہٰذا آپ رجوع  کا حق رکھتے ہیں ۔ اور آپ کی ابھی دوطلاق باقی ہیں۔ اور اس طرح  یہ مشہور اداکار آج اپنی دو طلاق کے سہارے اپنی کامیاب اور خوشحال زندگی گزارہے ہیں۔

قارئین  یہ بات بتانے کامقصد یہ تھاکہ آج ہمارا موضوع طلاق  کے وہ ایشوز ہیں جن کے اوپر لوگ خود کو گمراہیوں  کے گھپ اندھیروں  میں داخل کر لیتے ہیں اپنی اچھی خاصی  زندگی  کو خود ساختہ عذاب میں مبتلا  کر ڈالتے ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ اللہ اور اس  کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی نہ فرمانی کرکے آخرت میں بھی عذاب الہٰی  کے مستحق بن بیٹھتے ہیں ۔ اس طرح  اپنی لا علمی اور نا سمجھی کی بنا پر دنیا و آخرت  دونوں  ہی تباہ کر ڈالتے ہیں ۔ ایسا  واقعہ  ہمارے ایک دوست کامران اور ان کی اہلیہ افشین کے ساتھ  بھی پیش آیا ۔ کامران نے اپنی اہلیہ افشین کو ڈیڑھ  سال قبل  ایک طلاق دی اور پھر  رجوع کرلیا۔

ڈیڑھ سال بعد گھریلوں  ناچاقی  میں مزید شدت آگئی تو کامران نے غصے کی حالت میں مزید طلاق کے دو الفاظ  ایک ساتھ منہ سےنکال دیئے افشین کے میکے  والے اس واقعے پر ایک حنفی  فتویٰ لے کر آگئے  کہ جناب ایک طلاق آپ نے پہلے دی تھی  اور دو ایک ساتھ  ابھی دیدیں  لہٰذا ٹوٹل تین طلاق ہوگئیں۔ کامران کاتعلق  جماعت اہلحدیث سے تھا اس کے مطابق طلاق نہیں ہوئی تھی۔ لیکن افشین کے میکے والوں نے اہلحدیث  کے فتوے کو ماننے سے  صاف انکار کردیا۔ اب تو کامران اور افشین سر پکڑ کر بیٹھ گئے جو بھی نا چاقیاں  تھیں سب محبت  میں بدل گئیں اور ایک دوسرے سے  الگ ہونے  کا سوچتے بھی تو روح کانپنے لگتی ۔

قارئین یہ وہ اختلافی  مسئلہ ہے جس پر تفصیل سےبات کی جاسکتی ہے اور با آسانی سمجھا جا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ  نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ اطاعت  کرو میری اور رسول کی تابعین  و تبع تابعین کی اور وقت کے حکمرانوں  کی اور اگر جھگڑ پڑو آپس  میں تولوٹ آؤ اللہ اور ا س کے رسول کی طرف۔

یعنی کے جب دین میں کسی مسئلے پر امت کا اختلاف ہوجائے تو اسے قرآن  و حدیث کی روشنی میں حل کرو ۔ یہی  سب سےبہتر  اور احسن  طریقہ ہے اور اللہ کی فرما برداری بھی ۔ اگر ہم ایسا نہیں  کریں گے تو یقیناً گھاٹے میں رہیں گے۔ گمراہی سے کبھی نہیں نکل پائیں گے ۔لہٰذا  ہر مسلمان کو اپنی اصلاح  قرآن  و حدیث کی روشنی میں کرنے کی ضرورت ہے۔ طلاق کے حوالے  سےقرآن میں اللہ تعالیٰ  نے صاف اور واضح ارشاد فرمایا ہے۔

ترجمہ: رجوع والی  طلاق دو مرتبہ ہیں، پھر یا تو اچھائی  کے ساتھ روکنا یا عمدگی کےساتھ چھوڑ دینا ۔ (القرآن آیت نمبر 228)

اس کی تفسیر قرآن میں  یوں ہے: یعنی دو طلاق جس میں خاوند کو عدت کے اندر رجوع کاحق حاصل ہے اور دو مرتبہ  ہے۔ پہلی مرتبہ  طلاق کے بعد بھی اور دوسری مرتبہ طلاق  کے بعد بھی رجوع کر سکتا ہے ۔ تیسری  مرتبہ طلاق دینے کے بعد رجوع کی اجازت نہیں ۔ زمانہ جا ہلیت میں یہ  حق و رجوع غیر محدود  تھا جس سے  عورتوں پر بڑا ظلم ہوتا تھا ۔ آدمی بار بار طلاق دے کر رجوع  کرلیتا تھا اس طرح اسے نہ بساتا تھا نہ آزاد کرتاتھا۔ اللہ تعالیٰ نےاس ظلم  کا راستہ بند کردیا او رمسلمان کو دوبار  رجوع کا حق دے کر پہلی یا دوسری مرتبہ سوچنے اور غور کرنے کی سہولت  سے بھی محروم نہیں کیا۔ ورنہ اگر پہلی مرتبہ کی طلاق میں ہی ہمیشہ کے لیے جدائی کا حکم دے  دیا جاتا تو اس سے پیدا ہونے والے معاشرتی مسائل کو پیچیدگیوں کا اندازہ  ہی نہیں کیا  جاسکتا ۔

اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ  نے قرآن میں ‘‘ طلقتانِ ’’ ( دو طلاقیں) نہیں فرمایا بلکہ ‘‘ الطلاق مرَتَانِ’’ ( طلاق دو مرتبہ)  فرمایا ہے۔ جس سے اس بات کی طرف واضح  اشارہ فرما دیا کہ بیک وقت دو یا تین  طلاقیں  دینا اور اسے نافذ کرنا حکم الہٰیہ  کے خلاف ہے۔ حکمت الہٰیہ اس بات کی متقاضی ہے کہ ایک مرتبہ  طلاق کے بعد چاہے وہ ایک وقت  میں ایک کہی گئی ہو یا  ایک سے زیادہ بار کہی گئی ہو اور اسی طرح دوسری  مرتبہ  بھی طلاقِ کے بعد چاہے وہ ایک وقت میں  ایک کہی گئی  ہو یا ایک سے زیادہ  بار کہی گئی کہو مرد کو  سوچنے سمجھنے اور جلد بازی یا غصے  میں کئے گئے کام کے ازالے کاموقع دیا جائے ۔ یہ حکمت ایک مجلس  میں تین طلاقوں  کو ایک رجعی قرار دینے میں ہی  باقی رہتی ہے نہ کہ تینوں  کو بیک  وقت نافذ  کرکے سوچنے اور غلطی  کاازالہ کرنے کی سہولت سے محروم کردینے کی صورت میں ۔

حقیقت  میں شریعت نے جس طلاق  کومغلظہ بائنہ قرار دیا ہے وہ تین مرتبہ تین وقفوں (Periods ) کے ساتھ دی جانے والی الگ  الگ طلاقیں  ہیں نہ کہ ایک وقت میں اور ایک ہی سانس  میں دی جانے والی تین طلاقیں ۔ اسلامی شریعت  نے ایک مجلس  کی تین طلاقوں کو سختی  کے ساتھ منع فرمایا ہے ۔ حدیث  کی کتاب سنن نسائی،  کتاب الطلاق 89/ جلد 2 میں ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ  وسلم کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ ایک شخص نے بیک وقت  تین طلاقیں  دے دی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اظہار ناراضگی فرمایا اور فرمایا کہ کیا کتاب اللہ کےساتھ کھیل  کیا جارہا ہے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔

احناف کے مشہور کتاب ہدایہ جلد 2/ 355 میں باب الطلاق السنتہ میں ایک مجلس  کی تین طلاقوں کو بدعت کہا گیا ہے اور اس طرح  طلاق دینے والے کو عاصی وگنہگار  بتایا گیا ہے۔ ایک مجلس میں ایک ہی لفظ میں تینوں  طلاقوں کو دے دینا یعنی  طہر  واحد  میں کلمہ  واحدہ کےساتھ تینوں طلاقیں دے دی جائیں ایسی تینوں  طلاقوں کے بعد شوہر  کو رجعت  کو پورا پورا حق ہے۔

امام تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ  نے یہ نہیں فرمایا کہ دو طلاقیں ہیں بلکہ  یہ فرمایا کہ  دو مرتبہ ہیں یعنی دو مرتبہ کر کے دو ہیں ۔ پش اگر کوئی  شخص  اپنی بیوی  سے کہتا ہے تجھے دو طلاقیں ہیں یا دس طلاقیں ہیں یا ہزار طلاقیں ہیں تو یہ طلاق ایک ہی مانی جائے گی،( فتوہ ابنِ تیمیہ  رحمۃ اللہ جلد 3/47 طبع قدیم  مصر)

حافظ ابن  القیم رحمۃ اللہ  فرماتے ہیں : لغت عربی اور دنیا  کی تمام زبانوں میں  مَرتَان سےمراد مَرَتَن  بعد مرتن ہے ( یعنی ایک  کے بعد دوسری دفعہ) نہ کہ صرف لفظی تکرار ، اس کی تائید  قرآن مجید اور حدیث شریف  او رکلام عرب سےہوتی ہے۔

علامہ ابو بکر حصاص حنفی  کاقول ہے کہ : الطلاق  مرتانِ کامطلب  دو طلاق  کو دو مرتبہ  میں واقع  کر نے کا حکم  شامل ہے تو جس شخص  نےدو طلاق ایک ہی دفعہ  میں ایک ہی وقت میں دی اس نے حکم الہٰی  کی مخالفت  کی۔

اب حدیث کی  طرف آتے ہیں ، صحیح احادیث  کی رو سے  ایک مجلس کی تین طلاقیں  خواہ ایک ہی لفظ  ہو  کہ تجھے تین طلاق یا تجھے طلاق تین بار کہا  جائے ایک ہی شمار ہوگی۔ ایسی تین طلاقوں  کے بعد شوہر کو عدت کے اندر  رجوع کا پوراپوراحق  ہے۔ اگر عدت کے اندر رجوع  کر لیا جائے تو نئے  نکاح کی ضرورت نہیں  اور اگر رجوع نہ کیا تو تجدید ِ  نکاح ضروری ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہے۔

حضرت ابن عباس  سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے عہد مبارک  میں اور حضرت ابوبکر کے زمانہ  میں اس کے بعد حضرت عمر فاروق  کے پہلے دو سالوں میں تین طلاقیں ایک ہی شمار کی جاتی تھیں ۔ (مسلم شریف جلد 1)

دوسری حدیث  شریف میں بھی واضح  بیان ہے۔

ابو الصبہاء نے عبداللہ بن عباس سے فرمایا کہ لاؤ  جو آپ کے پا س علمی مسائل ہوں۔ کیا تین طلاقیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اور ابوبکر  کے زمانے میں ایک ہی  نہ تھیں۔ ابن عباس نے فرمایا بے شک ایک ہی تھیں۔

ایک او ربالکل  واضح حدیث  ہے۔ حضرت ابن عباس  سے روایت ہے کہ رُکانہ بن عبد یزید مطلبی  نے اپنی بیوی  کو تین طلاقیں ایک ہی مجلس  میں دیں پھر بہت ہی غمگین  ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے دریافت فرمایا کہ کس طرح تم نے طلاق دی؟  انہوں نے عرض کیا کہ میں تو تین طلاق دے چکا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ایک ہی  مجلس  میں؟  کہا  ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر  وہ ایک ہی ہے اگر چاہوتو رجوع کر لو چنانچہ   انہو ں نے رجوع کر لیا ۔ ( بخاری و مسلم شریف)

ایک اور واضح  حدیث ہے کہ : حضرت  عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عہد نبوی میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں ( اکٹھی) دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ رجوع  کولو اس آدمی سےکہا کہ میں تین طلاق دےچکا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے معلوم ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ۔   یا یھُاالنبی اِذَا طلقتم النساء

آخر تک  پڑھ کر ارشاد فرمایا اپنی  بیوی سے رجوع  کرلو۔

اس کے علاوہ بخاری و مسلم کی ایک اور واضح حدیث  ہےکہ :

حضرت عبداللہ بن عمر نےاپنی بیوی کو ناپاکی ( حیض)  کی حالت میں تین طلاق دے دیں۔ حضرت  عمر فاروق  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فوراً  رجوع کاحکم فرمایا ۔ آگے تفصیل  میں ہے کہ جب حضرت  عبداللہ بن عمر سے پوچھا گیا کہ تم نے کتنی طلاقیں  دی تھیں  تو انہوں نے بتایا تین جو کہ ایک ہی ہے۔

ان احادیت سے روز روشن کی طرف ثابت ہوتاہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی واقع ہوتی ہیں اور اس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ثبت  ہے ۔ اس لیے ہماری مسلمان بھائیوں  سے گذارش ہےکہ وہ فقہاء  کی مہر  کو چھوڑ کر مہر ِ محمدی  کو اختیار کریں اور سکۂ فقہاء  کو چھوڑ کر سکہ، محمدی کو لازم پکڑیں ۔ کیونکہ وہی مسئلہ قابل قبول ہے جس پر مہر محمد  ی ہو۔قارئین اللہ تعالیٰ  ہم پر اپنا رحم کریں  اور ہمیں اپنے اصل دین خالص دین، دین اسلام  پر قائم و دائم  کھیں اور صرف جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور ان کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا  فرمائیں ( آمین) ورنہ لوگوں میں گمراہی  کا یہ عالم ہے کہ اگر  آج کے معاشرے  میں دیکھا  جائے تو تقریباً  نوے فیصد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک  وقت میں تین طلاقیں نہیں دیں گے تو طلاق ہی  واقع نہیں ہوگی اور یہ کہ نہ صرف عوام اس جہالت  میں  مبتلا  ہیں بلکہ کورٹوں  او رکچہریوں میں بیٹھے ہوئےایل ۔ ایل۔ بی  (L.L.B ) کی ڈگریاں  رکھنے  کے باوجود  جب کسی کاطلاق نامہ بناتے ہیں تو اس میں بھی تین طلاقوں کا ذکر  کیا جاتا ہے ۔

عوام کی اکثریت  احسن اور حسن طلاق کے طریقوں سے واقف ہی نہیں  وہ تو اکٹھی  تین طلاقیں دینا  ہی جانتے ہیں ۔ آخر ان عورتوں کا احساس کیوں نہیں کیا جاتا  جو بیس بیس سال شوہر  کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں۔ کسی بات پر شوہر ان کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیتا ہے۔ حنفی  علماء تو اس لیے  حرمتِ  مغلظہ کے ساتھ حرام ہونے کا فتویٰ جاری کردیتے ہیں ۔ کوئی دوسرا ان کی خبر سنی یا کسی  اور عذر کے باعث ان کو قبو ل  کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ مہنگائی کی وجہ سے اپنے بھی اسےبوجھ  تصور کرتے ہیں ۔ حکومتی سطح پر بھی کوئی  ایسا معقول  بند وبست نہیں جس کے ذریعے اس کی  کفالت  کی جائے۔ اسی طرح  کے دو دلخراش واقعات کا ذکر آپ قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا۔ ایک صاحب جو اچھے خاصے دیندار معروف تھے 50۔60 سال کی عمر تک ساتھ رہنے کے بعد ایک ساتھ تین طلاقیں اپنی بیوی  کو دیدیں۔ کچھ دنوں تک تو عورت نے خود کو سنبھا لے رکھا مگر اس کے خاندان کی غربت  اور معاشی  پریشانی کی وجہ سے وہ اس قدر بدحال ہوگئیں کہ اس کے دماغ پر جنون کے اثرات ہوگئے ۔ اب وہ در بدر سۂ گدائی لے کر اپنا پیٹ بھرتی ہے اسی طرح دوسرا واقعہ میری نظر میں ہے۔ ایک صاحب  نے  اپنی بیوی  کو ایک ساتھ تین  طلاقیں دید یں۔ شادی کے وقت دونوں  غریب تھے مگر عورت کی محنت  اور کوشش  سے محلّہ  والوں  کا کہنا ہے کہ چند برسوں میں اللہ نے وسعت  دی۔ اب وہ ایک پختہ  مکان اور ایک کارخانہ کے مالک ہوگئے تھے ۔ بس اچانک کسی  گھریلو ں معاملہ میں بگڑ گئی اور شوہر نے تین طلاقیں دے دیں علیحدگی کے بعد کچھ دنوں  تک عورت زیورات اور گھر کا اثاثہ بیچ کر گزارہ کرتی رہی۔ اب حالت یہ ہے کہ اس کی زندگی باعث عبرت ہے۔

محترم قارئین اللہ تعالیٰ نے ہمیں آسانی پیدا کرنے کا حکم دیا ہے اور تنگی و سختی سے منع کیا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد پاک ہے ۔ ترجمہ : اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی اور ارادہ نہیں رکھتا ۔

ایک اور جگہ پر اللہ اپنے  محبوب بندوں سے فرماتے ہیں ۔

ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے دین کے معاملہ میں تم پر تنگی  نہیں بنائی ۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے ۔آسانی  کرو تنگی نہ کرو ۔ خوشخبری  دو اور نفرت نہ دلاؤ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت تھی کہ آپ دو معاملوں  میں آسانی کا اختیار کیا کرتے تھے ان دلائل  کا تقاضا  بھی یہی ہے کہ معاشرے کی موجودہ صورت حال  کے پیش نظر طلاق  کے معاملے میں آسانی پیدا کی جائے ۔ طلاق کی فی نفسہ سنگینی  ، پھر اصلاح کے معاملے میں آسانی پیدا کی  جائے ۔ طلاق کی فی نفسہ  سنگینی پھر اصلاح  ذات البین ، پھر عورت کی تین ماہواریوں  یا ( اور حاملہ ہونے کی صورت  میں وضیع حمل) تک رجوع کرنے کاموقع دینا ۔ نیز دو مرتبہ تک اس طرح کا چانس دینا ، ان تمام معاملات کا تقاضہ  بھی یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو آسانی کو اختیار کیا جائے یہ سب کرنا کسی حرام کے دروازے کوکھولنا نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کے دلائل  اور شریعت کی روح کے عین مطابق ہے جیسا کہ ہم مذکورہ کالم میں اوپر بتا چکے ہیں ۔ آخر ایک اور بات کا اضافہ کرتے ہیں کہ 1973 میں احمد آباد ( انڈیا)  میں ایک سیمینار  مولانا مفتی عتیق الرحمٰن  عثمانی دیوبندی  کی صدارت  میں ہوا۔ جس میں دو اہل  حدیث علما ء کے علاوہ باقی سب حنفی  مسلک سے تعلق رکھنے والے  عالم تھے ۔ جن کے نام یہ ہیں۔

مولانا محفوظ الرحمٰن قاسمی، مولانا سعید احمد اکبر آبادی ،مولانا سید احمد عروج قادری ، مولانا سید حامد علی، مولانا  شمس پیر زادہ ۔ ان سب نے اس سیمینار  میں مقالے  پیش کئے جو کہ کتابی شکل میں بعنوان  مجموعہ  مقالاتِ  علمیہ ایک مجلس کی تین طلاق کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ان سب نے ایک مجلس  کی تین طلاقوں  کو ایک طلاق قرار دیا ہے۔ ان  مقالات پر جو اعتراضات و مناقشات ہوئے ان کے جوابات بھی  اسی کتاب میں شامل  ہیں ۔ اور دنیا کے متعدد  اسلامی  ممالک مثلاً  مصر ، سوڈان ، اردن ، شام ، مراکش، عراق  ، سعودی عرب او رپاکستان کی شرعی عدالتوں  میں بھی  یہ قانون نافذ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک طلاق ہوتی ہے۔

5 جولائی ، 2013  بشکریہ : روز نامہ اودھ نامہ ، لکھنؤ

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/imran-ahmad---عمران-احمد/triple-talaq-in-one-sitting--a-correct-practice-or-innovation?--ایک-وقت-کی-تین-طلاقیں-دین-یا-بدعت/d/12536

 

Loading..

Loading..