New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 10:59 AM

Urdu Section ( 4 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

What’s in a Name? بتا تیرا نام کیا ہے؟

 

 

حسین امیر فرہاد

شکسپیر کہتے ہیں کہ نام میں کیا رکھا ہے گلاب خوشبو سے پہچانا جاتا ہے ۔ مگر ہر زبان میں نام  کو بڑی  اہمیت  حاصل ہے یہاں تک کہ میں جب یہ مضمون لکھنے بیٹھا ہوں تو پہلے اس کا نام تجویز کیا بغیر نام کے مضمون  یوں لگتا ہے جسے سرکٹی لاش ہو قرآن کریم میں ‘‘کلمۃ ’’ اسم لا تعداد مقامات پر آیا ہے۔ حتیٰ کہ رب الکائنات فرماتے ہیں ہم نے آدم کو تمام نام سکھادیئے ۔ ( 2:31) نام کے بغیر زندگی  کا کاروبار نہیں چلتا ۔ آپ نکاح  کےلئے  بیٹھے ہیں قاضی کہتےہیں کہ فلاں کی بیٹی آپ کو قبو ل ہے؟ ۔ آپ کبھی قبول نہیں کرسکتے جب تک قاضی اس کا نام لے کر نہ پوچھے ، وجہ یہ ہے کہ ان صاحب کی اگر دو چار  بیٹیاں او رہوں تب؟ دروازے پر کوئی دستک دے رہا ہے جب تک اس کا نام معلوم نہ ہوجائے آپ  اسے اندر آنے کو نہیں کہتے ۔ فون پر بھی یہی  قاعدہ ہے کہ پہلے فون کرنے والا اپنا تعارف کراتا ہے پھر پوچھے گا آپ کون ہیں؟

ناموں کے بارے میں ہر جگہ بڑی بے احتیاطی برتی جاتی ہے ۔ پہلے میں عربی ناموں کا ذکر مناسب  سمجھتا ہوں یہاں کچھ تو پیغمبروں کے نام رکھے جاتےہیں کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ۔ لیکن مضحکہ خیز ناموں  کی بھی کمی  نہیں مثلاً ۔ تفاح ، یعنی سیب ۔ عدس ، مسور کی دل ۔ فانوس ، فانوس۔ نسناس ، بندر ۔ خیر ان میں سے بعض نام  برداشت کرنے کے قابل ہیں مگر بعض نام ہضم نہیں ہوتے ۔چونکہ میں کویت کی ایک کمپنی  میں ( مندوب العلاقات العامہ) یعنی پبلک رلیشنز آفیسر تھا ۔ اس لئے ان ناموں سے واسطہ پڑتا تھا ۔ کمپنی کے ایک ملازم کا لائسنس بنوانا پڑا اس کا نام تھا سالم بن بغل بن نمر ۔  ڈرائیونگ  لائسنس بنا کر اسے سائٹ پر بھجوایا تو دوسرے دن وہ روتا ہوا میرے آفس آیا  کہا آپ نے نام غلط لکھا ہے۔ قارئین  بغل کہتےہیں  خچر  کو اور نمر چیتے کو کہتے ہیں ۔

کہا آپ  نے میرا نام سالم ٹھیک لکھا ہے مگر باپ  کا نام نمر ( چیتا) غلط لکھا ہے اور دادا کا بغل ( خچر) لکھا جب کہ میرا باپ  خچر تھا دادا تو چیتا تھا ۔ میں نے کہا  تنگ نہ کر کبھی خچر سے انسان پیدا نہیں  ہوسکتا او رنہ چیتے سے خچر پیدا ہوتا ہے۔ گزارا  کرو۔ لیکن  مجھے  اس کی خواہش پوری کرنی  پڑی کیونکہ ڈائریکٹر نے کہا یہ ٹریفک ڈپارٹمنٹ سے ٹھیک  کرادو ورنہ گاڑی چلاتے ہوئے یہ پکڑا جائے گا ۔ اور  چھڑانے کے لئے آپ ہی کو جانا پڑے گا۔

ایک الیکٹریشن کا نام حجش تھا حجش گدھے کے بچے کو کہتے ہیں یعنی Young Donkey  مجھے علم تھا کہ نام اچھا نہیں ہے میں  نے کہا نام بدل لو یہ تو .... کہا یہی نام لکھو یہ نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر کا بھی تھا ۔ اتنا بڑا حوالہ جب اس نے دیا تو میں نے مجبوراً حجش ہی لکھا  ۔ وہ ایک دن غلط جگہ پیشاب  کرتا ہوا پکڑا گیا قاضی کے سامنے پیش ہوا تو قاضی نے پوچھا ۔ لما ذایا  حجش تبول علیٰ شارع الرئسی؟۔ کیوں اے حجش تم مین روڈ پر پیشاب کرتے پائے گئے؟ اس نےغلطی  تسلیم  کرلی تو قاضی نے آدھا دینار جرمانہ کیا اور وارننگ  دی ۔ مہینے  بعد حجش اسی جرم میں دوبار ہ پکڑا گیا، قاضی اسے پہچان  گیا اور کہا  غرمک علیٰ دینار واحد ۔  تمہیں ایک دینار جرمانہ کیا جاتا ہے، تقول شی ؟۔ تم کچھ کہنا چاہتے ہو؟۔

حجش نے کہا  جی ہاں میں پہلے اسی جرم میں آپ کے پاس لایا گیا تھا تو جناب نے مجھے آدھا دینار  جرمانہ کیا تھا آج پورا دینار جرمانہ کررہے ہو؟ ۔ قاضی  نے کہا لانک اول انت حجش  دراصل ( پہلے تم گدھے کےبچے تھے) الآن صیرت حمار کامل ( اب تم پورے گدھے بن چکے ہو)فلھٰذ غرمک بدینار واحد ۔  ا س لئے تمہیں  دینار پورا جرمانہ کیا جاتا ہے۔

مصر پر کافی عرصہ ترک حکومت  کر گئے ترک شاہی  خاندان  والے اپنے نام کے ساتھ بیگ کا اضافہ کرتے تھے ان کی نسل جواب بھی مصر میں آباد  ہیں وہ بیگ کہلاتے ہیں مگر شاید ‘‘ گ’’ کی وجہ سے وہ صرف ‘‘بے’’ بولتے ہیں ہمارے کمپاؤنڈر کا پڑوسی تھا اس کا نام ‘‘عزت بے’’ تھا وہ بنک میں کیشیر  تھا ۔ میرا بیٹا نبیل اسے بے عزت کہتا تھا وہ بے چارا ہمیشہ  مجھ سے شکایت کرتا تھا  یا اخی ابنک نبیل دائماً بے عزت قلنالہ کم مرۃ اسمی عزت بےوالا کن مایفھم ۔ اے بھائی تیرا بیٹا  نبیل ہمیشہ  مجھے بے عزت کہتا ہے حالانکہ کتنی بار  سمجھا چکا ہوں میرا نام  عزت بے ہے بےعزت نہیں ہے۔ مگر یہ سمجھتا  ہی نہیں ۔ میں دل  میں کہتا  بر خوردار اگر تم سمجھ جاؤ کہ بےعزت کے کیا معنی  ہوتےہیں تو لڑ پڑو گے ۔ خیر  میں سمجھا دوں گا۔

مدیر نے کہا اس پاکستانی کو بھی لائسنس بنوادو تاکہ خود گاڑی چلائے ۔ اس کا نام تھا چوہدری  معراج الدین ولد ریٹائر ڈ  نائب  صوبیدار  چوہدری برہان الدین مرحوم  ۔ عرب  لوگ مختصر نام رکھتے ہیں جیسے محمد بن  سالم بن احمد یعنی شخص کا نام باپ کا نام اور دادا کا ۔ لائسنس بن کر آیا تو میں نے سائٹ  پر بھجوا دیا،دوسرے  دن وہ دفتر  آیا  بڑا اداس  تھا بلکہ  پنکج اداس تھا ، میں نے پوچھا کیا  بات ہے چوہدری  صاحب بڑے اداس اداس لگ رہے ہوں؟۔  کہا یہ میرا لائسنس ہے اس میں ابا جی کا نام ہی نہیں ہے۔ میں نےدیکھا تو لائسنس  میں ٹریفک والوں نے لکھا تھا ‘‘معراج الدین ولد ریٹائرڈ’’  میں نے اسے سمجھایا کہ یہ عرب  ہیں ان کے پاس  اتنا فضول  ٹائم نہیں ہوتا،نام مختصر ہوناچاہئے ۔ آپ کے والد  تک پہنچنے  میں بڑی رکاوٹیں  کھڑی ہیں  انہیں سر کرناآسان  کام نہیں  ۔ پہلی  رکاوٹ  چوہدری دوسری رکاوٹ ریٹائرڈ تیسری رکاوٹ نائب  چوتھی رکاوٹ صوبیدار  ، پھر اس کے بعد کہیں آپ کے والد سے ملاقات  ممکن تھی،  آپ گزارا  کریں اللہ خیر کرے گا میں ہو ں نا۔

قطر میں ایک دفتر جانا ہوا وہاں  بر آمدے میں ایک پاکستانی ملا مجھے  پولیس کی وردی میں دیکھ کر کہا رفیق  ھذا معاش مافی۔ میں نے کہا اردو  میں کہو میں عربی نہیں  جانتا، کیا بات ہے؟ ۔ کہا یہ کلرک مجھے تنخواہ نہیں دیتا ؟ میں نے کہا آؤ میرے ساتھ میں نے کلرک سے کہا اسے  تنخواہ  کیوں نہیں دیتے؟ کہا یہ تو انسان  نہیں حیوان ہے، جب بھی پوچھتا ہوں کیا نام ہے ۔ یہ کہتا ہے   انا مسکین میں  تو تنخواہ  دینے بیٹھتا ہوں خیرات نہیں بانٹتا نہ مکانات تقسیم کرتا ہوں ۔ میں نے اس مزدور سے پوچھا کہ تمہارا نام  کیا ہے؟  کہا میرا نام مسکین ہے پاسپورٹ  پر بھی  یہی نام ہے۔ میں نے کلرک  کو سمجھایا  کہ اس کا نام ہی مسکین ہے یہ بھیک نہیں مانگتا اس نے چیک کیا اور اس کے نام کا لفافہ اسے تھما دیا ۔ کچھ غلطی  ہماری  ہوتی ہے کہ ہم باہر وہ نام لے کر جاتےہیں  کہ باہر والے  چکرا جاتے ہیں ۔

ہماری کمپنی  میں ایک سکھ انجینئر تھا  بلد یو سنگھ  اس کی بیوی  نے بچی کو جنم دیا قانون  کے مطابق  ہفتے  بعد ہسپتال  سے خارج کرتے وقت  نام دینا پڑتا ہے ۔نرس  نے پوچھا ۔ شواسمھا ۔ بچی کا نام کیا ہے؟ سردارنی نے بتایا رابندر کور۔ نرس لکھنے لگی را ...... رابن ...... رابدر  باللہ علیک شو  اسمھا بخدابتاؤ کیا نام ہے؟ ا س نے بتایا  رابندر کور ۔ نرس  نے پھر کوشش کی مگر کامیابی  نہیں ہوئی نرس نے غصے میں کہا ۔ اترک بندرا مندرا مریم زین ۔ کہا چھوڑو بندر امندر بہتر نام  مریم ہے ہاں مریم  اچھا نام ہے۔انہوں نے مریم نام  کا برتھ سرٹیفکیٹ سردار کو دے دیا۔ سردار میرے پاس شکایت لے کر آیا  کہا یہ دیکھئے میری بیٹی  کا نام مریم رکھا یہ میں لے کر انڈیا  جاؤں گا تو وہ کہیں  کہ کسی مسلمان کی بچی  کو اغوا کرکے لائے ہو۔

میں نے کہا یہ بات تم نے مدیر سے کیوں نہ کہی؟ کہا مدیر سے میں نےشکایت  کی تھی تو اس نے کہا تو حرج ہی  کیا ہے اگر مریم پسند نہیں تو فاطمہ رکھ لو تم تو مطویٰ ہو، کیا تمہیں اتنابھی معلوم نہیں  کہ اس سے اچھا نام تو ہمارے پاس ہے ہی نہیں ۔ ( مطویٰ  مولوی کو کہتے ہیں) کیونکہ سکھ کی لمبی  داڑھی  تھی ۔ بہر  حال  میں نے ٹھیک  کرا دیا کیونکہ میرا کام  ہی یہ تھا ۔

بحرین  میں انڈیا  کی بسیں چلتی ہیں اور ان کے ڈرائیور سکھ  ہیں، کوئی  مرد عورت  اگرنا چاہیں  تو ڈرائیور کو کہتے ہیں   وقف یا حاجی ۔ روکنا بس حاجی صاحب ! اس لئے کہ سکھوں کی داڑھی ہوتی ہے اور داڑھی  والے اکثر حاجی ہوتے ہیں ۔

عرب میں کنیت کا بھی رو اج ہے ۔ با پ کو پہلوٹھی  کی اولاد سے پکارتے ہیں ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی کنیت ابو قاسم  تھی اگر کسی  کے لڑکی پیدا ہوگئی تو انہیں  لڑکی کے نام سے یا د کیا جاتا ہے جیسے  امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت  ان کی بیٹی  کی وجہ سے ابو حنیفہ  ہے۔ کویت  میں ڈسٹرکٹ اناؤ بھارت کا ایک ہندو دھوبی  مرلی داس تھا دکان کے لئے بورڈ لکھوارہا  تھا اسے  کسی نے بتایا تھا کہ  حسین بھائی  عربی اچھی  طرح جانتا ہے ۔ وہ میرے  پاس آیا کہا یہ جو ہر پاکستانی یا عرب کے بورڈ پر لکھا ہوتاہے مثلاً ابو سالم  وغیرہ  اور  (  الصا حبہ ابو محمد) اس کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟۔ میں نے اسے سمجھا یا کہ لصاحبہ ۔ کے معنی ہیں ‘‘ پروپرائٹر’’ اور ابو فلاں  کنیت ہے ، لیکن تم  کیوں پوچھ رہے ہو؟ کہا دکان کے لئے نیا بورڈ لکھو ا رہا ہوں۔

میں نے کہا مرلی داس  نام بے شک لکھوا لینا مگر کنیت  مت لکھنا یہ صرف عربوں کی چیز ہے ۔ مگر وہ نہ مانا ۔ نتیجہ  یہ کہ کوئی عرب  یا پاکستانی اس کی دکان کے سامنے سے گزرتے وقت  ہنسی نہیں روک پاتا ۔ کیونکہ اس نے بورڈ پر لکھا ہے ۔ ‘‘ لصاحبہ ابوکالی چرن’’

کچھ لوگ بچوں کے نام ہم وزن  اور ہم قافیہ  رکھتے ہیں ۔ نوشہرہ میں ایک دوست کا بیٹا الیاس میرے پاس آیا کہا میں الیاس  خان بھائی  عباس خان تیسر ے کا نام الماس  خان چوتھے  کا طہماس خان  اب پانچویں  کا کیا نام رکھیں ؟۔ چونکہ قافیہ تنگ تھا میں نے کہا  بہتر ہے تھرماس  خان رکھ لو اگر چھٹا  آیا تو اس  کا نام پلاس خان  رکھ دیں گے ۔ ایسا پہلے  بھی ہوا ہے سروری  کی ایک بہن  کا نام جنوری  ہے اور دوسری کا نام فروری  ہے پڑھ لکھ کر اور جوان ہوکر جنوری نے اپنا نام بدل کر جان وری رکھ لیا فروری ویسے ہی  ہے۔

سندھ میں داؤد پوتا کا ٹھیکہ تھا یہ سجادل سے چوہڑ جمالی تک روڈ  بنارہے تھے سائٹ  انچارج  میں تھا وہاں  عجیب عجیب  ناموں  سے واسطہ پڑا۔ رولر ڈرائیور کا نام تھا آچرپُٹ سومار، پٹ بن کا نام دیتا ہے۔ آچر  اتوار کو کہتے ہیں اور سومار یعنی سوموار ہے پیر۔ یہ نام میری  زبان  پر نہیں چڑھتا تھا اُس  نے اس کا حل یہ نکالا کہا آپ  مجھے سنڈے پٹ منڈے کہا کریں یعنی  اتوار بیٹا سوموار ۔ داؤد پوتا صاحب خرچے کا رجسٹرچیک کررہے تھے مجھ سے مخاطب  ہوئے کہا حسین صاحب اتنا گرم  مصالحہ نہ کھایا کریں یہ  آپ کی  صحت  کے لئے ٹھیک  نہیں ۔ بیوی  بچے  بھی یہاں نہیں ہیں۔

میں نے کہا مجھے بتائیے کہاں ہے گرم مصالحہ ؟ کہا  یہ دیکھو بصل ( پیاز) دو سو روپیہ اور لونگ  چار سو روپیہ اور بھی کچھ مصالحوں  کے نام تھے ۔ میں نے کہا داؤد  صاحب یہ مصالحے نہیں ہیں یہ آپ  کی قوم کے شبھ نام  ہیں، بصل  پیاز نہیں وہ مزدور ہے جو چکری پر کام کرتا ہے اور  لونگ بابا کو تو آپ  جانتے ہیں آپ ہی  نے اسے گدھا  گاڑی چلانے پر لگایا  ہے یہ چار سو روپیہ اس  کے پندرہ روز کی تنخواہ  ہے ۔ داؤد صاحب  شرمندہ ہوئے ۔

ہم پہاڑی  علاقے کا لام کی طرف جارہے تھے پچھلی  سیٹ پرمیری  بیوی دیگر عورتوں  کے ساتھ بیٹھی  تھی میں اگلی  سیٹ پر ایک مقامی  آدمی  کے ساتھ بیٹھا  تھا ۔ معاً میرے ساتھی  نے اپنی بیوی  سے کہا ( واسٹک ماتہ را کا) ہتھوڑا  مجھے دینا ، سٹک ہتھوڑ ے کو کہتے ہیں  عورت نے پہلے  گو دکا بچہ اسے دیا پھر کچھ نہیں ہوا۔ میں نے  سوچا پرانی بس ہے سیٹ میں کوئی ابھری ہوئی میخ ا س کو تنگ  کررہی ہو گی  ا س لئے بیوی  سے ہتھوڑا  مانگ رہا ہے ۔ مگر میاں  بیوی آرام سے بیٹھے رہے ۔ جب کافی دیر گزر گئی تو میں نے اس سے پوچھا  ‘‘سٹک خوئی درنکڑو؟۔اس نے ہتھوڑا تو آپ کو نہیں دیا؟ اس نے گو د میں لیا  ہوا بچہ مجھے  دکھایا  کہا یہ  ہے نا۔ پتہ چلاکہ بچے کا نام ہتھوڑا  ہے ۔ اس میں ہم کیا کرسکتے ہیں۔جب برطانیہ کا اعلیٰ قائم  مقام نمائندہ آیا تھا تو سوات  جاتے وقت سیاسی  لیڈر سر انجام خان سے اس کاتعارف  کرایا گیا تو اس انگریز  نے پاکستان  میں اس کا سب سے زیادہ  احترام کیا ٹوپی  اٹھا کر اس کے سامنے  جھکا تھا ا س نےسوچا  یہ واحد  آدمی ہے جو برطانیہ  کا خطاب  یا فتہ ہے۔ حالانکہ سر اس  کے نام کا حصہ ہے ۔ جیسے  امیر مقام صاحب  کسی جماعت  کے امیر نہیں  ہیں امیر ان  کے نام کا حصہ ہے۔

عبدالرزاق ۔ یہ نام  ہے ایک چھوٹے  سے گیرج کے مالک کا ۔ میری  گاڑی  خراب ہوتی تو میں  اسی سے ٹھیک  کراتا تھا  گھنٹہ دو گھنٹہ بیٹھ کر ہم گپ شپ  لگاتے  ایماندار آدمی تھا ۔ میں جب  بھی دیکھتا  کوئی لنگڑا لولا گیرج  پر آتا  سامنے کھڑا ہوکر کہتا رزاق  بھائی .... تو رزاق  بھائی  بیٹے کو دس کانوٹ  دیتا کہ جا اسے دے دے ۔ دس روپے 1970ء میں بڑی  رقم تھی ۔ ایک دن میں پوچھ بیٹھا  کہ یار عبدالرزاق  ، آپ کے تن  پر کچھ ڈھنگ کے کپڑے نہیں بیٹے کے پاؤں میں  اچھے جوتے نہیں خود غریب  آدمی ہو ، میرے  سامنے آپ  نے تیس روپے  مانگنے  والوں  کے دیئے  ، یہ معاملہ  کیا ہے؟

کہا حسین بھائی یہ پہلے ٹیکسی ڈرائیور تھے پھر ایکسیڈنٹ ہوا ٹانگ ٹوٹ گئی بیروزگار ہوگیا پہلے میری اس سےاچھی خاصی کمائی تھی اب یہ لاچار ہوگیا، میری ماں  نےمیرا نام عبدالرزاق  رکھا ہے، اگر کسی میں رزاقیت  نہ ہو تو یہ بزرگ و برتر نام اس کے  ساتھ زیب نہیں دیتا۔ حسین صاحب اس نام کی لاج تو رکھنی پڑے گی نا .....

میں نے تو یہ مضمون  شروع کیا تھا کہ ایک ایک قوم کے ناموں کا ذکر کروں گا مگر ابھی تک تو میں عربوں  سے نہیں نکلا  اور مضمون  بہت طویل ہوگیا اور ابھی یادو ں کا ذخیرہ ختم بھی  نہیں ہوا۔ لکھنو کے بھی ایک نواب تھے جب ان کی بیگم  کا انتقال ہوا تو ملنے والے  یار دوست  تعزیت  کے لئے آتے جاتے تھے ۔ ایک دو دوستوں نےمشورہ دیا  کہ نواب صاحب  شادی  کر لیجئے اکیلے زندگی کاٹنا تو مشکل کام ہے۔ نواب صاحب  نے کہا کوئی ضرورت محسوس  نہیں کرتا فخر ، عزت اور وقار  کے ساتھ زندگی  اچھی گزررہی ہے ۔ دوستوں کو بعد میں چلا کہ فخر النسانء عزت بیگم  اور وقار النساء نواب صاحب کی بیگمات  کے نام ہیں جو خیر سے زندہ ہیں ۔

نوح ناروی ایک مشاعرے  میں غزل  پڑھ کر ہٹے تو ایک نوجوان نے پاس بیٹھے شخص  سےکہا کہ ناروے کے ہوکر زبان پر کیا عبور ہے؟ ۔ ماشااللہ۔

کولکتہ کے سی  پورٹ پر ہمارا جہاز  پہنچا تو ڈیڑھ مہینہ  کھڑا رہا  بالآخر فروخت ہوا ۔ ہم  بہت دور سپین سے آئے تھے ۔ شپ کا گوشت ہم کھا نہیں سکتے تھے کیونکہ پتہ  نہیں ذبح بطریقہ اسلامیہ کیا گیا تھا یا نہیں ۔ جہاز میں بیر اور شراب عام ملتی تھی بلکہ دی  جاتی تھی ۔ آفتاب اور دو اور پاکستانیوں  نے شراب کے گلاس ہاتھوں میں پکڑے ہوئے حرام گوشت  پراعتراض کیا تھا، خیر مولوی محمد حسین  اور اس کے بھائیوں نے کہا یہ پولیس والاجو ہم پر پہرہ دیتاہے اس سے کہو گوشت لاکر دے دے ہمیں تو باہر  جانے نہیں دیتے ۔ ان دنوں ہمارے  ایک لاکھ  فوجی انڈیا کی قید میں تھے ۔ میں نے پولیس والے کو بلایا سوچا ہندو تو  بڑے کا گوشت لائے گا نہیں ڈائرکٹ پوچھنا  کہ تم ہندو یا مسلمان یہ بھی  بری بات ہے ۔ نام پوچھ لوں گا  اگر عبدالرحمان  ماجد ساجد  ہے تو مسلمان ہے، اگر رام ناتھ کرشن، ہر یا وغیرہ ہے تو ہندو ہوگا نہیں منگوائیں گے صبر  کرلیں گے۔

میں نے پولیس والے سے پوچھا آ پ کا شبھ نام  کیا ہے؟ ۔ کہا ‘‘لالو’’ میں نے دل ہی دل میں کہا ظالم لالو کھیت کہتے تو میں سمجھتا کراچی  کامسلمان ہے اب لالو سےکیا  پتہ چلتا ہے کہ لال حسین یا لالو پرساد ، سوچا شاید  باپ کے نام سے یہ گتھی سلجھ جائے میں نے دوبارہ پوچھا پتا جی کا کیا نام ہے؟ ۔ کہا کالو۔ خانہ خراب ....گاڑی وہیں کی وہیں کھڑی رہی ۔ پھر میں سوچا ہر چہ باد آباد ڈائریکٹ پوچھنا پڑے گا۔ میں نے کہا یہ بتاؤ ہندو ہو یا مسلمان ؟ کہا مسلمان  ہوں ۔ آفتاب احمد  نے پوچھا  ہمارے پیغمبر  کا کیا نام ہے ؟ ۔ لالو نے کہا  اتنا ڈیپ میں ہم نہیں جاتے ۔ محمد حسین نے پوچھا  یہ بتاؤ فجر  کی کتنی رکعات  ہیں؟ لالو نے میری طرف دیکھا کہا  یہ بھائی ریکارڈ کا  کیا بات کرتا ہے؟۔

میں نے کہا  کچھ نہیں ہم سپین سے آئے ہیں  گرمی بہت  تھی اس  کادماغ خراب  ہوگیا، آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجائے گا،  آپ یہ پیسے لیں ہمارے لئے گوشت لے آئیں ۔ عبدالرزاق  نے کہا گائے کا۔ میں نے کہا کیوں لالو کو مروانا ہے کیا ؟ لالو نے  کہا یہاں گرو کا گوشت ملتا ہے ۔ محمد حسین نے کہا گرو کا گوشت ہم کیسے کھائیں گے ؟ کیا حلال ہوتا ہے؟ ۔ میں نے  کہا گرو بیل  کو کہتے ہیں  بے فکر  رہو ۔ لالو سے میں نے پوچھا  کالی مائی  کے درشن کو جاتے ہو؟ کہاں کیوں  نہیں وہ تو ماں  ہے ماں۔

ایک نووارد نے مسجد سے ملحقہ دروازے پردستک تو مولوی صاحب کا نوکر  نکلا کہا فرمائیے ۔ نووارد نے  پوچھا کہ  کیا حافظ خطیب  مولانا رکن الدین پیشوائے  سالکین، قطب دوراں مدظلہ العالی یہا ں رہتے  ہیں؟ ۔ نوکر نے کہا یہ تو چھوٹی  سی کوٹھری  ہے اس میں اتنے آدمی کیسے رہ  سکتے ہیں؟ اس میں  تو ایک ملا جی  رہتے ہیں ۔

مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں کہ میری عادت تھی انکساری  کے طور پر میں اپنے  آپ کو خادم کہہ کر تعارف کراتا رہا ۔ ایک میمن بھائی کا فون آیا تھا  کہ مشتاق  بھائی سے بات  کرنی ہے۔ میں نے کہا خادم  بول رہا ہے ۔ فرمائیے ۔

کہا تم  سے کیا فرمائیں   مشتاق کو بلاؤ۔

میں نے کہا خادم بول رہا ہے۔ وہ بگڑا کہا کیا تو بیچ میں کھادم کھادم بولتا پڑا ہے، بکواس بند کرو مالک کوبلاؤ کھادم سے  میرا کوئی لینا  دینا نہیں ۔ مشتاق صاحب کہتے ہیں پھر میں نے کسی سے خادم  کے لقب سے تعارف  نہیں کرایا۔

ہمارے ہاں  نام رکھنے  کا ایک طریقہ  یہ بھی ہے کہ قرآن  سے نام نکلا جاتا ہے ۔ ایک ناسمجھ  بچے کو کہتے ہیں کہ بیٹا کسی حرف  پر انگلی رکھ دے۔ بچہ  انگلی رکھتا ہے  ‘‘ح’’ پر پھر  ‘‘م’’ پر پھر ‘‘ا’’ پر پھر ‘‘ ر’’ پر۔ یہ بن گیا حمار جو عربی میں گدھے کو کہتے ہیں  اس طرح وہ بچہ  ساری زندگی گدھے کے نام سے زندگی  گزارتا ہے ۔ اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو جواب ملتا ہے یہ نام قرآن  سے نکالا گیا ہے حالانکہ قرآن میں تو خنزیر بھی  ہے اور شیطان بھی ۔ ملباریوں کے ناموں سے عرب  اور دیگر قومیں ہار  جاتی ہیں یہ گھر  کا نام پہلے  اور اپنا نام  ساتھ ملا کر لکھتے ہیں ، یہی ان کے پاسپورٹ  پر بھی ہوتا ہے ۔مثلاً ایک لیبارٹری ٹیکنیشن  کانام تھا ۔ purambel Abbo Pudiakal maliakal  اس میں اس کا اصل نام  Abbo ہے۔ Nalaghat Muhammad چار کمروں  والامحمد  ناریل  کے درخت  بھی ان کے نام کا حصہ بنتے ہیں ۔ paneka vettal hamza اس کے ساتھ باپ کا نام بھی لکھو ائے تو بات کہا ں تک پہنچے گی ۔ انگریزوں کا بھی یہی  حال ہے۔ ان میں گرین ، براؤن ، وہائٹ، بلیک، ریڈ، گولڈن، سمتھ  ، ملر وغیرہ  سب ملیں گے ۔ ہماری ایک پڑوسن کا نام گلشن آرا  ہے لیکن شکل دیکھیں تو لگتا ہے گلشن پر آرا پھرا ہوا ہے۔

جولائی، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/what’s-in-a-name?--بتا-تیرا-نام-کیا-ہے؟/d/98419

 

Loading..

Loading..