New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 05:45 PM

Urdu Section ( 10 Nov 2016, NewAgeIslam.Com)

The Qur'an Does Not Mandate Hijab قرآن حجاب کو واجب نہیں قرار دیتا

 

 

 

 

 

ابراہیم بی۔ سید، نیو ایج اسلام

09 نومبر 2016

میں نے اپنی گزشتہ تحریروں میں اس حقیقت کو اجگر کرنے کی کوشش کی تھی کہ قرآن کا مقصد معاشرے میں موجود ہر قسم کی تحریص، لالچ اور بہکاوے کے تمام ذرائع کو ختم کرنا ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے قرآن خواتین پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔ تاہم، مسلمان مردوں کی اکثریت خواتین کو آنکھوں کے علاوہ سر سے پاؤں تک پردے میں دیکھنا چاہتی ہے، جبکہ مردوں کو پوری خوشی کے ساتھ خواتین کے دلکش جسمانی اعضاء کو دیکھ کر مسرور ہونے کی آزادی حاصل ہے۔ اور اس سے بھی بدترین صورت حال یہ ہے کہ بنیادی طور پر مردوں کے اس نظریہ کو مطلقاً خدا کے ایک حکم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

میں نے اس تناظر میں ایک ممتاز اسلامی قانون دان، عالم اور UCLA اسکول آف لاء کے پروفیسر جو اسلامی قانون کی تعلیم دیتے ہیں، ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی کتاب کا حوالہ پیش کیا ہے۔ وہ اسلامی قانون میں ایک عالمی شہرت یافتہ ماہر قانون ہیں، جو پہلے یونیورسٹی آف ٹیکساس، پھر ییل لاء اسکول اور پرنسٹن یونیورسٹی میں اسلامی قانون کی تعلیم دے چکے ہیں۔ اسلامی قانون کے عظیم ماہر ڈاکٹر ابو الفضل نے مصر اور کویت میں بھی اسلامی فقہ میں باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے۔

میرا حوالہ براہ راست یا بالواسطہ انفرادی طور پر کسی ایک فرد کے لیے نہیں ہے۔

ابو الفضل کا یہ ماننا ہے کہ معاصر مسلم معاشرے میں لوگ دوسرے تمام پہلوؤں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایک واحد نقطہ نظر کو مسلط کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ لہٰذا، بحث و مباحثہ میں خلل ڈالنے کے لیے وہ لوگ شریعت (اسلامی قانون) کا نام لیتے ہیں جو شریعت کی باریکیوں سے اچھی طرح واقف بھی نہیں ہیں۔

اس رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے ابو الفضل نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے " And God Knows the Soldiers" (مطبوعہ: University Press of America, pp.204, 2002) جس میں انہوں نے اس بات کی نشان دہی کی ہےکہ "اس کتاب سے ان کا مقصد ان لوگوں کو چیلنج پیش کرنا ہے جو اسلامی قانون کے اخلاقی پہلو کو بحث و مباحثہ میں خلل ڈالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کتاب کا پیغام یہ ہے کہ " اگر تم دوسروں کو خاموش کرنے کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر اسلامی قانون کا استعمال کرو گے تو تم یہ بہتر جانتے ہو کہ اسے کس طرح استعمال کیا جائے۔"

امریکہ میں ماہرین علوم و فنون اور مصنفین اخلاق و آداب کی مندرجہ ذیل اسلامی ہدایات پر عمل کرتے ہیں:

1۔ وہ انفرادی طور پر کسی کا نام لیکر، ذاتی حملے کر کے اور کردار کشی کے ذریعہ شعلہ بیانی سے بچتے ہیں۔

2۔ حقائق پر جمے رہتے ہیں یا کم از کم قیاس آرائیوں کو قیاس آرائی کا ہی نام دیتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل انکارپوریٹڈ، مخالف نقطہ نظر کا احترام کرتا ہے اور لوگ کو ان نکات پر یقین کرنے کا حق حاصل ہے۔ میرا گمان یہ ہے کہ اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل انکارپوریٹڈ، انتہائی تعمیری بحث اور بحث و مباحثے کی حوصلہ افزائی کرنے کی ایک بنیادی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تاہم، بحث و مباحثہ کی بنیاد حقائق پر ہونی چاہئے اور اس بات کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے کہ یہ شور و غل کا شکار نہ ہو اور جذباتیت یا انفرادی طور پر کسی خاص فرد کے بارے میں غیر اخلاقی ریمارکس کی نظر نہ ہو۔

مجھے یہ سکھایا گیا ہے کہ ایک مضبوط اسکالر وہ ہے جس کی شخصیت ایک چٹان کی طرح ہو جس میں لغزش نہیں آتی ہے بلکہ وہ تنقید کی ہواؤں کو اپنی طرف سے گزنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایک کمزور مناظر، وکیل یا اسکالر معاملات کی تحقیق قیاس آرائی پر مبنی افکار و نظریات اور غیر حقیقی تشریحات کے ساتھ کرتا ہے اور اخلاق و آداب کے رہنما اصولوں کو بھول جاتا ہے۔

یہ ایک اچھی بحث ہے، اخلاص کے ساتھ بحث و مباحثہ کرنا انتہائی اہم ہے اس لیے کہ لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ ہمیں اسلامی اصولوں و معتقدات اور ثقافتی رسوم و رواج کے درمیان فرق کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ میرا ارادہ ایک علمی بحث و مباحثہ شروع کرنے کا ہے، میرے نقطہ نظر کی مخالفت کرنے والوں کا مذاق اڑانے کا نہیں ہے۔

اسلام کسی بھی مخصوص قسم کا لباس نہ تو بیان کرتا ہے اور نہ ہی ایسا حکم نافظ کرتا ہے۔ جب تک کپڑے بہت زیادہ تنگ یا عریاں نہ ہوں اس رہنما اصول کی تکمیل میں ثقافتی گوناگوئیت اس میں زبردست تنوعات کو شامل کر سکتی ہے۔

حجاب ایک ایسی اصطلاح ہے جو طرز لباس کے تناظر میں قرآن یا حدیث میں نہیں پایا جاتا۔

(ماخذ: globalwebpost.com/farooqm/writings/islamic/scarf_revel.htm)

اس قرآنی آیت کے لفظ بہ لفظ ترجمہ سے میرا نقطہ نظر ثابت ہوتا ہے (سورہ 24:31):

وَلْيَضْرِبْنَ - رکھیں

بِخُمُرِهِنَّ - اپنے دوپٹہ کو

عَلىٰ جُيوبِهِنَّ- اپنے گریبان پر

ایک مسلم اسکالر نے لکھا ہے کہ "یقینا ایک خاتون کا لباس بال اور چہرے کے علاوہ پورے جسم کا مکمل طور پر احاطہ کرتا ہے۔ آیت میں تاکید کے ساتھ اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہانہیں اپنے جسم کے ان خوبصورت حصوں کو صرف اپنے شوہر اور بہت ہی قریبی رشتہ داروں کے علاوہ اجنبیوں کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہئے "(ماخذ: ڈاکٹر بشیر احمد" Veil/Hijab Becoming a Symbol of American Muslims in Pakistan Link, August 26, 2005")

یہ الفاظ "بالوں کے سوا" مصنف کے اپنے تخلیق کردہ تشریحی الفاظ ہیں اور وہ ان کے قرآنی الفاظ ہونے کا ثبوت فراہم نہیں کر سکتے ہیں۔

 (The Message of the Qur'an’ "شائع کردہ: دار الاندلس، لمٹیڈ: 3 لائبریری ریمپ، جبرالٹر، 1980) لکھنے والے علماء کرام نے  لکھا ہے، "محمد اسد کے ترجمہ اور تفسیر کو وسیع پیمانے پر انگریزی زبان میں سب سے بہترین ترجمہ اور تشریح تصور کیا جاتا ہے، اور یہ ان کی دانشورانہ بصیرت اور اکثر زمخشری جیسے کلاسیکی مفسرین کے حوالہ جات سے مزین ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اسد کا ترجمہ سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ اور معقول ہے، انہوں نے ان حوالہ جات کو اس احتیاط کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ انہوں نےترجمہ کے بعد اپنی رائے نہیں پیش کی ہے بلکہ انہوں نے ابن کثیر، زمخشری اور قرطبی جیسے بڑے بڑے علماء اور مفسرین کا حوالہ پیش کیا ہے۔ "

بعض علماء ان کا یہ ماننا ہے کہ عرب خواتین مکمل طور پر سر اور سینوں کو بے نقاب کر کے گلیوں اور محلوں میں گھوما کرتی تھیں؛ اور یہ (24:31) قرآنی آیت انہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے 'خمار' کو اپنی پیٹھ سے اٹھا کر سامنے اپنے سینوں پر رکھ لیں۔ یہ مفروضہ درست ہے اور تاریخی حقائق پر مبنی ہے ۔

ایک مفسر قرآن کو قرآنی آیات کے "اسباب النزول" سے واقف ہونا ضروری ہے۔

سورہ، النور کی آیت 24:31، کا ترجمہ محمد اسد اس طرح کرتے ہیں ".........وہ اپنے سینوں کو اپنے خمار سے ڈھانک لیں۔" اپنی تفسیر نمبر 38 میں انہوں نے لکھا ہے کہ ، "اسم خمار (جس کی جمع خمر ہے) سے مراد سر ڈھانپنے کا وہ کپڑا ہے جو عام طور پر عرب میں اسلام سے پہلے اور اسلام کی آمد کے بعد عرب خواتین استعمال کرتی تھیں۔ اکثر قدیم مفسرین کے مطابق اسلام سے پہلے خواتین اسے کم و بیش ایک زیور کی طرح آرائش و زیبائش کے ساتھ پہنتی تھیں جو کہ ان کی پشت پر لٹکا ہوا ہوتا تھا؛ جس کی وجہ سے اس زمانے میں مروج فیشن کے مطابق عورت کے چوغے کا اگلا حصہ سامنے سے کھلا ہوتا تھا اور ان کے سینے ننگے نظر آتے تھے۔ لہٰذا، خمار (جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مروج ایک اصطلاح ہے) کے ذریعہ عورتوں کے لیے ان کے سینوں کو چھپانے کا مطلب ضروری طور پر یہ نہیں ہے کہ خمار کا استعمال اسی شکل میں کیا جائے جو اس کی اصل شکل ہے۔ بلکہ اس سے مراد اس بات کو واضح کرنا ہے کہ ایک عورت کا سینہ اس کے جسم کے "ان اعضاء میں شامل نہیں کیا جا سکتا" جسے عزت کے ساتھ ظاہر کیا جانا چاہئے۔"

لفظ خمر (واحد خمار) سے عام طور پر سر ڈھکنے کا ایک ایسا کپڑا سمجھا جاتا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مرد اور عورت دونوں استعمال کرتے تھے۔ کچھ مسلمانوں نے اس مسئلہ پر بھی گفتگو کی ہے کہ نماز کے لئے وضو کرتے وقت سر ڈھانپنے والے خمار پر مسح کرنا جائز ہے یا نہیں اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا۔

(ماخذ: brandeis.edu/projects/fse/Pages/veilinglink1.html)

"اسلام سے پہلے عرب میں جنگ کے لئے جانے والے مردوں کی عورتیں جنگ کے لئے روانہ کرتے ہوئے اپنے مردوں کو لڑنے پر ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے اپنا سینہ ننگا کر کے دکھاتی تھیں، یا وہ ایسا خود میدان جنگ میں بھی کرتی تھیں؛ جیسا کہ مکہ کی عورتوں نے احد کی جنگ میں کیا تھا جس کی قیادت ہند نے کی تھی.........۔اگر چہ حیا ایک مذہبی حکم ہے لیکن نقاب پہننا اسلام کی ایک مذہبی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ثقافتی ماحول سے ہے۔ " (Cyril Glasse: The Concise Encyclopaedia of Islam. Harper and Row Publishers, New York, N.Y., 1989, p. 156 and p. 413) ۔

میرا بنیادی اختلاف یہ ہے کہ ایک عورت کے لیے اپنا سر چھپانا لازمی نہیں ہے، جیسا کہ اس کا قول شیخ ذکی بدوی سمیت بہت سے علماء کرام نے کیا ہے۔ لندن، انگلینڈ میں مسلم کونسل کے سربراہ اور مساجد اور ائمہ کی کونسل کے چیئرمین، ڈاکٹر ذکی بدوی نے لکھا ہے کہ: "حجاب یعنی پردہ بھی (جس سے ایک مسلمان عورت اپنا پورا سر چھپاتی ہے) واجب نہیں ہے"۔

 (ماخذ: http://www.mostmerciful.com/Hijab.htm)

ایسے کچھ خلیجی ممالک میں والدین پریشانی کا شکار ہیں جہاں وزارت تعلیم، اساتذہ یونین اور طلباء یونین تمام کے تمام اسلام پسندوں کے تسلط کا شکار ہو گئے تھے۔ ایک ماں نے یہ بیان کیا ہے کہ جب اس نے اپنی 11 سالہ بیٹی کو ایک نئے اسکول میں منتقل کیا تو ان کے ساتھ کیا ہوا: "تقریبا تین ماہ بعد میری بیٹی نے کہا: ''ماں، میں حجاب پہننا چاہتی ہوں''۔"ماں نے یہ سوچتے ہوئے کہ حجاب پہننے کے لیے ابھی اس کی عمر بہت کم ہے، اس نے پوچھا کہ کیوں تم حجاب پہننا چاہتی ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ ایک استاذ نے کہا ہے کہ جس لڑکی نے اپنا سر نہیں چھپایا اس کے بال قیامت کے دن پر جلا دیے جائیں گے۔

حجاب (سر کے پردہ) پر سالہا سال کی تحقیق کرنے کے بعد میرے اندر ایک چیلنج کرنے کا اعتماد پیدا ہوا ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ کوئی بھی (مسلم ہو یا غیر مسلم) یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ قرآن سر کا پردہ کرنے کو خواتین کے لیے لازم قرار دیتا ہے۔

ابراہیم بی۔ سید اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل انکارپوریٹڈ کے صدر ہیں

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/ibrahim-b-syed,-new-age-islam/the-qur-an-does-not-mandate-hijab/d/109055

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/ibrahim-b-syed,-new-age-islam/the-qur-an-does-not-mandate-hijab--قرآن-حجاب-کو-واجب-نہیں-قرار-دیتا/d/109067

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..