New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 06:59 AM

Urdu Section ( 11 March 2015, NewAgeIslam.Com)

We and the Support of the Shrines ہم اور مزارات کا سہارا

 

 

 

  

 

 

 

حسین امیر فرہاد

کمزور انسان پر جب کوئی مصیبت  آتی ہے اور اس سےنجات وہ اپنے بس میں نہیں پاتا تو وہ سہارا تلاش کرتاہے چاہے وہ تنکے کا ہویا شہتیر کا۔ مجھے چند دوست  عبداللہ شاہ صحابی کے مزار پر مکلی ضلع ٹھٹّہ لے گئے تھے جانا تو انہوں نے تھا مگر ان کے پاس موٹر نہیں تھی ، موٹر میرے پاس تھی ۔

وہاں عجیب مناظر دیکھےمزار کے سامنے ایک کھمبا  تھا اس کے گرد باری باری لڑکیاں جھول رہی تھیں  او ر کہتی جاتی تھیں کہ بابا تجھ سے ہی لوں گی، بابا تجھ سےہی لونگی ، تو تو دلوں کا حال جانتا ہے ۔ میں نے اپنے دوست شمع بھائی سے پوچھا کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟ ۔ کہا حاضری لگ رہی ہے ۔ اس لڑکی کے ماں باپ بھی وہیں بیٹھے رو رہے تھے ۔ میں نے لڑکی کےباپ سے تنہائی  میں پوچھا کہ بات کیا ہے؟ ۔ اُس نے بتایا کہ یہ میری بیٹی  ہے اسے محلے کے ایک لڑکے سے پیار ہوگیا ہے ، ہم نے اِسے ملنے سے منع کیا تو اس پر دوڑے پڑنے لگے جو ان لڑکی ہے ہم اس کی وجہ سے بہت پریشان ہیں اب ہم نو چندی جمعرات کو یہاں حاضری دیتے ہیں کچھ افاقہ ہوجاتاہے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کریں ۔ وہ لفنگا بھی وہ سامنے بیٹھا ہے ۔ اگر وہ پڑھا لکھا ہوتا تو کہیں  نوکر ہوتا تو ہم دونوں کی شادی کرا دیتے لیکن انپڑھ لفنگا ہے۔

ہمارے ہر صوبے کی یہی داستان ہے حتیٰ کہ پڑھے لکھے اور خرافات کو نہ ماننے والوں پر بھی جب اس قسم کی مصیبت  آن پڑتی ہے تو وہ بھی درگاہوں ، تعویذ گنڈوں اور دم درود کرنے والوں کو تلاش کرتے ہیں ۔ پچھلے دنوں جب پاپوش نگر کراچی کے قبرستان میں لمبی داڑھی والامرغی بابا پکڑا گیا تھا جب اس کی داڑھی صاف کی گئی تو اچھا خاص جوان نکلا آج کل وہ محنت مزدوری کررہا ہے۔ جب اس نے ٹی وی کیمرے کے سامنے پوچھا کہ یہ (قبرستان والا) کام کیوں کرتے ہو اچھے خاصے جوان ہو؟۔ تو اس نے کہا تھا کہ جب تک بیوقوفوں کا وجود دنیا میں قائم ہے یہ کام چلتا رہے گا میں نہیں تو کوئی اور کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے واشگاف الفاظ میں دنیا کو سنا دیا کہ بیوقوف وہ ہیں جو میرے پاس آتے ہیں حالانکہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

رب نے بھی واضح طور پر  فرمایا ہے۔ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۚ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ (35:13) وہی اللہ تمہارا پالنے والا ہے بادشاہی اسی کی ہے اور اسے چھوڑ کر تم اُسے پکارتے ہو جو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر طاقت نہیں رکھتے ۔

فرمایا ! أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ( 2:107) کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی ملکیت اللہ کی ہے اس کے علاوہ تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ۔ ( یہ درگاہیں تو کچھ حیثیت  نہیں رکھتیں) فرمایا رب نے يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِن دُونِي أَوْلِيَاءَ ۚ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلًا (18:102) جو میرے بجائے میرےبندوں کو کار ساز اور مددگار سمجھتے ہیں ، کیا سوچتے ہیں؟ ہم نےایسے کافروں کے لئے جہنم کی مہمانداری تیار کر رکھی  ہے۔ اللہ کے علاوہ دیگر سہارے تلاش کرنا شرک ہے۔ فرمایا رب نے ۔ قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ (26:74)جب انہیں منع کیا جاتاہے ۔ تو کہتے  ہیں کہ، ہم نے اپنے باپ دادا کو یہی کرتے  پایاہے ۔ ارشاد ہے۔

مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ ۖ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ (29:41:42) جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے پر سرپرست ( سہارے) بنا لئے ہیں ان کی مثال ایک مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے۔ اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا ہی ہوتا ہے۔  کاش یہ لوگ علم رکھتے یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پکارتےہیں اللہ اس کو خوب جانتاہے ۔ وہ زبردست حکمت والا ہے۔

جب اسلام کی اشاعت روم، ایران،اور ہند تک پہنچی تو اس کی تعلیمات ان اقوام کے ذہن و قلب میں بار نہ پاسکیں کیونکہ یہ اقوام صدیوں سے ایسی روایات  اور رسوم کی پابند تھیں جو آریائی مزاجِ عقلی سے مخصوص  ہیں اور جس کے لئے اسلام کی سامی  تعلیمات اجنبی  تھیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کے پردے  میں تصوف حلول تناسخ سریان و جودیت اوتار وغیرہ کے افکار و روایات برابر پنپتے رہے اور رفتہ رفتہ اس حد تک سرایت کر گئے کہ ان کو اصل مذہب سے جدا کرنا نا ممکن  ہوگیا ہے ۔ ایرانیوں میں زر تشتی رسومات   زندہ  رہیں مثلاؑ آتش پرستوں کا نوروز آتش بازیاں لے کر ہمارے ہاں شب برات بن گیا بہت سے عقائد بارپا گئے جیسے تقدیر بخت قسمت کا عقیدہ یہی حال ہند کا ہے  ہمارے بہت  سے عقائد ہندوانہ ہیں۔ جب  ہی علامہ نے کہا تھا  کہ

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں  دیکھ کر شرمائیں یہود

ہندو قوم کو جب کبھی بھی مشکل کا سامنا ہوتاہے وہ کسی مندر کا رخ کرتےہیں بھگوان کے بت کے سامنے اپنی مشکل بیان کرکے ہلکے پھلکے ہوکر لوٹتے ہیں انہیں سر جھکانے کے لئے کسی چوکھٹ کی ضرورت پڑتی ہے ہمارے ہاں یہ انتظام نہیں تھا ان دیکھے یا نظر نہ آنے والے اللہ سے تسلی نہیں ہوتی تو دل کا بوجھ ہلکا نہیں  ہوتا تھا یہ کمی ہمارے بزرگوں نے پوری کردی شہر شہر، قریہ قریہ، محلّہ محلّہ درگاہوں کا انتظام کر دیا گیا اب لوگ درگاہوں مزارات پر جاکر مشکلات بیان کرتے ہیں اور ان کا خاتمہ  تلاش کرتے ہیں ۔

 اجمیر شریف کی درگاہ پر جانے والے نومسلموں سے جب پوچھا گیا کہ آپ لوگوں کے سامنے کوئی مشکلات تونہیں ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ جب ہم گلیوں  میں سےہوکر دربار تک آتےہیں اور گھروں سے بھجنوں اور کیرتن کی آواز سنتے ہیں تو ہم تشنگی  محسوس کرتےہیں یہ نیا دین  ٹھیک ہے مگر اس میں غنا، ردھم موسیقی نہیں ہے یہ کمی ہے۔ یہ خبر امیر خسرو کو پہنچائی گئی تب موسیقی  کا انتظام بھی کردیا گیا نعت قوالی کو ایجاد کیا گیا ۔

قارئین آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ مزارات اور درگاہیں کیسے وجود میں آتی ہیں ۔بلاشبہ ان میں اچھے  لوگ بھی ہوں گے جنہوں نے اسلام کی تبلیغ کی ہوگی ، مگر ان کی بھی بڑی تعداد ہے جو میں پیش کرنے والا ہوں ۔

مسافر بابا:۔نو شہرہ بدرشی بہن کے ہاں جانا ہوا تو گلزار ملا، کہا آؤماموں کھانا کھا لیں ۔ میں نےپوچھا کہاں؟ کہا مسافر بابا کے مزار پر ۔ میں نے کہا میں تو بچپن میں یہاں رہا ہوں کراچی جانے سے قبل تو یہاں اس نام کی کوئی درگاہ نہیں تھی ۔ کہا آؤ تو سہی ، وہ مجھے تھوڑی دور لے گیا درختوں او رپودوں کے درمیان خوبصورت مزار تھا ۔ مسافر بابا کے نام کی تختی لگی تھی ایک کمرہ بھی بنا تھا پانی کی سبیل تھی ۔ جھنڈے لہرارہے تھے اچھی خاصی درگاہ تھی ۔ میرےسامنے بریانی رکھی تو میرے ساتھ جو شخص کو بٹھایا گیا اسے میں داڑھی کے باوجود پہچان گیا میں نے کہا تم ‘‘ والڈہیم’’ ہو اس نے کہا خوب پہچانا فرہاد صاحب ( وہ باتیں دانشمندی کی کرتا تھا اسی لئے گاؤں والے اسے والڈہیم کہتے تھے ) میں نے پوچھا یہ مسافر بابا کا کیا چکر ہے؟ کہا ایمونیشن ڈپو میں جب میرا ہاتھ کٹ گیا تو انہوں نے کچھ پیسے دئیے اور نوکری سے نکال دیا پیسے چند مہینے میں ختم ہوئے ، کیا کرتا بیوی بچوں کے ساتھ تھا چرس توہم پیتے ہی تھے بیچنا بھی شروع کردیا روزانہ پویس پیچھے ہم آگے، ہم  تنگ آگئے تھے کہ اللہ مہربان ہوا۔ ایک راہگیر زیارت کا  کا صاحب پیدل جارہا تھا سڑک تو ہمارے گاؤں کے بیچ سے گزرتی ہے بس والا موٹر سائیکل کو بچا رہا تھا کہ راہگیر کو ٹکر مار کر ہلاک کردیا ۔ ہم نے اسے پکڑ لیا اس نے تین ہزار روپیے دے کر جان چھڑا ئی ۔ ہم نے اس لاوارث مسافر کو یہاں دفن کردیا ۔  بوٹے پودے لگائے سالانہ عرس اور قوالی بھی ہوتی ہے ۔ اب پولیس یہاں نزدیک نہیں ٓاتی ہم نے بتادیا کہ اگر ہمارےنزدیک آئے تو مذہبی تقدس پامال ہوگا ۔ اب ہم چرس پیتے بھی ہیں اور بیچتے بھی ہیں پولیس نزدیک نہیں آتی ۔ ہم نےمسافر بابا کی کرامات بیان کرنے میں فراخ دلی سے کام لیا، محنت کی ہے۔

کہا! ماموں ہمیں ضرورت تھی ایک درگاہ کی وہ ہمیں مل گئی ۔ آپ نے سنا ہوگا ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے ۔ بھوک کی مار بڑی جان لیوا ہوتی ہے ۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں اگر پیٹ کا معاملہ نہ ہوتا تو شکاری دریا میں کنڈا نہ لٹکا تا ، پھر کہا نہیں نہیں  اگر پیٹ کامعاملہ نہ ہوتا تو مچھلی کنڈے میں نہ پھنستی ۔ شکاری چارہ لگا کر کنڈا لٹکا تا ہے اپنے پیٹ کے لئے او رمچھلی چارہ دیکھ کر اپنا پیٹ بھر نے آگے بڑھ کر پھنستی ہے۔ ماموں ہمارابھی پیٹ کامعاملہ ہے کیا کریں؟ سرکس کا رنگ ماسٹر شیر جیسے درندے کے چابک مار مار کر چھوٹے اسٹول پر بیٹھنے کےلئے مجبور کرتاہے ۔ شیر اس کے اشاروں پر ناچتاہے کیونکہ وہی چابک والے ہاتھ اسے کھانے کو دیتے ہیں ۔ میں نے پوچھا والڈ ہیم یہ بتاؤ یہ بڑی درگاہیں کیسےوجود میں آئیں؟  کہا! وہ ہمارےبڑے بھائیو ں کا کارنامہ ہے۔

شیخ بابا:۔ یہ درگاہ  میرے نانا کے کھیت میں ہے  کھوکے قریب تین فٹ کی چہار دیواری ہے کوئی دروازہ نہیں ہے ۔ سرہانے  کالے کالے سوراخ ہیں یہ چراغوں کے دھوویں سے کالے ہوئے ہیں ۔ میں نے ایک دن ماموں سے پوچھا کہ یہ درگاہ کس بزرگ کی ہے؟ ۔ کہا یہ ہمارے دادا جان کی ہے۔ کیا وہ کوئی ولی تھے؟ میں نے پوچھا ؟۔

کہا ولی تو نہیں تھے ۔ مجبوری میں ولی بنانا پڑا ۔ اطراف میں سب ہی ایسی درگاہیں ہیں ۔ بات یہ ہے بھانجے کہ اذانوں کے وقت ہم ہل اوربیلوں کےساتھ گھروں سےنکلتے تھے ۔ سارا دن کام کرکے شام کو تھکے ہارے گاؤں واپس جاتے ہوئے جملہ سامان بھی واپس کاندھے پر رکھ کر لے جانا پڑتاتھا ۔ یہ بڑا مشکل کام تھا ۔ اگر کھیت میں چھوڑ کر جاتے تو چور لے جاتے ۔ اس لئے ہم چاروں بھائیوں  نےسوچا کہ جب دادا جان کا انتقال ہوگا تو انہیں یہاں دفن کردیں گے اور مشہور کردیں گے دادا جان پہنچے ہوئےبزرگ تھے ۔ رات خواب میں آئے تھے ۔ پھر ان کی درگاہ بنا دیں گے۔ اس طرح شام کو جاتے ہوئے سامان درگاہ میں رکھ کر جایا کریں گے۔ جان چھوٹ جائے گی روز لانے او رلے جانے سے ۔  کیونکہ چور کی جان نکلتی  ہے کوئی چیز درگاہ سے اٹھانے سے ۔ آج  دیکھ لو ہر چیز درگاہ میں پڑی رہتی  ہے ۔ کوئی خطرہ نہیں ۔ یعنی درگاہیں ضرورت کے تحت ایجاد ہوئی ہیں ۔ ورنہ جو مر گیا وہ اپنے اوپر سے مکھی بھی نہیں اڑا سکتا ۔ اگر اس سے تسلی نہ ہوئی ہو تو راجہ مہدی علی خان کی منظوم داستان پڑھئے کتاب کا نام ہے ‘‘ انداز بیان اور’’۔

وہ لکھتے ہیں دو قبیلوں کی آپس میں دشمنی تھی مگر ایک مجبوری تھی کہ ماندہ خیل میں درگاہ تھی جب کہ بلند خیل درگاہ سے محروم تھی، ماندہ خیل والے اکثر بلند خیل کی درگاہ پر جاتے تھے اور منتیں مانگتے تھے ۔ وہ طعنے دیتے تھے کہ ویسے تو پگڑی کا شملہ اونچا رکھتےہو اور حالت یہ ہے کہ اپنی درگاہ بھی نہیں ہے۔

انہی دنوں پشاور سے قسمت کا مارا ہوا مولوی اس طرف نکل آیا ۔ ماندہ خیل کے ہتھے چڑھ گیا ۔ انہوں نے اس کی خاطر مدارات کیں اور پوچھا کہ یہ بتاؤ سید ہو، حاجی ہو، یا مولوی ہو؟ ۔ نووارد نے بتایا کہ مولوی ہوں ۔ سب  نے اللہ کا شکر ادا کیا مولوی سے کہا! ہم بلند خیل کے طعنے سن سن کر پریشان تھے آخر اللہ نے غیبی مدد بھیج دی۔ مولوی صاحب آپ کی مسجد ہوگی۔ جب تک زندہ ہیں ہم آپ کی قدر کریں گے ۔ مرنے کے بعد آپ کی ایک حسین درگاہ ہوگی لوگ مرادیں مانگنے آئیں گے ۔ ہم آپ کو یہیں دفن کر دیں گے ۔ کم از کم بلند خیل کے  طعنوں سے تو بچ جائیں گے ۔ مولوی کو جب ان کے ارادوں کا پتہ چل گیا تو وہ راتوں کو نکل کر بھاگنے کی کوشش کرتا، مگر ممکن نہ تھا کوئی نہ کوئی دیکھ لیتا ۔ بالآخر گاؤں والوں اُسے کاٹ ڈالا کہا۔ کہا اگر خود مرتا تو عام موت مرتا لو ہم نے اس کی شہادت کا تاج بھی پہنا یا۔

وطن کو چوری چوری جارہے تھے

بہت دنوں سے تم گھبرا رہے تھے

کر دیئے ہم نے تیرے چار ٹکڑے

ہو گئے دور تیرے یار دکھڑے

مسجد میں یہ بہت بولتا تھا

کفن سرکاؤ اس کی بےزبانی دیکھتے جاؤ

ان تصریحات سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود تھا کہ ضرورت مندوں کی ضرورت نے ان کا رخ کیسے تصوف کی طرح موڑا حقیقت  تو یہ ہے انسانیت کی اس سےبڑی تذلیل او رکیا ہوگی کہ زندہ مردے کے سامنے گڑگڑائے۔ مذہب جب دورِ تنزل میں داخل ہوتاہے تو تعصب بے جا کا خطرناک رجحان اجتماعی صورت اختیار کر لیتا ہے ایک مذہب دوسرے مذہب کا بلکہ دوسرے مذہب کا کیا ایک ہی مذہب کا ایک فرقہ دوسرے فرقے کا دشمن بن جاتا ہے ۔ اس تعصب  بے جا سے عام انسانی قدریں بھی مجروح ہوجاتی ہیں چنانچہ مذہب کے نام پر بے دریغ خون بہایا جاتا ہے اور اسے اخلاق کے منافی قرار نہیں دیا جاتا ہے ۔ مذہب کے نام پر جو خونریزی ہوئی ہے اس سے تاریخ عالم کے صفحات لالہ زار ہیں یورپ کی تیس سالہ جنگ میں کلیسائے روم اور اصلاح یافتہ کلیسا پیروؤں نے بے شمار لوگوں کو موت کےگھات اتار دیا ۔ فرانس میں سین بار تو لوموکا قتلِ عام مذہب کے نام پر کیا گیا۔ سلیم عثمانی  نے اسلام کے نام پر 25 ہزار اثناء تھما نہیں عشریوں کا قتلِ عام کیا، دوسری طرف شاہ اسماعیل صفوی نے اسلام ہی کے نا م پر 20 ہزار معصوم سینوں کو لقمۂ شمشیر بنایا ۔ اور یہ سلسلہ تھما نہیں آج تک دونوں ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں ۔ اور دونوں اپنے مردوں کو شہید کہتے ہیں ۔ یورپ از منۂ وسطیٰ میں ہزاروں عورتوں کو جادو گرنی کا نام دے کر زندہ جلایا گیا ۔ یورپ میں کالی وبا پھیلی تو مقتد یان مذہب نے کہا اس کا باعث یہودی ہوئے ہیں چنانچہ یہودیوں کا چن چن کر سولی پر چڑھا دیا گیا  ہندوؤں نے نہایت بیدردی سے بدھوں کا استحصال کیا تقسیم ہند کے موقعہ پر مذہب کے نام پر کم و پیش پندرہ لاکھ بے قصور انسان نہایت سفاکی سے تہ تیغ کردیئے ۔

مرور زمانہ  سے جب مذہب خود رسوم بے جان کا مجموعہ بن کر رہ جاتاہے ۔ تو اس کی اصلاحی اور انقلابی روح غائب ہوجاتی ہے ۔ ایمان  کی جگہ متکلمانہ استدلال اور خلوص کی جگہ ریاکاری لے لیتی ہے لوگ ظاہری احکام کی پابندی کو مذہب کی پابندی  سمجھنے لگتے ہیں اور تصفیہ اور تزکیہ اخلاق کو اہم نہیں سمجھا جاتا جو شخص ظاہری آداب و شعائر کا لحاظ روا رکھتاہے اسےمتذین سمجھ لیا جاتا ہے ۔ چاہے وہ اندر سے چنگیز کیوں نہ ہو۔

فروری، 2015  بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/we-and-the-support-of-the-shrines---ہم-اور-مزارات-کا-سہارا/d/101911

 

Loading..

Loading..