New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 04:12 AM

Urdu Section ( 16 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Changes in today’s Pakistan .......سائیں بابا نے کہا

 

 

حسین امیر فرہاد

فرہاد صاحب السلام علیکم ، آؤ آؤ سائیں بابا ، وعلیکم اسلام اچھا ہوا  آپ آگئے ۔ ورنہ میں آنے والاتھا ، سناؤ کیا حال ہے؟ ۔

فرہاد صاحب حال تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں ۔ بد حال  ہے ، ماضی اس سے مختلف  نہیں ہے، رہا مستقبل  تووہ بھی  ایساہی رہے گا۔ آپ بتائیں  کہ الیکشن میں ہر پارٹی  سربراہ  یہی کہتا تھا کہ ہم چینج لانا چاہتے ہیں ، حتیٰ کہ امریکہ  کے الیکشن میں اوباما بھی کہہ رہا تھا I want change  ۔ فرہاد صاحب یہ چینج کیا بلاہے؟۔ ذرا  اس پر روشنی ڈالئے ۔

سائیں بابا ! بلاشبہ  ہر ایک  یہی کہہ رہا تھا کہ ہم چینج  چاہتے ہیں چینج  کے معنی ہیں، تبدیلی ، تغیر، تنوع، انتقال اور بدلاؤ وغیرہ  اگر کسی کا تبادلہ لاہور ہو جائے یا وہ مکان بدل لے کورنگی سے اورنگی چلا جائے یا مرید  کے سے کامونکے ، تو کہا جاتاہے وہ اورنگی سے انتقال  کر گیا یا کامونگے  منتقل ہوگیا اور اگر کسی دوست  سے کہا کہ چلو گھومنے چلیں ، تو وہ کہے گا میں چینج کر کے ابھی آیا ، یہاں  وہ کپڑے تبدیل کرنے کی بات کررہاہے ۔ یورپ میں تو سائیں بابا  ، لوگ وائف سےلے کر لائف تک بدل دیتےہیں ۔ وہ ایک وائف بدلتے ہیں ان کی گاڑیوں میں بھی فاضل پہیہ  ( Spare Wheel ) ایک ہوتاہے ۔ ہم چار چار رکھتے ہیں باندیاں  الگ ۔ ہمیں اوباما سےکیا لینا دینا ہے ۔ بش بھی ہماری  بڑھتی  ہوئی آبادی کو کم کرنے میں ڈرو ن حملوں سے تعاون کرتاتھا اوباما بھی کررہا ہے کوئی چینج نہیں آیا ۔

مگر تبدیلی آئی ہے ۔ پہلے حکمران طبقے کے چہروں پہ رونق ہوا کرتی تھی، لباس یوں  لگتا تھا جیسے ٹرافلگر سکوائر میں سلوایا ہے بال پیکا ڈلی رائل ہیئر کٹنگ سیلون  سے بنوا کر آئے ہیں ۔ اس کرو فرکا گراف نوے فیصد سےگر کر آج ساٹھ فیصد تک آگیا ہے ۔ اس وقت کے حزب اختلاف والے ٹی وی  کے مباحثے  میں ان کے چہروں پر ،ہوائیاں  اڑتی تھیں ہونٹ سوکھے سوکھے  لگتے تھے کپڑے میلے  میلے رہتے تھے کسی کسی کو تو شیو بھی  بڑی ہوتی تھی ایسا لگتا تھا جیسے ٹی وی کےمباحثے میں سیدھے  قبرستان  سے آئے  ہیں کسی عزیز  کو دفنا کر ۔

مگر اب وہ بات نہیں ہے لباس  بھی جازب  نظر چہرے بھی  پر رونق  اور گالوں میں بھی سرخی جھلکنے لگی ہے ۔ کاریں  بھی چمکیلی  ہوگئی ہیں ۔ مجھے ذاتی  تجربہ  ہے کہ جب میں کار پارکنگ  میں کار کھڑی  کر کے اور انگلیوں میں امپالہ کی چابیاں  گھما  کر دفتر  کی سیڑھیوں یا فٹ پاتھ پر چل رہا ہوتا  تو میں  محسوس  کرتا تھا  کہ میں ایک شخصیت  ہوں اگر  میں نہ ہوتا  تو ڈپارٹمنٹ کا سارا کاروبار بند ہوجاتا ۔ آج  جب میں بس اسٹاپ پر بس کے انتظار میں کھڑا  رہتاہوں تو اپنا آپ ایک پیدائشی یتیم سا لگتا ہے ۔ تو سائیں بابا ، تبدیلی تو آئی ہے ۔ کسی کونظر نہ آئے تو اس کی نظر کمزور ہوگئی ۔ 260 روپے تک ٹماٹر پہنچ جائے اور آلو پیاز اس کے تعاقب  میں ہو تو یہ بھی تبدیلی  ہے ۔ خیر و خیر محمد خان  بن گیا ہے اور شیر و شیر محمد خان بنا ہے ۔ یہ تو دنیا کی ریت ہے ۔

انگریز کے زمانے میں ایک خاکروب  کو برطانیہ کی طرف سے خطاب  ملا اس کا نام ‘‘ پرسا’’ تھا خطاب  کے بعد  وہ پرسو کہلایا  جب وہ چار گھوڑوں کے  ٹم ٹم میں سوار ہوکر پھر تا تھا تو چابک کے ساتھ چاندی کی ایک جھاڑو بھی لہرا رہی  ہوتی تھی جس کے تنکے چاندی  کے ہوتے تھے ۔ پھر وہ پرس رام کہلانے لگا ۔ تب یہ مثال  بنی کہ ‘‘ دولت  تیرے تین نام پرسا،  پرسو، پرس رام۔ ’’ تو سائیں بابا! اقتدار کا تو اپنا الگ نشہ ہوتا ہے  رہائش  ، لباس، خوراک سے لے کر لہجہ  تک تبدیل  ہوجاتا ہے حتیٰ  کہ مقتدر کے عزیز و اقارب  کے دن بھی پھر جاتے ہیں ۔ علامہ اقبال ایسوں کے بارے میں  شعر میں  فرماتے ہیں کہ ایک شیر کو جنگل  میں خچر نظر آیا اسے اجنبی  سا لگا  پوچھا تم کون ہو؟  میں نے تمہیں  پہچانا نہیں ۔ خچر  نے کہا واہ  خوب کہی  کیا میرے مامو ں کو بھی نہیں پہچانتے  جو بادشاہ  کے اصطبل میں ہے اور  بادشاہ کی سواری  میں رہتا ہے ؟۔ ( دراصل  خچر گدھا او رگھوڑی کے ملاپ سے پیدا ہوا ہے ) وہ شرم کے مارے باپ  کا نام بتا نہیں سکتا ۔ مشرف یہ تبدیلی لایا کہ اسمبلی  میں پڑھے لکھے  بھر دیئے ۔ اب پڑھے لکھے اور ان پڑھوں کا فرق ملا حظہ ہو۔

کہتے ہیں ایک انگریز شکاری  تاریک براعظم افریقہ میں آدم خوروں  کے ہاتھ  لگا وہ اسے باندھ کر اپنے سردار کے پاس لے گئے ۔ انہوں نے  اسے بھوننے  کے لئے آگ جلائی  سردار کٹالا  نے انگریز  کو مشروب  پینے  کی دعوت دی  اور اس سے بڑی  شائستہ انگریزی میں بات چیت کرتا رہا ۔ انگریز نے کہا اتنی پیاری  انگریزی  آپ نے کہا سے سیکھی ؟ سردار کٹالا گوگونے کہا میں کیمبرج  کا گریجویٹ ہوں ۔  انگریز نے خوش ہوکر  کہا تب تو آپ  مجھے نہیں  کھائیں گے، کہ آپ پڑھے لکھے گریجویٹ  او رمہذب انسان ہیں۔ کٹالا گوگو نے کہا کھاؤں گا تو میں ضرور ، البتہ چھری کانٹے  کے ساتھ اسی ٹیبل  پر بیٹھ کر کیونکہ  میں پڑھا لکھا  گریجویٹ ہوں ۔

 فرہاد صاحب وہ کیا قصہ  تھا بوتل کے جن کا ۔

وہ جب  میں نے بوتل  کی ڈاٹ  کھولی تو سائیں بابا  اس میں سے بہت دھواں نکلا ، پھر ایک دیو نظر آیا وہ بھی  ہم پاکستانیوں  کی طرح بد حال  لگتا تھا کیونکہ  پورا جسم  ننگا  تھا، صرف ایک لنگوٹی پہنی تھی،  کہا آقا  سلام ہو تم پر ، میں جن ہوں  جس نے مجھے آزادی دلائی  میں اس کا غلام ہوں حکم فرمائیے آقا ۔ میں آپ کا ہر کام کر سکتا ہوں ۔

میں نے ( دل ہی دل میں سوچا  تو میرا ہر کام کرسکتا ہے اور حالت دیکھو تن پر پھٹی  ہوئی لنگوٹی لپیٹی ہے) میں نے کہا ہماری حیثیت  غلام رکھنے   کی نہیں ہے، ذرا ہماری حالت تو دیکھو  کیا ہم خود امریکہ کے غلام نہیں لگتے؟ ہمارے ساتھ بے شک رہو مگر دوست بن کر رہو ۔ ہم بہت پریشان  ہیں اگر تم ہر کام کرسکتے ہو تو ہمارے ہاں دہشت گرد وں کو ختم کردو۔

سائیں بابا  اس  نا ہنجار نے کہا ! میں  بوتل میں گھستا ہوں تم اوپر سے ڈھکن  بند کردینا ۔

میں نے کہا جن بھائی  یہ کیا بات  ہے پہلی بار ایک کام کہا تھا ، تو تم دوبارہ  بند ہونے کو ترجیح  دے رہے رہو؟ ۔جانے  کو کہہ رہے ہو اللہ  تمہیں لمبی  زندگی دے ، تیرے بچے جئیں ، اللہ تم کو ڈیفنس  کالونی  میں مکان دے دوہزار گزوالا  ، ہم  بہت پریشان ہیں ہمارا یہ کام کردو۔ یار تم کو ثواب ہوگا سمجھتے  کیوں نہیں ہو؟۔ کہا جو کام تمہاری حکومت  نہیں کرسکی  ملٹری  جواب دے گئی  وہ کام اکیلا  کیسے کرلوں مجھے بوتل میں بند کر دو اور تم اوپر  سے ڈاٹ لگا دو۔ اور دونوں  لمبی تان  کر سوتے ہیں ۔ تم لوگ دہشت گردوں کو کبھی بھی ختم  نہیں کرسکتے  کیونکہ تم  انہیں صحیح جگہ  تلاش نہیں  کررہے رہو ۔ اگر تم دہشت گردی ختم  کرنا چاہتے ہو تو  دوکام ضروری ہیں ۔

(1)  ان چار ہزار امریکنوں کا پتہ چلاؤ جنہیں  پاکستانی سفیر حسین حقانی  نے ایک ہی رات  میں چار ہزار  ویزے  دیئے تھے ۔

(2)  دوسرا کام یہ ہے کہ اپنے ڈرونز حملے بند کراؤ یہ چند ڈالر  جو تمہیں ملے ہیں یہ بھی  اس لئے ملے ہیں کہ گاڑی  جیسے  چل رہی ہے چلنے  دو۔بریک نہ مارو۔ اگر بریک  ماروگے  تو ہم امداد  میں بریک مار دیں گے۔ سچ بات  یہ ہے کہ میں ایک کنٹینر غائب نہیں کر سکتا تم لوگ 19 ہزار کنٹیزاسلحے سے بھرے ہوئے غائب کر گئے ، قسم ہے سلیمان  علیہ السلام کی کہ تم تو مجھ  سے بھی زیادہ طاقتور جن ہو۔ میں تمہارے  آگے کیا حیثیت رکھتا ہوں ، میں تمہارے  ہاں آنا پسند نہیں کرتا تھا،  سمندر کی لہر  یں مجھے  بہاتی ہوئی یہاں لے آئی ہیں ۔ہماری جن سوسائٹی  میں تم لوگ بہت بد نام ہو ۔ اچھا دیو بھائی  بلکہ مہا دیو بھائی کیا تم ملاوٹ  ختم کردوگے ! ہم اس کے ہاتھوں  بہت تنگ ہیں ۔ آٹا ایسا  آرہا ہے کہ اشرف بھائی نے آدھی روٹی اپنی کلائی پر چھری  کی طرح پھیری نسیں  کٹ گئیں  اور وہ مر گیا، یہا ں  کوئی چیز بیکار نہیں جانے دیتے کراچی  کا کچرہ  جمع کر کے اسے اچار کے نام سے بیچتے ہیں، گوشت کے نام سے جو چیز بازار میں بکتی ہے جب ہم خرید کر لاتے ہیں تو گھر تک  کتے ہمارا  پیچھا  کرتے ہیں کبھی کبھی تو حملہ بھی کردیتے ہیں کہ کم بختو ہمارے کھانے والی چیز تین سو روپیہ  کلو کیوں خرید تے ہو؟ دیو نے پوچھا سیاست اور شرافت میں بھی ملاوٹ ہے؟

میں نے کہا دیو بھائی  یہاں تو خالص سیاست نہیں  ہے جو ہے اسے سیاہ ست کہتے ہیں اس میں زیادہ  مقدار خباثت  کی ہوتی ہے ۔ اور  یہاں جو شرافت کہیں  کہیں  پائی جاتی ہے وہ ان ملاوٹیوں نے شراور آفت  کوملا کر بنائی ہوتی ہے اس میں شرافت کا عنصر 12 فیصد ہوتا ہے ۔ جن بھائی کبھی راجہ  بازار گئے ہو؟ ۔ وہاں ایک کراچی والا کھانا کھانے ہوٹل  میں گھسا ۔ بورڈ پر مرغے  کی تصویر  بھی بنی تھی ۔ لکھا تھا یہاں مرغ  نہاری  دستیاب ہے ۔ اس نے آرڈر دیا نہاری  کا، جب نہاری  آئی تو اس میں ایک موٹی  سی بوٹی تھی ۔ اس نے ہوٹل  والے سے کہا یہ بھینس  کی بوٹی  معلوم ہوتی ہے ؟ ۔ ہوٹل والے نے کہا بھئی  آپ کے اندازے  کی داد دینی چاہیے ، بے شک خوب پہچانا  یہ بھینس کی بوٹی ہے بات  یہ ہے کہ آج  کل مرغی کی قلت  ہوگئی ہے تو ہم نے مرغی بھینس  ملا کر نہاری  کا سلسلہ  شروع کردیا گاہک نے پوچھا Ratio  ریشو کیا رکھا ہے ؟ ہوٹل والے نے کہا بس ففٹی ففٹی  ۔ آدھی بھینس آدھا مرغا۔

میں نے یہ آیت کریمہ  پڑھی ۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (13:11) اللہ اس قوم کی حالت کبھی نہیں  بدلتا دیو بھائی جو قوم اپنی  حالت خود نہ بدلے ۔ دیو رونے لگا اور منت سماجت کرنے لگا کہ آقا مجھے  بوتل میں  دوبارہ  بند کردو اس نے اپنی بوسیدہ  لنگوٹی  سے چندی پھاڑی اور اپنی بہتی  ناک اور آنسو پونچھے ۔ کہا  یا اللہ مجھے  معاف کر دیجئے ۔ مجبوراً مجھے اس کی خواہش  پوری کرنی پڑی۔ اور شہباز قلندر کا نام لے کر پوری قوت سے بوتل  کو دور سمند  ر کی لہروں  کے حوالے  کر دیا ۔

فرہاد صاحب ! امریکہ ہمارے  ہاں انسانوں  کاشکار کررہا ہے کیا اس موسم میں شکار  کی اجازت ہے؟۔

شکار تو امریکہ کب سے کررہا ہے مگر پہلے وزیرستان  میں کررہا تھا اب ہنگو پھر پشاور لاہور کا رخ  کرے گا ۔ جاسوس  طیاروں  کے ذریعہ قبائلیوں کے بوڑھوں  ، بچوں  اور عورتوں  کو مارا  جارہا ہے،  امریکہ کہتا ہے  ان میں اتنے  غیر ملکی  تھے، پاکستان سے فوراً ہی  بیان  دہرایا جاتا  ہے ہاں ان  میں تین غیر       ملکی بھی  تھے ۔ بات  یہ ہے کہ اگر واقعی  ہمارے  ہاں کوئی غیر ملکی ہیں  تو انہیں  ان کے ملک واپس  بھیجا جائے ، یا ان کی لاش عوام کو دکھا کر ان کے  وطن کے حوالے  کی جائے، اپنی سرحدوں کی حفاظت  بھی ضروری ہے مگر اس ملک کے سفیر  کو بھی  بلا کر وارننگ  دی جائے کہ اپنے آدمیوں  کو روکیں ۔ مگر سائیں بابا ! ڈالر  کی خوشبو  بڑی ظالم ہوتی ہے انسان  تمام قاعدے قانون  بھول جاتاہے ۔ قطر کی بات ہے ہم صحرا سے جیپ میں  آرہے تھے میرے ساتھ  چار افسران او رتھے  ہمیں پہاڑی  کے پاس  ایک بیہوش  آدمی ملا  بڑے جتن  کئے مگر اسے  ہوش  نہیں آیا  اس کے چہرے  پر پانی کے چھینٹے  بھی مارے  مگر بے سود ۔

ایک پاکستانی  وزیر نے مجھے  یہ بات بتائی  تھی کہ نئے ڈالر  کے نوٹ  اگر کسی بیہوش  کو سنگھا ئے جائیں  تو وہ  ہوش میں آجاتا ہے اور ہوشمند  پاگلوں  کی سی حرکتیں  کرنے لگتا ہے ۔ اتفاق  سے مجھے  مسٹر براؤن  نے چند ڈالر دیئے  تھے میں نے ڈالر نکالے اور بیہوش  شخص کو سنگھائے  وہ فوراً ہوش میں آگیا ۔ سائیں بابا یہ ظالم  ڈالر انسان  کی عقل  کو ماؤف کردیتےہیں اس کی سوچنے  سمجھنے  کی صلاحیتیں  ختم ہو جاتی ہیں ۔ ڈالر  کا ڈسا ہوا  بھاگتا خوب ہے جیسے تیونس  کا صدر بھاگا  اور ڈھیٹ بھی بن جاتا ہے جیسے  مصر کا صدر۔ مگر ہمارا  کیاہوگا سائیں بابا!

فروری، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی 

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/changes-in-today’s-pakistan--سائیں-بابا-نے-کہا/d/87588

 

Loading..

Loading..