New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 05:28 PM

Urdu Section ( 7 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Palestinians and Arab Gulf فلسطینی اور خلیجی عرب

 

 

حسین امیر فرہاد

اصل معاملہ پر روشنی  ڈالنے سے پہلے تمحیداً چند الفاظ پچھلے شمارے میں پیش خدمت کر چکا ہوں ۔ کہ ہم پاکستانیوں میں یہ معجزانہ خاصیت ہے کہ ہم اُس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں جس کے متعلق ہم کچھ نہیں جانتے۔ آج کل تو کمپیوٹر کافی معلومات مہیا کرتا ہے مگر کافی حد تک تشنگی رہ جاتی ہے جن کے متعلق ہم لکھنا چاہتے ہیں جب تک اُس علاقے کو وہاں کے لوگوں کو دیکھ نہ لیا جائے انکے ساتھ چند دن قیام نہ کیا جائے ان کے رہن سہن  اور ثقافت سےواقفیت حاصل نہ کر لیں ۔ بات بنے گی نہیں۔ اندھے اور ہاتھی کی تشبیہ والی بات ہوگی۔ مثلاً  ایک نووارد انگریز رمضان میں خلیج کی کسی بھی ریاست میں سگریٹ کے کش لگاتا ہوا چہل قدمی کررہا ہو تو وہ  مارکھائے گا ، اس مقصد کے لئے انہوں نے یہ انتظام کیا ہے کہ جب کوئی جہاز سے اتر کر ائیر پورٹ کی عمارت کی طرف آتا ہے تو وہاں بورڈ لگایا ہوتا ہے کہ تم اسلامی ملک میں داخل ہورہے ہو یہاں اس مہینے میں دن کو کھلے عام کھانا پینا اور تمباکو نوشی منع ہے۔

اسرائیل تل ابیب حیفا ہو یا کوئی اور شہر اگر آپ کھلے عام سنیچر یعنی ہفتہ کے دن چہل قدمی کرتے ہوئے سگریٹ پیتے ہوئے نظر آئے تو شامت آئے گی کیونکہ ان کے ہاں سبت کو آگ جلانا ہی منع ہے اسی لئے وہاں غیر ملکیوں کے لئے سموکنگ روم بنے ہوئے ہیں ۔کوئی عراقی پاکستان میں بدکاری کے لئے کسی  کے گھر میں گھس جائے تو اگر قتل نہ ہوا تو مار تو کھائے گا اور ہوسکتا ہے وہ جیل بھی  جائے ۔ کیونکہ وہ پاکستانی تہذیب سے واقف نہیں ۔

ان کے ہاں کوئی بھی کسی کے گھر میں گھس جائے ۔ وہاں میاں بیوی جوان بیٹیاں  اور بیٹے موجود  ہیں ، وہ حیرانی  سے دیکھیں گے کہ یہ اجنبی کون آیا۔ یہ سلام  کرے گا وہ پوچھیں گے خیر ہے کیسے آنا ہوا؟  ۔ یہ اپنی جگہ کھجاتا ہوا مقصد بیان کرے گا، گھر والا جواب دے گا کہ ھذابیت شریف۔ آپ غلط جگہ  آگئے یہ شریفوں کا گھر ہے، جا بیٹی اسے وہ گھر بتا دے پریشان پھر رہا ہے۔ وہ یہ فرض انجام دے گی۔ میں سرکاری  کام سے گیا تھا ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا رات کسی نے دروازے پر دستک دی دروازہ کھولا تو ایک آدمی تین لڑکیاں لے کر آیا تھا  للا متعہ ای واحدہ ترید۔کہا متعہ کے لئے لایا ہوں کون سی چاہئے ؟۔ میں نے کہا میں تھوڑی  دیر میں رخصت  ہورہا ہوں شکریہ ۔ وہ آگے بڑھ گیا اور دوسرے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔ پھر سنا تھا کہ عبدالرحمٰن  عارف نے آڈر دیا کہ یہ کاروبار کرنے والے گھروں پر جھنڈالگالیا کریں تاکہ کسی گاہک کو زحمت نہ ہو۔

قارئین آپ ہی بتائیں کہ جائے بغیر کسی کے تہذیب و تمدن سے اور رسم و رواج سے گھر بیٹھے واقفیت کیسے حاصل ہوسکتی ہے ۔ حسنی زیدان  جنینہ فلسطین کے رہنے والے تھے یہ طول کرم کے قریب ہے۔ فلسطین عربوں کے درمیان ایک خنجر نما ٹکڑاہے جسے عرب فلسطین کہتےہیں اور یہودی اسرائیل کہتے ہیں دارالحکومت کا پرانانام یروشلم تھا نیا نام تل ابیب  ہے۔

 قطر فورس میں حسنی زیدان آفیسر تھا اس کے تین بیٹے تھے ، دو جسمانی اور شکل و صورت کے لحاظ سے بہتر تھے تیسرا کمزور ناتواں تھا اور دماغی طور پر بھی درست  نہیں تھا ۔ جب منظمۃ تحریر الفلسطین ۔ کی طرف سےحکم آیا کہ ہر فلسطینی اپنے تین بچوں میں سے ایک وطن کی آزادی کے لئے وقف کردے تو حسنی زیدان اور مروان کو میرے توسط سے لاہور بھیجا تعلیم کےلئے اور صفوان کو منظمۃ الفلسطین کے حوالے کیا، میں نے کہا یہ کیوں؟

کہا اُن دونوں کو مرنے کے لے نہیں بھیج سکتا مرنے دو اس کو یہ ویسے بھی کسی کام کے قابل نہیں ہے۔ اس وقت یاسر عرفات کو یت کی ایک کمپنی  میں ویلڈر تھا ۔ کوئی اُسے پہچانتانہیں تھا۔

جب میں ( 1970ء) میں کویت میں مندوب تھا ویزہ آفس  کی ونڈو کے سامنے لائن لگی تھی آٹھ آدمی میرے آگے تھے اور چھ سات آدمی پیچھے کھڑے تھے ایک کویتی  آیا اور ہم سب کے آگے بے نمبر کھڑا ہوگیا اسے چاہیے تھا سب سے پیچھے کھڑا ہوتا مگر وہ وطنی تھا ہم سب اجانب تھے ان کے لئے ہر ناجائز کام بھی جائز ہوتا ہے۔ اس کی اس زیادتی پر میرےمنہ سے نکلا ( یہودی واحد) اس کا معنی ہوتا ہے یہودی کہیں کا۔ میرے آگے لمبا تڑنگا عربی کھڑا تھا مڑکر میری طرف افسوس ناک نظروں سے دیکھا کہ عیب علیک برائی تمہاری طرف متوجہ ہو ظلم کیا تم نے اس حیوان کو یہودی کہا، کیا تم  یہودیوں کے ساتھ رہے ہو ان  کےساتھ کاروبار کیا ہے ، کھایاپیا ہے؟ ۔ میں نے کہا نہیں۔

کہا پھر  تم نے اس حیوان کو یہودی کیوں کہا جب  تمہیں یہودی او رکویتی کا فرق نہیں معلوم  ۔کہا کام ختم کرلو تو سامنے ریستوران میں بیٹھیں گے۔ ( ریستوران  کو ہمارے یہاں ہوٹل کہتے ہیں) کام ختم کرنے کے بعد ہم ریستوران میں بیٹھے قہوہ منگایا کہا میں کویت آنے سے پہلے مصر کی فوج میں بینڈ ماسٹر تھا ۔ مجھے حکومت  نے انسٹرومنٹ خرید نے کے لئے فرانس بھیجا میں جس  شوروم میں گیا وہاں انچارج ایک یہودن تھی وہ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آئی  وہ میری ہم وطن نکلی سامان کی لسٹ مجھ سے لے لی اور کہا آپ نے گھومنا ہوتو جائیں گے تو سامان پیک ملے گا۔ میں دو تین گھنٹے بعد آیا تو سامان تیار تھا بل دیکھا اور اپنی تلاشی لی تو معلوم ہوا کہ میں اپنی ذاتی خریداری میں پیسے زیادہ خرچ کر بیٹھا ہوں ۔ میں نے اس سےکہا کہ آپ اس بکس میں سے کچھ آئٹم کم کردیں میرے پاس رقم کم پڑ گئی ہے۔

اس خاتون نے کہا میں کس لئے ہوں رب مسبب ہے اسے علم تھا کہ ایک دن آپ آئیں گے آلات موسیقی خریدنے اور آپ کے پاس رقم کم پڑجائے گی  اسی لئے رب نے مجھے  آپ سے پہلے بھیجا۔ میں اپنی تنخواہ سےادا کروں گی اور جب تم پھر آؤگے تو مجھے میری رقم لوٹا دینا آخر ہم  ہموطن ہیں۔

میں نےکہا میں چار ماہ بعد لوٹوں گا بتاؤ آپ کو اپنے وطن سےکیا چاہئے؟

کہا دو کلو دھن البلدی ( دیسی گھی) اور دو کلو ملوخیہ ۔( یہ ایک ساگ ہوتا ہے سوکھا بھی ملتا ہے یوں سمجھ لیجئے سرسوں کا ساگ ۔ فرہاد) بینڈ ماسٹر نے بتایا کہ میں چار ماہ بعد آیا تو اُس کی مطلوبہ اشیاء لایا اور اس کے پیسے لوٹائے یہود معاملات اور اخلاق میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ آئندہ یہودی کا ذکر احتیاط سے کریں ۔

نام بھی ان سب کے ملتے جلتے  ہیں وہ نام جو مشترکہ ہیں جومسلم کرسچن او ریہودی سب ہی رکھتے ہیں ۔ داؤد ، سلیمان، یعقوب ، اسحاق ، ابراہیم، اسماعیل ، یوسف، یحییٰ وغیرہ۔ صبح پھاٹک کھلتا ہے تو لا تعداد فلسطینی یہودی علاقے میں کام کرنے جاتے ہیں، شام کو واپس  آتے ہیں ۔ یہودیوں کو ماسونیین ۔Masonic  بھی کہتے ہیں اور سبتیین بھی  یعنی سنیچر والے ۔عربوں کے علاقے میں سنیچر ہفتہ کے دن ریستوران کھلے ہوتے ہیں اُن کے ہاں کھانا پکتا ہے مگر یہودی منطقہ میں ریستوران بند ہوتےہیں یہ لو گ گھر وں میں جمعہ کو  پکا کر ہفتے کو کھاتے ہیں ۔ یقین نہ آئے تو سیون ڈے ہسپتال کراچی میں جاکر خود دیکھ لیجئے کینٹین اور طعام گاہ دونوں بند ملیں گے مریضوں کے لواحقین ایمپر یس مارکیٹ جاکر کھانا کھا کر آتے ہیں۔ سبت ہولی ڈے اور یوم النور  کہلاتا ہے سبت کو اسٹاف کی چھٹی ہوتی ہے فری میسن  لاج کراچی  میں پی آئی اے مین آفس کے قریب تھا ، ریوسینما کے قریب انکل سریا ہسپتال سے ذرا آگے یہودی رہتے تھے ان کی بلڈنگ پر چھ کونے کا تارہ بنا تھا ہمارے بڑوں میں لاتعداد فری میسن  کے ممبر تھے ۔

ہمارے بڑے اندھوں کی زندگی گزاررہے  ہیں یہ تو کہتے ہیں کہ قبلہ اول قدس میں ہے ابراہیم علیہ السلام نے جو کعبہ تعمیر کیا مکہ میں  قِيَامًا لِّلنَّاسِ ۔۔۔(5:97)تاکہ انسانیت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکے ۔ اس عظیم گھر کے متعلق رب شہادت  دے رہے ہیں کہ یہ غلط ہے قبلہ اول فلسطین یا اسرائیل میں نہیں ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے۔

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ (3:96) سب سے پہلا گھر ( قبلہ اوّل)  جو لوگوں کے لئے بنایا گیا ۔ وہ گھر ہے جو مکّہ میں ہے،برکت والا، ہدایت والا پورے عالم کے لئے ۔ اگر قدس والا قبلہ  اول ہے  تو کعبہ  ابراہیمی علیہ السلام دو نمبر ہوا۔ جن کو یہ پتہ نہ کہ اللہ کا زمین پر پہلا گھر کہاں ہے۔ ان سے اور کیا امید رکھی جائے۔

یہ صرف رنگی کو نارنگی اور چلتی گاڑی نہیں کہتے اپنے ہی علاقے کو جہاں سے دہشت گردوں کو نکالنے میں لگے ہیں، میزائل ماررہے ہیں اسے علاقہ غیر کہتے ہیں  یعنی  غیروں کا علاقہ۔ تو غیر کے علاقے میں کیوں لڑتے ہو بھائی واپس آجاؤ۔

عربوں کی نظروں میں ہماری عزت اور وقار

کویت کا واقعہ ہے۔ کہ ایک بار کسٹم ڈپارٹمنٹ (پارسل سیکشن) گیا، آفیسر کو کارڈ دکھایا کہ میرا پارسل آیا ہے اس نے کہا انتظار کرو۔ کاؤنٹر کی ایک طرف تھا اور میں دوسری طرف ،اتفاق  سے اُس کی پارسل کھولنے والی قینچی میری طرف گر گئی۔ اُس نے مجھ سے کہا رفیق ناولنی المقص  یعنی رفیق قینچی پکڑا دو۔عرب کا یہ قاعدہ ہے کہ یورپی ممالک کے باشندے کو ‘‘سید’’ کہیں گے، عربی چاہے مسیحی  ہو یا یہودی اسے ‘‘آخ’’ یعنی بھائی کہیں گے اور انڈین پاکستانی  بنگلہ دیشی برمیز وغیرہ کو رفیق کہہ کر مخاطب کرتےہیں ۔ وہ ہمیں پاکستانی  کہنے کے بھی روادار نہیں وہ کہتے ہیں کہ تم روز روز اپنے وطن ( ہند) کو ٹکڑے کرو تو ہم مکلّف نہیں کہ تمہیں نئے نام سے پکاریں ۔ بس تم ہندی ہو اور ہندی ہی رہو گے۔ او رہم تمہیں اس نام سے پکاریں گے ۔ واضح رہے کہ کلمہ رفیق میں ایک چھپی گالی بھی ہے جسے عام آدمی نہیں جان سکتا ۔

 میں نے کہا عیب علیک تقلّی رفیق ماتعرف انا اخوک من موالید لغایۃ الموت ۔برائی تمہاری  طرف رخ کرے مجھے رفیق کہتے ہو جب کہ پیدائش سے لے کر موت تک تمہارا بھائی ہوں ۔ اپنے بھائی کو نہیں پہچانتے ؟۔

میرا یہ کہنا تھا کہ اُس نے دو ہتھڑ اپنے  منہ پر مارے عقال ( سروالی کا لی رسّی) کھل کر گلے میں آگئی اور اس نے رونا دھونا شروع کیا ۔ دوسرے افسران بھی اس کاؤنٹر پر آگئے اندر کمرے سےافسر بھی نکل آیا ، اُس نے کہا ماجد! کیا بات ہے؟۔

کہا جناب ہم تباہ ہوگئے برباد ہوگئے ۔ اب ہند میں بھی ہمارے بھائی پیدا ہونے لگے ۔ یہ جو سامنے ہندی کھڑا ہے یہ دعویٰ کررہا ہے کہ یہ میرا بھائی ہے ..... افسر جو یونیفارم میں ملبوس تھا اور سگریٹ کے کش  لگارہا تھا  ، مجھ سےکہا اتنی زیادتی؟ تمہیں جرأت کیسےہوئی ایک عرب کو بھائی کہتے ہوئے؟ ۔

میں نے کہا  واللہ قریت فی القرآن الحکیم انما المومنون اخوۃ  پڑھا تھا قرآن کریم میں کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی  ہیں۔اور یہ حدیث بھی کہ کل کم انباء آدم و آدم من تراب تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سےبنے تھے ۔ مدیر نے تیس چالیس آدمیوں  کے سامنے سگریٹ  کا ایک زور دار کش لیا اور اسے زمین پر پھینک کر بوٹ سے مسل دیا، کہا آیات القراٰنیۃ دعسنا مثل ھٰذا سجارہ ھل فی معک شی غیر من ھٰذا ؟

تیری  قرآنی آیات کو تو میں نے اس سگریٹ کی طرح مسل دیا اس کے علاوہ کوئی اور ثبوت ہے تو پیش کرو؟۔

میں نے کہا یا سعادۃ ضابطہ اے جناب اعلیٰ آفیسر آپ نے آیت  کا جو حشر کیا اس کے بعد اگر میں کوئی ثبوت دوں تو اننی احمق بلا شبہ میں احمق  ہوں گا۔کہا۔ حزر، دیر بالک دھیان دینا خبر دار آئندہ کسی عربی کو بھائی مت کہنا اور دوسری بات یہ سن لو کہ تم نے حدیث  غلط پڑھی کہ ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سےبنے تھے ۔ ایسی بات نہیں ہے ۔

سید نا آدم جنت سے اس لئے نکالے گئے تھے کہ انہیں بیت الخلاء کی ضرورت پڑ گئی تھی ۔ انہوں نے زمین پر آکر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی حاجت پوری کی۔ تو سیدنا آدم کا قد بہت لمبا تھا سری لنکا میں ان کے قدم کا نشان ہے جو ( وار و نصف) یعنی ڈیڑھ گز لمبا ہے اس حساب سے ان کے پاخانے کی ایک خاصی ڈھیر بن گئی ۔چار پانچ دن بعد سیدنا آدم کا اُس راستے سے گز ر ہوا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس غلاظت کے ڈھیر میں سے کیڑے رینگ رینگ کر نکل رہے ہیں ( کیڑے کو عربی میں  دودا جمع دود کہتے ہیں ۔ جس طرح ایک یہودی جمع یہود یا ایک ہندی جمع ہنودکہتےہیں ۔ فرہاد) تو سیدنا آدم نے کیڑوں کو دیکھ کر کہا ‘‘ یادود انتم تکوا  ہنود ’’ اے کیڑو تم آج سے ہندوستانی ہو، تو اہل ہند تمام کے تمام لوگ سید نا آدم کی غلاظت کے کیڑے ہیں ۔ لہذا آئندہ کسی عرب کو بھائی مت کہنا۔

عربوں کی پاکستانیوں سے دشمنی کیوں ہے؟ یا وہ نسبت پاکستانی کے اہل ہند کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ کچھ تو ہمارے بڑوں نے غلطیاں  کی ہیں جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے اور یہ نفرت کدورت کینہ اس لئے بھی ہے کہ ہم مسلمان ہیں ہمارے  نام عربوں جیسے ہیں۔ جب تک آپ کو ذرا دور نہ لے جاؤں تو آپ سمجھیں گےنہیں ۔ ایک انگریز ( جان ماسٹر) نے ایک ناول لکھا  تھا BHAWANI JUNCTION اسے ہندوستان میں فلمانے کی کوشش کی انہوں نے اجازت نہیں دی کیونکہ اس میں ہندو قوم کی بے عزتی تھی ۔ تب پاکستان نے اجازت  دی او رلاہور کے اسٹیشن  کو بھوانی جنکشن  بنایا گیا او رفلم مکمل کرلی گئی۔ اس کا ہیرو اینگلو انڈین تھا ‘‘وکٹر’’ وہ دوہری نفرت کا شکا ر تھا انگریز اسے کالا  ہندی سمجھتے تھے اور مسلمان اسے کرسٹان ۔ ہندو اسے  اچھوت مسلم او رہندو اس وقت غلام تھے ۔ انگریز ی دور میں ہند کے کرسچن اپنے آپ  کو حکمران جماعت سمجھتے تھے کیونکہ حکومت ان کے ہم مذہبوں کی تھی مسلمان اور ہندو دونوں مسیحیوں سےنفرت کرتے تھے کہ یہ خاکروب تھے اور لیٹر  ین وغیرہ  صاف کرتے تھے ۔

انہی دنوں  دو بھنگی روڈ پر جھاڑو لگارہےتھے ہاتھ میں سائیکل کا مڈ گارڈ بھی تھا اس سے لید کھرچ کھرچ کر ٹوکری میں ڈال رہے تھے کہ اُدھر سے ہندؤں  کا جلوس آرہا تھا وہ  کہہ رہے تھے گاندھی  زندہ باد اور نہرو بھی زندہ باد۔ انا ر کلی کی طرف سے جلوس آرہا تھا ان کے ہاتھوں میں سبز پرچم تھا یہ کہہ رہے تھے پاکستان اور قائد اعظم زندہ باد۔ بھنگیوں میں ایک نے کمر سیدھی  کی دوسرے کو مخاطب کیا ۔ بھئی جیمس اے کی ہوریا اے؟۔

اس نے کہا۔ گل اے وے بھئی وکٹر کہ جب کہ اڑاں دی حکومت سی تد بھی کوئی ہلہ گلہ نئی  سی، جد مغلاں دی حکومت سی تد بھی کوئی گل نئی سی، ھن ساڈی حکومت دادور آیا اے تے اے حرام دے آجاوی منگدینے ۔

پھیر اس دانیتجہ کی نکلے گا؟۔ نتیجہ  کی نکلنا ہے اے آجاوی  منگدے ہیں اسی دینی کوئی نئی ۔

انگریز پھر بھی ان بیچاروں سے نفرت کرتے تھے ان کے کام کی وجہ سے نہیں بڑی وجہ نفرت  کی ان کے ناموں کی وجہ سے تھی عورتوں  اور مردوں دونوں کی بغلوں میں کچرے کی ٹوکری اور دوسرے ہاتھ میں جھاڑو اور نام ہے ولیم، وکٹر، ولسن، جارج، میلکم مائیکل  وغیرہ عورتیں بھی یہی صفائی کاکام کرتی تھیں اور ان کے نام تھے ، روتھ ، ہیلن، روزی اور جوزیفائن وغیرہ۔ اگر ان کے نام انگریزوں سے جدا ہوتے تو انگریز  ان سے اتنی نفرت نہ کرتے برداشت کر لیتے ۔

یہی حال آج کل عرب ممالک میں پاکستانی مسلمان کا ہے۔ مسلمان ماجد ہے حسین ہے حسن ہے علی عمر عثمان ہے ۔ یہ تمام نام عربوں  کے ہیں ۔ عورتوں  کے نام دیکھو تو عائشہ، خدیجہ، زینب، سلمہ، حفضہ ، وغیرہ وغیرہ ۔ آج کل تو ہم او ربھی عربوں سے  جاملے، ہم میں اسامہ ، زید ابوہریرہ ابو ماجد ابو فرح اور معاویہ  وغیرہ بھی پیدا ہوگئے ہیں ۔ نفرت اس حد تک پہنچ گئی کہ میرے بہنوئی انجینئر تھے جب نام درج کروایا پاسپورٹ آفس میں کلرک نے عبدالمجید تو لکھ لیا مگر قریشی چھوٹے کاف سے لکھا کریشی ۔ اُس نے اعتراض  کیا کہ یوں لکھو ‘‘ قریشی’’ کلرک نے کہا ایسا کیسے لکھ سکتا ہوں پھر تو تم ہم میں سے ہوئے بنی قریش  ایک معزز قبیلہ  ہے بھلا وہ تمہارے ہاں  کیا لینے گئے تھے ؟ ۔ تم لوگ روٹی  کی تلاش  میں آجاتے  ہو ہمارے ہاں کبھی قحط نہیں پڑا  کہ ہم نے ہجرت کی ہو۔

البتہ بھارت کے ہندو اور کرسچن ہمارے مقابلے میں قابل احترام  ہیں ہر گھر میں تین ملازم ہوتے ہیں۔ گھریلو خادم ڈرائیور اور بچہ پالنے والی آیا۔ پاکستانی  کے مقابلے میں ہندی  کو اس لئے پسند  کرے ہیں کہ ان کی دو تین ماہ کی تنخواہ مار جاتے ہیں  تو وہ چپ  رہتےہیں ۔ پاکستانی تھانے جاکر رپورٹ کرتے ہیں ۔ چالیس سال سے ہر عربی ہندو کے  ہاتھ کا کھانا کھاتا ہے ہند و یا کرسچن آیا کی گود میں پل کر جوان ہوئے ہیں ۔ چالیس پچاس سال کے عمر کا ہرعربی اپنےلباس میں ہوتے ہوئے مدراسی ، ملباری نظر آتا ہے، آپ اس سے اُردو میں کوئی پتہ پوچھیں وہ حیران ہوکر کہے گا کیا کہہ رہے ہو اناعربی ۔ میں تو عربی ہوں ۔ ان کے گھر وں میں کئی کئی خادم مدراسی  او رملباری  ہیں ۔

ایک ایک حرم  میں کئی بیویاں  ہوتی ہیں۔ دبئی میں عورتوں نےجلوس نکالا تھا کہ جب سے ان  ہوٹلوں میں فلپینی  اور تھائی  لینڈی  لڑکیاں  آئی ہیں ہمارے مرد پندرہ پندرہ دن گھر نہیں آتے۔ برائے کرم 30 سال سے کم کوئی فلپینی  اور تھائی لڑکی کو ویزہ نہ دیا جائے ۔ اس مقصد  کے لئے ایک ہوٹل سمندر  میں بہت دور بنایا گیا ہے۔ جب شیخ  سے پوچھا گیا کہ یہ کیوں ؟۔

شیخ نے کہا دبئی عرب کی سرزمین ہے اس زمین پر بدکاری کا اڈا اچھی بات نہیں ہے،  اسی لئے میں نے زمین پر نہیں، سمندر میں ہوٹل بنوایا ہے ۔ پہلے درجے  کے عرب عیاشی  کے لئے یورپ امریکہ  فرانس اٹلی جاتے ہیں ۔ دوسرے درجے کے لبنان ، مصر عراق جاتے ہیں ، تیسرے درجے والے ہندوستان  کا رخ کرتے ہیں ، وہاں اِن کا ایجنٹ بسام تھا اب تو جانے کتنے بسام ہوں گے۔ وہ لڑکیاں  پیش کرتا ہے ۔ لڑکیاں ایک لائن میں  آتی ہیں ان کے ہاتھ میں تھال  میں ایک پان کا بیڑا ہوتاہے ۔عرب صاحب کو سمجھایا  ہوتا ہے کہ جو لڑکی پسند آئے اس کے تھا ل میں سے پان کا بیڑا اٹھا لو یہ لڑکیاں اکثر حیدر آباد دکن کی ہوتی ہیں نکاح  اور پاسپورٹ بن جاتا ہے عرب صاحب لڑکی لے جاتا ہے ۔ پانچ چھ ماہ  کے بعد جب وہ حاملہ  ہوجاتی ہے تو اسے بازار حسن میں فروخت  کر دیا جاتاہے ۔ جہاں ان پر .......... لگ جاتی ہے ۔

ایک ایسی لڑکی آئی جس نے اندرا گاندھی  کو خط کے ذریعے پورا احوال تحریر  کیا ۔ اندراگاندھی  نے برطانیہ کو لکھا انہوں نے اپنے پولٹیکل  ایجنٹ کو لکھا وہاں سے یہ معاملہ مقامی پولیس کوبھیجا گیا ۔ کمانڈینٹ  نے مجھ سے کہا کہ جاؤ اور اس عورت کو برآمد کرو۔ میں نے کہا جناب  بڑی شرافت کی زندگی گزاری  ہے کوئی پاکستانی  یا بھارتی مجھے اُس  بازار میں  دیکھے گا تو کیا سوچے گا؟ ۔ کہا نادان مت بنو جانا تو تمہیں پڑے گا کیونکہ پوری فورس میں تم تنہا پاکستانی ہو جو اس عورت کی زبان جانتا ہے۔

تم تو سفید کپڑوں میں ڈیوٹی دیتے ہو آج یونیفارم میں جاؤ لوگ سمجھ جائینگے  کہ حسین  ڈیوٹی پر ہے۔ میں نے کہا اجازت  ہے منصر صالح  کو ساتھ لے لو ں؟ کہا اِجازت ہے ۔ یہ صاحب سکارٹ لینڈ  کے تھے خطاب یافتہ تھے ایم بی اے ۔ نہایت سمجھدار آدمی تھے ۔

دوسرے دن میں اپنے ساتھی  کولے کر گیا وہاں  میں نے وہ لوگ دیکھے جن کی میں عزت کرتا تھا وہ شرمندگی کی وجہ سے منہ چھپا کر نکل گئے ۔ مجھے وردی  میں دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ سرکاری کام سے آیا ہوگا۔ وہاں  کے حالات  میں نہیں لکھوں گا حیاء مانع ہے۔ عورت کے بیان نے مجھے  رلا دیا وہ گریجویٹ تھی ۔ کہا مجبوری تھی میری تین بہنیں  اور بھی ہیں ماں نے رو رو کر سینے پر پتھر  رکھ کر مجھے بھیجا کہ بہنوں  کے مستقبل  کی خاطر چلی جاؤ قربانی دو۔

اس نے کہا میں نے خط لکھا  تو مجھے بر آمد  کرلیا گیا مگر یہاں ہر گھر میں میری طرح  مجبور لڑکیاں  موجود ہیں حاملہ ہونے کے بعد ان کابھی یہی ٹھکانہ ہے۔ بہر حال اسے ( B.I) دوار کاشپ میں انڈیا بھیج دیا ۔ ٹکٹ کے لئے پیسے برٹش  کونسل نے فراہم کئے تھے ۔ اس وقت قطر کا ٹکٹ پانچ روپئے کا تھا فنلے ہاؤس  میکلو ڈ روڈ سے ملا کرتا تھا ۔ B.I مخفف ہے کا  ( BRITISH INDIA STEAM SHIPING NAVIGATION CO.)

خلیج میں ہمارے علاوہ کچھ لوگ او ربھی تھے وہ پڑھے لکھے یا ہماری طرح ہنر مند نہیں تھے ۔ وہ تھے ایرانی اور مسقطی۔ ایرانیوں  سے خاکروب Sweeper کاکام لیا جاتا تھا آج کل یہی کام بنگلہ دیشی او رپاکستانی کررہے ہیں ۔ ویسے ایراینوں  سے عربوں کی سیاسی مخاصمت بھی ہے حالانکہ  ایرانی پورے خلیج  پر چھائے ہوئے  ہیں اور یہ حاکم  کے پہلو میں بیٹھتے ہیں کویت میں بہبہانی ، بحرین میں کا نوفیملی وغیرہ اور قطر میں درویش خاندان جن کی پاکستان میں خوبصورت مسجدیں ہیں او رکراچی با چا خان چوک میں قطر ہسپتال مشہور ہے۔ خلیج والے تسلیم  کرتے ہیں کہ جنگ عظیم سے پہلے اور بعد میں ہم بھوکے مرتے تھے یہ زر خیز  ملک ایران تھا  جو خوردو نوش کا سامان  لاتا تھا ۔ بھارت سےبھی  ضرورت کا سامان لانچوں  میں لایا جاتاتھا مگر بھارت دور  پڑتا تھا جب کہ ایران کی بندرگاہ عباس  سامنے تھا ۔ ایران میں انقلاب کے بعد وہ ایرانی  جو خاکروب کاکام کرتے تھے واپس چلے گئے  اور متمول ایرانی  بڑے بڑے  عہدوں پر فائز ہوئے حتیٰ کہ علی انصاری ( ایرانی)  کا بیٹا اسلام  آباد میں قطر کا سفیر تھا شاید اب بھی ہو۔

1950 ء سے کراچی گھاس بند رسے غیر قانونی طور پر پاکستانی خلیج جاتے تھے، کچھ تو یہ کہہ کر جاتے تھے کہ جیونی پسنی  جانا ہے مگر اترتے تھے گوادر میں یہ مسقط کی بندر گاہ تھی چند پولیس والے یہاں تعینات  تھے مگر  آنا جانا منع نہیں تھا ایک انگریز آفیسر تھا اور Vaccinator  تاکہ پاکستان سے کوئی چیچک زدہ نہ آنے پائے اور نہ باہر جانے پائے۔ یہاں سے پھر لوگ پاکستانی لانچوں  کے ذریعے دبئی، شارجہ جس کا صحیح  نام شارفہ  ہے ، ابو ظہبی ، دوحہ قطر، بحرین اور کویت جایا کرتے تھے ۔ اس وقت گوادر کی آمدن کا ذریعہ مچھلی تھی ۔ چھوٹا سا گاؤں تھا کچے مکانات تھے بلوچ  قوم آباد تھی غریب تھے مگر مہمان نواز لوگ تھے ۔

سلطان مسقط کو پیسوں کی ضرورت تھی یہ  گوادر فروخت کرناچاہتا تھا لندن میں بولی چل رہی تھی ہندوستان ہر قیمت پر  گوادر خریدنا چاہتا تھا تاکہ کراچی سے ایک طرف دوار کا (ر اجستھان) اور دوسری طرف گوادر ہو بیچ میں پاکستان سانس نہ لےسکے فیروز خان نون کی کوششوں سے ( 1958ء) میں فروخت ہوا آٹھ اشاریہ چار ملین ڈالر میں پاکستان نے خریدا۔

سلطان مسقط میرا خیال ہے اس کانام سعید  بن تیمور تھا ( یہ تمام معلومات میں اپنی یاد داشت سے دے رہا ہوں) انگریزوں کا پٹھو کہلاتا تھا یہ عمانیوں  سے برسر پیکار  تھا اس جیل سے ہر کوئی ڈرتاتھا جیل کا نام جلالی تھا وہ ایک  کنواں تھا جس میں قیدی کو اُتار دیا کرتا تھا اور کھانا رسی سے لٹکا کر دیا جاتا تھا اس میں حکومت کو سہولت  یہ تھی کہ پہرے کی ضرورت نہیں تھی کوئی بھاگ نہیں سکتا تھا ۔ یہاں کے باشندے خلیج میں خوانے کہلا تے تھے ۔ یہ عربوں کے حرم میں  خدمت گار تھے کھانا بھی پکاتے تھے کیونکہ زنان خانے میں مرد سے خطرہ ہر دم رہتا تھا گھر میں کئی کئی عورتیں اور شوہر یورپ او رلبنان مصر میں عیاشی کے لئے جاتے تھے ۔ یہ ہاتھوں  میں مہندی  اور سرمہ بھی لگاتے تھے سرمہ بدکار لوگ لگاتے تھے ۔ یہ قطر فورس میں بھی تھے لوگ اکثر ان سے مذاق کرتے تھے کہ تمہارا بادشاہ  بھی ہیجڑا  ہے یا عوام ہی ایسی ہے؟ ۔ ان کے دن اس وقت پھر ے جب عمان میں صحیح حکومت بنی  اس وقت حقدار نے قطر کے بادشاہ کے ہاں پناہ  لی تھی گھڑ سواری کاشوقین تھا  ا س کا نام سعید آل بونصر تھا چونکہ  میں قطر کے بادشاہ کے باڈی گارڈز میں تھا لہٰذا بونصر سے گپ شپ لگانے کاموقع ملتا تھا۔

دبئی اور دیرہ اور دبئی کے درمیان کشتی چلتی  تھی چار کونے والی انڈیا کی دونی لیتے تھے اس وقت تمام گلف میں انڈین کرنسی چلتی  تھی عمانی  گدھوں  پر پینے کا پانی کہیں دور سے لاتے تھے آٹھ آنے فی کنسٹر جاتے جاتے دیوار پر کوئلے سے لکیر یں کھینچتے تھے مہینے بعد جمع کرتے تھے اور پیسے لے جاتے تھے ۔ دبئی کے باشندوں کا گزار ہ بدکاری سے تھا ۔ بڑے بڑے لوگ سمندر کے کنارے نہانے اور حوائج ضروری کے لئے آتے تھے ۔ ایک سنیما تھا بغیر چھت کے ۔ بازار میں لا تعداد  ہندو سنار تھے ۔ ایک انگریز نے کہا تھا کہ خلیج کی زبان چالیس  سال بعد اردو ہوگی آج دبئی میں زیادہ تر اردو بولی جاتی ہے۔

عمانی اصلی عرب تھے  انہیں ختم کرنے کے لئے سلطان مسقط نے انگریزوں سے مدد لی تھی ۔ انگریزوں کا رائل ایئر فورس کا اڈا شارجہ کے قریب تھا وہاں سے جہاز اڑ کر جاتے تھے عمان پر بم برساتے تھے ۔ اس وقت پاکستانی دھڑا دھڑ دبئی جاتے تھے روزگار کے لئے دبئی میں روزگار کہا  ں تھا انگریزوں نے جنگ کے لئے پاکستانیوں  کی بھرتی شروع کردی پندرہ دن کی ٹریننگ کے بعد انہیں عمان کے پہاڑوں میں چھوڑ  دیا جاتا تھا کوئی ان میں سے زندہ بچ کر واپس نہیں آیا ان کی لاشیں گدھوں کے  کام آئیں  ماؤں کی گود اجڑ گئی ۔ عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوئے ان کا کوئی کلیم نہیں کوئی ریکارڈ نہیں  کیونکہ  یہ بغیر پاسپورٹ اور ویزہ کے لوگ تھے ۔ باوجود اس کے عمان آزاد ہوا ایک مثالی اور نمایاں حکومت بن کر ابھرا۔ جن بھیڑ بکڑیوں کا چرواہا سست الوجود ہڈ حرام  ہوتا ہے اس کی بھیڑ بکڑیوں کو درندے کھا جاتے ہیں ۔ ہمارے رہنما اس کی زندہ مثل ہیں۔

لکڑی جل بھئی کوئلہ ہوئی کوئلہ بن گئی راکھ

میں پاپن ایسی جلی نہ کوئلہ  ہوئی نہ راکھ

ءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءءء

لکڑی جل کر کوئلہ بن گئی او رکوئلہ بنی ہے راکھ  ۔ میں گنہگار ایسی جلی کہ نہ کوئلہ بنی نہ راکھ

کتنی حکومتیں  ہمارے بعد بنیں  مثالی حکومتیں بن کر ابھر یں ہم دن بہ دن تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں 

1947 سے اب تک ہم  گ سے گٹکا بنا سکے ہیں اور گ سے گلوبٹ پیدا کیا ہے۔

اکتوبر، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/palestinians-and-arab-gulf--فلسطینی-اور-خلیجی-عرب/d/99911

 

Loading..

Loading..