New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 11:41 PM

Urdu Section ( 23 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

The Reality of Hadith and Tasawuf حدیث اور تصوف کی حقیقت

 

حسین امیر فرہاد

جولائی، 2013

عزیز بھائی فرہاد  صاحب ایک دینی رساے میں عبارت پڑھی  انہوں نے لکھا تھا کہ یہ حدیث ہے بخاری کی۔ یقین  نہیں آیا بات  عجیب  سی لگی  آپ صو ت الحق میں دوسروں کے سوالوں  کے جواب دیا کرتے ہیں تو آ پ کو لکھ رہا ہو ں ۔ ایک تو یہ بتا دیجئے کہ کیا واقعی  اس قسم  کی حدیث  بخاری  میں ہے؟  ۔دوسری عرض  یہ ہے کہ ذرا اس کی وضاحت بھی فرمایئے  کہ اس حدیث کا مقصد کیا ہے ۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔ حدیث  پیش خدمت ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے  کہا  میں نے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوطرح کے علم حاصل کئے ایک کو تو میں نے ( لوگوں میں) پھیلا دیا  ، اور دوسرے کو اگر میں پھیلاؤں تو میرا بلعوم (گلا) کاٹ ڈالا جائے گا۔(بخاری شریف )

فرہاد صاحب  ! کیا یہ صحیح ہے ؟ ۔ اگر وہ علم انسانوں  کے لئے غیر ضروری ہے تو  پھر ابو ہریرہ  کو ہی کیوں  بتایا گیا وہ بھی  تو انسان تھے ، آخر وہ کون سا علم ہے کہ جو ابوہریرہ کے لئے  ضروری ہے مگر باقی  امت کے لئے  غیر ضروری ہے؟

شمش الدین قریشی

121 ۔ علامہ اقبال ٹاؤن نیلم بلاک ۔ لاہور

محترم شمس الدین صاحب اسلام علیکم  ۔ سب  سے پہلے تو یہ ِذہن نشین کرلیجئے کہ حدیث عام طور پر اس بات کو کہا جاتا ہے  جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان  مبارک  سے ایک بات ادا ہوئی اور دوسرے کے کانوں تک پہنچی ۔ اگر کوئی سنی  ہوئی بات کو دھرائے تو حدیث نہیں روایت کہلاتی ہے ۔ دوسری بات یہ یاد رکھئے  کہ آپ نے کہا کہ ( دینی رسالے  میں عبار ت پڑھی) دینی نہ کہئے مذہبی  کہئے  ۔ دینی  رسالے  پاکستان  میں صرف دو ہیں جن  میں ایک  میرا صوت الحق  ہے،باقی سب مذہبی  ہیں، اور دین مذہب میں زمین  آسمان کا فرق ہے۔ بلاشبہ  اس موضوع پر روایت موجود ہے جسے لوگ حدیث کہتے ہیں ۔ حوالہ ہے۔( بخاری جلد اول کتاب العلم باب 84 حدیث نمبر 120 صفحہ 149)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہ  سب کے سب  امین ‘‘ امانتدار’’ تھے یہ بات ماننے کی نہیں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسی  غیر امین  یعنی  خائن کو ساتھ رکھا ہو۔ ( اگر تم  نےیہ او رلوگوں پر ظاہر کردی تو تمہارا گلا کاٹ دیا جائے گا)  مگر انہوں نے پھر بھی  امت کو بتادیا بات ہم تک پہنچا ہی  دی۔ اس  طرح دیکھا  جائے تو ثابت ہوا کہ وہ  غیر امین  تھے ایک راز کو راز نہ رکھ سکے ۔ یہ بات  درست نہیں ۔

دشمنوں نے یہ بھی ثابت  کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اپنا حلق بچا نے کی خاطر  قوم کو آدھے دین سے محروم  کردیا؟ حالانکہ اللہ نے فرمایا۔ يَا أَيّھَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ( اے میرے رسول پہنچا دو وہ پیغام جو تم پر تمہارے  رب کی طرف سے ناز  ل ہوا ) وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہَ وَاللَّہُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّہُ لَا يَہدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ (67۔5)اگر تم نے ایسا نہ  کیا تو تم نے رسالت  کا حق  ادانہ کیا اللہ تم کو لوگوں  کے شر سے محفوظ رکھے گا وہ تمہارے مقابلے میں کافروں  کوکامیابی کی  راہ  پر گامزن نہیں کرے گا ۔ اور  یہ بھی  رب کا فرمان ہے۔

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْيَمِينِ  ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِينَ (46۔45۔44۔69)اور اگر نبی  نے خود گھری ہوئی بات ہماری  طرف منسوب  کی ہوئی تو ہم ان  کا دایاں ہاتھ پکڑ کر ان کی گردن کاٹ ڈالتے ۔ یہاں یہ بھی  سوال  پیدا ہوتا ہے کہ دین کے احکام  یادین  عمو ماً  حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پھیلا یا کرتے تھے؟ ۔ ہمیں  قرآن کریم  میں یا  حیات لنبی صلی اللہ علیہ وسلم  میں ایسا  کوئی اشارہ  نہیں ملتا جس سے اس واقعہ  کو تقویت ملتی ہو۔ اگر دین سے مراد احکام الہٰی  ہے جو جملہ قرآن میں موجود ہیں تو ہر مسلمان کا فرض ہے انہیں پھیلا ئے دوسروں  تک پہنچائے ۔ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے فرمایا کہ ۔

يَا أَيّھا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتہ (67۔5) اے رسول پہنچا  دو وہ جو آپ پر نازل ہوا ہے اپنے رب کی جانب سے اگر تم نے ایسا نہیں  کیا تو اپنی رسالت  میں ناکام ہوئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ ڈیوٹی  پوری امت کی ہے کہ وہ اللہ کا پیغام دوسرے مسلمانوں تک پہنچا  ئے ۔ یہ آدھے دین او ربلعوم کی کٹائی ہوئی  بات دین کے دشمنوں  کی بنائی ہوئی  بات ہے۔ حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  کا نام تو زیب  داستان  کے لئے جڑ دیا تا کہ مسلمانوں  کو یقین آجائے  اور وہ باقی آدھے  دین کی  تلاش میں سر گرم  ہوجائیں پھر ہم ان کے سامنے تصوف یا جو کچھ  رکھ دیں گے یہ اس پر جگالی کرلیں گے۔ وہی تو ہورہا ہے منزل من اللہ کو چھوڑ کر اکثر لوگ  غیر منزل  من اللہ پر عمل  کررہے ہیں۔

جب دین اپنی جز یات کے ساتھ  امت  تک پہنچ  گیا تو رب  نے کہہ دیا ۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (3۔5) آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی  تمام نعمتیں اس پر نچھاور کردیں اور میں دین اسلام  سےراضی ہوا۔ اور انسان کی رہنمائی  کے لئے  جو کچھ  ضروری  تھا وہ بڑی وضاحت سے کتاب المبین  میں فرمادیا ۔

دین کی  تکمیل کے بعد جو کوئی  یہ کہے  کہ آدھا دین میں نے پھیلادیا ، اور دسرے کو اگر میں پھیلاؤں تو یہ میرا  بلعوم (گلا) کلام  ڈالا  جائے گا۔ یہ امت کو دھوکا دینے والی بات ہے۔ امت کو اس مغالطہ میں ڈالنا  ہے کہ دین  مکمل نہیں ہے ۔ آپ دیکھئے کہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے بابر کت دور میں تصوف  کا نام ونشان  نہیں تھا۔ تصوف کو محی الدین  ابن عربی شیخ الا کبر نے متعارف  کرایا ہے۔ بہر حال  اگر تصوف  انسانوں کے لئے ضروری ہوتا تو جس  طرح دیگر  معاملات  کے بارے میں اللہ نے وضاحت سے بیان فرمایا اس  کے بارے میں  بھی فرمایا ہوتا ۔ مگر قرآن  میں تصوف  کا ذکر نہیں ہے۔ علامہ فرماتے ہیں تصوف  کا اسلام  سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ عجمی  جڑی بوٹی  ہے۔ تصور کے کمبل  کے نیچے  ان شکست  خوردہ عناصر نے پناہ لی  ہے جو حقائق سے آنکھیں  چار نہیں  کرسکتے ۔

جولائی ، 2013  بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad--حسین-امیر-فرہاد/the-reality-of-hadith-and-tasawuf--حدیث-اور-تصوف-کی-حقیقت/d/12730

 

Loading..

Loading..