New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 07:02 PM

Urdu Section ( 5 Jun 2017, NewAgeIslam.Com)

Month of Ramazan ul Mubarak ماہ رمضان المبارک

 

 

 

حسین امیر فرہاد

جہاں کہیں رمضان کا ذکر آتا ہے ’’مبارک‘‘ کالفظ ضرورلگا یاجاتاہے۔ جس طرح مدینہ کے ساتھ منورہ کہا جاتاہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں؟ شہور یعنی (مہینے) تو سب ہی اللہ کے ہوتے ہیں، پھر رمضان کے ساتھ خاص طور پر مبارک کیوں کہا جاتا ہے؟ یہ بات اتنی ہے کہ اللہ تبار ک و تعالیٰ نے سورۃد خان میں فرمایا ہے ۔ کہ یہ کتاب المبین یعنی قرآن الکریم ۔ اناانزلنٰہ فی لیلۃ مبارکۃ (44/3) ہم نے اس کتاب کو مبارک رات میں نازل کیا ہے۔۔۔۔ سبحان اللہ العظیم ۔ اور سورہ بقرہ کی آیۃ 185میں  شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ ۔( 2/185) رمضان ہی کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا ہے۔ جس میں لوگوں کے لئے ہدایت ہے۔ تو نچوڑ یہ ہوا کہ قرآن کریم کے نزول کی ابتداء رات میں ہوئی اور رات تھی ماہ رمضان کی۔

ربّ نے اسی معروف لب ولہجہ میں بات کی ، جو اس وقت عربوں میں رائج تھا جو آج بھی تقریباً رائج ہے۔ یعنی جیسے میں کہوں کہ کیا مبارک گھڑی تھی، جب میری عظیم اللہ خان سے ملاقات ہوئی،جنہوں نے مجھے ماہنامہ صوت الحق نکالنے کامشورہ دیا جس کی وجہ سے آج چار آدمیو ں میں میری عزت اور توقیر ہے۔ اس میں پہلی وجہ مسرت میری عزت و توقیر ہے۔ جو صوت الحق کی وجہ سے مجھے ملی ۔ دوسری وجہ مسرت صوت الحق کا اجراء ۔ تیسری وجہ عظیم اللہ خان کا مشورہ۔ اورچوتھی و جہ سرور وشادمانی کی وہ گھڑی تھی جس میں میری اور عظیم صاحب سے ملاقات ہوئی تھی۔

یعنی وہ گھڑی اس وجہ سے مبارک تھی کہ میری اورعظیم صاحب کی ملاقات ہوئی تھی ۔ جس نے مجھے صوت الحق نکالنے کا مشورہ دیا۔۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں میری عزت بڑھی۔ آئیے نمبر وار دیکھیں کہ عظیم صاحب سے میری ملاقات کی گھڑی مبارک کیسے ٹھہری ۔ گھڑی تو گھڑی ہوتی ہے نہ منحوس نہ مبارک کسی واقعہ کی وجہ سے ہم اسے منحوس یا مبارک ٹھہرالیتے ہیں ۔ اہم بات ہے مجھے عزت ملنا، اس کا مشورہ عظیم صاحب نے دیاتھا، جب ان سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ مارچ کی 11تاریخ تھی او ردن کے دو بجے تھے ۔ کیا یہ حماقت نہ ہوگی کہ میں ہر سال مارچ کی گیارہ تاریخ کو جشن کا اہتمام کروں؟

یہی کیفیت قرآن کریم نازل ہونے والے مہینے کی ہے۔ جسے ہم عام طور پر مبارک مہینہ کہتے ہیں ۔ اس میں قرآن جیسا ضابطہ حیات نازل ہوا، جس کی وجہ سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو نشان راہ ملی ،اندھیروں سے نکلنے کے لئے روشن مشعل ملی۔۔۔ جس کی حفاظت کا وعدہ رب نے فرمایا ہے۔ جس کے ہوتے ہوئے قیامت تک نہ کسی نبی کی ضرورت باقی رہی نہ کتاب کی ۔ اہم بات یہ ہے کہ ماہ رمضان کو جوبزرگی ملی ہے یا نزول قرآن کی رات کو بابرکت کہا گیا ہے۔ اس وجہ سے کہ اس میں قرآن پاک نازل ہوا ہے ۔ لیکن قرآن کو جو فضلیت ،بزرگی، عظمت ،اور فوقیت حاصل ہے وہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ ایک بابرکت رات میں یا با برکت مہینے میں نازل ہوا ہے۔ لیکن ہم نے مہینے کو تھام رکھا ہے، اس میں راتجگے کرتے ہیں۔ قرآن کریم کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے ۔ اسے پاک و صاف کپڑے میں لپیٹ رکھا ہے، زیادہ سے زیادہ کبھی کبھار بلاسوچے سمجھے پڑھ لیا ، یا عدالتوں میں قسم اٹھانے کے لئے استعمال کر لیا۔ مرنے والے کے سرہانے یا سین پڑھ کر سنایابس یہی مصرف ہے قرآن کا ۔ یہ تو قرآن کریم کا صحیح استعمال نہیں ہے،یہ تو مکھی کو پستول سے مارنے والی بات ہے۔ یاد رکھئے اصل شے قرآن کریم ہے رات یا مہینہ نہیں ہے۔

مثلاً اجمل صاحب27مئی کو بڑے اہتمام سے کیک لاتے ہیں ۔ یار دوستوں کو مدعو کرتے ہیں۔ اپنے اکلوتے بیٹے اکمل کی سالگرہ مناتے ہیں ۔ مگر اپنے بیٹے کی طرف سے لاپرواہیں ۔۔ وہ ہیروئن پیتا ہے تیرے میرے دروازے کے آگے پڑا رہتا ہے ۔ احباب ضرور پوچھیں گے کہ آپ 27مئی کو نہیں بھولتے ،مگر جس کی خاطر یہ اہتمام کرتے ہیں اسے آپ نے فراموش کر رکھا ہے ؟ حالانکہ اصل شے بیٹا ہے تاریخ پیدائش نہیں ۔ دلہن پھولوں والی موٹر کار سے اتر کر ساس کے قریب سے گزر کر گھر میں چلی گئی ، اور ساس پھولوں والی موٹر کار کو بوسے دیتی رہی، کیا لوگ اسے لوگ پاگل نہیں سمجھیں گے؟ کیونکہ گوہر مقصود دلہن ہے موٹر نہیں۔۔۔ مجھے لاہور سے ایڈوکیٹ محمد اقبال چوہدری صاحب نے چیک بھیجا۔ میں نے لفافہ پھینک کر چیک جیب میں رکھا کہ اصل چیز چیک ہے، لفافہ نہیں ۔ اصل چیز ’’ قرآن کریم‘‘ ہے رات یا مہینہ نہیں ۔۔ چودہ اگست کتنے ہی آتے ہیں اورگزر جاتے ہیں ۔ اہمیت صرف اس چودہ اگست کو حاصل ہے جو 1947کو آیا تھا۔ وہ اس لئے کہ اس دن پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔

رات یا مہینہ متبرک تھا تووہ جس میں قرآن نازل ہوا تھا ۔ نہ کہ ہر سال کا وہ مہینہ یا رات۔ اکثر سنا ہوگا کہ منحوس گھڑی تھی جو میں نے اس عورت سے شادی کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ گھڑی منحوس ہوتی ہے نہ سعد ۔ منحوس او ربُرے تو وہ تلخ واقعات ہو تے ہیں جو میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کا سبب بنتے ہیں ۔

لیلۃ القدر:

لیال یعنی راتیں او رایام یعنی دن،سب اللہ کے ہیں ۔ قدروالی رات وہ ہے جس میں اللہ نے ضابطہ حیات یعنی (قرآن کریم) نازل کیاتھا۔ انسانوں سے آخری بار ہم کلام ہوا تھا، اور تاقیامت اس کلام کی حفاظت کاذمہ لیا۔ یہاں شرف کلام کو حاصل ہے نہ کہ رات کو۔ مگر کچھ لوگ رات کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اور رتجگے کرتے ہیں ۔ وہ بابرکت رات تو گزرگئی جو خیر من الف شھر تھی۔ جس میں قرآن کریم کے نزول کی ابتداء ہوئی تھی۔ اصل چیز قرآن کریم ہے جسے تلاش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ گھر میں زیادہ نہیں تو تین چار تو ضرور ہوتے ہیں، جسے صاف ستھرے کپڑے میں لپیٹ کر بچوں کو پہنچ سے دور طاق نسیاں میں رکھا ہوتا ہے۔ جس کے نیچے سے دلہن کو گزاراجاتاہے اور قسم کے کام آتا ہے۔ رات تو سال بعد آتی ہے اور خالی ہاتھ آتی ہے۔ البتہ قرآن کریم ہر وقت آپ کے پاس ہوتاہے۔ رات سیپ ہے قرآن کریم اس سیپ میں موتی ہے۔ موتی تو ہمارے قبضے میں ہے، کتنابدبخت ہے وہ جو موتی کو چھوڑ کر خالی سیپ کی تلاش میں لگا ہے۔۔۔ بلاشبہ اللہ کا فرمان ہے کہ لیلۃ القدرایک جہانِ نوکی نمود کی رات تھی اور ۔ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ (97/3) اور یہ ایک باعظمت اس زمانے کے ہزار راتوں او رافضل ہے۔ جس میں دنیا وحی کی روشنی سے محروم تھی ۔ چاروں طرف تاریکی تھی۔ یہ رات نقیب وطائر پیش رس ہے اس دور کی جو قرآن کے نزول کے بعدآنے والا ہے۔ اس دور میں دنیا میں ہر قسم کی تاریکیاں چھٹ جائیں گی ۔ اور آخر الا مر زمین اپنے نشوونمادینے والے کونورسے جگمگااٹھے گی۔ (مفہوم القرآن)یعنی یہ جہاں تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، وحی کے روشنی مفقود تھی۔ اس رات میں وحی کانزول ہوا تو دنیاروشن او رمنو رہوگئی ۔ تو رات پر فوقیت تو وحی کو ملے جو قرآن کریم میں محفوظ ہے۔ اب ہر سال کی وہ رات تو نہیں ۔ او ربھی کنفرم نہیں کہ قرآن کریم رات ہی کونازل ہوا۔ دراصل تاریکی رات سے منسوب ہے اورقبل نزول قرآن تاریکی کی ایک طویل دور رہاہے ہوسکتاہے اسی لیے اس رات سے تعبیر کیا گیا ہو۔ جیسے کوئی دن کی روشنی میں کسی کے ساتھ ظلم کررہاہو توہم کہتے ہیں ’’ یہ کیا اندھیر ہے‘‘ حالانکہ روشنی ہوتی ہے۔

قرآن کریم کونظر انداز کرکے رات کی جستجومیں بر صغیر کے مسلمان لگ گئے ا س لئے کہ قرآن کریم پر عمل کرناپڑتا ہے اورعمل کرنابڑامشکل کام ہے۔ لہٰذا کچھ بزرگوں نے قوم کورتجگے پرلگا کر شارٹ کٹ تلاش کیا ہے۔ دراصل Convert مسلمان اور کربھی کیا سکتے تھے ۔ ہمارے خون میں ابھی ہندوانہ غدود گھوم پھر رہے ہیں ۔ ہندوؤں کا یہی قاعدہ تھاکہ جس دریا کو پایاب نہ کرسکے اس کو گنگا میا کہہ کر پوجنا شروع کردیا۔جس پہاڑ کو سرنہ کرسکے اسے دیوتا مان کر سر جھکا لیا۔ جب نو عمر محمد بن قاسم سے شکست کھالی تو دوسرے دن لوگ اس کے خیمہ پرآکر تلوار کے درشن کرنے کو کہا اور تلوار کوپوجناچاہا۔ بن قاسم نے انہیں سمجھایا کہ تلوار میں کوئی کمال نہیں ، کمال تلورا چلانے والے کے بازو میں ہوتاہے ۔ شاعر نے کیاخوب کہا ہے

اے شیخ کیا ڈھونڈ ے ہے شب قدر کا نشاں

ہر شب شب قدر ہے اگر تو ہو قدر داں

قرآن جو چھوڑ کر شب قدر کی تلاش ایسی ہے جیسے کوئی سپاہی تلوار کونظر انداز کرکے تلوار کے میان کو لئے لئے پھرے ۔جیسے کوئی سنگترہ پھینک کر اس کا چھلکامنہ میں ڈال لے ۔ میں نے ایک رتجگے والے مولوی سے کہا کہ پشاور میں عید 9نومبر کو ہوئی، صوابی میں 10کو اورپورے پاکستان میں 11کو جب کہ امریکہ میں 12نومبر کو تو ان کی 27ویں شب کہا گئی؟اور کون سی ہے۔ کہا اللہ کے ساتھ کس چیز کی کمی ہے، کیاعجب اللہ چار چار لیلۃ القدر کا انتظام کردے۔

تراویح:

رمضان کامہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم کے نزول کی ابتداء ہوئی ہے۔ قرآن کریم کو اللہ نے نعمت عظمہ قرار دیا ہے۔ او رکا کہ فبذا لک فلیفرحوا تمہیں چاہیے کہ اس گراں بہامتاع کے بلا مزدومعاوضہ ملنے پر جشن مسرت مناؤ۔ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ اور یہ ان سب سے بہتر ہے جو تم دنیا میں جمع کرتے ہو۔ (58/10) ماہ صیام کے متعلق رب نے فرمایا ۔  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کئے گئے ، جس طرح تم سے پچھلی قوموں پر فرض کئے گئے ۔ ایاماً معدو دات ۔ یہ گنتی کے چند دنوں کے ہیں۔

رمضان کی راتوں میں تراویح بھی پڑھی جاتی ہیں ۔ ہمارے ہاں یہ 20رکعت ہوتی ہیں۔ اس میں قرآن کریم پرھاجاتا ہے ۔ اور مقابلے ہوتے ہیں کہ کس مسجد کا حافظ قرآن کریم کو جلد از جلد ختم کرتاہے۔ اس مقصد کے لئے لوگ اولاد کو قرآن حفظ کراتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ نے حفظ پر زور نہیں دیا تمام زور عمل پر دیا ہے۔ جس سے ہم چشم پوشی کرتے ہیں۔ اب تو خیر پہلی جیسی بات نہ رہی ۔ پہلے تو اگر کسی کے چار بچے پیدا ہوئے تین صحیح و سالم ہیں ،ایک لنگڑا لولا یا کانااندھا ہے تو تین کو اسکول اور کالج بھیج دیا جاتا تھااور معذوربچے کو مسجد بھیج دیا جاتا تھا، قرآن حفظ کرنے۔ اسی لئے برصغیر کی تقریباً ہر زبان میں جب کہا جائے کہ وہ دیکھو حافظ جی آرہے ہیں تو اس سے مراد کورما درزاد یعنی پیدائشی اندھا ہوتا ہے۔ جو قرآن حافظ ہوتاہے۔ پشتوااور پنجابی میں تو ہر اندھے کو حافظ جی کہتے ہیں چاہے وہ قرآن کریم کے لفظ سے بھی واقف نہ ہو۔

قرآن کریم کو تو کوئی ختم نہیں کرسکتا کہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے۔ مگر ہمارے ہاں جس طرح تراویح میں قرآن پڑھا جاتاہے یہ واقعی قرآن کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ تیزی اورنہایت سرعت کے ساتھ نہ سمجھنے والے انداز میں نان اسٹاپ روانی کے ساتھ پڑھا جاتاہے۔

یاد ماضی عذاب ہے یا رب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

کویت میں رہائشی مکانات بن رہے تھے ،جہاں جنوبی کو ریا اور بھارت کو ٹھیکہ دیا تھا پاکستانی تعمیراتی کمپنی N.Cکو بھی چند سو مکانات بنانے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ پاکستانی ملازمین نے اپنے رہائشی کیمپ میں اپنے لئے ایک عارضی مسجد بنالی ۔ اس میں باجماعت نماز کا انتظام کیاگیا۔ چار چھ ماہ بعد رمضان کا مہینہ آیا تو تراویح پڑھانے کی ضرورت پڑ گئی ۔ ان کے ساتھ پاکستانی حافظ تھا مگر قانون کے مطابق حکومت سے طلب کیا گیا ۔ حکومت کابھیجا ہوا مولوی تین چار دن تاخیر سے پہنچا او رپہنچا بھی اس وقت جب پاکستانی حافظ تراویح پڑھا رہاتھا۔ جب تراویح ختم ہوئی او رلوگ نکلنے لگے ،تو عرب مولوی نے پاکستانی مولوی کو قریب بلایا۔ کہا و من اعطاک صلا حیہ تلعب مع کتا بنا قرآن الکریم ۔ کس نے تمہیں اتھارٹی دی ہے کہ تم ہماری کتاب’’ قرآن‘‘ کریم سے کھیل کھیلتے رہو ؟ ھل تر ید تخلص المصحف فی لیلۃ واحدہ۔۔۔ کیا تم ایک ہی رات میں قرآن ختم کرناچاہتے ہو؟ مولوی سراسمیہ ہوکر ادھر ادھر دیکھنے لگا تو ایک پاکستانی جوتھوڑی بہت عربی جانتاتھا اس نے ترجمہ کرکے مولوی کو سمجھایا کہ عربی مولوی کیا کہہ رہاہے۔

پاکستانی مولوی نے کہا مجھ سے کہاں غلطی ہوئی ہے؟ عرب مولوی نے کہا ھل تقرؤن القرآن بھٰذا شکل مثل دراجہ الناریہ فت فت فت فت۔ کیا تم لوگ قرآن کو اسی طرح پڑھتے ہو موٹر سائیکل کی طرح پھٹ پھٹ پھٹ ۔ اور تم تو میری باتیں (عربی زبان) بھی نہیں سمجھتے ۔ تم نے یہ قرآن کس طرح یادکرلیا؟ او رکیا تم نے قرآن کریم میں قرآن پڑھنے کے اصول نہیں دیکھے کہ قرآن کریم کیسے پڑھا جاتاہے ؟ کیا یہ آیت نہیں دیکھی ۔ و قراٰنا فرقنٰہ لتقراہ علی الناس علیٰ مکث و نزلنٰہ تنز یلاً ( 17/160) اور قرآن کو ہم نے وقتاً فوقتاً اس لئے اتارا تاکہ تم مہلت کے ساتھ اس لوگوں کو پڑھ کر سناؤ اس کے مطالب ان کے ذہن نشین کراؤ ۔ اور اسی مقصد سے ہم نے اس کو رفتہ رفتہ اتارا ۔ ورتل القرآن ترتیلا (73/4) اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر سمجھ کر پڑھا کرو۔۔۔ پھر تم کیسے بگٹٹ بھاگے جارہے ہو؟ تم کیوں قرآن کو مقتدیوں کے ذہن نشین و دل نشیں نہیں کراتے ؟ تم کیوں ایک رات میں اسے ختم پر تلے ہوئے یاپاکستانی مولوی نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں کہا ۔ واللہ یا شیخ انا ما عرف ایش تقول ۔ قسم ہے اللہ کی یا شیخ کہ میں کچھ نہیں سمجھا آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ عرب مولوی نے کہا جب تم کچھ نہیں سمجھتے تو لماذ ا وا قف امام الناس ۔ پھر لوگوں کے آگے کیوں کھڑے ہوتے ہو۔ انت تقراء بالسر عہ تم بہت اسپیڈ سے پڑھتے ہو۔ ھدو لاک مساکین لوراک یمکن یسمعون و لاکن لا یفھمون ۔ یہ جو تیر ے پیچھے کھڑے ہیں یہ شاید سنتے ہوں مگر سمجھ نہیں سکتے ۔ پاکستانی مولوی نے ترجمان کی طرف دیکھا اور اردو میں اس سے کہا اب اس کو کون سمجھائے کہ سمجھتا تو میں بھی نہیں ہوں ، کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔

عربی مولوی نے کہا ۔ اگر آئندہ تم نے قرآن کریم کے ساتھ کھیل کھیلا تو میں تمہیں پولیس کے حوالے کردو ں گا ۔ ایام نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں جب قرآن پڑھا جاتا تھا تو سننے والوں کی کیا کیفیت ہوتی تھی ۔ اللہ بیان فرماتا ہے ۔ واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تربی اعینھم تفیص من الدّمع مما عرفوا من الحق ( 5/83) اور جب یہ لوگ سنتے ہیں وہ کتاب جو ہم نے نازل کی اپنے پیغمبر ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر تو ذرا ان کی آنکھوں کی طرف دیکھو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو کیسے رواں ہیں ۔۔ اس لئے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی۔۔ سبجان اللہ یہاں قرآن پڑھا جاتاہے تو سننے والوں پر غنود طاری ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں دعا کرتے ہیں کہ جلدی جان چھوٹے اور گھر پہنچیں ،کیوں اس لئے کہ سمجھتے نہیں کہ کیا پڑھا جارہا ہے ۔ یہ احسا س ہی نہیں کرتے کہ اس کتاب کے ذریعہ اللہ انسان سے آخری بار مخاطب ہوا ہے ۔ جب کہ اللہ تبارک کافرمان ہے۔  لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّـهِ (59/21) مفہوم اس قرآن کا اثر انگیز یوں کا یہ عالم ہے کہ مثال کے طور پر اگر ہماسے کسی پہاڑ پر نازل کردیتے ۔ تو تم دیکھتے کہ اس کی خلاف ورزی کے احساس سیاس پر لرزدہ طاری ہوجاتا او رذمہ داری کے خیال سے وہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتا ۔ اس قسم کی مثالیں ہم اس لئے دیتے ہیں کہ لوگ عقل و فکر سے کام لیں۔۔۔ اور سوچیں کہ قرآن کن عظمتوں کامالک ہے۔ اور اس کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوتے ہیں ۔

ہم پاکستانیوں کو اگر کوئی رمضانی کہے تو بیجانہ ہوگا ۔ وجہ یہ کہ ہماری تمام تر مسلمانی کے جذبات رمضان کے مہینے میں بیدار ہوتے ہیں۔ روزہ، نماز،تراویح، نفل، ختم قرآن،تلاوت ،مسجد افطاری بھیجنا خیر خیرات دینا،بھکاریوں کے ہاتھ پر کچھ رکھنا یہ سب ہمیں رمضان میں یاد آتا ہے ۔ جس طرح کوئی کام چور سرکاری ملازم مہینہ بھر غائب رہے اور تنخواہ کے دن حاضر ہوجائے ۔ یا پڑھائی سے جی چرانے والا طالب علم امتحان کے قریب پڑھائی میں جٹ جاتا ہے ۔ تاکہ پاس ہوجائے ایسے لوگوں کے انجام سے ہر ایک واقف ہوتا ہے۔ ہر خرابی میں حکومت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم گورنر صاحبان اور دیگر دانشوران حتیٰ کہ مذہبی پیشوا بھی ماہ رمضان میں تاجروں کو تاکید کرتے نظر آتے ہیں کہ اس متبرک مہینے میں گراں فروشی ،ملاوٹ ،ذخیرہ اندوزی ،ناجائز منافع خوری، اور ہر قسم کی ہیرا پھیری او ربے ایمانی رمضان میں منع ہے۔ رمضان میں قیمتیں نہ بڑھا ئیں اورجھوٹ نہ بولیں ۔ سال کے گیارہ مہینہ جو لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کی موجودگی میں ہر قسم کی ہیراپھیری اورحرام خوری کرتے ہیں اور رمضان میں ترک کرتے ہیں، وہ رمضان ک واللہ پر فوقیت دیتے ہیں ۔ یہ اللہ کی توہین ہے پچھلی حکومتوں میں رمضان کے احترام میں تمام بار بند کردیئے جاتے تھے ۔ گیارہ مہینے اللہ کی ذات موجود حرام خوری چالو ایک مہینہ رمضان موجود ہر قسم کی حرام خوری بند ۔ یہ دو غلہ پن ہے شرک ہے۔ اگر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے تو ہمیں ہرقسم کے منکرات سے سال کے بارہ مہینے اجتناب کرنا ہوگا اور اگر نہیں تو ہر برائی کو کھلی چھٹی دینی ہوگی ۔ جب رمضان آئے تو اسے صاف جواب دیا جائے ، کہ جامیاں اپنا کام کر، ہم گیارہ مہینے ہر قسم کی حرام خوری کرتے ہیں تیری آمد پر ہم اپنا راستہ بدل لیں کیوں کیا تو اللہ سے بڑا ہے۔

(قرآ ن تمام انسانوں کی کتاب ہے ،قرآن چاہتا ہے کہ اللہ کی مخلوق پر کوئی ظلم نہ کرے)

جون ۔2017 بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/month-of-ramazan-ul-mubarak--ماہ-رمضان-المبارک/d/111421

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..