New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 06:28 PM

Urdu Section ( 17 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Kalima Taiyaba كَلِمَةً طَيِّبَةً

 

 

حسین امیر فرہاد

اللہ کا فرمان ہے ۔ کہ جب لوگوں سے بات کرو ۔  وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا ( 2:83) تو حسن اخلاق  کوملوظ خاطر رکھو میٹھی زبان استعمال کرو حُسْنًا کا ترجمہ ہے ۔ (Excellently, Sincere, Gracefully, Nice) طریقے سے ۔ دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ، تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ، وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ (14:24:25:26)

اور آیت کریمہ مذکورہ بالا میں کلمۃ طیبہ کا ذکر ہے جو صرف وہ کلمہ  نہیں ہے جس کے ذریعے سے عام طور پر لوگوں کو مسلمان کرایا جاتا ہے۔ کلمہ کے معنی ہیں Word  طیبہ کا ترجمہ ہے Goodness, او رکلمۃ السر Password کو کہتے ہیں ۔ اب آپ اسی آیت کا ترجمہ  پڑھئے ۔

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے کلمہ  طیبہ ( اچھی بات) کی کس چیز سے مثال دی ہے ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی نسل کا درخت  جس کی جڑیں  زمین میں گہری جمی ہوئی ہیں اور شاخیں آسمان  تک پہنچی ہوئی ہیں ہر آن وہ اپنے رب  کے حکم سے پھل  دے رہاہے۔ یہ مثالیں  اللہ اس لئے دے رہا ہے کہ لوگ اس سے سبق لیں ۔ اور  کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بدذات  درخت  کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتاہے اس کے لئے استحکام نہیں ہے۔

مثلاً اگر آپ کسی سے پوچھنا چاہیں کہ پوسٹ آفس کہا ں ہے؟ ۔ اور اس کے لئے الفاظ استعمال کریں ‘‘ اور بڈھے بتا پوسٹ آفس  کس طرف ہے؟۔’’  چونکہ یہ بُرے کلمات ہیں اور اللہ کی منشاء کے بھی خلاف ہیں کیونکہ  اللہ تو ( میٹھی  زبان کے استعمال کا حکم دے رہے ہیں)لہٰذا ہوسکتا ہے وہ آپ  سے لڑپڑے اور ہوسکتا ہے آپ کو غلط سمت بتا کر گمراہ کردے ۔ اور اگر آپ اس سے کہیں محترم  یا بڑے صاحب پوسٹ آفس کس طرف ہے؟ ۔ تو وہ صرف آپ کو بتابھی دے گا بلکہ اگر اس کے پاس سواری ہے تو وہ آپ کو چھوڑ بھی آئے گا۔ کیونکہ یہی اچھی بات کاپھل  ۔ جیسے ایک اچھی نسل کادرخت  جس کی جڑیں زمین میں گہری جمی ہوئی ہیں اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہاہے۔ اور اچھی ذات کے انسان کا یہ ہے ( پھل) کہ آپ کو اپنے اسکوٹر پر بٹھا کر پوسٹ آفس تک چھوڑ آئے) یہ مثالیں اللہ اس لئے دے رہاہے کہ لوگ اس سے سبق لیں۔

شیخ سعدی فرماتےہیں  ‘‘کلمہ طیبہ ’’ نیک بات، بھلائی کی بات، نصیحت  آموز کلمہ اگر مٹی گار ے کی دیوار پر لکھی ہو تو بھی اس پر عمل کرناچاہئے، یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ یہ بات اگر سنگ مرمر کی تختی پر لکھی ہوتی تو عمل کے قابل تھی مٹی کی دیوار پر لکھی بات کس قابل؟ اور اگر گلی میں جھاڑو دینے والا خاکروب کہے کہ ۔ ‘‘ جھوٹ مت بولو’’ تو اسے ہلکا  مت سمجھو کہ یہ تو جھاڑو لگانے والے نے کہی ہے دیکھا جائے تو قرآنی آیت  کا ترجمہ ہے۔

اب میں آپ کو عملی  طور پر بتاؤں  گا کہ کیا واقعی  کلمہ طیبہ ( اچھی بات ‘‘ پھل ’’ دیتی ہے؟) کویت میں نیا نیا گیا تھا ایک کمپنی میں مندوب علاقات عامہ ( پبلک ریلشنز آفیسر) او رلوکل پر چیز رکی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا ۔ منیجر  نے کہا بازار سے سپنج لے آؤ ۔ سوق واقف ( Covered) بازار سے ملے گا،  میں گیا کار پارکنگ میں پک اپ کھڑی کی او ربازار میں داخل ہوا یہ بازار استنبول کی طرح ہے دونوں طرف بازار بیچ میں 25 فٹ راستہ اور اوپر چھت۔ دوسری دکان میں ایک بڑے میاں  بیٹھے تھے میں نے سلام کیا مگر عربی طرز سے نہیں جو انگریزی کاترجمہ ہوتا ہے یعنی  صباح الخیر مسا الخیر گڈ مورننگ نہیں ، پاکستانی طرز سے سلام کیا تاکہ مخاطب جان جائے کہ سامنےوالا پاکستانی ہے ۔ میں نے کہا ۔ سلام علیکم یا عم المحترم ۔عم ویسے تو چچا کو کہتے ہیں مگر بزرگ  کو بھی کہتے ہیں ۔

کہا وعلیکم سلام ۔ میں نے کہا  این یبیعون السبنج؟۔کہا بکتے  ہیں سپنج ؟ ۔  کہا ۔ اذادلیتک کم تدفع لی ،اگر بتادوں تو کیا دوگے؟۔ میں نے جواب دیا لتطلب ۔ جو آپ طلب کریں گے۔

وہ میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اونچی دکان کی تین سیڑھیوں سے اتر ا چپل پہنیں ۔ میں نے سوچا یہ مصیبت علیحدہ  ہے جو خریدوں گا اُس کی تو رسید  ملے گی کمپنی سے پیسے لے لوں گا، مگر اسے تو دینا  ر یا آدھا دینار  دینا پڑے گا یعنی سو دوسو رپیہ  پاکستانی اس کی تو رسید نہیں ملے گی ۔ اور عرب لالچی  بھی بہت ہوتے ہیں، چلو کوئی با ت نہیں بوڑھا آدمی، دکانداری نہیں چل رہی ہوگی آخر میرے ساتھ دکان چھوڑ کر جارہا ہے ۔ وہ مجھے اس بازار کے پچھواڑے لے گیا ایک دکان کی طرف اشارہ کیا ۔ کہا  وہ دیکھو سپنج سپنج پڑے ہیں ۔ میں جیب سے بٹوہ نکالا اور اس سے پوچھا ۔ کم ادفع لک یا عم ؟کتنی ادائیگی کروں محترم ۔ کہا ۔ باللہ علیک ھل تدفع لی ؟  بخدا کیا تم ادائیگی کروگے؟۔

میں نے کہا ۔ نعم و اللہ وعت معک ۔ جی ہاں  آپ سے وعدہ جو کیا ہے؟

کہا پھر تم اتنا ہی کہہ دو اللہ یرحم والدیک ۔ اللہ میرے والدین پر رحم کرے ۔ میں نے جو ابّا کہا ۔ اللہ یرحم والدیک ووالد ھم ۔  اللہ آپ کے والدین اور ان کے والدین پر  بھی رحم فرمائے ۔ کہا سنو میرے بیٹے دنیا میں پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا ایک  ( کلمہ طیبہ) اچھی بات بھی دکھی دل کے لئے دوا کا کام دیتی  ہے۔ جا ؤ اپنا کام کرو اللہ دائماً معک ۔ اللہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی بزرگ کو اچھے لفظوں سے یاد کرنے میں ہمار ا کچھ خرچ نہیں ہوتا مگر سننے والا مسرور ہوجاتا ہے مثلاً ایک واقعہ پیش خدمت  ہے۔ شیعہ حضرات  کے بزرگ  اور ہمارے بزرگ مشترک  ہیں ہم ان کے حق میں گستاخی  کا سوچ بھی نہیں  سکتے ۔ کویت کی بات ہے، میں اور محمد اشرف بازار  کے قریب  ایک ایسی جگہ سے گزررہے تھے جہاں تجاوزات کو گرایا جارہاتھا ، ایک چھوٹی سی مسجد  تھی جو عراقی طرز پر بنی تھی ۔ اشرف نے کہا یہ عجیب طرز کی مسجد ہے؟ میں نے بتایا یہ مسجد علی کہلاتی ہے ۔

چونکہ عرب  ممالک  میں علی نام  کثرت سے رکھا جاتاہے ، اس لئے اشرف سمجھا نہیں ۔ کہا کون علی؟ ۔ میں نے ذرا بلند آواز سے کہا بھئی ‘‘ حضرت بن ابی اطالب کرم اللہ وجہہ ’’ ۔ ایک عرب نے سڑک پر گزرتے ہوئے دوکوٹ پتلون والوں کو سنا تو آوازدی  اَوْقَفْ یَا جَعَا عَہ ۔ کھڑے رہو ساتھیو!۔

او رخود ملبے  میں سے ہماری طرف چل پڑا چھڑی ہاتھ میں تھی ۔ اشرف نے کہا چل یار بھاگتے ہیں یہ کہیں مارنا شروع نہ کر دے چھڑی بھی ہاتھ  میں ہے۔ میں نے کہا  مت ڈرو آخر ہم نے کیا کیا ہے؟ اتنے میں وہ آدمی ہم تک پہنچ ہی گیا ۔ کھڑا ہوکر ہم دونوں کو غور سے دیکھا من قال علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ ۔  یہ کس نے کہا تھا کہ علی بن  ابی طالب  جس کے چہرے پر اللہ کرم فرمائے ؟۔ اشرف تو گھبرا یا ہوا بھی تھا او رکہابھی میں نے ہی تھا اشرف نے میری طرف اشارہ کیا ۔

اُس نے مجھ سے پوچھا میں نے جی ہاں میں نے کہا تھا ۔ اُس نے میری گردن  میں ہاتھ ڈال کر مجھے اپنی طرف جھکایا اور میری پیشانی  کے تین چار بوسے لئے کہا کرم اللہ وجہ ووجھک ۔اُن کے چہرے  پر بھی اور آپ  کے چہرے پر بھی اللہ کرم فرمائے ۔ کتنے احترام سے تم نے ابوالحسن کا نا لیا ۔ اللہ تمہاری  ماں پر بھی کرم  فرمائے جس نے بیٹے کو اچھی تعلیمات دیں ہیں ۔ وَفَدَا عَلٰی لِسَانَک او رمیں قربان جاؤں لِیَحْتَرَم النَاسْ اَلْطَیَبِین ۔ جس نے اتنی خوبصورتی  اور احترام سے ابوالحسن کا نام لیا ۔ کون ہو تم کہاں  سے تعلق ہے تمہارا ؟ میں نے کہا پاکستانی ہوں ۔ کہا ۔ باکستانیین ناس طیبین اللہ طول عمرک ۔ روح اللہ معکم ۔  پاکستانی اچھے لوگ ہوتے ہیں اللہ تمہاری عمر دراز کرے جاؤ اللہ تمہارا نگہبان ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منیر قطر پولیس میں موچی کاکام کرتا تھا اچھا آدمی تھا مگر برا کام یہ کیا تھا کہ گریجویٹ لڑکی  سے شادی کر کے  لایا تھا دھوکے سے کہ وہ قطر پولیس میں اچھی پوسٹ پر ملازم ہے بہر حال لڑکی شریف تھی صبر شکر سے وقت گزار رہی تھی ۔ ایک دن پولیس دیسی شراب کی بھٹی کے سلسلے میں تلاشی لینے آئی تھی  اُن  کا گھر میرے قریب ہی تھا ۔ میں گھر پر تھا نکلا  اور پولیس کو سمجھایا کہ وہ منیر  کوئی او رہوگا یہ تو پولیس میں شومیکر ہے۔ بہر  حال پولیس میرا کہنا مان کر چلی گئی ۔ دوسرے دن وہ لڑکی کچھ میٹھا پکا کر ہمارےہاں آئی میری بیوی  سے کہا میں بہت احسان  مندہوں آپ کے شوہر  بھی اچھے انسان ہیں پولیس کو واپس  کیا او ریہاں سارے پاکستانی  ہمیں موچی کہتے ہیں آپ کے شوہر نے پولیس سے کہا یہ شریف آدمی ہیں  پولیس  میں شومیکر ہیں ۔

دیکھا جائے تو شو میکر اور موچی میں کوئی فرق نہیں مگر پڑھی لکھی  لڑکی تھی  موچی  کے مقابلے میں شومیکر اُسے کچھ اچھا لگا، یقین جانئے موچی کے بدلے شومیکر کہنے پر میرا  کچھ خرچہ بھی نہیں آیا مگر سننے  والے خوش ہوگئے ۔ خوشی بانٹنا  ہی کلمہ طیبہ  کی طرح عمل طیب ہے۔ آپ بھی اس پر عمل کر دیکھئے اچھے نتائج بر آمد ہوں گے ۔   وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا ( 2:83) کے معنی بھی یہی ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بچپن اورجوانی  میں آدمی  غلط حرکتیں عموماً کرتا رہتاہے لیکن  اگر وہ چالیس کے بعد بھی وہی حرکتیں کرتا  رہے تو لوگ کہتے ہیں یہ ابھی تک  نابالغ ہے۔ کویت  میں جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے میں اور اشرف فحاحیل بازار گئے میں گھڑی خرید نا چاہتاتھا دکان  پر رش تھا میں شوکیس کے سامنے کھڑا ہوگیا ۔ وطن سے باہر شرٹ پینٹ کی وجہ سے کوئی پہچانانہیں  جاتا کہ  کہاں کا باشندہ  ہے۔ دو پشتون میرے پیچھے کھڑے تھے ایک نے دوسرے سے کہا جلدی لو جو لینا ہے آخر جمعہ بھی پڑھنا ہے۔

دوسرے نے جواب دیا ( اُدریگا داسنڈالرے شی نو) ذراٹھہر و یہ سانڈ سامنے سے ہٹ جائے تو! مجھے غصہ تو بہت آیا ، سوچا ایک دو ہاتھ ما ر دوں یا بر ابھلا  کہہ کر درگزر کروں۔ سوچا دیر پا علاج بہتر ہوگا تاکہ اسے آئندہ کے لئے نصیحت ہوجائے ۔ میں سامنے سے ہٹا اور اُس کے ٹھیٹ پشتو میں کہا ( والا سنڈالرے شو) لو سانڈ سامنے سے ہٹ گیا جو لینا ہے لے لو۔

اس کا چہرہ شرم کے مارے پیلا ، زرد ہوگیا ، کہا میں  انسان ہی نہیں ہوں ۔ ( ہم پشتون ، سندھی اور پنجابی بھی ذرا بڑا ہوتو پیروں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔) وہ جھکا اور میرے پیروں  کو ہاتھ لگا یا کہا مجھے معاف کرنا میں بہت غلط بات کہہ گیا ہوں ۔ اس کے ساتھی نے کہا افسوس کویت پہنچ کر بھی تم انسان نہیں بنے۔ وہ باہر تک آئے اور مجھ سے معافی مانگتےرہے ۔ میرا  خیال ہے  چانٹا مارنے سے یہ زیادہ بہتر ہو ا اب وہ آئندہ محتاط رہے گا۔ اچھے رویے  سے اچھی بات ( کلمہ طیبہ) کاپھل یہی ہے۔ کہ وہ اس نازیبا  طرز عمل سے باز رہے۔

بحرین شپ یارڈ میں سیکورٹی آفیسر  تھا ایک دن  ہینڈسم جوان آیا سیکورٹی گارڈ کے روکنے سے بھی نہ رکا میرے پاس آفس میں آیا کہا میں اندر جانا چاہتا ہوں؟۔

میں نے پوچھا  کسی سے ملنا ہے ؟ کہاں نہیں میں جاب لیس ہوں۔

میں نے کہا آپ کا رویہ  درست نہیں آپ نے سیکورٹی  گارڈ سےمنہ ماری کی، میں آپ  کو روک  بھی سکتا ہوں او رپولیس کے حوالے بھی  کرسکتا ہوں کہ آپ میرے فرائض  میں رکاوٹ بن رہے ہیں ، کیا نام ہے آپ کا۔ کہا دلیپ نام ہے اور میں بنگلور کا رہنے والا ہوں گریجویٹ ہوں ۔ جب معلوم ہوا کہ بھارت کا رہنے والا ہے تو تھوڑی دیر کے لئے دشمنی کے جذبے نے سر اٹھایا مگر میں نے اسے سلادیا کہ ہمارا بھی ایک دلیپ ہے جو وہاں عزت کی زندگی گزار رہا ہے ۔ یہ پتہ نہیں کب سے بے روزگار ہے پڑھا لکھا ہے پتہ نہیں کیا کیا آرزو ئیں اور خواہشات  لے کر آیا ہوگا ۔

میں نے ابراہیم  ( مدیر العمال) کو فو ن کیا کہ صحت مند جوان  ہے پڑھا لکھا ہے۔ بے روزگار ہے اگر کوئی جاب ہوتو لگا لیجئے ۔ کہا لے کر آؤ میں نے ترجمانی کی اور وہ  کام سے لگ گیا ، بڑی عزت  کرتا تھا ۔ جب چھٹی پر جانے لگا تو پوچھا کیا چاہئے انڈیا سے ۔ میں نے وہاں سے اردو کی کتابیں منگائیں  جو کراچی میں نایاب تھیں ۔ یہ کتابیں میرے اچھے رویئے  کا ( کَشَجَرَ ۃ ٍطَیِّبَۃٍ) کا پھل سمجھ لیجئے ۔ قیمت تو میں نے ادا کی لیکن اس کا احسان مند ہوں  کہ اس نے وہ کام کیا جو میرے بس کا نہیں تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں چھٹی گزار کر کویت واپس جارہا تھا ، ایک معمر خاتون بھی اپنی بیٹی سے ملنے کویت جارہی تھی ان کی بیٹی وہاں ڈاکٹر تھی خاتون کی سیٹ میری سیٹ سے ملی ہوئی تھی یہ پی آئی  اے کا بوئنگ تھا اُس وقت تک پی آئی اے نےجواب نہیں دیا تھا یہ لاجواب تھا اور اس کا عملہ بھی با کمال تھا ۔ خاتون کا کارڈ بھی میں نے بھرا امیگریشن کاونٹر سے کلیرنس کراکر ہم  باہر نکلے اشرف مجھے لینے آیا تھا میں نے اپنا بیگ اس کی گاڑی میں رکھا  ،میں نے دیکھا کہ خاتون پریشانی کے عالم میں دائیں بائیں دیکھ رہی  تھی ۔

میں نے پوچھا کیا با ت ہے کیاکوئی لینے نہیں آیا ؟۔ کہا سمجھ میں نہیں آتا، میں نے بیٹی  کو خبر تو دی تھی پتہ نہیں کیا وجہ ہے وہ پہنچی  نہیں؟۔ میں نے پوچھا آپ کے پاس ان کاپتہ تو ہوگا؟۔ اس نے کارڈد یا کہا یہ ہے ان کا پتہ ۔ میں نے کہا یہ ہے  ضاحیہ عبداللہ سالم اور میں خالد یہ میں رہتا ہو ں آپ کو چھوڑ کر میں آگے جاؤں گا آپ میری گاڑی میں بیٹھ جائیے ۔ بہر حال میں نے اسے اس کی بیٹی کے گھر پہنچا دیا اس نے فون نمبر مانگا تو میں نےاپنا  کارڈ دیا۔ دوسرے دن اس کی بیٹی کا فون آیا کہا میرا نام فہمیدہ جمال ہے کل  آپ نےمیری ممی کو میرے  گھر چھوڑا جس کے لئے میں بے حد ممنون ہوں، آج رات کے کھانے پر اگر آپ میرے ہاں تشریف  لائیں تو نوازش ہوگی ۔ میں دعوت میں بھی گیا اور جب تک کویت میں رہا ان سے ملتارہا ۔ یہ بھی ‘‘کلمہ طیبہ’’ کی اور عمل طیب کی برکت ہے۔ قارئین آپ بھی ایسا موقع ضائع نہ کریں۔ اس کاپھل لذیذ او رمیٹھا  ہوتا ہے۔

اگست ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/kalima-taiyaba--كَلِمَةً-طَيِّبَةً/d/98595

 

Loading..

Loading..