New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 05:38 AM

Urdu Section ( 10 May 2015, NewAgeIslam.Com)

An Unseen Hand in the Collapse of Governments .....حکومتوں کے خاتمے میں ایک نادیدہ ہاتھ

 

 

 

 

 

 

 

حسین امیر فرہاد

ہوشیار باش ۔ ہر حکمران ،سابقہ ، موجودہ، اور نئے آنے والوں کےلئے میرا قیمتی او رمفت مشورہ ہے۔ ہر حکمران کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنی حکمرانی    کو طول دے مگر ناکامی ،بدنامی ، شرمندگی وغیرہ اس کے ہم رکاب رہی ہے ۔ ان میں اپنے ہی ہوگزرے ہیں جو اگر چاہتے تو حکومت کو صحیح خطوط پر ڈال سکتے تھے جو مسرت اور شادمانی کی طرف جاتا ہے ۔مگر ان کو ایسے مشیر ملے تھے کہ وہ کچھ نہ کرسکے ۔ افسوس کہ قائد اعظم کے بعد ہمیں کوئی لیڈر ملا ہی نہیں لیڈر کا کام ہے کہ قوم کومنزل مقصود تک پہنچائے اس نے پہنچا کر دم لیا بلکہ دم دیا۔ باقی آوارہ گرد نکلے نہ انہیں منزل کا پتہ تھا اور نہ راستے کا قوم کو تھکامارا مگر سکھ کے گاؤں کے آثار ابھی تک دھندلے بھی نظر نہیں آئے ۔ہمیں سراب ہی سراب نظر آرہا ہے ۔ قائد اعظم کے بعد ہماری کیفیت ۔

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہر و کے ساتھ

پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

ہمارے حالات بدل سکتے تھے ، مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرتے، قوموں میں ہمار ابھی شمار ہوتا،  عزت ہوتی اگر ہمیں رہبر اچھے ملے ہوتے اگر ان کی نیت ان کے ارادے اچھے ہوتے ان کے تحت شعور میں یہ بات تھی ہی نہیں کہ قوم کو کنارے لگائیں وہ تو خود کنارے پہنچنے کی جلدی میں تھے ان کی لغت میں قوم عزیز رشتہ داروں کو کہتے ہیں ۔اس میں شک نہیں اُنہیں اعلیٰ و رافع مقام تک پہنچایا ، مل فیکٹریوں کا مالک بنایا رہ گئی عوام تو ان کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ عورتیں گلف تک پہنچ گئیں بچے اونٹ کی ریس میں کام آتے ہیں، بڑے آج کل خاکروبوں میں بھرتی ہو رہے ہیں ۔  میں نے مضمون میں لکھا تھا ۔کہ یہ غیر قانونی سندھ کے اور رحیم یا ر خان کے دیہاتوں کے غریب لوگ ہوتے تھے مقصد ان کا حج نہیں تھا یہ کمائی کے لئے نکلے ہوتے تھے ان میں کچھ غریب لوگ اپنی لڑکیاں فروخت کر دیتے تھے ۔ جو لوگ نہیں جاسکتے تھے وہ اپنی بچیاں بھی ساتھ کردیتے تھے ہر ایک کی الگ کہانی ہوتی تھی ۔ لہٰذا اب بھی اگر ربع الخالی میں کوئی گاڑی یا بس بھٹک کر کسی دور دراز گاؤںکی طرف نکل جائے اور وہاں  کسی سعو دی کی بیوی  سے پانی مانگیں اور عورت سندھی یا اُردو میں بات چیت کرے تو تعجب نہیں کرنا چاہئے یہ اُن بدقسمت لڑکیوں  میں سے ایک ہوگی جنہیں غربت کی وجہ چا گیا تھا ۔ ان قافلوں کی اطلاع کے لئے میں خود  بھٹو صاحب سے ملا تھا انہوں نے کوثر نیازی سے ملوایا پھر بھٹو صاحب کی کوششوں سے یہ سلسلہ بند ہوا۔ ماں باپ عزیز و اقارب اور وطن چھڑوا کر ان بچیوں کو دیار غیر میں بیچنا انہیں قتل کرنے کے مترادف ہے۔ جب آپ انسانوں یعنی بیٹی او ربیٹے میں اپنی اولاد میں فرق کرتے ہیں کھانے پینےسے لے کر لباس اور تعلیم میں تو یہ بھی زندہ درگور کرنا ہوا رب سے نہ دیکھا گیا تو پکار اٹھا کہ ‘‘ جب سورج  لپیٹ لیا جائے گا، اور جب ستارے بے نور ہوکر بکھر جائیں گے ، اور جب پہاڑ ( روئی کے گالوں کی طرح) چلائے جائیں ، اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں آوارہ پھریں گی ( یعنی ان کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہ ہوگا)، اور جب وحشی جانور ( مارے خوف کے ) اکٹھے ہوجائیں گے ، اور جب سمندروں  میں آگ بھڑکادی جائے گی ، اور جب روحیں بدنوں سے ملادی جائیں گی ، اور جب زندہ درگور بچی سے پوچھا جائے گا۔  وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ، بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ ( 81:8:9) وہ کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئی، اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے ، اور جب آسمان  کا پردہ ہٹا دیا جائے گا ، اور جب جہنم دہکادیا جائے گا، اور جب جنت قریب لائی جائے گی ،جان لے گا ہر شخص کہ وہ اللہ کے دربار میں کیا لے کر آیا ہے’’۔

( التکویر 1:14)؟ اس وقت اُن والدین کی کیا کیفیت ہوگی، جنہوں نے بیٹی پر بیٹے کو فوقیت دی کہا اسے پڑھانے سے کیا فائدہ یہ تو پرائی چیز ہے دوسرے کے گھر جائے گی لڑکے نےباپ کی جگہ لینی ہے اس پر خرچہ کرنا  چاہئے )

برنارڈ شا نے لکھا تھا کہ جب میں قرآن پڑھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے یہ کسی عورت کی لکھی ہوئی کتاب ہے کیونکہ اس میں عورتوں سے بہتر سلوک کی بڑی تاکید کی گئی ہے ۔ کیوں نہ ہو عورت بھی اللہ کی مخلوق ہے نازک کمزور تو نہیں تھی مر د نے بنادی جانوروں کی طرح اس کے ناک او رکان چھید دیئے گئے ، پیروں میں کڑے ڈال دیئے گئے ۔ اتنا بتادوں کہ عورت کے اس قتل میں شریک تو بہت سے ہیں مگر سرِ فہرست حکام ہیں ۔ جن کے ہوتے ہوئے یہ بکتی     ہے مرتی ہے او راسے بازار میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔

اب میں وہ وعدہ پورا کروں گا کہ حکمران اپنی حکمرانی کیسے طول دے سکتے ہیں ۔ اور حکمرانی کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے؟ ۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب عوام کے دل سے کسی حکمران کے لئے بد دعا ئیں نکلتی ہو تو سمجھ لیجئے اس حکمران  کے دن پورے ہوگئے ہیں ۔ واٹر پمپ چورنگی پر ایک دن دیکھا کہ بانسوں اور لکڑی کی دکانوں کے آگے قناتیں تنی ہوئی ہیں او رفٹ پاتھ پر دور تک پھولدار گملوں کی قطار ہے۔ دو  کانداروں سے پتہ چلا کہ علاقے کے ایس پی نے حکم دیا کہ اپنے خرچے پر قناتیں تان دو او رگملے لگاؤ بھٹو صاحب یہاں سے گزریں گے حیدر آباد جانا ہے ۔ اس کے بعد کاروبار کرو ہم مجبور ہیں ،ہمارا کاروبار بھی بند ہے اور خرچہ بھی کرنا پڑا ہم بددعا دینے کے علاوہ او رکیا کرسکتے ہیں؟۔ چونکہ

دل سے جو آہ نکلتی  ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

یقیناً بھٹو مرحوم کو پتہ بھی نہیں  ہوگا کہ پولیس نے اس کے استقبال کے لئے عوام پرکیا ظلم ڈھایا ہے ۔ مگر اس کے لئے تو وہ اللہ کے ہاں جواب وہ ہیں کہ وہ اپنے عوام کےساتھ،  اپنے کارندوں کے کرتوت او ررویے سے کیوں لاعلم رہا؟ ۔نتیجہ یہ کہ بھٹو کادرو  ختم ہوگیا ۔ ایک دن ہم جناح ہسپتال سے ہوٹل میٹرو پول جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے جانے نہیں دیا کہا صدر سے میٹرو پول جاؤ ، آج یہاں سے ضیا الحق صاحب نے گزرنا ہے ، رکشہ ٹیکسی ممنوع ہے ۔رکشے والے کو میں نے پیسے تو اتنے ہی دیئے جتنے ٹھہرائے تھے مگر اس کا پٹرول زیادہ خرچ ہوا لہٰذا بد دعائیں دے رہا تھا کس کو ؟ ظاہر اسی کو دے رہا تھا۔ جو بہاولپور سے کھیتو ں میں کھاد کے کام آیا ۔ یہ نہیں کہ ہمارے سربراہان کویہی عمل لے ڈوبتا ہے ، عوامل اور بھی ہوتے ہیں مگر یہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا سمجھ لیجئے ۔ کیا ضیا الحق کو یہ علم نہ تھا کہ اس ملک میں موٹر وغیرہ کے علاوہ ایک ذلیل سواری رکشہ بھی ہے؟ پھر کیوں اس کی نظروں سے رکشہ کو چھپا یا جارہا تھا، کیا بھٹو صاحب نے کئی بار الیکشن کے دنوں میں سہراب گوٹھ جاتے ہوئے واٹر پمپ چورنگی پر بانسوں کی دکانیں نہیں دیکھی  تھیں؟ ۔ پھر کیوں ان کے آگے قناتیں لگانی پڑیں ۔؟ ہم تو اللہ کے بنائے ہوئے انسان ہیں اگر کسی گائے بھیڑ بکری کو بھی کوئی اذیت دے تو اس کے مالک کو تکلیف پہنچتی ہے ۔ اگر کئی انسان دن رات اذیت میں گزاریں تو ان کے مالک ( جل جلالہ) کو کیا اس سے خوشی ہوگی ۔ ؟ اس کا قانون مکافات تو حرکت میں آئے گا ۔ ہمیں افسوس ہوگا کہ یہ نوزائدہ حکومت اتنی جلدی ختم  ہوگئی؟۔

موجودہ حکومت میں خودکشیاں ، اجتماعی خود کشیاں، اور اولاد کو فروخت کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ سفید پوش حضرات کے لئے ( لنگر) یعنی مفت کھانے کا سلسلہ ( سیلانی دسترخواں) بھی چالو ہوگیا ہے ۔ یہ سب حکومت کی وجہ سےہوا ہے ۔ مفت کھانے کی لین میں لوگ قطار و ر قطار کیوں کھڑے نظر آرہے ہیں ؟ مہنگائی کی وجہ سے ، مہنگائی پر قابو پانا کس کا کام ہے؟ ، حکومت کا۔ مگر کیفیت کچھ یوں ہے کہ رنگ میں ایک پہلوان دوسرے کی گرفت میں ہے ریفری غالب پہلوان کو فاؤل سے روک رہا ہے کہہ رہا ہے گلے پر گرفت ڈھیلی کرو، یہ مت کرو وہ مت کرو۔ اتنے میں گرے ہوئے پہلوان کا ساتھی مدد کے لئے رنگ کے اندر کود پڑتا ہے ریفری اس سے الجھ جاتاہے اسے رنگ سے باہر جانے کے لئے مجبور کرتا ہے ۔ اِدھر غالب پہلوان ریفری کو مشغول پاکر گرےہوئے پہلوان کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے ۔ ہمارے ساتھ بعینہ یہی کچھ ہوا ہے، حکمران اپنے بکھیڑوں او رمسائل میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں، تاجر ناجائز  منافع خوروں اور کارخانہ داروں نے مہنگائی کے گز مار مار کر ہمارا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

گاندھی جی کو گولی لگی تو پنڈت نہرو اور دیگر کانگریسی رہنما ان کے چاروں طرف کھڑے تھے اُس نے اپنے جانشینوں کو کہا کہ دیکھو اگر زندگی بھر راج سنگھاسن پر بیٹھنا چاہتے ہو تو میرا ایک نصیحت سنو آٹا اور بائیسکل مہنگی نہ ہونے پائے یہ ڈائرکٹ غریب کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہی نصیحت پنڈت نہرو نے اپنی بیٹی اندرا گاندھی سے کی تھی ۔

حکمرانو! تمہارا خیال ہے پاکستانی عوام کو تمہارا جسم ، تمہارا گھرانا ، تمہارا پہناوا ، پسند ہے۔ مگر عوام کو تو اپنے دکھوں کامداوا چاہئے ۔تم اپنے آپ کو اللہ سمجھنے لگے تھے ۔ ہم نے کئی بار احساس دلایا ہے کہ آپ حضرات ہماری طرح انسان ہیں کھائے پیئے بغیر آپ بھی زندہ نہیں رہ سکتے ہیں او رہم بھی ۔باتھ روم آپ بھی جاتےہیں او رہم بھی جاتےہیں ، پسینہ آپ کا بھی بدبو دار ہے ہمارا بھی تو ایسا نہ کریں کہ جس راستے سے گزرنا ہو وہاں دو گھنٹے پہلے ٹریفک بند کرادی جائے اور ایک خاتون کا رکشہ میں بچہ  پیدا ہوجائے ۔ بعد میں اسے پانچ لاکھ روپیہ انعام بھی دیا گیا ۔ سرکاری خزانے سے ۔ حالانکہ اپنے آپ کو سزا دینی چاہئے تھی ۔ حکومت میں ہونے سے پہلے آپ میں سے ہر آدمی نورے نائی کی دکان پر مل سکتا تھا ۔ آپ کو آخر کوئی کیوں مارے گا۔

غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں ۔اس غفلت او رچشم پوشی کی سزا تو رب کی طرف سے جانے والوں کو مل گئی گھر بٹھا دیئے گئے بیٹا بھی اغوا ہوا ہے آج تک نہیں ملا ۔ ان کے بعد آنے والوں کے خدمت میں عرض ہے کہ اگر آپ بھی جانے والوں کے نقش قدم پرچلیں گے تو انجام وہی ہوگا قدرت کے کارخانے میں امتیاز نہیں ہے ۔ اب بھی موقع ہے ۔ پانی آگ پر رکھ دیا گیا ہے یہ کھولے گا مگر ایک دم نہیں پہلے شو ں شوں کی آواز آئے گی، پھر اس پر باریک باریک بلبلے بنیں گے پھر ایک خاص ٹمپر یچر پر جاکر یہ کھولے گا ۔ یہ پیریڈ ، یہ مہلت قدرت کا عطیہ ہے کہ شاید کوئی اپنی روش بدل لے تو قدرت کے عتاب سے بچ جائے گا۔

اب ہم حکمرانوں کو دو گُر بتائیں گے (1) عوام کے مسائل سے اعماض برت کر جو جرم انہوں نے کیا ہے اس کی سزا کو ٹالنے کا یا کالعدم کرنے کا (2) ہمیشہ حکومت کرنے کا گُر ۔ پہلے مسئلے کا حل تو یہ ہے کہ پہلے غلط گواہی دے کر اگر کسی بشر کو نقصان پہنچایا ہے، تو اب صحیح گواہی کا موقع ہاتھ سے جانے مت دو آگے بڑھو اور سچی گواہی دو، پہلے کسی کا حق مارا ہے تو اب اٹھو اور لاچار ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرو تلاش کرو حاجت مندوں کو۔ ان کاموں میں آپ کی اسپیڈ کیا ہونی چاہئے ؟ اگلی گاڑی 70 کلو میٹر کی رفتار سے جارہی ہے ، آپ آگے نکلنا چاہتے ہیں تو اگر آپ بھی 70 کی اسپیڈ سےچلیں گے تو تا قیامت آپ آگے نہیں نکل سکتے ۔ آپ کو اسپیڈ دگنی کرنی ہوگی یعنی 140 کلو میٹر فی گھنٹہ ۔ دس ہارس پاور کی چلنے والی گاڑی  کو روکنے والے بریک کی طاقت بیس ہارس پاور ہونی چاہئے ۔ تب بات بنے گی۔

ہمیشہ حکومت کرنے کا گُر ۔ انگریز انگلستان سے آئے او رہم پر حکومت کی ان کے منتظم افسران اونچے گھرانوں کے لارڈز تھے اور اپنے اخراجات کے لئے گھروں سے رقم منگواتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان   میں ان کے سرکاری بنگلوں کے ساتھ سرونٹ کوارٹرہوا کرتے تھے کہیں کہیں آج بھی ہیں ۔ دھوبی، خانساماں، ڈرائیور، مالی، سائیس ، بیرا، آیا، بٹلر، ان کو تنخواہیں وہ اپنی جیب سے دیتے تھے ۔خاندانی رئیس تھے ۔ آج ان کے چھوڑے ہوئے بنگلوں میں آٹھ دس بنگلے نظر آتے ہیں ۔ وہ جس طرح کا ماحول انگلستان میں چھوڑ کر آئے تھے انہیں اسی قسم کا ماحول یہاں ملا ۔ بہت سوں نے اپنے وطن سے دور ان گرم خطے میں زندگی گزاری اور جان دی ۔ چھوٹا سابرطانیہ GREAT BRITAIN  (گریٹ بریٹن) بنا۔ ان کا حق تھا ہندوستانی غلاموں سے اتنے بڑے بنگلے بنوا کر اس میں رہنا ۔گورنر ہاؤس اتنے رقبے میں بنوائے سینکڑوں خاندان بس جائیں جو آج بھی قائم و دائم ہیں ۔ کوئی ایسا مائی کا لال آئے کہ جمال عبدالناصر کی طرح صدر ہونے کےبعد بھی اسی مکان میں رہتا رہا جس میں وہ کرنل تھا اور رہتا تھا جنازہ بھی وہیں سے اٹھا ۔ بڑی بیٹی ھدیٰ نے ایک دن کہا کہ بابا کالج میں ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ صدر کی بیٹی ہوکر 54 ماڈل کی کار میں کالج آتی جاتی ہو ۔ اس نے ڈرائیور کو حکم دیا کہ کل سے بچوں کو کالج مت لے جانا ۔ بچوں سے کہا کہ تم دیگر مصریوں سے بہتر نہیں ہو کل سے عوام کے ساتھ بس میں جایا کرو۔

یہی حال مشیل افلق کا تھا یہی حال آج کل احمدی نژاد کا ہے اپنی ذاتی پرانی موٹر میں دفتر جاتا ہے اور دو پہر کا کھانا ٹفن میں گھر سے لے جاتا ہے ۔ پاکستانی حکمرانو! آپ لوگوں کو کس بات پر گھمنڈ ہے، کس بات پر اتراتے ہو کئی ایک کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں ابھی کل تک بغیر بجلی کے کچے مکانوں میں رہتے تھے ، آپ کے ہاں اُپلوں میں کھانا پکتا تھا، لیٹرین کے لئے آپ کھیتوں کا رخ کرتے تھے ۔ رہٹ پر نہاتے تھے ۔ ساگ روٹی آپ کی پسندیدہ ڈش تھی ۔ گورنر ہاؤس ، ایوان صدر، وزیر اعلیٰ کی رہائش گائیں تین چار کمروں سے زیادہ نہیں ہونی چاہییں ، (ڈاؤنگ سٹریٹ نمبر 10 کی طرح) ایک اخبار نے لکھا تھا کہ اگر یہ نیلام کر دیئے جائیں تو پاکستان بیرونی قرضوں سے نجات پا جائے گا ۔ اگر انگریز سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ ان کے باپ دادا کی ان نشانیوں کو ہر صورت میں محفوظ رکھا جائے گا ، تو یہ کام فوراً کر لینا چاہئے ۔ ایک میل مربع رقبے پر بنے ہوئے گورنر ہاؤس کو اگر بیچنا نہیں چاہتے تو اس میں یونیورسٹی ، یا سائنس کالج قائم کردیئے جائیں ۔ جو حکمران ایسا کرے گا وہ قوم کی آنکھ کا تارا، اور ہیرو کہلائے گا قوم اسے تاحیات وزیر اعظم تسلیم کر لے گی۔ اصلاحات ایسی ہونی چاہییں جو نظر آئیں ۔

اس میں شک نہیں کہ بر صغیر میں لیڈر اگر وعدہ وفا کرے تو وہ لیڈر نہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر لیڈر اپنے وعدے سے پھر جائے تو عوام کے دلوں میں اپنی قدر و قیمت کھو دیتا ہے ، لہٰذا ہر لیڈر جس کے دل میں عوام کی  حالت درست کرنے، ملک و قوم کی خدمت کرنے اور آگے بڑھنے کی آرزو ہو، وہ وعدہ کرے تو اسے نبھائے ۔ عوام کے مسائل حل کرے ۔ اس کا رہن سہن، کھانا پینا اور رہائش بھی عوامی بستی میں ان ہی جیسا ہو، اس کے بچے مقامی اسکول میں پڑھیں ۔ اس سے یہ ہوگا کہ اسے علم ہوگا کہ نلوں میں پانی آرہا ہے یا نہیں ؟ تاروں میں بجلی ہے یا نہیں، اسکول میں اساتذہ کی حاضری پوری ہے یا نہیں ۔

اس طرح اسکولوں کی کارکردگی بھی بہتر ہو جائے گی انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہے گا کہ کہیں وزیر صاحب یا ممبر صاحب ادھر نہ آنکلے ۔ خلیج میں یہی قاعدہ ہے وہاں ہر گاؤں میں ایک شیخ ( ایک شاہی خاندان کا فرد) رہائش پذیر ہے۔ خیر وہاں کوئی استاد غیر  حاضر ہونے کا سوچ  بھی نہیں سکتا ۔ بحرین میں غیر حاضر کی تنخواہ تو کٹتی  ہے ، کوار ٹر الاوئنس بھی کٹ جاتا ہے ۔ زیادہ چھٹیاں کرنے والے کو نوکری سے علیحدہ کردیا جاتا ہے ۔ اس لئے بھی کہ انہوں نے یونین سسٹم نہیں رکھا ۔ البتہ لیبر منسٹری او رادارہ ہے جو یونین سے زیادہ فعال اور کار آمد ہے۔ ہمارے ہاں  V.I.P. کلچر کو ختم کرنے کی بات ہر ایک کرتا ہے مگر جو بھی آیا وہ اس شجر خبیثہ کی جڑوں میں پانی دیتا گیا ۔ روایت کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ( کل کم ابناء آدم و آدم من تراب) تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے ۔ اللہ کا بھی فرمان ہے ۔ نفس واحدہ سے تمہاری تخلیق ہوئی ہے ۔ ہمارے ہاں کسی بڑی شخصیت  کو جیل جاتے نہیں دیکھا، کیا جرائم صرف غریب لوگ کرتے ہیں امراء جرم کرتے ہی نہیں ؟۔ ہم مسلم ہیں جبکہ اِسلام مساوات کی تعلیم دیتا ہے ۔ دیکھا جائے تو مساوات پر پڑوسی ملک بھارت عمل کررہا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے سنجے دت کے پاس سے غیر قانونی اسلحہ بر آمد ہوا تھا اس سلسلے سے اس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا ۔ 18 ماہ قید پہلے وہ کاٹ چکا تھا پھر زیر تکمیل    فلموں کو مکمل کرنے کی اجازت ملی تھی گزشتہ دنوں بقیہ سزا ساڑھے تین سال کے لئے اس نے اپنے آپ کو پیش کیا، اسے بتادیا گیا کہ جیل میں تم کھانا ( دال روٹی چاول) کھاؤگے ۔ اور تمہیں 30 روپیہ ماہانہ تنخواہ بھی ملے گی۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ‘‘ کاسودارایا قاسم دادا’’ کو سکندر مرزا کے زمانے میں جیل ہوئی تھی تو اسے بیوی بچے رکھنے کی اجازت بھی ملی تھی اور جیل میں گھومنے کےلئے ایک موٹر بھی ملی تھی وہ وارڈن تھا، ہمارے موجودہ زمانے میں زرداری صاحب کو جیل میں ایئر کنڈیشنر اور ٹیلی ویژن کی فیسلیٹی بھی حاصل تھی او رکھانا گھر سے آتا تھا اسی قسم کی مراعات یوسف رضا گیلانی کو بھی حاصل تھیں ۔ اور آج کل پرویز مشرف کو بھی حاصل ہیں ۔ پہلے اس کے گھر کو جیل کا درجہ دیا گیا ، حالانکہ آج کل ہر پاکستانی اپنے مکان میں قیدی بنا ہوا ہے پنکھا جھل رہا ہے ۔ اسی قسم کے لوگوں کے قبرستان پی ای سی ایچ سوسائٹی میں ہیں، انشاء جی کا جانا ہوا جسے میں ویسٹ منسٹر ایبے کا قبرستان کہتا ہوں قبروں کو دیکھ کر وہ کہنے لگے فرہاد بھائی پتہ ہی نہیں چلتا کہ صاحب مرگئے ہیں یوں لگتا ہے کہ صاحب نے رہائش گاہ بدل لی ہے۔

حالانکہ جیل اذیت گاہ نہیں ہے تربیت گاہ ہے وہاں من پسند کھانے اور گھر جیسا ماحول اور آزادی نہ ہونے سے آدمی بیزار ہوکر جرائم سے توبہ کرتا ہے اسے جرائم سےنفرت پیدا ہو جاتی ہے ۔ اسلامی سزا کوڑوں کا بھی یہی مقصد ہے ۔ میں قیدیوں کو محکمہ لے جاتا رہا وہاں جلاد انہیں زمین پر پبلک کے سامنے لٹا کر مارتا تھا ایک آدمی نے اُس کے سر کو گھٹنوں میں تھاما ہوتا تھا دوسرے نے لیٹے ہوئے آدمی کے پیر جکڑ ے ہوئے ہوتے تھے ۔ مقصد یہ ہوتا تھا کہ مجرم شرمندگی  محسوس کرے اور آئندہ جرم نہ کرے۔

آپ کہیں گے کہ کہاں فلمی اداکار اور کہاں رہنما ۔ دیکھئے جمہوریت میں قدر مشترک ہے ‘‘کثرت کی پسند’’ تو رہنما کو بہت کم لوگ پسند کرتے ہیں مگر سنجے دت کو تو ہندوستان ، پاکستان کے علاوہ افغان ، ایران ، تمام خلیج ، اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ بھی کئی ممالک  پسند کرتے ہیں اور قدرِ مشترک اداکاری بھی ہے آصف علی زرداری صاحب نے بھی دو فلموں میں کام کیا تھا ، ٹی وی پر ان فلموں کی جھلک بھی دکھائی گئی تھی، ویسے بھی لیڈر اور اداکار میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا ۔ شہرت اور ہر ادا کا ررہنما  سے زیادہ شہرت رکھتا ہے ۔ انہیں دیکھنے کے لئے پاکستانی سرحد پار جاتے ہیں وہاں پکڑے جاتے ہیں انہیں جیل ہوتی ہے بالآخر ان کی لاش ہی واپس آتی ہے ۔ کیا کسی لیڈر کو دیکھنے کے لئے بھی کوئی بارڈر کراس کر کے گیا ہے؟ ۔ میرامقصد یہ ہے کہ جس دین کے ہم پیروکار ہیں اس میں وی آئی پی نہیں ہوتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اس کے بیٹے سے بڑی شخصیت اور کون ہوسکتی ہے۔

یہ خود بھی بلٹ پروف گاڑی میں گھومتے ہیں اور وزراء کے لئے بھی بلٹ پروف گاڑیوں کا آرڈر دیا تھا زندہ مثال ہے ابھی کل کی بات ہے ایک شخص دنیا کے سامنے کہہ رہا تھا کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا ، میں کمانڈوہوں حقیقتاً اس نے اللہ سے ڈرناچھوڑ دیا تھا اب وہ ہر چیز سے ڈررہا ہے حتیٰ کہ عدلیہ کی عمارت سے اس کا دل بیٹھا جارہا ہے ۔ یہ ہیں حقائق ثابتہ۔

مانا کہ جب یہ بیمار ہوجاتے ہیں تو اپنا علاج یورپ اور امریکہ میں کروا کر وقتی طور پر موت کو شکست دے آتے ہیں ۔ اور جب قانونی شکنجے میں  پھنس جاتے ہیں تو اپنے آپ کو بچانے کے لئے مانے ہوئے وکلاء کی فوج طلب کر لیتےہیں ۔ کبھی یہ فوج کام آتی ہے تو کبھی نہیں بھی آتی پھانسی چڑھا دیئے جاتے ہیں ۔ جب یہ حضرات بلٹ پروف گاڑیاں ہر وزیر کے لئے منگارہے تھے تو میں نے لکھا تھا ۔ فرشتے تم پر ہنس رہے ہوں گے ۔ رب کا فرمان ہے ۔ أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ (4:78)

( تم کچھ بھی کر لو) تو جہاں کہیں بھی چھپ جاؤموت تمہیں پا لے گی (وَلَوْ كُنتُمْ ) چاہے تم مضبوط قلعوں میں پناہ کیوں نہ لو ۔ پشتو کے عظیم شاعر رحمان بابا نے اس آیت کریمہ کی کیا ترجمانی کی ہے فرمایا ۔

چہ اللہ در سرہ مل نہ ہی رحمانہ

کہ لشکر ے درسرہ وی تہ تنہائے

اپنے آپ کو مخاطب کر کے بات ہمیں سنا رہا ہے ۔ ترجمہ حاضر ہے۔

اورحمانَ ایک بار رب نے اگر تمہارا ساتھ چھوڑ دیا ، تو اگر تم نے اپنی حفاظت کے لئے لشکر کیوں نہ رکھا اپنے آپ کو تنہا سمجھ لو۔  ثبوت کے طور پر میں امریکی صدر کینڈی کی موت پیش کررہا ہوں ، جس کے سر  پر پاچی ہیلی کاپٹروں کا سایہ تھا  واس اولڈ نے ماردیا ۔ باڈی گارڈ کچھ کام نہ آئے ۔ یہ چند باتیں تھیں جس میں دائمی حکومت کرنے کا راز بھی ہے، بروں کا انجام بھی ہے اور رب ذوالجلال کا انتقام بھی ہے ۔ جاتے جاتے  یہ آیت کریمہ بھی ذہن نشین کرلیں کام آئے گی۔

فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا ( 35:43)                              

تم کبھی بھی اللہ کی عادت میں تبدیلی نہیں پاؤگے ۔

أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا (35:44)

کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ہیں ( کیا انہیں عادو شمود ، فراعنہ و نمر ود، بعلبک کے ستون ، اگروپولی سکندر یونانی کے کھنڈرات) سوات، ٹیکسلا اور مونجودڑو کے کھنڈرات) نظر نہیں آتے؟ جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا انجام نظر نہیں آتا  (كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ) وہ بہت زیادہ طاقتور تھے ۔ اللہ کو کوئی چیز عاجز بے بس کرنے والی نہیں ہے نہ آسمانوں میں نہ زمین میں وہ ہر چیز کو جانتا ہے او رہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ ( تمہاری بلٹ پروف گاڑیاں اور بم پروف مکانات بھی ) یہ ہے وہ نادیدہ ہاتھ جو تبدیل کرتا ہے۔

مانے ہوئے تیر انداز سےبچنے کاطریقہ یہ نہیں کہ اس سے فرار حاصل کرو۔ بلکہ یہ ہے کہ اس  کے قرب جاؤ اس کے دامن کے نیچے پناہ لو تب وہ اپنے آپ پہ توتیر نہیں چلا سکتا بچ جاؤگے محفوظ رہو گے ۔ ذرا اس نسخے پر عمل کر کے تو دیکھو۔

مئی  2015  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/an-unseen-hand-in-the-collapse-of-governments--حکومتوں-کے-خاتمے-میں-ایک-نادیدہ-ہاتھ/d/102888

 

 

Loading..

Loading..