New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 07:17 AM

Urdu Section ( 20 Sept 2016, NewAgeIslam.Com)

The Stars Appear Different From What They Actually Are (ہیں کوا کب کچھ .........(7

 

 

 

حسین امیر فرہاد

سید:

سید عربی لفظ ہے۔ معنی ہیں بھیڑیا گرگ ،شیطان سیرت ، بھیڑیا صفت WOLF سید CHIEF, HEAD MASTER, LORD,HUSBAND بڑا بزرگ آقا ۔ سیدی SIRعرب عام طور پر مسٹر کی جگہ سیدکہتے ہیں یہی وجہ تھی کہ جب ہندوستان کا وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور آخری بار سعودیہ گیا تو اسے سید نہرو اور رسول السلام (امن کا پیغمبر) کے لقب سے مخاطب کیا تھا ۔ جس کے خلاف اس وقت ہم نے احتجاج کیا تھا سعودی سفارتخانہ (پٹیل پاڑہ۔ کراچی) کےسامنے۔

سید کا لفظ سردار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو وَسَيِّدًا وَحَصُورًا (39۔3) وہ سردار ہوں گے عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور شوہر کے معنوں میں بھی سید کا لفظ قرآن میں آیا ہے۔ لیکن وہاں یہ لفظ عزیز مصر کےلئے آیا ہے جو شوہر ہو نے کے ساتھ ساتھ قوم کا سردار تھا ۔ اس حساب سے سرداری قائم ہے تو سردار ہے سردار نہ رہا تو سید بھی نہ رہا ، مگر پاک و ہند میں تھا نیدار ریٹائر ڈ ہونے کے بعد بھی تھانیدار صاحب کہلاتا ہے اور اس کی بیوی تھانیدارنی کہلاتی ہے۔

البتہ اس نام کاکوئی خاندان ، یا قبیلہ عرب میں نہیں ہے۔ وہاں بنی عدنان، بنی قحطان ، بنی مرہ، بنی شیبہ ، بنی غفان، بنو اسد ، بنوگلاب وغیرہ ملیں گے ، مگر سید نام کا کوئی خاندان نہیں ہے۔ جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی خاندان سے تعلق ہیں وہ ہاشمی کہلاتے ہیں ۔ جیسے اردن کے شاہ حسین مرحوم جن کی حکومت ہی ہاشمی کہلاتی ہے المملکۃ الار دنیۃ الھا شمیۃ ۔عرب جب بھی عوام سے خطاب کرتے ہیں جہاں مرد اور خواتین ہوں تو وہ سیدات و سادات کے الفاظ سے ابتداء کرتےہیں جن کے معنی ہیں ۔ LADYS & GENTLEMAN ۔ خواتین و حضرات۔

مباشرت:

مباشرت عربی لفظ ہے اس کےمعنی ہیں (DIRECT) بلاواسطہ کوئی کام ڈائریکٹ کیا جائے ۔ مثلاً کچھ عرصہ پہلے کسی دفتر والے سے فون کرنے کی اجازت طلب کی جاتی تھی اگر اس نے اجازت دی تو اس سےپوچھنا پڑتا تھا کہ ھل ھاتف تبعکم مبا شرۃً او اوّل نعمل صفر ۔ کیا آپ کا فون ڈاریکٹ ہے یا پہلے صفر گھمانا پڑے گا۔؟ ٹیلی ویژن پر ہر وہ پروگرام جو ڈاریکٹ نشر ہو رہا ہو اس کےساتھ اگر انگریزی میں (LIVE) لکھا ہو تو عربی میں مباشرۃً لکھا ہوگا ۔لیکن بخاری جلد اوّل کتاب الحیض باب (207) میں مذکور ہےکہ ۔ عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا مرنی فاتزرو فیبا شر نی ۔ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ازار باندھنے کو کہتے تھے پھر مجھ سے مباشرت کرتے تھے ۔ (بخاری کتاب الحیض باب 207) دوسری روایت : ( عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقبل ویبا شر وھو صائم ۔ (کتاب صوم باب 1207) نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے مباشرت کرتےتھے اور وہ روزے سے ہوا کرتے تھے ۔ مباشرت جماع ہے اور روزے کی حالت میں ممنوع ہے۔ اللہ کا حکم ہے ۔ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ (222۔2) لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں حیض کےمتعلق کہو حیض عورت کے لئے ایک قسم کی ماندگی کا موجب ہوتا ہے لہٰذا ان ایام میں عورتوں سے الگ رہو اور مجاسعت کےخیال سےان کے قریب نہ جاؤ تا وقت کہ وہ اس سے فارغ نہ ہوجائیں ۔اس کاجواز علماء حضرات پیش کرتےہیں کہ مباشرۃ جماع کو نہیں کہتے بلکہ یہ بوس و کنار وغیرہ کو کہتےہیں ۔ اور حیض روزے کی حالت میں جماع ممنوع ہے مباشرت نہیں ۔ مگر رب نے تو روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کو حلال فرمایا ہے۔ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ۗ عَلِمَ اللَّـهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ ۖ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ (187۔2)روزوں کی راتوں میں تمہاری عورتوں کے پاس تمہارا جانا حلال کردیا گیا ۔ وہ تمہاری ستر پوش ہیں اور تم ان کے اللہ جانتا ہے کہ تم ان کے پاس جانے سےاپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم سے در گزر فرمائی اور تم کو اختیار دیا کہ تم ان سے مباشرت کرو ۔ (واضح رہے کہ رات میں )

ملاحظہ فرمایا مباشرت کی اجازت راتوں کو دی گئی اور اگر مباشرت ڈاریکٹ جماع نہ ہوتا ، بے ضرر کام ہوتا تو رب صائمین روزہ داروں کو مباشرت سے منع نہ فرماتا ۔ فرمایا ۔ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ (187۔2) فجر سے رات تک روزہ رکھو اور مباشرت نہ کرو۔ لہٰذا مباشرت بوس و کنار نہیں ڈاریکٹ فعل جماع ہے جس کی رَبّ نے ممانعت فرمائی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ روایت بالا جس کے راوی اسود ہیں، انہیں مغالطہ لگا ہوگا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے سب سے زیادہ پابند تھے ۔

( جاہل سے بحث میں کوئی نہیں جیت سکتا کیونکہ اس نے طے کر رکھا ہوتا ہے کہ اس نے قائل ہوناہی نہیں ہے)

مارچ ، 2016 بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/hussain-ameer-farhad/the-stars-appear-different-from-what-they-actually-are--(ہیں-کوا-کب-کچھ-(7/d/108618

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..