New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 03:57 PM

Urdu Section ( 29 May 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Righteousness from a Global Perspective ایک عالمی نقطہ نظر سے تقویٰ کا تصور

  

افتخار حئی، نیو ایج اسلام

28 مئی 2015

خدا نے تمام انسانوں کو ضمیر اور عقل و خرد کی نعمت سے نوازا  ہے۔ ہر انسان اپنی عقل و خرد کے پیمانے پر یہ ناپ سکتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ مسلمان اسلام کی آمد سے پہلے کی نازل ہونے والے صحیفوں پر ایمان رکھتے  ہیں۔ قرآن کا فرمان ہے: "اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ وہ ان کے لئے (پیغامِ حق) خوب واضح کر سکے۔" 14:4، 16:36 اور 10:47

ایک تکثیریت پسند لہجے میں قرآن مجید کا یہ بھی فرمان ہے کہ اسلام سے پہلے کی سابقہ امتوں کو بھی ہدایت اور صحیفے عطا کیے گئے ہیں 5:48۔

2:256 قرآن آزادی مذہب کا احترام اور دیگر مذہب کے ماننے والوں کو اسلام پر مجبور نہ کرنے کا بھی حکم مسلمانوں دیتا ہے۔

لہذا، حق پر ہونا، انصاف پسند ہونا اور متقی ہونا خصوصی طور پر صرف مسلمانوں کے لیے خاص نہیں ہے۔ تقویٰ ایک کثیر جہتی تصور ہے جس میں  ایک خدا پر ایمان رکھنا، کمزور، غریب اور بے گھر لوگوں کی مدد کرنا، عبادت کرنا، صدقہ دینا، ایمانداری کے ساتھ  کام کرنا اور کسی کمزور سے غلط فائدہ نہ اٹھانا اور نہ ہی اس کے مال و اسباب کو لوٹنا بھی شامل ہیں۔ تاہم، قرآن نہ صرف یہ کہ مندرجہ بالا باتوں کی حمایت کرتا ہے بلکہ ان تمام کو انصاف کا نام بھی دیتا ہے۔ انصاف کو ایک عالمی تناظر میں سمجھا جانا چاہیے جس میں تمام روحانی روایات اور مذہبی معمولات  و معتقدات شامل ہوں۔

انسانیت بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہم ابھی کمال کو نہیں پہنچے سکے ہیں۔ لیکن ہم ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب و ملت سے قطع نظر عالمی برادری کو مزید انصاف پرست بنانے کی سمت میں جدوجہد کر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں علم کی اشاعت کے ساتھ ساتھ انصاف بانٹنے والے ادارے بھی تبدیلیوں کے مراحل سے گزرے ہیں۔

آج تقریباً پوری دنیا میں انصاف کے ادارے،  یعنی مختلف قانونی عدالتیں ایک ہی جیسی ہیں- جن میں جج، گواہ، عدلیہ، مدعا علیہ، الزام لگانے والے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار قیام انصاف میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

قرآن مجید انصاف دینے کے لیے حتی المقدور انصاف پر مبنی فیصلہ صادر کرنے میں زیر حراست لوگوں کے کردار کو جانچنے کا حکم دیتا ہے۔

 قرآن کا فرمان ہے کہ انہیں نفرت، سیاسی اور قومی ایجنڈے یا کسی بھی طرح کی مذہبی وابستگی سے آزاد ہونا چاہئے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں قرآن قانونی عدالتوں کے ذریعے انصاف بانٹنے کا حکم دیتا ہے اور ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو سکتا ہے اس لیے کہ ایماندار اور سچے تمام مذہب میں پائے جا تے ہیں، اس لیے کہ تمام لوگوں کے لئے روحانی رہنمائی اور ہدایت کا مصدر و سر چشمہ ایک ہی ذات ہے اور وہ اللہ، خدا یا بھگوان ہے

(یو ایم ائ آئی اے United Muslims of America Interfaith Alliance) کے علماء و مفکرین قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے اچھی طرح واقف ہیں........ ان پر غور کرتے ہیں۔

انصاف پسند بنوں اس لئے کہ یہ تقویٰ  کے قریب ہے، ‘‘اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے’’۔ 5:8

(ایک مثالی جج کے اندر اس خصوصیت کا ہونا ضروری ہے کہ وہ ایماندار ہو اور کسی سے نفرت نہ کرتا ہو)

انصاف کے لئے پوری استقامت سے کام لو "اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا (تمہارے) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ (جس کے خلاف گواہی ہو) مال دار ہے یا محتاج، اللہ ان دونوں کا (تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ (گے)، اور اگر تم (گواہی میں) پیچ دار بات کرو گے یا (حق سے) پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے۔"4:135 (ایک مثالی گواہ میں ان خصوصیات کا ہونا ضروری ہے)

حقیقی تقویٰ: "نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔" 2:177 (یہ مثالی جیوری کی خصوصیات ہیں )۔

 تقویٰ یا خود سپردگی کا عمل (جو کہ اسلام ہے) ایک خدا پر ایمان لانے، عبادت کرنے، صدقہ دینے، روزہ رکھنے اور ان کے اپنے مقدس مقامات پر حج کے لئے جانے کے ذریعہ ہر مذہب میں بیان کیا گیا ہے۔ تاہم، قرآن نے اس میں انصاف کو بھی شامل کرنے کے لئے تقویٰ کے معنی کو ایک وسیع انداز میں بیان کیا ہے، جس سے تمام مذاہب میں مفاہمت اور بخشش کا تصور پیدا ہوتا ہے۔

گناہوں اور شرور و فتن سے بھری اس دنیا کو جنت نشاں بنانے کے لیے  ہم تمام لوگوں کے اندر ان خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔

قرآن جس تقویٰ (انصاف کرنے) کی بات کرتا ہے اس کا ذکر دیگر مقدس صحیفوں میں  بھی ہے.......نیچے ملاحظہ کریں:-

 عیسائیوں کے  بائبل، میتھیو میں 5:6 اور 10 میں بھی تقویٰ کا ذکر موجود ہے:

"تقویٰ کے لئے بھوک اور پیاس برداشت کرنے والوں کو مبارک ہو، اس لیے کہ انہیں اس سے مطمئن کیا جائے گا۔"

"تقویٰ کی خاطر ظلم برداشت کرنے والوں کو مبارک ہو، اس لیے کہ ان کا ٹھکانہ جنت ہے۔"

یہودی روایات میں پوری حکمت کو ایک جملہ میں سمیٹ دیا گیا ہے، اور وہ "ایک نیک زندگی گزارنا ہے۔"

بدھ مذہب کے صحیفوں میں آٹھ نیک راستوں کا ذکر کیا گیا ہے: صحیح قول، صحیح طرز عمل، صحیح ذریعہ معاش، صحیح رویہ، صحیح سوچ، صحیح کوششیں، حق بات اور صحیح ارتکاز توجہ۔

تقویٰ کے متعلق مقامی امریکیوں کے اقوال: "تمہیں نیک باتیں کرنا سیکھنا چاہیے، تاکہ تمہاری باتیں سورج کی کرنوں کی طرح دلوں کو گرما دیں(مطمئن کر دیں) اور لوگوں کے دل اس  ابدی سچائی کی تصدیق کرنے پر مجبور ہو جائیں۔"

ہندومت:

1) دوسروں کے ساتھ ایسا برتاؤ مت کرو جو  تم اپنے لیے نہیں چاہتے؛ اور دوسروں کے لئے بھی وہی چاہوں جو تم اپنے لیے چاہتے ہو۔ یہی تقویٰ کا ماحصل ہے، اس پر اچھی طرح سے دھیان دو۔

2) جو  دوستوں، دشمنوں، اجنبیوں، غیر جانبداروں، نفرت کرنے والوں، رشتہ داروں، راستبازوں اور بدکاروں کے ساتھ نیکی کا معاملہ کرتا ہے وہی سب پر سبقت لے جائے گا۔ بھگود گیتا اور مہا بھارت

لہذا، ایک تکثیری گلوبل ولیج اور خاص طور پر ایک ایسی زمین پر  جو خدا کے فضل سے آج ماحولیاتی، اقتصادی اور روحانی طور پر مربوط اور منسلک ہے اسلامی نقطہ نظر کے مطابق تقویٰ قانونی عدالتوں کے ذریعے انصاف قائم کرنے کا نام ہے۔ غربت، امیر اور غریب قوموں کے درمیان زبردست فرق، منشیات اور شراب کا غلط استعمال، تشدد آمیز طلاق، نو عمروں پرتشدد، جرائم، نسلی تعصب، نفرت، تعصب، تنگ نظری، جنگیں، انتشار، روز بروز بڑھتی ہوئی مادہ پرستی، عورتوں اور بچوں کے ساتھ جنسی ذلت و رسوائی، قدرتی وسائل میں کمی اور ماحولیاتی مسائل جیسے انسانیت کو نقصان پہنچانے والے عام مسائل کو ایک خدا کی اطاعت میں  اس زمین پر انسان ایک واحد قوم کی حیثیت سے حل کر سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا تحقیق کی تائید قرآن کی اس آیت سے ہوتی ہےکہ : ‘‘اور سارے لوگ (ابتداء) میں ایک ہی جماعت تھے پھر(باہم اختلاف کر کے) جدا جدا ہو گئے’’ 10:19، نیز " اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو" 49:13۔

لہذا، ایک انسانیت کی حیثیت ہمارے سامنے بہترین ایام ہیں۔ ہمیں کبھی بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ خدا محبت، رحم دلی، رحمت اور مغفرت کا سمندر ہے۔

افتخار حئی میں UMAIA یونائیٹیڈ مسلمز آف امریکہ انٹرفیتھ الائنس کے صدر ہیں

URL for English article:  https://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/iftekhar-hai,-new-age-islam/righteousness-from-a-global-perspective/d/103210

URL for this article: https://newageislam.com/urdu-section/iftekhar-hai,-new-age-islam/righteousness-from-a-global-perspective--ایک-عالمی-نقطہ-نظر-سے-تقویٰ-کا-تصور/d/103248

 

Loading..

Loading..