New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 06:47 AM

Urdu Section ( 18 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

Taliban's Demand طالبان کا مطالبہ

 

حسین امیر فرہاد

جولائی ، 2013

پچھلے مضمون  میں ہم نے بیان کیا تھا کہ طالبان کا احساس  محرومی ختم کر کے انہیں کار آمد بنایا جاسکتا ہے۔ ہم نے افغانستان  میں روس  کے خلاف امریکہ کی مدد کی تھی امریکہ  نے طالبان  جو پختون تھے ان کی سر کوبی کے لئے شمالی  افغانی مزار شریف  سے لائے انہیں ہر اوّل  میں رکھا  انہوں نے  طالبان کو بہت نقصان پہنچایا  طالبان  پشتون  افغانیوں کے بھائی  بند تھے لہٰذا ہر افغانی پختوں  پاکستان  کا دشمن بن گیا شمالی  افغانستان  والے بھی ہمیں دشمن  سمجھتے ہیں  اس لئے کہ پاکستان  نے ابتداء میں طالبان کی حکومت  کے قیام  میں بھر پور مدد دی تھی نتیجہ  یہ کہ افغانستان کی سرزمین  پر ہمارا  کوئی ہمدرد نہیں روز  ہماری چوکیوں پر حملے ہوتے ہیں۔ وہ یہ دشمنی  اس طرح نکال  رہے ہیں کہ پاکستان کے طویل بارڈر  کے قریب قریب  ہمارے دشمن کو کونسل خانے کھولنے  کی اجازت دی ہے۔ جو طالبان  کو  مالی مدد اور بھاری اسلحہ گولہ بارود افغانی ایجنٹوں  کے ذریعے سپلائی  کرتا ہے۔

تو سب سے پہلے  کرنے کا کام یہ ہے کہ سرحدوں پر پہرہ بڑھا دیا جائے جب اسلحہ  اور گولہ بارود  کی سپلائی بند ہو جائے گی تو دھماکوں کا سلسلہ بھی بند ہو جائے گا وہ میجر صاحب تو اب رہے نہیں  ایک ریٹائر ڈ میجر کا ( ٹی وی) پر انٹر ویو آیا تھا ان کی سفید داڑھی تھی وہ طالبان کو بم بنانا  سکھاتے تھے انہوں نے  بتایا تھا کہ بم بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔مجھے یوریا کھاد ، چینی او رمٹی کا تیل دے دیا جائے کچھ او ر نام  بھی انہوں نے  بتائے تھے ۔ کہا  میں آپ کے کچن  میں بیٹھ کر ایک خطرناک بم بنا سکتا ہوں اور بتارہے تھے کہ میں کافی عرصہ طالبان  کے ساتھ رہا ہوں میرا ان پر احسان ہے ۔ وہ چند دن بعد طالبان  سے ملنے گئے وزیر ستان  ، انہوں نے میجر صاحب کا کام تمام کردیا یہ خبر  بھی ٹی وی پر نشر ہوئی  تھی یہ سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے  ۔ کیونکہ ۔

یہ تیر وہ ہے کہ جو لوٹ کر بھی  آتا ہے

ایک اور بات  جو بڑی اہم ہے ۔وہ ہے طالبان کاجمہوری  حکومت اور اس کے آئین کو نہ ماننا ۔ جب عمران خان کی مارچ وزیر ستان کے قریب پہنچ گئی تو طالبان  نے پیغام دیا تھا  کہ ہم عمران خان کی حفاظت کا وعدہ نہیں کرسکتے یہ بھی  سیکولر ہے یہ کامیاب ہوکر جمہوری نظام  قائم کرے گا لہٰذا عمران خان کو واپس ہونا پڑا۔

یہ بات ہر ایک تسلیم ہے کہ علامہ اقبال  کا پاکستان بنانے  میں کتنا ہاتھ  ہے۔ ان کے ترانے گائے جاتے ہیں  ان کے یوم پیدائش اور یوم وفات  پر ملک کے طول و عرض  میں تعطیل ہوتی ہے اہم مقامات اور درسی کتب میں ان کی تصاویر نظر آتی ہیں، مزار پر باقاعدہ گارڈ تبدیل ہوتے ہیں۔ علماءہو یاجہلاء مسٹر ہو یا منسٹر ہو ہر ایک مانتا ہے کہ علامہ پاکستان کے بانیوں میں سے ہیں ۔ لیکن  انہوں نے پاکستان کے لئے  جو نظام تجویز کی اسے کیوں  نہیں مانا جاتا ۔جمہوری نظام  کا دنیا  میں حضرت علامہ سے بڑا دشمن کوئی نہیں ۔ وہ فرماتے ہیں ۔

جمہوریت اک طرز حکومت  ہے کہ جس میں 

بندوں کو گنا  کرتے ہیں تو لا  نہیں کرتے

یعنی جمہوریت کی کھو پڑیاں گنی جاتی ہیں ان میں دماغ  نہیں  پر کھا جاتا عقل  و خرد علم و ہنر دانشمند ی نہیں دیکھی  جاتی چیف جسٹس  کا ایک  ووٹ اور اس کے مالی  کا بھی ایک ووٹ ۔ جب کہ اللہ کا ترازو ہے۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاكُمْ (13۔49)تم میں اللہ کے نزدیک وہ صاحب  اکرام و عزت ہے جو متقی ہے ۔ یہ  نہیں کہ جسے زیادہ اکثریت  پسند کرتی ہو۔ اکثریت کے متعلق  تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ  کن حکم ہے ۔وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّہِ (116۔6) ( اے نبی ) اگر تم اکثریت کے پیچھے  چلو گے ، تو زمین  پر اکثریت تو گمراہ لوگوں کی ہوتی ہے وہ تمہیں بھی گمراہ  کر دیں گے) علامہ اقبال کی نظم  ابلیس کی مجلس  شوریٰ میں ابلیس  کا مشیر  کہتا ہے۔

خیر ہے سلطانی جمہوری کا غوغا کہ شر

تو جہاں کے تازہ فتنوں سےنہیں  ہے باخبر؟

ہوں مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے

جو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر

ہم نے خود شاہی کو پہنا یا ہے جمہوری لباس

جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر

کارو بارِ شہر یاری کی حقیقت  اور ہے

یہ وجودِ میر و سلطان پر نہیں ہے منحصر

مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو

ہے وہ سلطان غیر  کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر؟

تو نے کیا دیکھا نہیں  مغرب کا جمہوری  نظام

چہرہ روشن اندروں  چنگیز سے تاریک  تر

ابلیس  کہتا ہے  یہ جمہوریت  نہیں ہے ہم نے خود بادشاہت  کو جمہوری لباس پہنایا ہے ۔ تم  نے اس کا روشن  چہر ہ دیکھا ہے اندر سے ،  نہیں دیکھا  اند رسے یہ چنگیز سے زیادہ بھیانک اور تاریک  ہے۔ یہ ہے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ  مفکرِ  پاکستان کی جمہوریت کے بارے  میں فیصلہ کن  رائے ۔وہ اسے سوغات ابلیس  کہہ رہے ہیں  اور ہمارے سیاست  دانوں کا عالم  یہ ہے کہ ایک بار بابر اعوان صاحب کہہ رہے تھے کہ حضرت علامہ جمہوریت  کے زبردست حامی تھے ۔ لیکن علامہ فرماتے ہیں۔

ہے وہی ساز کہن مغرب  کا جمہوری  نظام

جس کے پردوں  میں نہیں  غیر از نوائے  قیصری

دیو استبدار جمہوری  قبا میں پائے کوب

تو سمجھتا  ہے یہ آزادی  کی نیلم  پری

گرمئی گفتار اعضائے مجالس الاماں

یہ بھی اک سرمایہ داروں کی  ہے جنگ  ِ زر گری!

اس سرابِ رنگ و بو  کو گلستان سمجھا ہے تو

آہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

علامہ اسے دیو استبدار کہتے ہیں جس نے جمہوری قبا پہنی  ہے ۔ اور جمہوریت کے پرستاروں کو کہتے  ہیں یہ آشیاں نہیں قفس ہے زندان  ہے ۔ یہ نیلم پری نہیں ۔مگر ہم اللہ  کا فرمان نظر انداز  کرتے ہیں علامہ کیا ہیں۔ وہ تو اللہ کے بندے ہیں یہ تو انصاف  نہ ہوا  کہ آپ حضرت علامہ کا احترام تو کرتے ہیں اسے مفکر پاکستان بھی کہتے ہیں مگر وہ انگریزوں  کی اترن جمہوریت  سے نفرت کرتے ہیں اور آپ  وہی ابلیس کا تیار  کردہ سوٹ  پاکستان کو پہنا رہے ہیں ۔اب جو بھی  اللہ کے تجویز  کردہ نظام کو چھوڑ کر انسانوں  کے وضع کردہ نظام کو اپنا تا ہے چاہے  فرد ہو، افراد  ہوں یا حکومت  ۔یہ  تمام اعلیٰ درجے کا شرک ہے اور شرک  کے متعلق فرمان الہٰی  ہے کہ ( اِنَّ اللہَ لاَ یَغْفِرْ شِرَکَ)شرک  جسے اللہ معاف نہیں کرے گا۔ تعجب مجھے دین سے ناواقف  لوگوں پر نہیں ہے تعجب ان پر ہے جو دین کے دعویدار ہیں ہمارے ہاں اور تو اور مولانے بھی اٹھتے بیٹھتے  جمہوریت کا راگ الاپ  رہے ہیں ۔ یہ بھی شرک ہے ۔ جو بھی جمہوریت  کا ذکر  کرتا ۔ اس کو صرف اتنا کام کرنا چاہیے کہ مندرجہ بالا  آیت کریمہ  کو قرآن  کریم سے مٹادے ۔ پھر جمہوریت کے لئے راستہ صاف ہوجائے گا۔ پھر جو مرضی  میں آئے کرے ۔اس آیت کے ہوتے ہوئے جمہوریت  یہاں بار نہیں  پاسکتی ، اور داڑھی منڈوں کو چاہیے  کہ علامہ اقبال کے کلام میں سے جمہوریت  کے خلاف تمام اشعار  نکال  باہر کریں ۔ پھر کرتے رہیں جو جی میں آئے ۔ بڑی دلیری  کا کام ہے کہ علامہ کے متعلق  کوئی کہے کہ وہ جمہوریت  کے حامی تھے ۔

ملاحظہ ہو ان کا ایک بیان۔

علامہ اقبال  نے ایک قصہ  بیان فرمایا ہے۔ کہ جب محمود  غزنوی  سو منات  کے بڑے بت کو گرز مارنے لگا تو  پر ہوتوں نے کہا اس کو نہ توڑیئے مہاراج  یہ ہمارا  حاجت  روا ہے اور ہماری باتوں کا جواب دیتا ہے ۔ محمود نےکہا حاجت روا تو رب کی ذات ہے،  مگر یہ باتوں  کا جواب کیسے دیتا ہے؟ ذرا ہم بھی تو سنیں۔

پروہت نےکہا ابھی  لو سرکار، کہا اے بھگوان آج کون  سا دن ہے؟ بت سے آواز آئی آج منگل  کا دن ہے۔ محمود حیران ہواکہ بت  نے جواب  کس طرح دیا  ۔ بت  دیوار سے ایک فٹ کے فاصلہ  پر تھا، محمود سمجھ گیا کہ گڑ بڑ دیوار ہی میں ہے۔ اس نے دیوار کو بجا کر دیکھا تو ایک جگہ کے کھوکھلے  پن  کی آواز آئی، اس نے وہیں اپنا گرز مارا جب پلستر ٹوٹا تو محمود نے دیکھا کہ پرلی طرف تین سادھو بیٹھے  چنڈ و پی رہے  ہیں ۔ وہ ایک پائپ کے ذریعے جو بت  سےمنسلک  تھا باتوں  کا جواب  دیتے تھے ۔ علامہ اقبال  فرماتے ہیں  کہ جمہوریت کی دیوار پر جب بھی محمود  ی گرز سے وار کروگے اور پلستر  ٹوٹے گا تو  پرلی طرف چند گنے چنے  مکروہ اور گھناؤنے چہرے نظر آئیں گے۔ وہ ہر قانون اور پالیسی  اپنے مفادات  کو سامنے رکھ کر بناتے ہیں  ۔ اس جمہوریت میں عوام کے  نمائندے  منتخب  ہونے کے بعد عوام کی صف سے نکل  کر خواص صف میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔

میں بھی ایک قصہ سنا تا ہوں ۔مصر میں ایک  بادشاہ  گزرا ہے جس کا نام قرے قوش تھا، سنا ہے وہ بڑا جمہوریت کا پرستار تھا مگر لوگ اسے بے وقوف سمجھتے تھے ۔ایک بار اس کے دور میں  قحط پڑ گیا ۔ لوگ شمعون نام کے یہودی کے پاس  گئے جس کے گودام میں غلہ بھرا تھا ،کہا  ہم بھوکے مررہے ہیں  غلہ دو ورنہ ہم تمہیں زندہ دفن  کردیں گے۔ اُس نے کہا جو چاہو  کرو میں غلہ نہیں دینے کا ۔ ہجوم نےاسےچار پائی پر باندھا  اوپر چادر ڈال  دی ، کہا  ہم تمہیں  دفن کر نے والے ہیں  تباؤ کوئی آخری خواہش ہے؟ چالاک یہودی  نے کہاں ہاں  میری آخری خواہش  یہ ہے کہ میرا جنازہ  بادشاہ  کے محل  کے نیچے سے گزارا جائے ۔ انہوں نے ایسا ہی  کیا ۔ بادشاہ  بالکونی  میں کھڑا  تھا اس نے پوچھا  ومن ھذا یہ کون ہے جس کے پیچھے  پورا قاہرہ لگا ہے ، اتنے لوگ تو ہمارے جنازے  میں ہونے چاہییں تھے؟ لوگوں نے کہا یہ یہودی  شمعون بن  جبار ہے ، بے چارہ  مر گیا ہے، ہم اسے دفن کرنے لے جارہے ہیں ۔ یہودی نے منہ سے چادر ہٹائی  کہا بادشاہ سلامت  دہائی ہے، یہ لوگ مجھے زندہ دفن کرنے جارہے ہیں  مجھے بچائیے ۔ بادشاہ  نے اس کے جنازے کے ہجوم کو دیکھا پھر اس  کی بات  پر غور کیا ۔ پھر کہا دیکھو شمعون ہم بے وقوف مشہور ہیں مگر اتنے بھی نہیں کہ  ہم تمہارے کہنے پر یقین کرلیں کہ تو زندہ ہو۔ کیا یہ سب لوگ جھوٹ  بول رہے ہیں  تم اکیلے سچ بول رہے  ہو کہ تم زندہ ہو؟ ہجوم  کو حکم  دیا کہ دفن  کردو اس جھوٹے کو ۔ یہ  ہے جمہوریت ۔

جب حضرت علامہ  جمہوریت کے مخالف ہوئے، وہ  اسےابلیسی  ڈرامہ قرار دے رہے ہیں اور طالبان بھی ، تو علامہ، او رطالبان کی رائے  ایک ہوئی تو علامہ اقبال کے طرفدار مومن ہوئے۔ اگر جمہوریت  کو ماننے  والے ہوتے  تو اللہ کے نافرمان ہوتے ۔ اگر درمیا کا راستہ  کسی قاری  کو معلوم ہوتومجھے بھی برائے بتادے۔

طالبان اگر شریعت  چاہتے  ہیں تو اللہ  کا حکم اللہ کی تاکید  ہے کہ اسلامی زندگی  صرف اسلامی  نظام کے تابع ہی ممکن ہے  ہجرت  کے فرض ہونے کا عملی طور پر مفہوم  ہی  یہ ہے کہ غیر اسلامی  نظام میں زندگی  بسر کرنے سے شدید  طور پر منع کیا گیا ہے ارشاد عالی ہو تا  ہے۔إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاھمُ الْمَلَائِكَۃُ ظَالِمِي أَنفُسِھمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ  قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّہِ وَاسِعَۃً فَتُھاجِرُوا فِيھا فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاھمْ جَھنَّمُ  وَسَاءَتْ مَصِيرًا (97۔4)

بے شک جن لو گوں کی قبض  ِ روح فرشتوں   نے اس  وقت کی کہ ( وہ غیر اسلامی نظام میں پڑے تھے ) او روہ اپنی جانوں  پر ظلم کر رہے تھے تو فرشتے قبض  روح  کے بعد حیرت سے  کہتے  ہیں کہ تم کس حالت غفلت  میں تھے ۔ یا تم  کس حال  میں مبتلا ء  تھے ۔ انہوں نے  جوا ب دیا  ہم زمین  میں کمزور  اور مجبور تھے ۔ تو  فرشتے کہتے ہیں کہ  کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں  تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے  ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھیکانہ جہنم  ہے اور وہ بہت ہی برُا  ٹھکانہ ہے۔

یہ بھی  تو ممکن ہے  کہ طالبان اس برے ٹھکانے سے ڈر کر سیکولر کے بجائے دینی اور شریعتی  نظام کے لئے کوشاں  ہوں؟  مگر انڈونیشیا ، ملائیشیا اور دیگر کئی ملکوں  نے انگریزی  نظام عدلیہ  نہیں اپنا یا مفید  چیزیں  دوسروں  سے بھی لیں  ہیں خلیج  اور سعودیہ نے قسم تحقیق میں فنگر پرنٹ اور فوٹو گراف انگریزوں  سے  لیا ہے ۔ یہ اسلامی قوانین میں پیوندکاری نہیں ہے۔ لیکن ہم نے  تو مکمل طو رپر انگریز ی نظام  اپنایا ہے ۔ صدر اسلامی  جمہوریہ پاکستان اور تمام  گورنر اور وزراء ہر قسم  کے جرم اور سزا سے مستثنیٰ ہیں کیا یہ اسلام  میں ہوتا ہے ۔ یا مغربی طرز کی جمہوریت میں ۔

یہ حدیث  بھی چلتے چلتے دیکھتے  جائیے  کام آئے گی۔ روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ قریش کو فکر  ہوئی ایک عورت  مخزومیہ کی جس نے چوری  کی تھی ۔ سو کہنے لگے کون بات کرے رسول اللہ سے اس کی سفارش کے لئے؟  سو کہا ان لوگوں نے کوئی جرأت رکھتا ہے اس امر کی مگر اسامہ جو زید کے بیٹے ہیں ، دوست ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ۔ پھر شفاعت کی اسامہ نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سےسو فرمایا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ! کیا شفاعت کرتاہے تو حد میں اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ؟ پھر کھڑے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اور خطبہ  پڑھا ۔ فرمایا کہ بے شک ہلاک  ہوئے وہ لوگ جو تم   سے پہلے تھے جب چوری کرتا تھا  ان میں کوئی  شریف ( بمعنی امیر) اس کو چھوڑ دیتے تھے  اور جب چوری  کرتا تھا ان میں  کوئی غریب تو حد  قائم کرتے تھے  اس پر، اور قسم  ہے اللہ تعالیٰ  کی اگر فاطمہ  ،محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیٹی  چوری  کرے تو بے شک کاٹوں  اس کا ہاتھ ۔( جامع ترمذی  جلد اوّل باب 95 حدیث 1430 صفحہ 518) ووٹ  ایک عہد ہوتا ہے  کہ ہم ووٹ لینے  والی پارٹی  کے بنائے ہوئے منشور اور قوا نین کی اطاعت کریں گے مگر ‘‘ مومن’’  وہ ہوتا ہے  جس کے نزدیک  اطاعت  صرف اور صرف  اللہ کی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا۔ اللہ کے مقابلے  میں کسی انسان  یا پارٹی کی اطاعت  ووٹ کے ذریعے سےکرنا کھلا دید ہ دانستہ  اور واضح  شرک ہے۔ مغربی طرز کی اس جمہوریت  میں اکثریت  کی رائے  مانی جاتی نمائندوں  کے بنائے ہوئے قانون کا نہ ماننے  والا غدار  کہلاتاہے۔ برطانیہ  کی مثال ہمارے سامنے ہے برطانیہ  کی پارلیمنٹ نے اغلام  بازی کا قانون  پاس کیا  ہے کوئی انکار  کر کے دیکھے  ۔مطلب  یہ ہے کہ  اکثر یت کے فیصلے  غلط  اور قرآن  کے خلاف بھی ہوسکتے ہیں۔

جولائی، 2013  بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad--حسین-امیر-فرہاد/taliban-s-demand--طالبان-کا-مطالبہ/d/12671

 

Loading..

Loading..