New Age Islam
Thu Sep 17 2020, 11:30 PM

Urdu Section ( 13 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Mucky Water and Blind Fish گدلا پانی ہے اور اندھی مچھلیاں

 

 

حسین امیر فرہاد

مولانا عبدالعزیز خطیب لال مسجد اسلام آباد  کو پرویز مشرف نےاپنے دورِ حکومت  میں ہیرو سے زیرو بنا دیا تھا مگر موجودہ  دور میں جب کہ  طالبان  نے حکومت  کی ناک میں دم  کر رکھا ہے تو حکومت  تنکے  بھی کو بھی شہتیر  سمجھ کر آز مارہی ہے کہ شاید  یہ طالبان کے راستے میں کام آئے ۔ اتوار 9 مارچ 2014 کو صبح کے پروگرام  میں مولانا عبدالعزیز قابل  صحافی سلیم صافی  کے  سوالات کا جواب  دے رہے تھے ۔ خطیب  صاحب نے ایک ہی رٹ لگا ئی تھی ‘‘ قرآن  وسنتہ’’ اس سے کم پر وہ راضی  ہی نہیں  ہورہے تھے  سب سے پہلے یہ دیکھئے  کہ یہ نعرہ ہی غیر شرعی  ہے۔ اللہ تعالیٰ  نے حکمرانی  کے لئے منزل  من اللہ کو اختیار  کرنے کا  حکم دیا ہے ۔ اس کے ساتھ سنت نہیں لگایا ۔  اسلام اور کفر  کا یہ فرق قرآن  میں صاف صاف بیان کردیا گیا ہے ۔ چنانچہ  ارشاد ہے۔

‘‘ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ( 5:44)

 وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ( 5:45)

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ( 5:47) جو شخص اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق  فیصلہ ( حکم) نہ کرے تو ایسے ہی لوگ کافر، ظالم اور فاسق ہیں ۔ یہ تینوں  آیاتِ کریمات  ما انزل اللہ ۔ اللہ کے نازل  کردہ احکام پر عمل  کرنے کا حکم دے رہی ہیں۔  یہ آیات سورۂ  مائدہ  کی ہیں ۔ ان تینوں آیاتِ کریمات میں نہایت تاکید اور زور دے کر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق  حکومت نہیں  چلاتے، وہ کافر، ظالم اور فاسق ہیں ۔ تینوں  آیات کریمات  کے نیچے  خط کشیدہ  ہے تاکہ کمزور  نظر والے بھی دیکھ سکیں ہر وہ ملک جو قوانین الہٰی  سے اعراض  کرکے،  اپنے وضح  کردہ قوانین  کے مطابق  حکومت چلائے گا ، اس ملک میں کفر، ظلم اور فسق  تینوں  حالتیں  پائی جائیں گی ۔ یہی  ہے بنیاد  ایک مسلم ریاست  کی ۔

فیصلہ کرنے سے یہ مراد  نہیں ہے کہ عدالت  میں جو مقدمہ جائے بس  اسی  کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق ہو ۔ بلکہ دراصل  اس سے مراد وہ فیصلہ  ہے جو ہر شخص  اپنی زندگی میں ہر وقت کیا کرتاہے ۔ ہر موقع پر آپ کے سامنے  یہ سوال آتا ہے کہ فلاں کام کیا جائے یا نہ کیا  جائے؟ فلاں بات  اس طرح  کی جائے یا  اس طرح کی جائے ؟ فلاں مرحلے میں طریقہ اختیار کیا جائے یا وہ طریقہ  اختیار کیا جائے ؟ تمام  ایسے موقعوں  پر ایک طریقہ  اللہ کی کتاب  اور دوسرا طریقہ  انسان  کے اپنے نفس  کی خواہشات یا باپ  دادا کی رسمیں ، یا انسانوں  کے بنائے ہوئے  قانون  بتاتے ہیں ۔ اب جو شخص  اللہ کے طریقے  کو چھوڑ کر کسی دوسرے  طریقے  کے مطابق کام  کرنے کا فیصلہ  کرتا ہے وہ دراصل  کفر کا طریقہ  اختیار  کرتا ہے ۔

اگر اس  نے ساری زندگی  ہی کے لئے یہی  ڈھنگ  اختیار کیا ہے تو وہ پورا کافر ہے ۔ اور اگر وہ بعض  معاملات  میں تو اللہ کی ہدایت کو مانتا ہو اور بعض  میں اپنے نفس  کی خواہشات  کو یا رسم  کو یا انسانوں  کے قانون  کو اللہ کے قانون پر ترجیح  دیتا ہو،  تو جس قدر بھی وہ اللہ  کے قانون  سے بغاوت کرتاہے اسی  قدر کفر  میں مبتلا ہے ۔ کوئی  آدھا کافر ہے ، کو چو تھائی  کافر ہے کسی  میں دسواں حصہ کفر کا ہے اور کسی میں بیسواں  حصہ ۔ غرض جتنی  اللہ کے قانون  سے بغاوت  ہے اتنا ہی  کفر بھی ہے ۔ اسلام اس کے سوا کچھ  نہیں ہے کہ آدمی  اللہ کا بندہ ہو۔ نفس  کا بندہ  نہ باپ دادا کا بندہ، خاندان  اور قبیلہ کا بندہ، نہ مولوی  صاحب اور پیر صاحب کا بندہ، نہ زمیندار صاحب  اور تحصیلدار  صاحب اور مجسٹریٹ صاحب کا بندہ  ، نہ اللہ کے سوا کسی  اور صاحب کا بندہ۔

ملاحظہ فرمایا ( اللہ کی نازل  کردہ) ان تینوں آیات کے ساتھ اگر سنت  پر عمل کا ذکر نہیں  ہے تو مولانا عبدالعزیز  صاحب قرآن و سنت کیوں کہہ رہے ہیں؟  اس سے امت کو یہ یقین  دلایا جارہا ہے  کہ کلام اللہ اور سنت ِ رسول دو مخالف  متحارب نظام  زندگی  یا قوتیں ہیں ، اگر ایسا نہیں  ہے تو صرف  قرآن  پر مبنی آئین  اور قوانین  کا ذکر  کرنا چاہئے اس کے ساتھ  سنتہ  نہ ملایا جائے  کیونکہ  نہ وہ  ماانزل  اللہ ہے نہ احکامات یا عمل رسول صلی اللہ علیہ وسلم  میں کسی قسم  کا اختلاف  ہے ۔ اللہ  کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  رب کے احکام کے خلاف کچھ فرما ہی نہیں سکتے  تھے ۔ کیونکہ  رب کا انزار  ہے، وارننگ  ہے۔

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ، لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ، ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ( 69:44:45:46) اور اگر یہ پیغمبر کوئی باتیں  ہم سے منسوب کرلیتے تو ہم ان کا داہنا  ہاتھ  پکڑ کر ان کی رگ  جاں کاٹ ڈالتے۔

یہ تو تھی  رب کی وارننگ  کہ اللہ کا حکم ہوتے ہوئے  رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپناحکم نہیں چلا سکتے تھے ۔ اور  رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد  مبارک  جو کئی بار  انہوں نے  صحابہ  کرام کے سامنے   دھرایا ہے وہ ملاحظہ فرمائیے ۔قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ( 6:15) کہ میں بھی ڈرتا ہوں یوم عظیم  کے عذاب  سے اگر  میں نافرمانی کروں رب کے احکام کی ۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول  اللہ نے قرآن کریم  میں کئی بار دھرایا  ہے یعنی  اللہ نے ان صلی اللہ علیہ وسلم  کی کہی بات پر مہر تصدیق  ثبت کردی۔ کیا  اس کے بعد قرآن  کے ساتھ سنتہ  کالا حقہ لگانا درست ہے؟ ۔ رب فرماتے ہیں  اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔  فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ ( 5:48) جو اللہ نے اتارا  ہے اس کے مطابق  فیصلہ کریں ۔ ان آیات  کریمات  سے یہ بات بالکل  واضح  ہوگئی  کہ قانون  کا ماخد ومنبع  صرف ماانزل ہے جو شخص بھی ماانزل  اللہ کے ساتھ  او رکوئی چیز ملا دیتا ہے  وہ کافر  ، ظالم اور فاسق ہوجائے گا۔ آج تک آپ حضرات اس کا فیصلہ تو کر نہیں سکے  کہ سنت  سے مراد کیا  ہے ؟ اقوال  رسول ( جس کی حفاظت  کا اللہ نےکوئی وعدہ  نہیں فرمایا ہے) یا عمل  رسول صلی اللہ علیہ وسلم  جو قرآن کریم میں  ہے وہ حق  ہے مگر جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اقوال  کی کتابوں  میں ان  سےمنسوب  کیا گیا ہے ۔ وہ ان کے  شایان شان نہیں ہے ۔ مثلاً  ان کی لاتعداد  شادیاں ، حضرت عائشہ  سے 6۔9 سال کے عمر  میں شادی،  اور وہ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج کے پاس جانے  کے لئے باری  مقرر کرتے تھے ،  جنگ غزوات  میں جاتے وقت  بھی ازواج مطہرات  میں سے کسی  ایک کو لے جاتے تھے ۔ یہ ایسے اقوال  ہیں جس  اعداء  نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے کردار کو مسخ  کیا ہے ۔

یہ تو مسلم امہ  کی خوش نصیبی ہے کہ ہمارے پاس قرآن کریم محفوظ شکل  میں موجود ہے ۔ جس  میں اللہ  نےاپنے رسول  کے کردار کی تعریف  فرمائی ہے ۔وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ( 68:4) بلاشبہ آپ اخلاق  کی اعلیٰ  بلندیوں  پر فائز  ہیں ۔ اور  ان کے رفقاء وزملا ء اصحاب النبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں  فرماتے ہیں ۔  وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ( 9:100)

جن لوگوں نے سبقت کی مہاجرین اور انصار  میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکار ی کے ساتھ  ان کی پیروی  کی اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے اور ان کےلئے باغات ہیں جنت کے ۔ جس کے نیچے نہر یں بہتی ہیں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہ   کو دنیا میں  جنت کی بشارت  دی گئی ہے۔ سلیم صافی  نےمولانا عبدالعزیز  سے پوچھا کہ  کیا آپ مولانا عبدالحق  حقانی  صاحب سے علم  میں بڑے ہیں ؟ یا آپ مولانا مودودی  سے بڑے ہیں  یا آپ مفتی محمود سے بڑے عالم ہیں یا اپنے والد  صاحب سے علم  میں بڑے ہیں؟۔ان سب کا جواب  مولانا عبدالعزیز  نے نہیں  میں دیا ۔ تب سلیم صافی  نے کہا  یہ سب پاکستان کے آئین  کو شرعی  اسلامی تسلیم کرتےتھے،  آپ کیوں انکار کرتے ہیں؟۔

تو جواب  میں مولانا  چونکہ ، چنانچہ،  اگر ، مگر تک  رہے کوئی معقول جواب نہ  دے سکے ۔ اسی لئے  میں نے مضمون  کا عنوان رکھا ہے گدلا پانی ہے اور اندھی مچھلیاں  ہیں ۔  کسی کو کچھ  نظر نہیں  آرہا ہے ۔ ہمارا آئین  کیا ہے ۔ کیا شریعت میں سربراہ  ریاست، وزیر اعظم اور چاروں  گورنر صاحبان  ہر قسم  کے جرم  سے مستثنیٰ  ہوتےہیں؟  ۔ اعتزاز حسن صاحب  نے فرمایا تھا  کہ اگر صدر  صاحب بندوق  لے کر لوگوں  کو قتل کرے تو  بھی اس سے مواخذہ نہیں ہوسکتا ۔ زندہ ثبوت  کہ سابقہ وزیر اعظم  یوسف رضا گیلانی  صاحب کئی بار  ٹی وی اسکرین  پر کہہ چکے ہیں کہ اگر کسی میں ہمت  ہے تو مجھے گرفتار  کر کے دیکھ لے ۔ یہ بھی  نہ بھولئے  کہ ہمارے قانون  داں اعلیٰ تعلیم بیرسٹری  کے لئے کوفہ بغداد یا مدینہ  منورہ  جاتے ہیں یا انگلینڈ  جاتے ہیں؟ کیا انگلینڈ  میں قوانین الہٰی  کاکوئی مرکز  کھلا ہے ؟ ۔ امر  یکہ ، برطانیہ، کینیڈا ، فرانس ، اٹلی، بھارت اور پاکستان   تھوڑے  بہت فرق کے ساتھ  ایک ہی قانون  ہے جو کتابیں  بھارت میں ایک  وکیل  کے شیلف  میں ملیں گی وہیں کتابیں چار سد ے اور بھائی پھیرو کے وکیل  کے شیلف  میں بھی نظر آئیں گی ۔ ایک کتاب  ڈینش  فریدون ملا ( پارسی)  کی لکھی  ہوئی بھی نظر  آئے گی  جو اس نے ہم مسلمانوں کے لئے لکھی ہے نام ہے ( محمد ألاء ) یہ کتاب یوں لگتی ہے  جیسے ہم مسلمان گوشت کھانے  کے لئے گائے کسی برہمن  سے ذبح کرائیں ۔ اسلامی قوانین  اور مصنف D.F.MULLA  ہماری جمہوریت قائم ہے  کثرت رائے  پر ۔ اللہ کی حکومت  کی بنیاد ۔  إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ( 49:13) پر ہے ۔ جو متقی  ہو جسے اللہ کا خوف دامن گیر ہو ۔ جمہوریت  کا تو اللہ نےایک ہی آیت سے کباڑہ کردیا، ملا حظہ ہو ۔

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ( 6:116) (اے نبی) اگر تم اکثریت  کے پیچھے چلو گے تو زمین  پر اکثریت  تو گمراہوں  کی ہوتی ہے وہ تمہیں  بھی گمراہ  کردیں گے ۔ ہمارے سارے  مولانے  حضرات  جمہوریت  کی نیلم  پری پر جان دیتے ہیں،  اس کی ایک جھلک پر فدا ہیں  ان کےکرنے کا کام یہ ہے کہ سب  مل کر اس آیت  کو قرآن کریم سے نکال  باہر کریں  پھر جو کچھ جی  میں آئے  کرتے پھریں ۔علامہ کہتے ہیں  کہ جمہوریت  میں کھوپڑیاں گنی جاتی ہیں  ان کے اندر دماغ نہیں  دیکھے جاتے ۔ جمہوریت  میں کثرت  رائے کو آئین  اور قانون  بنانے کا حق  دیا جاتاہے ۔ مثلاً  برطانیۃ العظمہ  ، کینیڈا اور ساوتھ افریقہ  میں اغلام بازی  کو قانونی شکل دی  گئی ہے تین شرطیں  رکھی ہیں ۔ مفعول  لڑکا بالغ  ہو رضا مندی  سے ہو اور شاع عام نہ ہو۔ یہ دارالامراء  دارالعلوم اور پارلیمنٹ  کے ممبران  کی کثرت  رائے نے جائز قرار دیا ہے  ، بغیر  یہ دیکھے  کہ مذہب  کی کیا حکم  ہے؟ ۔ کل اگر  ایک دو ممبران  کی رائے اغلام بازی  کے خلاف ہوگئی تو اغلام بازی  پر برطانیہ  ، کیینڈا ، اور ساوتھ افریقہ  میں پابندی  بھی لگ سکتی ہے ۔ یہ ہے  مغربی جمہوریت کی ساحری ، جبکہ دین میں فوقیت  اللہ کے کلام  کو حاصل ہوتی ہے ، طاقت  کا سر چشمہ عوام نہیں  ہوتے ۔ ایک بار جے سالک نے بھری  اسمبلی میں کہا تھا کہ اللہ اور خدا کے بیٹے  نے فرمایا ہے ۔۔۔۔  سارے مولوی  حضرات  باہر نکل  آئے ۔ میں نے لکھا تھا ہور گنّے چوپو! آخر  آپ لوگوں  نے غیر مسلم کو اسمبلی  میں بھیجا  ہی کیوں؟ اب بھگتو وہ تو بیٹے  کے علاوہ پوری  فیملی کا ذکر کرے گا ۔ جہاں  قرآن کے مطابق آئین بنتا ہے وہاں وہ کیوں  جائے جس کا قرآن پر ایمان  ہی نہ ہو۔  غیر مسلموں  کو چاہئے کہ اپنے مطالبات مسلم نمائندے  کے گوش گزار  کریں وہ پھر ان کے حقوق  کے لئے اسمبلی  میں لڑے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کامنشور ہے ۔

(1) اسلام ہمارا دین ہے (2) سوشل ازم ہماری  معیشت ہے (3) طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں ۔

 اگر ان  میں سے پاکستان  پیپلز پارٹی  کا کوئی ممبر ایک کا بھی انکار کرے تو وہ ممبر نہیں رہ سکتا ۔کیا ڈاکٹر کھٹومل  رکن صوبائی اسمبلی ( سندھ)  اس منشور  کو مانتا  ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے ؟ ۔ کچھ پتہ  نہیں کون کیا کررہا ہے ۔ جب ہی تو میں کہہ رہا ہوں  کہ ( گدلا پانی ہے اور اندھی مچھلیاں) سلیم صافی  نے مولانا عبدالعزیز  سے پوچھا  آپ کے دور میں ٹی وی  ہوگا،  اس میں تصویر  ہوگی؟  مولانا نے جواب دیا  ٹی وی ہوگا  اس میں تصویر بھی ہوگی عورت کی نہیں ۔

سلیم صافی  نے کہا کہ  آپ سنت  کا ذکر  فرماتے ہیں  کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے  میں روئیت  ہلال  کمیٹی  کاوجود تھا ؟ ۔ کہا نہیں ۔ سلیم صافی  نے کہا  پھر  یہاں کیوں ہے؟  او رآپ کے والد اس کے سربراہ  تھے ۔کہا یہ تو ادارے  ہیں  یہ تو ہونا چاہئے ۔

سلیم صافی ۔ آپ آئین کو کیوں نہیں تسلیم کرتے ؟ ۔مولانا نے کہا  میں آئین  کو تسلیم  کرتا ہوں مگر اس کو اسلامی نہیں تسلیم کرتا  قارئین کے  سوالات بھی بچکانہ تھے اور جوابات تو اس سے زیادہ بچکانہ تھے ۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہاں شریعت نہیں ہے قوانین الہٰی  کچھ تو  قرآن کریم  میں موجود  ہیں جزیات  انسانی ذہن  پر چھوڑ دیئے گئے کہ مرور زمانہ کے مطابق  قرآنی  قوانین  کے سائے میں  اپنے فیصلے کریں مثلاً مکہ مکرمہ  اور مدینۃ النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے درمیان  210 میل کا فاصلہ  ہے ۔ اگر  وہاں عید  کا یا ماہ صیام  کا چاند نظر  آتا تو اس کی اطلاع  بروقت مکہ  مکرمہ  کو دینی ممکن  نہ تھی 210 میل کے مسافت  معمولی نہیں  اونٹ پر بھی کئی دن  لگ جاتے اس کا علاج حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ تجویز  کیا کہ جس جگہ چاند  دیکھ لیا جائے صیام اور عید منالی جائے ، اس سے بہتر  طریقہ  کوئی او رنہیں تھا ۔

مگر آج  مواصلات  کے ذرائع  موجود ہیں سیکنڈو ں میں ایک  خبر دنیا  کے کونے کونے تک پہنچائی جا سکتی ہے ۔ کیا ضرورت  ہے روئیت ہلال کمیٹیاں  بنانا فضول  پیسہ خرچ کرنا کسی ایک جگہ چاند  دیکھا گیا وہ  کسی ایک کو ہی  نظر نہیں  آتا  ہر ایک اسے دیکھ سکتا  اس کو دیکھ کر پوری حکومت  اور قرب  و جوار  میں رمضان اور عید  کا اہتمام  کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں  ہر کام میں استادی  دکھائی جاتی ہے اس کے بغیر کوئی کام  نہیں کیا جاتا  ۔مجھے  یاد آیا  ایک شخص نےماہر شکاری سے پوچھا  کہ بگلے  کا شکار کیسے  کیا جائے ؟

اس نے سمجھا یا کہ رات  کو دریا  کے کنارے  جائیے بندوق  ایک ماچس اور موم بتی  ، بگلہ آکر ربت میں ایک پیر پر کھڑا ہوکر سو جاتا ہے دس منٹ بعد آپ رینگتے ہوئے اس کے قریب  جائیے  اور موم بتی  جلا کر اس کے سر پر کھڑی کردیں پھر واپس  اس جگہ  آجائیے  جہاں بندوق رکھی ہے، موم پگھل پگھل  کر اس کی آنکھیں  بند کردے گا اس وقت آپ  اس کے سر پرنشانہ  لیجئے اور دبا دیجئے  لبلبی ۔

شخص نے کہا جب  میں اس کے سر پر موم بتی سلگا کر کھڑی  کروں تو  کیوں نہ میں اسے گردن سے دبوچ لوں؟۔

ماہر شکاری نے کہا بے شک  آپ ایسا  کرسکتے ہیں،  مگر یہ استادی  تو نہ ہوئی ۔ تو قارئین  ہم ہر کام میں استادیاں  تلاش کرتے ہیں ۔ ہم عورت  کی طرح  ہیں جس کی ہنڈیاں میں گائے  کے بچھڑے کا سر پھنس  گیا تھا  ، وہ اسے  لے گئی گاؤں کے عقلمند  آدمی کے پاس اس نے کہا یہ علاج  ہے بچھڑے کا سر کاٹا جائے گا ، سرکاٹا گیا تو عورت  نے کہا کہ سر تو ابھی تک ہنڈیا میں  پھنسا  ہوا ہے؟  ۔ عقل مند نے کہا یہ کیا مشکل  کام ہے کہاوہ پتھر اٹھالاؤ مارو ہنڈیا کو مارا تو ہنڈیا ٹوٹ گئی  اور سرکو بھی ہنڈیا سے نجات مل گئی ۔

مئی ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/mucky-water-and-blind-fish--گدلا-پانی-ہے-اور-اندھی-مچھلیاں/d/98083

 

Loading..

Loading..