New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 02:10 AM

Urdu Section ( 8 Sept 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sai Baba Says…….. سائیں بابا نے کہا

 

حسین امیر فرہاد

فرہاد صاحب السلام علیکم ، آؤ آؤ سائیں بابا، وعلیکم السلام جنت المقام اچھا ہواا ٓپ آگئے، گپ شپ لگے گی دل بہلے گا زندگی اچھی گزرے گی۔ سائیں بابا یہ بتاؤ اس زندگی میں کیا کھویا کیا پایا؟ ۔ فرہاد صاحب ! دو لفظوں میں جواب یہ ہے کہ جوانی کھوئی اور بدلے میں بڑھاپا پایا، اور جوانی ہے کہ کیا چیز جو ساتھ چھوڑ جائے، بات کرو بڑھاپے کی جو قبر تک ساتھ دیتا ہے ۔ مشتاق احمد یوسفی نے کیا خوب بات کہی ہے ۔ کہتے ہیں بڑھاپے  کا دور کیا بے ضرر اور بے خطر دور ہے۔ اس عمر میں اگر فلم اسٹار ‘‘ریما’’ مل جائے تو بوڑھا آدمی اتنا  ہی کرسکتا ہے کہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کرلمبی عمر کی دعا دے دے۔ اور بوڑھا آئینے کا محتاج بھی نہیں  ہوتا کوئی دو سال ہوگئے کہ میں نےآئینے میں نہیں جھانکا ۔ اگر آئینے نے مجھ میں جھانکا ہو تو اور بات ہے۔ خیر ہر حال میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ زندہ تو ہوں ۔ حالانکہ ۔

زندہ ہوں اس طرح سے زندگی نہیں              جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نہیں

نہ اٹھاجائے ہے مجھ سے نہ بیٹھا جائے ہے مجھ سے

اگر کچھ جائے ہے مجھ سے تو ہانپا جائے ہے مجھ سے

سائیں بابا ! میرے سامنے روشنی کا رونامت رونا پورے میں روشنی کا فقدان ہے ۔ خوش ہوجاؤ کہ مولانا عبدالقدوس نے جمعے کو وعظ میں فرمایا تھا کہ غریب آدمی  جو یہاں روشنی کے لئے ترستا تھا اس کی قبر میں روشنی ہوگی ۔ فرہاد صاحب! مجھے یہاں روشنی کی ضرورت ہے قبر میں کیا میں نے اخبار پڑھنا ہے؟۔ علامہ اقبال نے بھی تو بجلی کے بارے میں کچھ فرمایا تھا ۔

یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت                   پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں            ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی                        گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

شہری ہو دیہاتی ہو، مسلمان ہے سادہ              مانندِ بتاں پجتے ہیں کعبے کے برہمن

نذرانہ نہیں سود ہے پیرانِ حرم کا                  ہر خرقہ ء سالوس کے اندر ہے مہاجن

ہر بڑے چھوٹے شاعر نے بجلی کے بارے میں کچھ نہ کہا ضرور ہے ۔ فرہاد صاحب ! کیا مرزا غالب نے بجلی کے بارے میں  کچھ کہا ہے؟ اُن کے زمانے میں بجلی کا کیا حال تھا؟ ہاں سائیں بابا ! اُن کی ایک غیر مطبوعہ غزل تو ہے یہ انہوں نے اس وقت کہی تھی جب ان کی بجلی کاٹ دی گئی تھی ۔

غالب کی غیر مطبوعہ غزل

یہ تو بجلی نہیں بیماری  ہے                                کہ اندھیروں کا راج طاری ہے

پھر وہی  رات دن اندھیرا ہے                        پھر وہی زندگی ہماری ہے

واپڈا کے ان ناخداؤں سے                            ایک فریاد آہ و زاری ہے

مجھ کو لے جارہے ہیں کونے میں                   کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

ہم سے بجلی جو کٹ گئی غالب                          اس لئے آج اشک جاری ہے

فرہاد صاحب ! یہ غالب واقعی غالب تھے یا ایسے ہی شہرت حاصل کی تھی؟ ۔ اور انہوں نے شادی کی تھی ؟۔

سائیں بابا! باقاعدہ شادی کی تھی بیوی کا نام بیگم غالباً تھا، ہمارے قریب ہی  رہتے تھے گلی قاسم جان محلّہ بلی ماران میں ہم ان کے پچھواڑے رہتے تھے ۔ آپ نے پوچھا کہ ‘‘غالب واقعی غالب تھے ’’ تو لگتے تو تھے آگے اللہ کا علم ہوگا ہمارے محلے میں نام کی یکسانیت سےایک شخص مرگئے تھے بعد میں فرشتوں  نے چھوڑ دیا وہ جنت کے قصے سنارہے تھے ان سے کسی نے غالب کا پوچھا تھاکہ کیا واقعی غالب تھے، انہوں نے بتایا کہ لگتے تو تھے آگے اللہ کو علم ہے۔

فرہاد صاحب ! یہ نام کی یکسانیت کا کیا معاملہ ہے؟ ۔ سائیں بابا ! ہمارے محلے میں دو ہم نام رہتے تھے ،منشی جمعہ خاں اور کاتب جمعہ خاں۔ منشی جمعہ خاں مر گئے تھے یعنی جنت مکانی ہوگئے تھے بعد میں انکوائری ہوئی تو پتہ چلا کہ روح قبض کرنی تھی کاتب جمعہ خاں کی لے آئے منشی کی تو وہ قصے سنارہے تھے کہ مرزا غالب وہ غالب  نہیں رہے وہاں مغلوب بنے پھرتے ہیں ۔

فرہاد صاحب! میر کے بارے میں کچھ بتایا ؟۔ ہاں بتایا تھا کہ ، پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں یہ میر، غالب اور خوشحال خان خٹک وغیرہ شراب کی نہر کے کنارے دری بچھا کر صبح سے شام تک بیٹھے رہتے ہیں لوٹے پہ لوٹا بھر بھر کر پیتے رہتے ہیں حتیٰ کہ داروغہ جنت آکر انہیں اٹھاتے  ہیں کہ بس کرو بزرگو! رات ہوگئی ۔

فرہاد صاحب ! آج کل ٹی وی پر شاہ صاحب کا اشتہار بہت آرہا ہے اِن کا دعویٰ ہے ہر مشکل کا خاتمہ فون کی ایک کال پر یا استخارہ پر حل کرسکتے ہیں، دیکھا جائے تو یہ خدائی دعوے ہیں آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ ۔ سائیں بابا آپ کو کوئی اعتراض ہے؟ وہ قبرستان میں جو پیر پکڑا گیا تھا اُس سے مائیک نے سوال کیا کہ آپ کب سے یہ دھندہ چلارہے ہیں او رکب تک چلانے کا ارادہ ہے؟ ۔ پیر صاحب نے جواب دیا کہ جب تک بیوقوفوں کا وجود ہے اس دنیا میں ہمارا روزگار چلتا رہے گا۔

یعنی یہ بیوقوف ہیں جو ہمارے دام میں پھنستے ہیں یہ لوگ ٹی وی پر اتنے مہنگے مہنگے اشتہار دیتےہیں تاکہ روزی روٹی کمائیں شہر کی دیواریں بھی گندی کررکھی ہیں اس مشکل کو کیوں حل نہیں کرتے نون لیگ کو آج کل جو مشکلات درپیش ہیں مشرف کا قضیہ ہے، دہشت گردوں سے نبٹنا آپریشن وزیرستان  کامعاملہ  ہے اور عمران خان کو منانا ہے یہ مشکلات بھی حل طلب ہیں ۔

اگست، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی 

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/sai-baba-says……--سائیں-بابا-نے-کہا/d/98969

 

Loading..

Loading..