New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 04:22 PM

Urdu Section ( 11 May 2015, NewAgeIslam.Com)

Obscure and Obvious Polytheism is Common among Us شرک جلّی اور خفی ہمارے ہاں عام ہے

 

 

 

 

 

 

 

حسین امیر فرہاد

میرے احباب مجھ سے اکثر پوچھتے ہیں کہ آپ کس طرح روز نت نئے مضامین لکھ لیتے ہیں ؟۔ آپ کو کہاں سے موضوعات ملتے ہیں؟۔میں انہیں جواب دیتاہوں کہ اگر گھر میں ٹی وی ہو او رآدمی بیدار ہو تو مضامین لکھنا کون سا مشکل کام ہے ۔ مثلاً آج صبح پتھروں ( نگینوں) پر ایک طویل پروگرام آرہا تھا یہ پہلے بھی ایک دوبار آیا تھا ، مجھے کھٹک گیا تھا ایک چبھن سی ہوئی مگر کم زیادہ ہونے کی وجہ سے میں نے اِسے دوسرے وقت پر ٹال دیا آج صبح دوبارہ کوئی گھنٹے بھر کا پروگرام پیش کیا گیا جس میں روحانی پیشوا ،منجم ، ستارہ شناس ، دانشور ایک آدھ عالم، بہت سی انگوٹھیاں پہنے ہوئے پہنچے ہوئے بزرگ بابے کچھ ایسے بھی تھے جو ابھی پہنچے نہیں تھے پہنچنے والے تھے ، پتھر فروش اور مریض پیش کئے گئے جنہوں نے بتایا کہ ہمارا فلاں مرض پتھر والی انگوٹھی پہننے سے دور ہوا شوگر کے مرض اور حاملہ عورت کو بھی نہ چھوڑا گیا پتھر میں ہر مرض کا علاج بتایا گیا ہے۔

مجھ سے رہا نہ گیا اور قلم اٹھا لیا۔ اس لئے بھی کہ کچھ دین کے دشمنوں نے اس جنتر منتر کا تعلق قرآن سے جوڑا تھا ۔ بلاشبہ دنیا میں امراض بھی ہیں جو ہماری کوتاہی کے سبب سے ہمیں لگ جاتے ہیں رب نہیں لگاتا البتہ رب نے اس سے نجات کے لئے دوا دارو بھی پیدا کیا ہے ، بعض کاذکر قرآن میں ہے ۔ مثلاً مکھیوں سے جو گاڑھا گاڑھا شربت ( شہد) نکلتا ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں ۔ اس میں انسانوں کے لئے شفاء ہے۔يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ( 16:69) آخر میں یہ بھی فرمایا کہ اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لئے جو غور و فکر سے کام لے ۔ اس گاڑھے شربت کو پینے سے شفا ہے، شہد والی آیت کریمہ کو پڑھنے سے نہیں ۔ پتھر سے شفاء کی کوئی آیت کریم میں موجود نہیں اگر بغرض محال ہوتی تو اسے پیس کر پانی کے ساتھ پینا پڑتا جب کہ ریت جو پتھر سے بنتی ہے اس سے گردوں کو بچانے کےلئے ہم فلٹر والا پانی پیتے ہیں ۔ خیر ہماری سوچ پتھر سے علاج تک اس لئے پہنچی کہ ہمارا تعلق (لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ) سے نہیں ہے۔

عربی میں Gem jewel stones کو احجار الکریم کہتے ہیں جس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس پتھروں کا احترام کیا جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پتھر جو لوگوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ ان کی Value ہوتی ہے ، قیمتی ہوتے ہیں ۔ ان پتھروں کے سعد ( Lucky) اور نحس ( Unlucky) کا قرآن الکریم میں ذکر نہیں ہے البتہ لوء لو اور مرجان کا ذکر ہے جو سمندر سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی بختاور اور منحوس کا ذکر نہیں ہے۔ پتھر اور ا س کے او صاف ہمارے ہاں ایران سے آئے ہیں کہنے والوں نے یہاں تک بتایا کہ پتھر آپ کو مصیبت ، قدرتی آفات او ربلاؤں سے بھی بچاتا ہے ۔ بیسویں صدی میں جس قوم کی اور دانشوروں کی پرواز فکر یہاں تک ہو وہ کیا خاک ترقی کرے گی؟۔

یہی ہے وہ شرک جو انجانے میں بر صغیر کے مسلمان کرتے ہیں ۔آپ کو مصیبت ، قدرتی، آفات اور بلاؤں سے بچانا، نوکری دلانا، بیماریوں سے شفاء دینا، حاملہ عورت کو اولاد نرینہ دینا، محبوب کو قدموں میں جھکادینا ظالم افسر کو رام کرنا لڑکی کی باپ کی ایسی کی تیسی کرنا ۔ وغیرہ وغیرہ۔ ہر وہ کام جو اللہ کے اختیار میں ہو اس کی امید کسی انسان سے رکھنا یا شجر حجر و بحر سے رکھنا اعلیٰ درجے کا شرک ہے ۔ بھارت کے دو چینلز اسی کا م میں میں لگے ہیں ایک پر اداکار گووندہ یہی ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے ۔ ایسے دے رہا ہے کہ میرا پوتا بھی کہہ رہا تھا کہ یہ بندر اگر یہ سب کام کرتا ہے تو ہم بھی اس کی شبیہ خرید لیتے ہیں ۔ میں نے کہا اسے بھول جاؤ ہمارے اپنے بندر ہیں ۔

پتھروں سیپ سے ایسی اُمیدیں رکھنا ۔ یہ تو بالکل وہی تصویر ہے جو زمانہ ہوا ایک انگریزی اخبار میں چھپی تھی کہ دہلی میں ٹراموے پر ایک کے بعد ایک لمبی لائن ٹراموں کی لگی تھی ، ایک انگریز میاں بیوی  اترے اور اگلی ٹرام تک پہنچے کہ وجہ کیا ہے ، تو دیکھا کہ ایک گائے ٹراموے پر لیٹی آرام سے جگالی کررہی ہے اور تمام ڈرائیور اور کنڈیکٹر ہاتھ جوڑے گائے کے سامنے کھڑے کہہ رہے ہیں کہ ماتا جی اٹھ جائیے لوگو ں کو دیر ہورہی ہے ، دفتر جانا ہے۔

اخبار نے لکھا تھا جو قوم انیسویں صدی میں گائے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتی ہے وہ کیا ترقی کرے گا ۔ بہر حال انہوں نے تو ترقی کرلی ہم گئے کام سے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہندو قوم پتھروں کو پوجتی ہے یہ درست ہے مگر شرک کے متعلق عام طور پر یہ تصور ہے کہ اللہ کے ساتھ ساتھ کسی اور کو معبود سمجھ لیا جائے ۔ ایسے تو ہند میں ہیں پاکستان کی سرزمین پر مشکل سے کوئی ایک آدھ ملے گا۔ اللہ نے شرک کے بارے میں فرمایا ہے۔ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ( 13:31)

شرک نہ کرو یہ ظلم عظیم ہے اللہ شرک معاف نہیں کرے گا ۔ مگر شرک پتھر کو سجدہ کرنا ہی نہیں شرک یہ بھی ہے کہ الہٰی صفات کی آرزو بندوں سے رکھے ۔ جیسے اولاد نرینہ کی تمنا درگاہوں پیروں فقیروں ماسوائے اللہ سے رکھی جائے ،مال دولت صحت و زندگی بیماری سے نجات ، نوکری امتحانوں میں پاس ہونا یہ سب دم درود زندہ یا مردہ پیر، شجر اور حجر سے رکھی جائے ۔ یا یہ کہ قدرتی اور مصائب سے شجر اور حجر محفوظ رکھے گا یہ سب شرک ہے۔ آپ اللہ کا رتبہ پتھر کو دے رہے ہیں ۔ جب کہ اللہ نے اپنے رسول کا بیان قرآن میں درج فرمایا ہے ۔وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ( 26:80) جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو ( اللہ) ہی مجھے شفا دیتا ہے ۔ اور اللہ کے ساتھ شریک کرنا ظلم عظیم ہے ۔ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (31:13)اس آیت سے ثابت ہوا کہ شفاء دینے والا رب ہے نہ کہ شجر یا حجر ۔ کچھ لوگ ہڈیاں ، شیر کے ناخن تعویذ گنڈے بھی گلے میں لٹکاتے ہیں ۔ شیعہ حضرات فیروزہ پہنتے ہیں مگر اس کے لئے وہ استخارہ کراتے ہیں کہ وہ پتھر ان کے لئے موافق ہوگا یا نہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ کراچی سعید منزل کے سامنے ریڈیو اسٹیشن کے قریب پامسٹ لین سے بیٹھا کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنے سامنے گّتے پر ہاتھوں کی لکیروں کے نمونے کھڑے کئے تھے ۔ دو پشتون لڑکے جارہے تھے ایک نے دوسرے سے کہا میں تو آج قسمت کا حال معلوم کروں گا، کہ دبئی کب جانا ہوگا؟۔

دوسرے نے کہا ان کے پاس مت جانا، یہ کچھ نہیں جانتے، جب وہ ضد کرنے لگا تو ساتھی نے کہا اچھا جامر ۔ وہ پامسٹ کے سامنے بیٹھ گیا منع کرنے والا ساتھی پیچھے سے آیا اور ہاتھ دیکھنے والے کو ایک زور دار لات ماری، وہ بڑا بگڑا کہا بیوقوف لات کیوں ماری؟۔ شرم نہیں آتی بیوقوف۔ لات مارنے والے نے کہا صبح آتے وقت تم نے اپنی قسمت نہیں دیکھی تھی کہ کوئی تمہیں بلا وجہ لات مارے گا؟ ۔ ساتھی سے کہا چل اٹھ یہ کچھ نہیں جانتا ۔ ورنہ تمہیں بھی ایک دو لاتیں مارتا ہوں۔

انسانی شعور اپنی ابتداء میں مظاہر فطرت کی حقیقت سے آگاہ نہیں تھا اور وہ فطرت کے ہر مظہر سے خوف زدہ رہتا تھا اس نے اپنے اس خوف کو دور کرنے اور مظاہر فطرت کی تباہوں سے محفوظ رہنے کا طریقہ پرستش کرنے میں پایا ۔ اس نے ان مظاہر فطرت کی پرستش کرنی شروع کردی ۔ ان تمام تو ہم پرستیوں میں انسانیت کے لئے سب سے زیادہ تباہ کن عقیدہ یہ تھا کہ ہر شخص کا ایک ستارہ ہوتا ہے جس ستارہ کے تحت اس کی تقدیر بننی ہے ۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہ عقیدہ انسانیت کے لئے کس قدر تباہ کن تھا کیونکہ اس عقیدہ کو اختیار کرنے کی وجہ سے انسان بالکل مجبور ہوجاتا ہے اور اس عقیدہ کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس کی وجہ سے پرستش کرنے والے مذہبی طبقہ کی عیش ہوجاتی ہے ۔ چنانچہ ہر پرستش گاہ میں نجومی ، وکاہن موجود رہتے تھے جو قسمت کا حال بتاتے تھے ۔ وہ نجومی او رکاہن یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ ملاء اعلیٰ میں جاکر ساری معلومات حاصل کرتے ہیں اور وہ ان معلومات کو حاصل کرنے کی وجہ سے اپنے مریدوں کو فائدہ پہنچاسکتے تھے ۔

قرآن کریم نے ان تمام توہم پرستوں کی تردید کرکے ، ان کو جڑ بنیاد سے اکھیڑ دیا ۔ قرآن کریم نے مظاہر فطرت اور عالم افلاک کی اصل حقیقت کو ظاہر کرکے ، نجومیوں ، ستارہ شناسوں اور کاہنوں ، قیافہ شناسوں کی مکاریوں کے پردے چاک کردیئے ۔ مگر ان کی ذریت آج بھی ٹی وی کے اسکرین پر نظر آتی ہے ۔ میرے بھی ایک سائیں بابا ہیں وہ کہتےہیں کہ یہ سب روٹی کا چکر ہے محنت مزدوری آسان کام نہیں ہے یہ تن آسان لوگ رنگ برنگ کے پتھر کے پاس زبان ہوتی تو وہ وہی بات کرتا جو حضرت عمر نے حجر اسود کو چھوتے ہوئے فرمائی تھی کہا (اللہ میں جانتا ہوں کہ تم شخص ایک پتھر ہو اس کے سوا کچھ بھی نہیں اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں چھوا نہ ہوتا تو میں تمہیں ہاتھ ہی نہ لگاتا۔) یہ محض پتھر ہیں اور یہ تمام لوگ جو ٹی وی پر نظر آتے ہیں سب روٹی کا چکر ہے ۔ یہ سب تو ہم پرستی ہے ان تو ہم پرستیوں کی تردید کا تذکرہ قرآن نے کیا ہے، ہم وہ آیات او ران کے تراجم ہی پیش کرنے پر اکتفاء کریں گے ۔ آپ ان کی تفاسیر خود ملاحظہ فرمالیں ۔ آپ تو صرف یہ ملاحظہ فرمائیں کہ اگر چہ یہ مسئلہ ادراک انسانی سے ماورا ہے لیکن قرآن نے جس قدر بھی بیان فرمایا ہے اس میں باہم کوئی اختلاف نہیں ہے ۔

قرآن کہتا ہے ۔ فضا کی یہ بلند ی جو تمہیں قریب نظر آتی ہے، اس میں مختلف کرّے ہیں جو اپنی چمک کی وجہ سے تمہیں نہایت خوشنما دکھائی دیتے ہیں اورہم نے انہیں ہر قسم کے تخریبی عناصر سے محفوظ رکھا ہے ۔ ان کے کاہن اور نجومی محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ عالم امر جہاں عدل و قوانین بنائے جاتے ہیں ، وہاں تک ان کی رسائی نہیں ہوسکتی ۔ انسانی قیاس آرائیوں کو وہاں ہر طرف سے دھکے پڑتے ہیں کیونکہ وہ مقام سر حد عقل انسانی سے ماوراء ہے ۔ جہاں تک نجومیوں کے قیافوں کی بات ہے ۔ یہ ان کی جب تک تھی جب علم کی روشنی عام نہیں ہوئی تھی ۔ نزول قرآن کے بعد ان کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اب ہر قیافے کے پیچھے علم کا ایک چمکتا ہوا شعلہ موجود رہے گا ۔ (37:7:10) اسی مضمون کو سورۃ الملک میں فر مایا ۔ ( ترجمہ) او رہم نے اس فضا کو جو تمہیں قریب تر نظر آرہی ہے درخشندہ ستاروں سے مُزّین کر رکھا ہے ۔ جو لوگ ہمارے قوانین کا علم نہیں رکھتے وہ ان ستاروں سے قیاس آرائیاں کر کے غیب کا علم معلوم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اب نزول قرآن کے بعد، علم کا دور آگیا ہے اور یہ نجومی رفتہ رفتہ ختم ہوجائیں گے (67:5)

خود قرآن کریم نے اِن آیات کا پس منظر یہ بیان فرمایا ہے کہ کفار و مشرکین عرب یہ کہتے تھے کہ اگر رسول اللہ واقعی ایک سچے رسول ہیں تو وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں ( 15:7) اُن کے اس مطالبہ کے جواب میں ایک ارشاد ہوتا ہے ۔وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ ، لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ ( 15:14:15) اگر ہم ان کے سامنے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس پر چڑھنے بھی لگیں ( تو بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے) اس وقت یہ کہیں گے کہ ہماری نگاہ بندی کردی گئی ہے یا ہم پر جادو کردیا گیا ہے کفار کے مطالبہ کا جواب دینے کے بعد اب قرآن کریم اصل مسئلہ کی طرف رجوع کرتاہے اور ان کی مکاریوں کی تین مقامات پر تردید کرتاہے۔ وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ ، وَحَفِظْنَاهَا مِن كُلِّ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ (15:16:17) ہم نے فضا ء کی بلندیوں میں ، اُبھرے ہوئے کُرّے پھیلارکھے ہیں اور ان سے روشنی منعکس ہوتی ہے تو دیکھنے والوں کو بڑے خوشنما نظر آتے ہیں او رانہیں ہم نے ہر قسم کی تخریبی قوتوں سے محفوظ رکھا ہے ۔ کاہنوں کے متعلق کہا کہ اب قرآن کریم کے نزول کےبعد علم کی روشنی پھیل گئی ہے اب ان کا یہ فریب نہیں چل سکتا ۔ یہ فریب و مکر دور جہالت میں چل سکتا تھا ۔

إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ (15:18) اب ہر قیاس و تخمین کے پیچھے علم و یقین کا ایک چمکتا ہوا شعلہ موجود ہے جو اس کی حقیقت کو بےنقاب کردیتا ہے ۔ یعنی یہ فریبی مکار جو منجم ستارہ شناس قسمت کا حال بتانے والے اپنے ماننے والوں سے کہتےتھے کہ چوتھے آسمان پر جاکر وہاں سن گن لیتے ہیں او راپنے ماننے والوں کو بتادیتے ہیں ۔ اب لوگوں پر حقیقت بے نقاب ہوگئی ہے ۔  قرآن نے ہر چیز کی وضاحت بیان فرمادی ہے اب ان کا مکروفریب کسی کو متاثر نہیں کرسکتا ۔

قطر میں عبدالقیوم مشہور جیولر لاہور مزنگ کا رہنے والا ہے ۔ اس نے کاریگر کے لئے ویزہ اپلائی کیا تھا میں انکوائری کے لئے اس کی دکان پر گیا تھا ( میں اس وقت سی آئی ڈی میں تھا) اُ س کے شو کیس پر پیالے رکھے تھے جن میں رنگ برنگ نگینے رکھے تھے ، میں نے ایک اٹھا کر قیوم سے پوچھا قیوم بھائی یہ کتنے کا ہوگا؟۔

اس نے میرے ہاتھ سے لے کر غور سے دیکھا ، کہا یہ آپ نے کہاں سے اٹھایا؟ میں نے بتایا اس پیالے میں سے۔ اس نے نوکر کو بے انتہا گالیاں دیں کہا اب تیرا وہ باپ شیخ آتا تو میں اسے کیا دیتا جا رکھ اندر ۔ مجھ سے کہا حسین بھائی یہ آپ کے بس کا نہیں یہ ایک شاہی خاندان والے نے خریدا ہے۔

میں گھر آیا تو میں نے اپنے بہنوئی کو سارا قصہ سنایا میں نے کہا آپ کا مزنگی ہے میں موٹر میں بیٹھا رہونگا آپ کوئی نگینہ پسند کرلیں ۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ وہ قیوم کی دکان پر گیا قیوم اس کےبچپن کا یار بھی تھا ۔ گپ شپ لگاتے رہے پھر میرے بہنوئی نے پیالے سے نگینہ اٹھا کر کہا قیوم بھائی اس کی کیا قیمت ہوگی؟

قیوم نے نوکر کو گالیوں والا ڈرامہ شروع کیا ۔ بہنوئی نے مجھے بلایا کہا وہی ڈرامہ  ہے۔ قیوم شرمندہ ہوا کہنے لگا حسین بھائی ان پتھروں کی قیمت آٹھ آنے سے زیادہ نہیں ہماری ڈرامہ بازی اسے قیمتی بنا دیتی ہے ۔ آپ کے شوق کو ابھارتی ہے آپ کی انا بیدار ہوتی ہے اور آپ آٹھ آنے کا پتھر ڈیڑھ سو ریال کو خرید لیتے ہیں ۔ اور آپ نے سنا ہوگا کہ اگر اس دنیا میں بیوقوف نہ ہوتے تو عبدالقیوم جیسے عقل مند کیا کھاتے؟ ۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں۔

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں

وہ حضرت انسان کو اس کے اعلیٰ مقام سے روشناس کراتے ہیں کہ اونادان تو ستارہ شناس سے قسمت کے ستارے کی بابت حال پوچھتا ہے؟ حالانکہ ستارے تابع ہیں تو ستاروں کے تابع نہیں ہے۔

تیرے مقام کو انجم شناس کیا جانے

کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں

کائنات کی ہر چیز کو تو رب نے تیرے لئے تسخیر کیا ہے ۔وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ (45:13) ترجمہ۔ اور تسخیر کیا تابع کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جوبھی ہے اس کے درمیان ہے سب کچھ ۔

تابع و تسخیر سے ڈرنا اور اس کے تابع ہونا ایسا ہے جیسے کوئی اپنے غلام کے سامنے سر جھکائے کھڑا ہو اور اس کے فرمان کا انتظار کررہا ہو۔ شجر و حجر سے مدد کی توقع رکھنا شرک کے ساتھ ساتھ توہین خالق کائنات اور انسانیت کی سب سے بڑی تذلیل ہے۔ اور یہ پرچار کسی دشمن ملک سے نہیں اپنے چینلوں سے ہورہا ہے ۔ یوں لگتا ہے ہم سائنس او رکمپیوٹر کے دور میں کراچی میں نہیں Dark age میں تاریک براعظم افریقہ کے باسی ہیں ۔ وہ اُمت جس کی عظمت رفتہ کی داستانیں آج سن کر لوگ دنگ رہ جاتے ہیں ، جنہوں نے سندھ و ہند، یورپ و افریقہ کو اپنے پاؤں تلے روندا ۔ دشت تو دشت ہے دریا بھی ان کا راستہ نہ روک سکے ۔ آج اس اُمت کی گردنوں کی تلاشی لی جائے، تو کسی میں کاغذی تعویذ لٹکا نظر آئے گا ، کسی میں چھوٹا قرآنی نسخہ ، کہیں کلمہ والے سکّے ، کہیں کوڑیاں ، مونگے ، درندوں ، جانوروں کے دانت اور ناخن ، کہیں چھوٹے چھوٹے چاقو، چھریاں او رہاتھوں میں انگوٹھیوں میں جڑے ہوئے پتھر یہ سب چیزیں ان اللہ کے بندوں کے عقیدے کے مطابق انہیں بلاؤں ، مصیبتوں ، او ربیماریوں سےمحفوظ رکھنے کے لئے ہوتی ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شرک قرار دیا ہے ( مشکوٰۃ صفحہ 389)

میرے دوست ڈاکٹر شکیل احمد خاں کہتے ہیں فرہاد بھائی چھوڑ یئے انہیں ان کا رزق ہی ان شرکیہ اعمال میں لکھا ہوگا۔ یہ بات نہیں ہے اگر ان کی قسمت میں بقول ڈاکٹر شکیل کے اللہ نے یہ رزق حرام لکھا ہوتا تو گنہگار کیوں ٹھہرائے جاتے او رانہیں سزا کی وعید کیوں سنائی جاتی ؟۔غضب اللہ کا دس روپئے کا سرسوں کا تیل چار سو روپے کا ، نل کا پانی ایک بوتل تین سو روپیے ۔لینے والے اتنے غریب کہ کوئی دیکھے تو رحم آجائے ۔ دراصل ڈوبتے کو تنکے کا سہارا والی بات ہے ۔ مصیبت میں پھنسا ہوا ہر ایک کو مسیحا سمجھ لیتا ہے ۔ ہر چیز آزماتا ہے ، ہر وہ عمل کرتا ہے جس میں اسے کوئی شاطر فائدہ بتاتا ہے۔

مئی 2015 بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/obscure-and-obvious-polytheism-is-common-among-us--شرک-جلّی-اور-خفی-ہمارے-ہاں-عام-ہے/d/102916

 

Loading..

Loading..