New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 05:01 AM

Urdu Section ( 23 Jun 2016, NewAgeIslam.Com)

RSS Activities and Extremist Mind آر ایس ایس کی سرگرمیاں اور انتہا پسند ذہن

 

 

 

افتخار گیلانی

22 جون، 2016

دارالحکومت دہلی سے میں نے تقریباً ایک دہائی تک لاہور سے شائع ہونے والے انگریزی ہفتہ وار جریدے ‘دی فرائیڈے ٹائمز ’ اور ڈیلی ٹائمز (جب دونوں کی ادارت نجم سیٹھی کے سپرد تھی )کے لئے رپورٹنگ کی ہے۔ 2007 میں سمجھوتہ ٹرین دھماکوں کے بعد جب ہندو دہشت گردی کی باز گشت سنائی دینے لگی ، تو ایڈیٹر اعجاز حید رنے مجھے ہدایت دی، کہ ہندو انتہاپسند لیڈر کا انٹرویو کروں۔ قرعہ بالآخر وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے شعلہ بیان لیڈر ڈاکٹر پروین بھائی توگڑیا کے نام نکلا۔یہ وہی لیڈر ہیں جنہوں نے حال ہی میں ہندوؤں کو کہا کہ وہ اپنی مردانگی کی پوجا کرے زیادہ سے زیادہ اولادیں پیدا کریں ،تاکہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کا توڑ ہوسکے ۔ وی ایچ پی ہندو انتہا پسندوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کی ہی ایک شاخ ہے، جس کا کا م تبلیغ او رہندو علامات کا تحفظ کرنا ہے۔ بابری مسجد کی مسماری میں اسی تنظیم کا ہاتھ تھا ۔ آر ایس ایس کی تقریباً 100 سے زائد شاخیں ہیں، جو الگ الگ میدانوں میں سر گرم ہیں ۔ جیسا کہ سیاسی میدان میں بھارتیہ جتنا پارٹی ( بی جے پی ،جو فی الوقت حکمران پارٹی ہے) ، حفاظت یا سیکورٹی کے لیے (دیگر الفاظ میں غنڈہ گردی کیلئے ) بجرنگ دل ، مزدوروں یا ورکروں کے لئے بھارتیہ مزدور سنگھ ، دانشوروں کے لئے وچار منچ ، غرض کہ سو سائٹی کے ہر طبقہ کی راہنمائی کے لئے کوئی نہ کوئی نتظیم ہیں ۔ حتیٰ کہ پچھلے کچھ عرصہ سے آر ایس ایس نے مسلم راشٹریہ منچ اور جماعت علما نامی دو نتظیمیں قائم کرکے ان کو مسلمانوں میں کام کرنے کے لئے مختص کیا ہے۔ پچھلے سال کشمیر میں انتخابات کے دوران یہ تنظییں خاصی سر گرم تھیں ۔ ان سبھی تنظیموں کےلئے آر ایس ایس کیڈر بنانے کا کام کالجوں سے ہی طالب علموں کی مقامی شاکھاؤں کے ذریعے ذہن سازی کی جاتی ہے ۔ آج کے دن اس کی کل شاکھاؤں کی تعداد کم وبیش 56859 ہے جو ملک او ربیرون ملک کےمختلف مقامات پر ہندوؤں کو انتہا پسندا نہ نظریاتی بنیاد پر جوڑنے کاکام کررہی ہیں ۔بیرو ن میں ان کی کل 36 ممالک میں شاکھائیں ہیں ۔ یہ شاکھائیں ہندو سیوم سیوک سنگھ کے نام سے کام رہی ہیں۔ ملک سے باہر آر ایس ایس کی سب سے زیادہ شاکھائیں نیپال میں ہیں ۔اس کے بعد امریکا میں اس کی شاکھاؤں کی تعداد 146 ہے۔ یو کے میں 84 شاکھائیں ہیں ۔ آر ایس ایس کینیا کے اندر بھی کافی مضبوط حالت میں ہے ۔ کینیا کی شاکھاؤں کا دائرہ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ یوگینڈا ، موریشش اور جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا ہے اور وہ ان ممالک کے ہندوؤں پر بھی اثر انداز ہورہے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی پانچ شاکھائیں مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک میں بھی ہیں۔ چوں کہ عرب ممالک میں جماعتی اور گروہی سرگرمیوں کی کھلی اجازت نہیں ہے اس لئے وہاں کی شاکھائیں خفیہ طریقے سے گھروں تک محدود ہیں ۔ بتایا جاتا ہے ، کہ بابری مسجد کی مسماری اور رام مندر کی تعمیر کےلئے سب سے زیادہ چندہ ان ہی ممالک سے آیا تھا ۔ فن لینڈ میں ایک الیکٹرونک شاکھا ہے جہاں ویڈیو کیمرے کے ذریعے بیس ممالک کے افراد جمع ہوتے ہیں ۔ یہ ممالک وہ ہیں جہاں پر آر ایس ایس کی باضابطہ شاکھا موجود نہیں ہے۔ بیرو ن مملک آر ایس ایس کی سرگرمیوں کےانچارج رام مادھو ہیں، جو اس وقت بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری ہیں ۔ کشمیر امور کو بھی دیکھتے ہیں ، اور وزیر اعظم مودی کے بیرونی دوروں کے دوران بیرون ملک مقیم بھارتیوں کی تقاریب منعقد کرواتے ہیں۔

الغرض میں نے اعجاز صاحب کی ہدایت پر توگڑیا کے موبائیل پر رابطہ کرنے کی کوشش کی ۔ کئی بار ناکامی کے بعد میں نے ان کو مسیج بھیجا ۔ فوراً ہی ان کا خود فون آیا ۔ معذرت کی کہ کسی تقریب کی وجہ سے فون رسیو نہیں کرسکے ۔ میں نے جب مدعا بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی ہے کہ ہم کسی غیر ملکی میڈیا ادارے کو انٹر ویو نہیں دیتے ہیں۔ اگر کسی ادارہ خواہاں ہو ، تو پبلک ریلیشنز ڈیپا رنمنٹ میں باضابطہ درخواست دینی پرتی ہے او رانٹرویو کے اغراض و مقاصد کی تفتیش کرنے کے بعد ہی ا س پر غور ہوتا ہے،کیونکہ غیر ملکی ادارے ہندو لیڈروں کی منفی تصویر دکھانے کے لئے ہی اکثر انٹرویوز لیتے ہیں۔ او ر اس کو توڑ مروڑ کر استعمال کرتے ہیں۔ خیر میں اب ان کا شکریہ ادا کرکے فون رکھنے والا تھا کہ انہوں نے خود ہی کہا کہ ‘‘آپ انٹرویو کشمیر ٹائمز کے لئے کیوں نہیں لیتے ہو۔ ’’ میں دہلی میں کشمیر نائمز کےبیورو سےبھی وابستہ تھا۔ آخر چند روز کے بعد میں وقت مقرر پر وی ایچ پی کے دہلی کے آر کے پورم علاقہ میں واقع ہیڈکواٹر جا پہنچا ۔ جلد ہی مجھے توگڑیا جی کے کمرہ میں لے جایا گیا ۔ وہ اس وقت تنظیم کے لئے انٹر نیشنل جنرل سیکریٹری تھے ۔ میں نے چھوٹتے ہی پہلا سوال کیا کہ ‘‘آپ تو ایک ڈاکٹر ہیں اور وہ بھی کینسر اشپیشلیسٹ ۔ آپ انسانوں کے جسم سے کنسر دور تو کرتے ہے،مگر سوسائٹی میں کیوں کینسر پھیلاتے ہیں ۔’’ تو ان کا جواب تھا ۔‘‘ کہ ہم بھارتیہ سوسائٹی میں مدرسہ اور مارکسز م کو کینسر مانتے ہیں او ران دونوں کو جڑسے اکھاڑ نے کے لئے وچن بندھ ہیں ۔

 چاہے اس کے لئے سرجری کی ضرورت ہی کیو ں نہ پڑے’’۔ کئی اور سوالوں کے بعد میں نے موضوع مسلمانوں او ران کے خلا ف نفرت کی طرف موڑا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بھارت میں تو اب تقریباً 15 کروڑ مسلمان بستے ہیں اور ان سبھی کو تو آپ ختم نہیں کرسکتے۔ کیاکوئی شکل نہیں کہ ہندو او رمسلمان شانہ بہ شانہ پر امن زندگی گزار سکیں ۔ توڈاکٹر توگڑیا نے اپنے مخصوص انداز میں میز پر مکہ مارتےہوئے کہا ، ‘‘ ہاں ہاں کیوں نہیں ، ہم مانتےہیں کہ مسلمانوں نے بھارت کے کلچر او رتہذیب کو پروان چڑھانے میں اعانت کی ہے۔ مگر ہمیں شکایت مسلمانوں کے رویہ سےہے ۔ وہ اپنے مذہب کےمعاملے میں احساس برتری کاشکار ہیں ۔ وہ ہندو ؤں کو نیچ اور غلیظ سمجھتے ہیں او رہمارے دیوی دیوتاؤں کی عزت نہیں کرتے ۔ہمیں مسلمانو ں سےکوئی شکایت نہیں ہے، اگر وہ ہندو جذبات کا خیال رکھیں۔’’ میں نے ان سے پوچھا کہ آیا ہندو جذبات سےا ن کی کیا مراد ہے تو ان کا کہنا تھا ۔‘‘ کہ ہندو کم و بیش 32 کروڑ دیوی دیوتاؤں پر یقین رکھتےہیں، ہمارے لئے یہ کوئی ناک کامسئلہ نہیں کہ ہم پیغمبر اسلام کی بھی اسی طرح عزت افزائی کریں ۔ مگر مسلمان اس کی اجازت نہیں دیتے ہیں او رنہ ہی اپنے یہاں کسی ہندو دیو ی دیوتا کی تصویر یا مورتی رکھتےہیں ’’ اپنے دفتر کی دیوار پر سکھ گورو نانک او رگورو گوبند سنگھ کی لٹکتی تصویر او رکو نے میں مہاتما بدھ اور مہاویر کی مورتیوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے توگڑیا نے کہا کہ دیگر مذاہب یعنی سکھوں ،بدھوں اور جینیوں نے ہندوؤں کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سیکھا ہے، جو مسلمانو ں کو بھی سیکھنا پڑے گا اور تو او رمسلمان محمود غزنوی ، اورنگ زیب ،محمد علی جناح ، اور دہلی کے امام احمد بخاری کو اپنا راہنما مانتے ہیں ، یہ بھی ہندو رسوم و رواج کے قاتل تھے ۔ شاید ہی کوئی مسلمان عبدالرحیم خان خانان ، امیر خسرو یا اسی قبیل کے دانشوروں کو قابل تقلید سمجھتا ہے۔ یہ سبھی شخصیتیں ہمارے لئے قابل احترام ہیں ، مگر بخاری امام او رامام علی نہیں ہوسکتے’’۔

چونکہ بی جے پی کے حکومت میں آنے وجہ سے آج کل آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں خاصی سرگرم ہوگئی ہیں۔ 1925 میں آر ایس ایس کا قیام عمل کےبعد سے لےکر اس کے حوصلے کبھی بھی اتنے بلند نہیں رہے جتنے کہ آج ہیں ۔ اس لئے اس پورے واقعہ کو رقم کرنے کا مقصد مسلمانوں کے تئیں ہندو انتہا پسند لیڈروں کی سوچ کو اجاگر کرتا تھا۔ اسی طرح غالباً گجرات فسادات کے بعد 2002 ایک مسلم وفد آر ایس ایس کے اس وقت کے سربراہ سدرشن جی سے ملنے ان کےصدر دفتر ناگپور چلا گیا ۔ جس میں اعلیٰ پایہ مسلم دانشور شامل تھے ۔ ملاقات کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کو کم کرنے کے لئے آر ایس ایس جیسی شدت پسند تنظیم کی لیڈر شپ کو قائل کرنا تھا او ران کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کے نظریہ کو رکھناتھا ۔ معروف کالم نگار ایس اے پیرزادہ ، جو اس وفد میں شامل تھے، کاکہنا ہے کہ ہم نے سدر شن جی سےپوچھا کہ کیا مسلمانوں اور ہندوؤں میں مفاہمت نہیں ہوسکتی ہے؟ کیا رسہ کشی کے ماحول کو ختم کرکے دوستانہ ماحول میں نہیں رہا جاسکتا ہے؟ اس کے جواب میں کے سدرشن نے مسلم وفد کو بتایا کہ ضرور آر ایس ایس جیسی شدت پسند تنظیم مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرسکتی ہے ، لیکن اس کےلیے شرط ہے ۔ ‘‘آپ لوگ (مسلمان) کہتے ہیں کہ اسلام ہی برحق او رسچا دین ہے، آپ ایسا کہنا چھور دیجئے اور کہیے کہ اسلام بھی برحق اور سچا دین ہے تو ہماری آپ کے ساتھ مفاہمت ہوسکتی ہے۔’’بقول پیر زادہ ہم مطالبہ سن کر سکتے میں آگئے ۔مختلف جماعتوں کے اس وفد میں سے کسی ایک بھی فرد نے سدرشن کی اس بات پر انہیں یقین دلانے کی جرأت نہیں کی کہ وہ اس سمت کوششیں کریں گے کیونکہ وفد میں شامل سب لوگ جانتے تھے کہ جس بات کامطالبہ کیا جارہا ہے وہ ہمارے بنیادی عقیدے کے خلاف ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ سدرشن جن کا انتقال 2012 میں ہوا، آر ایس ایس میں اپنی ذمہ داریوں سےسبکدوش ہونے کے بعد اسلام کی جانب مائل ہوچکے تھے ۔ آخری دور میں انہوں نے اپنی سیکورٹی اوراسٹاف ممبران سے ضد کی تھی کہ وہ انہیں نماز عید کےموقع پر بھوپال کی تاج مسجد لےچلیں ،جہاں وہ نماز عید ادا کرنے کےساتھ ساتھ مسلمانوں کو عید کی مبارک بادی بھی دے دیں گے۔ البتہ ان کی سیکورٹی اور اسٹاف نے ٹریفک جام کا بہانہ بنا کر ایسا نہیں کیا۔ بعد میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ رہ چکے بابو لعل گور انہیں ایک مسلمان کے گھر لے گئے جہاں انہوں نے مسلم خاندان کے ساتھ مل کر عید منائی ۔ ایک اور موقع پر کے سدرشن ایک دن اپنے گھر سے لا پتہ ہوگئے ۔ ان کے لواحقین ، سیکورٹی اور دیگر آر ایس ایس ورکر ان کی تلاش میں ادھر ادھر نکل پڑے ۔ تبھی ایک مسلمان نےاطلاع دی کہ وہ نزدیکی مسلم بستی کی ایک مسجد میں گم سم بیٹھے ہوئے ہیں۔ آر ایس ایس کے اس سابق چیف کی موت بھی بعد میں پرُ اسرار حالت میں ہوئی تھی ۔ ان کی تنظیم کے عہدہ داروں کےمطابق وہ آخر وقت میں ذہنی توازن کھو بیٹھے تھے۔ مگر کیا وہ حقیقت کی تہہ تک پہنچ چکے تھے، یا واقعی ذہنی بیماری کاشکار ہوگئے تھے ، یہ عقدہ شاید کبھی کھل نہیں سکے گا۔‘اسلام ہی حق ہے’ کے بجائے اسلام بھی حق ہے ، کا مطالبہ کرنا بظاہر ایک معمولی بات ہے او ریہ مطالبہ اب فرقہ پرست ہی نہیں، بلکہ لیبرل مسلمانوں کی طرف سے بھی کیا جارہا ہے۔ آر ایس ایس علماء و دانشوروں پر مبنی اس وفد کے تمام لو گ دینی علوم سے مکمل طور پر واقفیت رکھتے تھے اور اس مطالبے کو ماننے سے ایمان کا کیا حشر ہو جائیگا ،اس بات کی بھی بخوبی واقفیت رکھتے تھے ۔ گو کہ انہوں نے خاموشی اختیار کی ، مگر ایسی حکمت عملی اپنائی کہ سدرشن جیسا شدت پسند، ہندوتواکےعلمبردار کے دل میں بھی اسلام کے تئیں دلچسپی پیدا ہوئی ۔

22 جون، 2016 بشکریہ: روز نامہ جدید خبر ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/iftikhar-gilani/rss-activities-and-extremist-mind--آر-ایس-ایس-کی-سرگرمیاں-اور-انتہا-پسند-ذہن/d/107744

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..