New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 02:16 PM

Urdu Section ( 10 Feb 2013, NewAgeIslam.Com)

Criterion For The Authenticity Of Hadith حدیث کی پرکھ کی کسوٹی

 

حسین امیر فرہاد

فروری، 2013

فرہاد صاحب اللہ شاہد ہے  کہ دل نہیں چاہتا کہ بعض  معاملات کے بارے میں  آپ سے یا کسی سے پوچھوں مگر اپنے  آپ کو اس لئے راغب کر لیتا  ہوں کہ نہ صرف میری خلش دور ہوگی بلکہ میری طرح اور لوگوں کو بھی اطمینان ہو گا کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ آج ایک عزیز دوست آیا کہا ایک دن  میں نے آپ کی میز پر بخاری شریف دیکھی تھی ذرا دکھا نا ایک حدیث شریف دیکھنی ہے۔ وہ تو حدیث دیکھ کر اور حوالہ لکھ کر چلے گئے میں یونہی  بلا ارادہ ورق گردانی کرنے لگا تو ایک حدیث سامنے آئی ۔ ملاحظہ فرمائیے:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی  ( ام اکلثوم رضی اللہ عنہ) کے جنازے میں حاضر تھے، وہ  حضرت  عثما رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ ( 9 ہجری میں انتقال ہوا) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  قبر پر بیٹھے  ہوئے تھے ، میں نے دیکھا آپ  کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ۔ آپ نے فرمایا لوگو! کوئی تم میں سے ایسا  بھی ہے جو آج رات کو عورت کے پاس نہ گیا ہو؟ ۔ ابوطلحہ نے کہا میں حاضر ہوں، آپ نے فرمایا کہ پھر اتروان کی قبر میں ۔ اور وہ اِن کی قبر میں  اترے۔(بخاری ، جلداول ، حدیث 1209، صفحہ 576)

میں آپ سے یہ دریافت کرناچاہتا ہوں کہ وہ جو دنیا کے لئے رحمت  بن کر تشریف  لائے تھے(  وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمۃً لِّلعٰلَمِیْن ) وہ کوئی معمولی  ہستی نہیں تھے ان کی بیٹی جگر کا ٹکڑا  وفات پا گئی تھی یہ بھی کوئی  معمولی  حادثہ  تھا، ہمارا تو اگر کوئی پڑوسی بھی مر جائے تو ہم اس سے متاثر رہتے ہیں  بیوی  کی طرف  بڑھنا تو دور کی  بات ہے ہم تو ٹیلی ویژن  بھی نہیں لگاتے ، یہ کیسے صحابی تھے کہ ناغہ نہ کرتے تھے حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دریافت  کرنا پڑا ‘‘ لوگو! کوئی تم میں سے ایسا  بھی  ہے جو آج  رات کو عورت کے پاس نہ  گیا ہو؟ ’’ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یقین نہ تھا کہ کوئی مطلوبہ  شخص ملے گا  یا نہیں ۔ لیکن الحمداللہ ابو طلحہ  مل گئے ۔ فرہاد صاحب اگر جواب ہوتو ٹھیک  ہے ورنہ کم از کم میں نے آپ کو بھی اس دکھ درد  میں شریک کرلیا  جو مجھے اس حدیث  سے پہنچا تھا ۔ آپ بے شک  بخاری شریف میں تصدیق  کر لیجئے ۔

سہیل احمد باوجوہ ۔نزد امام بارگاہ کوٹ عبدالمالک

بلاشبہ  باجوہ صاحب میں نے تصدیق  کرلی ہے  حوالہ  درست ہے ۔( بخاری ، جلد اول، باب 816، حدیث 1209 ، صفحہ 576)

حقیقت یہ ہے کہ اس بابر کت دین کے دشمن ابتداء ہی سے بہت تھے ۔ مگر حیات  النبی  صلی اللہ علیہ وسلم میں ان  میں اتنی  جرات  نہیں تھی کہ ان پاک ہستیوں  کی کردار کشی کرتے ان کی ہمیشہ  سے یہ کوشش  رہی ہے کہ یہ دین  پنپنے  نہ پائے اسی سلسلے میں  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مار ڈالنے کی کوشش  بھی  کی ہے مگر کامیابی  نہیں ہوئی تب  ان دین  کے دشمنوں  نے سوچا  کہ کیا کیا جائے ؟ طے یہ پایا کہ دین کو غارت اس طرح بھی  کیا جاسکتا ہے کہ بانی دین  کے کردار کو مسخ کیا جائے ۔ مگر اُن  کے کردار کی تو اللہ تعریف  فرماتے ہیں ۔ وَاِنَّکَ لَعَلٰی  خُلُقٍ عَظِیْم ( 4۔68)  بلاشبہ  آپ اخلاق  کی اعلیٰ بلندیوں  پر فائز ہیں۔

ذرا غور کریں  ایسا  شخص جس نےحسن یوسف رکھتے ہوئے بھر پور جوانی کے عالم میں مرادنہ حسن و جمال  اور شوکت جسمانی کے باوجود  عرب کی گرم آب  وہوا میں  رہ کر ایک زیادہ عمر والی بیوہ  کے ساتھ نکاح  کیا اور عمر گزاری ۔ جو ساری زندگی یتیموں اور بیواؤں  کو سہارا دیتے رہے، یہودی، مجوسی اور نصاریٰ  کے علاوہ  قریش مکہ  بھی ان  کے کردار کے خلاف کوئی انگلی  نہ اٹھا سکے یہ محاذ سخت تھا کوشش کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حیات طیبہ  کے بعد جو نیہ (امیمہ  بنت شراحیل)  کا قصہ مگر اس جانب  سے کوئی وار کارگر ثابت نہیں ہوا ۔ تب  یہ صلاح  ٹھہری  کہ اگر بانی  دین کے اقوال  کو مسخ کیا جائے تو بانی اور دین خودہی  مسخ ہوجائے گا۔ یہ تھا ان کا منصوبہ  یہاں رب  کے سامنے کس  کا منصوبہ  کامیاب ہوسکتا ہے ۔ فرمایا ہے۔وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَھُمْ لَا يَشْعُرُونَ(50۔27) شعیب علیہ السلام کو ان کےگھر  میں مار ڈالنے کا۔ ایک منصوبہ  انہوں نے بنایا  اور ایک منصوبہ ( انہیں  بچانے کا) میں بنے بنایا جو انہیں محسوس  تک نہ ہوا۔ دوسری جگہ اللہ سبحانہ تعالیٰ  فرماتے ہیں ۔وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللّہُ وَاللّہُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (54۔3)حضرت عیسیٰ  علیہ السلام کو قتل  کرنے ایک منصوبہ  انہوں نے بنایا اور اسے بچانے کا ایک منصوبہ  میں  نے بنایا بھلا مجھ سے بہتر منصوبہ کس کا ہوسکتا ہے ؟۔ بھلا ایسا منصوبہ  بندرب  جل جلالہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے تنہا  چھوڑ دیتا ؟۔

ان مجوسیوں  نے اللہ کے دین کو دفن کرنا چاہا  ، اور چراغ  مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پھونکوں  سے بجھانا چاہا یہ  ان کا منصوبہ  تھا۔ رب  کا منصوبہ  کچھ اورتھا  ملا حظہ فرمایئے ۔ يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللّہِ بِأَفْوَاھِھِمْ وَيَأْبَى اللّہِ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَه وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (32۔9) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نورانی چراغ (قرآن) کو یہ اپنی  پھونکوں  سے بجھا دیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل  کئے بغیر  رہنے والا نہیں ہے خواہ کافروں  کو یہ کتنا  ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد کی آیت  ملاحظہ فرمائیے۔

ھُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولہُ بِالھُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظھِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّہِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (33۔9) وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت او ردین حق  کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا  ہی ناگو ار کیوں نہ گزرے۔ مگر غضب یہ ہوا  کہ دشمن بھیس بدل  کر ہماری صفوں  میں گھس آئے او رہم میں  سے کچھ  سادہ  لوحوں  کو اپنے ساتھ ملا لیا اور قرآن  ان کے ہاتھوں  سے چھین کر انہیں اپنی کتابیں  پکڑا  دیں۔ بالکل  اس طرح جس  طرح درخت  نے رو کر کہا کہ لکڑ ہار ے کی کہاں  طاقت  تھی مجھے  کاٹنے کی افسوس کہ کلہاڑے میں دستہ  میرے ہی درخت  کا تھا۔ دین  کو ناقابل  تلافی نقصان  اپنوں  سے پہنچا ۔

 بظاہر تو یہ حدیث  بڑی بے ضرر حدیث نظر آتی ہے، لیکن غور کیا جائے  تو بہت کچھ کہہ گئے۔ صحابہ  کرام رضی اللہ عنہ  کیا اس قبیل  کے لوگ تھے  کہ وہ کوئی  رات خالی نہیں جانے دیتے تھے ۔ مگر اس حدیث سےیہ ثابت کرنے کی کوشش  کی گئی ہے کہ صحابہ اسی قسم کے لوگ تھے ۔ کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی  کے جنازے  جیسے اہم  کام کے لیے بھی ناپاک چلے آئے ۔ حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو پوچھنا  پڑا کہ ہے کوئی ؟ ..... ا گر کوئی  بیوی کے پاس گیا بھی تو پانی ہر قسم کی نجاست کو پاک  کردیتی ہے پھر کیا قباحت تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو پوچھنا پڑا؟۔ اگر اُن  کا کردار اس قسم  کا تھا تو پھر ہم ان سے بہتر ہوئے ۔ کہ ہم پڑوسی  کے جنازے  میں بھی  پاک صاف جاتے ہیں حتیٰ کہ باوضو ہوکر جاتے ہیں۔ اگر ہم اُن  سے بہتر  ہوتے تو اللہ ہمیں  اُس بابرکت دور میں  پیدا کرتا ۔ حقیقت  یہ ہے کہ وہ ہم سے بہتر تھے اللہ ان کی شہادت  دیتے ہیں۔  وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُھٰاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوھُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّہُ عَنھُمْ وَرَضُوا عَنہُ وَأَعَدَّ لھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَھَا الْأَنھَارُ خَالِدِينَ فِیھَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (100۔9)جن لوگوں نے سبقت کی مہاجرین اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ  ان کی  پیروی کی اللہ ان سےراضی ہے اور وہ اللہ  سے اور ان کے لئے باغات ہیں جنت کے۔ جس  کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ جس سے رب راضی  ہوا اسے  اورکیا چاہئے ۔ مگر وہ ایسے نہیں ہوتے جن کی تصویر کتب احادیث  پیش کرتی ہے۔ اور اللہ  کے رسول فرماتے ہیں ۔ صحابی کلنجوم۔ میرے اصحاب  مثل نجوم ‘‘آسمان کے چمکتے  ستارے’’ ہیں ) اب اگر کوئی  ان کے کردار پر کیچڑ اچھالے تو وہ  گندگی  کھاتاہے  جہنم  میں اپنا ٹھکانا بناتا ہے، چاہے  اس کا نام مسلمانوں جیسا  ہو یا عیسائیوں اور یہودیوں   کی طرح ، چاہے وہ مکہ مدینہ  کار ہنے والا ہو یا کہیں اور کا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب عجمی مجو سی افسانے ہیں صحابہ  کرام ہم سے لاکھ در جے بہتر تھے ہم بھلا کہا ں ان تک پہنچ سکتے ہیں۔ اہیں تو رب نے دنیا میں جنت کی بشارت دی تھی۔ اصحاب  النبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے بارے میں  رب فرماتے ہیں۔ رَّضِيَ اللّہُ عَنھُمْ وَرَضُوا عَنہُ وَأَعَدَّ لھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَھَا الْأَنھَارُ خَالِدِينَ فِیھَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (100۔9) اللہ ان سے راضی  ہے اور وہ اللہ سے اور ان کے لئے باغات ہیں جنت کے ۔ جس کے نیچے نہریں بہتی  ہیں۔ وہ ایسے نہیں  ہوتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی صاحبزادی  کے جنازے  میں ناپاک چلے آتے۔

باوجوہ  صاحب ! آپ ہو ں یا  آپ کےدوست احباب  یا صوت الحق  کے دیگر قارئین  ۔ حدیث  کی پرکھ کے لئے کہ یہ درست ہے یا غلط میں نے ایک کسوٹی  کا انتخاب کیا ہے اس سے آپ  صاحبان  بھی کام لیں  وہ یہ کہ  ہر وہ حدیث  جو کسی  بھی پیغمبر  کی شان  کے خلاف ہو، قوانین  فطرت کےخلاف ہو، ازدواج مطہرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہو یا صحانہ کرام رضی اللہ عنہم  کی شان کےخلاف  ہو ، قوانین فطرت کے خلاف ہوتو یہ سب قرآن پاک کے ارشادات  کے خلاف ہے۔ اسی لئے قرآن  کے خلاف بات چاہے کوئی کہے  وہ درست نہیں ہے غلط ہے ہر مسلمان اس کو نہ مانے ۔ جب  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد مبارک  ہے کہ میں بھی انسان ہوں میری  بات غلط  بھی ہوسکتی ہے ملاحظہ فرمائیے  ۔ حدیث  مسلم۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد  ہے۔ حضرت  رافع رضی اللہ عنہ  بن خدیج  فرماتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  مدینہ تشریف لائے تو ہم کھجور کی پیوندکاری  کر رہے تھے، فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید زیادہ بہتر  ہو۔ چنانچہ  لوگوں نے اس کو ترک کردیا لیکن  پیداوار میں کمی واقع  ہوگئی ۔ تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  میں بھی بند  ہ بشر ہوں اگر  میں تمہارے  دین کے متعلق کوئی بات بتلاؤں تو اسے لازم  پکڑو اور اگر اپنی رائے  سے کوئی بات کہوں تو یاد رکھو ، میں ایک بشر ہی ہوں جس کی رائے صحیح  بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔ (مسلم ، جلد سوم، باب نمبر 296 ، حدیث نمبر 1598 ، صفحہ نمبر 599 )

با جوہ صاحب! سرکار دو عالم کا ارشاد  ملاحظہ فرمایا ایمان ہوناچاہیے ماانزل اللہ پر انسانوں کی لکھی  کتابوں  پرنہیں۔ اور اللہ کے سامنے  ان صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت بھی یہ ہے ۔ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَنُوْا ھٰذا الْقُرْ اٰنَ مَھْجُوْ راً ۔آیت کاترجمہ  یہ ہے کہ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے کہ  اے میرے رب میری قوم  نے اس قرآن  کو مہجور بنایا ۔ مہجو ر کاعام طور پر ترجمہ  کردیا جاتا ہے کہ قرآن کو چھوڑ  رکھا تھا  مگر مہجو ر اس  جانور کو کہتے ہیں جس کا سینگ رسی سے باندھ کر اس کے کھر میں  سے رسی گزاری جائے  اس طرح  وہ سرجھکا کر گھاس تو چرسکتا  ہے مگر آزادی  سے حرکت نہیں کرسکتا ۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت یہ ہوگی کہ یہ میری قوم ہے جس نے قرآن کواپنے اپنے مفادات کی رسیوں  سے جکڑ رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  یہ شکایت نہیں کریں گے کہ اے میرے رب میری  قوم نے بخاری کو چھوڑ رکھا تھا، مسلم کو ہاتھ نہیں لگاتے  تھے ، ترمذی  کو دور کردیا تھا، ابوداؤد سےبے اعتنائی برتے تھے ۔  نہیں آپ کی شکایت یہ ہوگی  کہ انہوں نے  قرآن  کو مہجور  کر رکھا تھا۔

فروری، 2013   ماہنامہ صورت الحق ، کراچی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad-حسین-امیر-فرہاد/criterion-for-the-authenticity-of-hadith-حدیث-کی-پرکھ-کی-کسوٹی/d/10372

 

 

Loading..

Loading..