New Age Islam
Fri Mar 13 2026, 06:08 AM

Urdu Section ( 19 Apr 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Israeli Occupation of Palestine on the Target of Islamic Unity فلسطین پر قابض اسرائیل اسلامی اتحاد کے نشانہ پر

افتخار قریشی

17 اپریل،2023

ماہ صیام میں مسجد الاقصیٰ میں مسلمانوں پر حملہ کرنے کے بعد اسرائیل اب ایران پر حملہ کی تیاری کررہا ہے، حالانکہ ایران اور اسرائیل کی سرحدیں آپس میں نہیں ملتی ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان میں ملک شام آتا ہے۔شام کے ساتھ ایران کے تعلقات اچھے ہیں۔ایران شام کے صدر بشاء الاسد کی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ اسرائیل شام میں ایران کے ٹھکانوں پر حملے کرتا ہے۔اسرائیل کے ان حملوں میں ایران کے اب تک کئی فوجی کمانڈر شہید ہوچکے ہیں۔ مسلم دنیا میں اسرائیل ایران کو اپنا سب سے برا دشمن تصور کرتا ہے۔ ادھر ایران بھی فلسطین کی زمین پر آباد اسرائیل کو نیست ونابود کرنے پر آمادہ نظر آتاہے۔ یہ اسرائیل کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتا۔

اسرائیل کے شمال میں لبنان اور لبنان کے برابر میں مشرق کی طرف اسرائیل سے لگا ہوا ملک شام ہے، لبنان کے جنوبی حصہ میں فلسطین کی آزادی کے لئے لڑرہا ایرانی حمات یافتہ مزاحمتی گروپ حزب اللہ کے ٹھکانے ہیں شام میں بھی ایران نے اپنے ملٹری بیس بنائے ہوئے ہیں اور ادھر فلسطین کی غزہ پٹی میں حماس بھی ایرانی حمایت یافتہ ایک فلسطینی آزادی کامضبوط مزاحمتی گروپ ہے، روس نے ایران کے کہنے پر بشاء الاسد کی حکومت کی حمایت کے لئے ملک شام میں اپنی فوج پہلے سے ہی بھیج رکھی ہے۔ یہاں روس کی فوج داعش کے ساتھ لڑرہی ہے۔ اسٹریٹجک نظریہ سے دیکھا جائے توروس کی فوج ایران کی مدد کے لئے ملک شام میں پہلے ہی سے موجود ہے، روس یوکرین کے ساتھ جنگ لڑرہا ہے، اس جنگ میں یوکرین کو امریکہ اور یورپ کے ممالک کی حمایت حاصل ہے، اگر اسرائیل او رایران کے بیچ جنگ چھڑجاتی ہے تو یہ جنگ ایک خطرناک شکل اختیار کرجائے گی،کیونکہ اس جنگ میں جہاں روس،چین،ایران کی حمایت کریں گے،وہیں امریکہ اوراس کے اتحادی ممالک اسرائیل کے مدد کریں گے۔

اسرائیل اس وقت اپنے داخلی معاملات میں گھرا ہوا ہے،اسرائیل کے وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنے والے جس قانون کو پاس کرانے کی پارلیمنٹ میں کوشش کی تھی، اس قانون کی اسرائیل کی عوام نے سڑکوں پر آکر مخالفت کی،یہی نہیں دنیا کے زیادہ تر ممالک اور خود اسرائیل کے آقا امریکہ نے بھی اس معاملہ پر بن یامین نتین یاہو حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اپنی سڑکوں سے مظاہرین کو ہٹانے اور دنیا بھر کے تنقید سے بچنے کے لئے وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ دنوں 5اپریل کو مسجد الاقصیٰ میں فوج بھیج کر مسلمانوں پر حملہ کرادیا تھا،تاکہ اسرائیل کے عوام کا دھیان مظاہروں سے ہٹ کر مسلمانوں سے ٹکراؤ پر آجائے، یہی نہیں اسرائیل کے وزیر اعظم نے اپنی انا کو بچانے کے لے اس سے بھی بڑھ کر حماس، حزب اللہ اور شام میں ایران کے ٹھکانوں پر حملے کرادئے تھے،تاکہ اسرائیل میں جنگ جیسے حالات بن سکیں اور حماس اور حزب اللہ نے اسرائیل کے ان حملوں کا بھر پور جواب دیا تھا۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے جو تازہ حالات بنے ہیں، وہ اسرائیل کی شرانگیزی سے پیدا ہوئے ہیں، لیکن کیا اس جنگ میں اسرائیل کا ساتھ اس کاہمنوا امریکہ اور اس کا دم بھر نے والے یورپی ممالک دیں گے؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب قارئین ضرور پڑھنا چاہیں گے،کیونکہ 1948 ء سے پہلے اس جگہ پر جہاں اب اسرائیل بسا ہوا ہے،اسرائیل نام کا کوئی ملک نہیں ہوتا تھا،بلکہ یہاں پر عرب کا ملک فلسطین ہوتا تھا، اسرائیل کو امریکہ،برطانیہ۔ فرانس اور ان کے اتحادی ممالک نے مل کر عرب فلسطین کے مسلمانوں کی زمین پر یہودیوں کو بسایا تھا، مقصد تھا بیت المقدس پر یہودیوں کی آڑ میں کنٹرول کرنا اور عربوں کو یہودیوں سے ڈرا کر اپنا غلام بنائے رکھنا، امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک مل کر اسرائیل کو اب تک پال پوس رہے تھے، لیکن اب حالات بدل رہے ہیں، اسرائیل خود ہی اپنے پالن ہار امریکہ کو آنکھ دکھا رہا ہے،یورپی ممالک پر روس۔یوکرین جنگ کا اثر پڑرہا ہے اس کے لئے وہ بھی اسرائیل کی ریپبلکن پارٹی کی طرح آنکھوں پرپٹی باندھ کر حمایت نہیں کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے امریکہ کی مدد کے بنا ہی ایران پر حملہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے،اس سے پہلے امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنے والے قانون کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔

خلیج کے عرب ممالک اسرائیل سے دشمنی بھلا کر دھیرے دھیرے اس کے نزدیک جارہے تھے متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت شمالی افریقہ کے کئی ممالک نے اسرائیل سے دوستی کا ہاتھ بھی ملالیا تھا، مسلم ممالک کو اسرائیل کا دوست بنانے کا کام امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیا تھا ۔ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ قدم ان کے بیچ اسرائیل کو محفوظ کرنے عربوں کے خطرات سے بچانے اور ان کے ساتھ تجارت کرنے کی غرض سے اسرائیل کے ابراہم اکورڈ معاہدہ کے تحت اٹھایا تھا میں،ڈونالڈ ٹرمپ کے اس قدم کے اثر پر سعوعی عرب بھی آیا تھا حالانکہ بعد میں سعوعی عرب نے خود کو اس سے الگ کرلیا تھا۔سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے متحارب رہے ہیں۔اب ایران۔ سعودی کی تعلقات میں بہتری سے امریکہ،اسرائیل اور ان کے  حلیف ممالک میں بے چینی پائی جاتی ہے۔پہلے ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری رہی کشیدگی کا سیدھا فائدہ اسرائیل کو ملتا رہا ہے،لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اس خطہ میں حالات بدل رہے ہیں،کیونکہ ایران اور سعودی عرب ایک میز پر آکر کئی اہم امور پر بات چیت کررہے ہیں، جہاں پر یہ خبر مسلم دنیا کے لئے خوش کن وہیں یہ خبر اسرائیل کو بے چین کرنے والی بھی ہے،کیونکہ سعودی عرب اور ایران کے بن رہے اتحاد کے پیچھے دو بڑی طاقتیں روس اور چین کار فرماں ہیں،چین روس کی مدد سے خلیج کے اس خطہ میں ایک بڑا گٹھ جوڑ بنانے جارہا ہے، جو اسرائیل کے لئے باعث تشویش ہے، ایسا اسرائیل مان کر چل رہا ہے،اگر اس خطہ میں اسرائیل  اور ایران میں جنگ ہوتی ہے تو یہ صرف اسرائیل ایران کی جنگ نہیں ہوگی، بلکہ اس جنگ کے پیچھے مسلم اتحاد کے ساتھ روس چین ہوں گے اور اسرائیل کے ساتھ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ہوں گے یعنی یہ جنگ روس یوکرین جنگ کی ایک طرح سے توسیع ہوگی۔

17 اپریل،2023، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

------------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/israeli-palestine-target-islamic-unity/d/129600

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..