New Age Islam
Fri Apr 16 2021, 05:05 PM

Urdu Section ( 4 Apr 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sahir Ludhianvi: The Magician of Words لفظوں کا جادو گر ساحر لدھیانوی

افتخارقریشی

4 اپریل 2021

  وہ لفظوںکا جادوگر۸؍مارچ۱۹۲۱ کو پنجاب کے شہر لدھیانہ کے ایک جاگیردار گھر میںپیدا ہواتھا،اس کے والدین نے اس کا نام عبدالحئی رکھا تھا،عبدالحئی کے والدفضل محمد گرچہ لدھیانہ کے بہت امیر آدمی تھے،لیکن بدقسمتی سے ان کی اہلیہ سردار بیگم یعنی عبدالحئی کی والدہ فضل محمد کی دوسری شادی کرنے کی وجہ سے ان سے الگ ہوگئی تھیں،۱۳سال کی عمر میں باپ کی جدائی لے کر عبدالحئی ماں کے پاس رہنے لگا،باپ کے امیر ہونے کے باوجود بھی عبدالحئی کا وقت غریبی اور تنگ دستی میں گزرا۔

ساحر لدھیانوی

------ 

 عبدالحئی کی ابتدائی تعلیم ان کی والدہ نے لدھیانہ کے خالصہ ہائی اسکول میں کرائی،بعد میں وہ گورنمنٹ کالج لدھیانہ کے طالب علم بنے،یہ۱۹۳۹ کی بات ہے،جب عبدالحئی کالج کی پڑھائی کے دوران امرتہ پریتم سے پیار کربیٹھے ، عبدالحئی اس پیار میں کامیاب نہیں ہوئے ،امرتہ پریتم کے والد کو عبدالحئی کا امرتہ پریتم سے پیار کرنا پسند نہیں آیا تھا،اس کی وجہ یہ تھی کہ عبدالحئی ایک تو مسلمان تھے اور اوپر سے غریب تھے،عبدالحئی کو اس پیار کی سزا یہ ملی کہ انہیں امرتہ پریتم کے والد کے کہنے پر کالج سے نکال دیا گیا،یہیں سے عبدالحئی کے لئے برادور شروع ہواتھا،کیونکہ اسی دوران عبدالحئی کواپنے اور اپنی ماں کے گزربسر کے لئے چھوٹی موٹی نوکریاں بھی کرنی پڑیںتھیں۔

 کالج میں پڑھائی کے دوران عبدالحئی کو شاعری کا شوق ہوگیا تھا، شاعری کی دنیا میں آکروہ عبدالحئی سے ساحر لدھیانوی بن گئے تھے،امرتہ پریتم ساحر لدھیانوی کی شاعری پر فداتھیں،امرتہ پریتم خود بھی شاعرہ تھیں،شاعری کی دنیا میں آکر عبدالحئی نے اپنا تخلص ساحر رکھا تھا،جس کے معنی جادوگر کے آتے ہیں،آگے چل کر ساحرادب اور فلمی دنیا میں لفظوں کے جادوگر کہلائے۔

ساحر۱۹۴۳ میں لدھیانہ سے لاہور چلے گئے،انھوں نے لاہور کے دیال سنگھ کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی،انھوں نے کالج میں پڑھائی کے دوران شعروشاعری جاری رکھی اور سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کردیا،وہ دیال سنگھ کالج طلبا یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے،لاہورمیں انھوں نے اپنے کلام کا پہلا مجموعہ ’’تلخیاں‘‘چھپوایا،تلخیاں کی اشاعت کے بعد سے شاعری کی دنیا میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا تھا،وہ ۱۹۴۵میں’’ادب لطیف‘‘اور’’شاہکار‘‘لاہور کے مدیر مقررہوئے،بعد میںوہ رسالہ’سویرا‘کے بھی مدیر بنے،اس رسالہ میں شائع ان کے ذریعہ تحریر کسی مضمون کو حکومت پاکستان نے حکومت مخالف سمجھ کر ساحر کے خلاف عدالت سے وارنٹ جاری کرادیاتھا،ساحر لدھیانوی یوں تو مسلمان تھے مگروہ کمیونزم سے متاثرتھے، ساحر ترقی پسند تحریک کے حامی ادیب تھے،اپنے خلاف وارنٹ جاری ہونے کے بعد ساحر لدھیانوی۱۹۴۹ میں لاہور سے دہلی آگئے تھے،کچھ دنوں دہلی میں قیام کے بعد وہ بمبئی یعنی آج کی ممبئی چلے گئے تھے،جہاں پر وہ اردو رسالہ’شاہراہ‘ اور ’پریت لڑی‘کے مدیر بنے ۔

 ساحر لدھیانوی نے ممبئی میں آکر سب سے پہلے۱۹۴۹ میں فلم: آزادی کی راہ پر:کے لئے نغمے لکھے ،لیکن انھیں مقبولیت اصل میں۱۹۵۰ میں بنی فلم ’’نوجوان‘‘کے لئے لکھے گئے نغموں سے ملی،اس فلم کے موسیقار سچن دیو برمن تھے،فلم نوجوان کا گیت’’ٹھنڈی ہوائیں لہرا کے آئیں‘‘بہت مقبول ہوا،اس نغمہ کو لوگ آج بھی گنگناتے ہیں، سچن دیو برمن کے ساتھ فلم ’’نوجوان‘‘میں ان کے لکھے ہوئے نغموں کودنوں دن ایسی شہرت حاصل ہوئی کہ ان نغموں کو آج بھی آل انڈیا ریڈیو سے سنا جا سکتا ہے،ان میں سے ایک نغمہ ’ ٹھنڈی ہوائیں‘ کی دھن تو اتنی ہٹ ہوئی کہ ایک زمانہ تک موسیقاروں کے ذریعہ اس کی نقل ہی ہوتی رہی ،موسیقار روشن نے پہلے ۱۹۵۴میں فلم ’چاندنی چوک‘اور پھر۱۹۶۰ میں ممتا فلم میں اسی دھن کی طرز پر نغموں کی ریکارڈنگ کی تھی،جب دوسروں کا حال یہ ہو تو پھر بھلا سچن دیو برمن کا بیٹا راہل دیو برمن کیسے پیچھے رہ سکتا تھا، راہل دیو برمن نے ۱۹۷۰میں اسی دھن پرایک نغمہ ریکارڈ کیا ۔

  فلم نوجوان کے بعد ایس ڈی برمن اور ساحر کی قربت بڑھتی چلی گئی،اس جوڑی نے یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں ساتھ کام کیا،ان فلموں میں’ بازی‘’جال‘ ’ٹیکسی ڈرائیور ‘’ہاؤس نمبر۴۴ ‘’منیم جی‘اور پیاسا وغیرہ قابل ذکر ہیں،ساحر کی دوسری سب سے زیادہ شراکت روشن کے ساتھ رہی،ان دونوں نے ’چتر لیکھا‘’بہو بیگم‘’دل ہی تو ہے‘’برسات کی رات‘’تاج محل‘’بابر‘ اور بھیگی رات‘جیسی فلموں میں کام کیا،روشن اور ایس ڈی برمن کے علاو ہ ساحر نے او پی نیر ‘این دتہ‘’خیام‘’روی‘’مدن موہن‘جے دیو اور کئی دوسرے موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔

     ساحر نے فلمی دنیا میں بہت مقبولیت حاصل کی ہے،اتنی مقبولیت کسی دوسرے شاعر کے حصہ میں نہیں آتی،ساحر کو ترقی پسند شعراء کی فہرست میں مقام حاصل ہے،مجروح سلطانپوری اور شکیل بدایونی کا موازنہ ساحر سے کیا گیا،لیکن یہ دونوں شاعر بھی ساحرکی ادبی شاعری کی برابری نہ کرسکے، ساحر کی شاعری میں ادب اور ترقی پسندی تھی،مجروح سلطانپوری اپنے کلام میں ادبی تقاضوں کو پورا نہیں کر پائے،اس لئے وہ ساحر کی برابری نہ کر سکے،یہی حال شکیل بدایونی کا بھی رہا ہے،شکیل بدایونی کے کلام میں عروض کے اعتبار سے غلطیاں پائی گئی ہیں،جبکہ ساحر کے کلام غلطیوں سے پاک ہیں،ساحراپنی شاعری کے ذریعہ معاشرہ میں ادبی انقلاب بپا کرنا چاہتے تھے،وہ فلمی دنیا میں اپنی الگ آئیڈیا لوجی ساتھ لے کر آئے تھے،ساحر نے دو ایسی فلموں کے نغمے لکھے جن کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ ہے،ان میں گرودت کی’’ پیاسا‘‘اور یش راج کی ’’کبھی کبھی‘‘شامل ہیں۔

ساحر لدھیانوی کو فلموں کا سب سے بڑا ’’فلم فیئر اعزاز برائے بہترین غنائی شاعر‘‘ دوبار ملا ہے،انھیں اس اعزازسے پہلے۱۹۶۴ اور پھر۱۹۷۷ میں نوازا گیا،انھیں حکومت ہند نے۱۹۷۱میں ادب و تعلیم کے لئے پدم شری اعزازسے بھی نوازاتھا،ساحر لدھیانوی نے امرتہ پریتم کے علاوہ سدھا ملہوترہ سے بھی پیار کیا تھا،لیکن انھیں اپنے دونوں ہی پیار میں ناکامی ملی اور وہ عمر بھر کنوارے ہی رہے،ان کا انتقال۲۵ ؍اکتوبر ۱۹۸۰کو حرکت قلب بند ہونے سے ممبئی میں ہوگیا تھا،انھیں ممبئی کے جوہو قبرستان میں سپردخاک کیا گیا،آج ہم اس عظیم شاعر کی صد سالہ تقریب منا رہے ہیں ،انھیں یاد کررہے ہیں اور انھیں خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔

4 اپریل 2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/iftikhar-qureshi/sahir-ludhianvi-magician-words-لفظوں-کا-جادو-گر-ساحر-لدھیانوی/d/124648


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..