خلیق احمد نظامی
(حصہ۔47)
8 اکتوبر،2025
”خود جناب سرسید احمد خاں مرحوم ومغفور نے اب سے سالہاسال قبل صا ف کہہ دیا تھا کہ اب وہ وقت نہیں ہے کہ ہم صرف اس انتظار میں بیٹھے رہیں کہ اول اپنی تعلیم کو پوراکریں،پھر ملکی معاملات میں قدم رکھیں“۔

مولانا محمد علی نے سرسید کی تحریک کی روح کو سمجھا تھا او رعمر بھر اس کو اپنی زندگی کی عزیز ترین متاع بنارکھا تھا۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ قائم کی تو یہ سرسید کے خلاف آواز نہ تھی، بلکہ اس دور کے علی گڑھ سے ناامیدی کااعلان تھا!
اس پس منظر میں دیکھا جائے تو اس حقیقت کے اعتراف میں کوئی تامل نہ ہوگا کہ مولانا محمد علی کی پہلی تربیت گاہ، جہاں سے دورِ قومی اور مسائل ملّت کااحساس ان کو ملا تھا، وہ سرسید کاعلی گڑھ تھا!
(2)دوسرا از بردست اثر مولانا علی پر آکسفورڈ کے قیام کا تھا۔ ایک آزاد ملک کے آزاد علمی مرکز میں ان کا دل اپنے ملک کے حالات پرخون کے آنسو رو دیا تھا۔ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ ہمارے بعض بہترین رہنما اور مفکر قیام انگلستان سے وہ جذبات لے کر واپس آئے تھے، جن سے ان کی زندگی میں قوت اور گیرائی پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر محمد اقبال، پنڈت جواہر لال نہرو اور مولانا محمد علی سب نے انگلستان کی آزاد فضا میں اپنے ملک کی آزادی کے خواب دیکھے تھے۔ اقبال نے طلوع اسلام میں بالکل صحیح کہا ہے۔
مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
مولانا محمد علی نے جس طرح وہاں کے تعلیمی اداروں کاذکر کیاہے،اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کی روح اس آزاد ماحول کے لیے تڑپتی تھی جو انہوں نے انگلستان کی تعلیمی درسگاہوں میں دیکھا تھا۔ 1904ء کے ایک رسالہ The Proposed Mohammadan Universityمیں جس کو انہوں نے Aligarh Memories کے نام معنون کیاہے، ان کا تصور Balliol لے لیکچر روم، Former 'King's Chapel' کے Cricket ground اور Cherwell کے Shady Backwaters کی طرف جاتاہے، اس لیے کہ اس میں ان کو انسانی فطرت قید وبند سے آزاد فطرت سے سرگوشیاں کرتی سنائی دیتی ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کا جو شِ آزادی اور ڈاکٹر محمد اقبال کی مغربی تہذیب او رفلسفہ سے نفرت انگلستان ہی کی دین تھی۔ مولانا محمد علی کی فکر میں آکسفورڈ کا اثر عمر بھر کام کرتا رہا۔وہاں ا ن کامضمون تاریخ تھا، او ربعض غیر معمولی شہرت کے پروفیسر ان کے استاد تھے۔تاریخ تھا، او ربعض غیر معمولی شہرت کو جلادی، فکر ونظر کے نئے پیمانے عطا کیے، اور سیاسی حوادث کے پیچھے جو سامراجی اثرات کار فرما تھے، ان کو سمجھنے اوران سے نبرد آزما ہونے کا جذبہ او رحوصلہ دیا۔
(3) سرسید کے عطا کیے ہوئے دردِ قومی اور آکسفورڈ کی عطا کی ہوئی بصیرت نے برطانوی سامراج کو مولانا محمد علی کے سامنے بے نقاب کردیا، اور وہ اس کے مضمرات اور سازشوں کی تہہ تک پہنچ گئے۔ ان کی ولادت سے ایک سال قبل 1877 میں ملکہ وکٹوریہ نے Empress of India کالقب اختیار کیا تھا، اور سامراجی منصوبوں او رجدوجہد کاایک نیادور شروع ہوگیا تھا۔ مولانا محمد علی نے 1908 ء کے نیوز پیپر ایکٹ، 1909 ء کی منٹو مور لے ریفارم، 1915 ء کے سیڈلرکمیشن،پھر 1919 ء کے مانٹیکو چیمسفورڈ ریفارم،پھر 1927ء میں سائمن کمیشن کے تقرر میں سامراجی،روح کو کارفرما دیکھا تھا۔اس سامراجی ذہن میں ’لڑاؤ او رحکومت کرو‘ کے خطرناک نظریہ پراپنی ساری کوششوں کی بنیاد رکھی تھی۔تقسیم بنگال اور پھر اس کی تنسیخ میں یہی مقاصد کارفرما تھے۔ مولانا محمد علی نے تمام دستوری اصلاحات اور سیاسی کاوشوں کی سمت کو سمجھ لیا تھا، اور ان کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ آزادی کی تحریک کو مجاہدانہ خطوط پرچلائے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح دہشت پسندانہ تحریکوں سے تو شاید ا ن کا رابطہ نہیں رہاہے، لیکن وہ فکر و نظر میں کھلے ہوئے دہشت پسند رہے۔ اگر مہاتما گاندھی کی عدم تشدد کی تحریک ان کے جوش کی عنان گیرنہ ہوجاتی تو ان کی زندگی کا رخ کچھ او رہی ہوتا!
(4) مولانا محمد علی کے جذبات کی غالباً سب سے بڑی تربیت گاہ ان کی ’زندانی زندگی‘ تھی۔ گو ان کا جوش سرفروشی دار ورسن کو پکارتا تھا، اور وہ کہتے تھے۔
مستحق دار کو حکم نظربندی ملا
کیا کہوں کیسے رہائی ہوتے ہوتے رہ گئی
لیکن حقیقت یہ ہے کہ قید نہ بند کی زندگی نے ان کے ساتھ وہی عمل کیا جو امام احمد بن حنبل ؒ، امام ابن تیمیہ ؒ اور مجدد الف ثانیؒ کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے جیل کی تنگ وتاریک کوٹھریوں میں اللہ کی یاد سے اپنے نہا نخانہ دل کو روشن کیا، اور پھراس سے وہ قوت اور روشنی حاصل کی کہ بے اختیار پکار اٹھے۔
اب ہوا ہے ماسوا کا پردہ فاش
معرفت کے اب کہیں دفتر کھلے
فیض سے تیرے ہی اے قید فرنگ!
بال وپرنکلے قفس کے درکھلے
جو جیل خانہ میں اپنی چہیتی بیٹی آمنہ کی شدید علالت کی خبر کو سن کر کہنے لگے۔
تیری صحت ہمیں مطلوب ہے، لیکن اس کو
نہیں منظور تو پھرہم کو بھی منظور نہیں
وہ جذبات کے کس قلزم سے گزر کرصبر ورضا کی اس منزل پر پہنچا ہوگا، او رکس عالم میں اس نے اللہ سے دعا کی ہوگی۔
شان قدرت مجھے دکھلا کہ ہوتسکین کانزول
دل جوہر ہے یہ، یارب! جبل طور نہیں
اللہ کی ذات پرپورا بھروسہ،حق کے لیے جان دینے کا جذبہ ان کو جیل خانہ کی تنہائی سے ملا اور اس کے سہارے انہوں نے اپنی سیرت کو سنوارا او راس میں وہ دلنوازی پیداکی جو خالق کائنات سے رشتہ جوڑ نے والے ہی کی میراث ہے۔
قید اور قید بھی تنہائی کی
شرم رہ جائے شکیبائی کی
(جاری)
------------------
Related Article: History and Civilization of Islam تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-2 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-3 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-4 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-5 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-6 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-7 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-8 تاریخ و تمدنِ اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-9 تاریخ و تمدنِ اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-10 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-11 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-12 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-13 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-14 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-15 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-16 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-17 تاریخ و تمدنِ اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-18 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-19 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-20 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-21 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-22 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-23 تاریخ و تمدنِ اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-24 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-25 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-26 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-27 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-28 تاریخ و تمدنِ اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-29 تاریخ و تمدنِ اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-30 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-31 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-32 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-33 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-34 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-35 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-36 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-37 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-38 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-39 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-40 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-41 تاریخ و تمدنِ اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-42 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-43 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-44 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-45 تاریخ وتمدن اسلام
Related Article: History and Civilization of Islam-Part-46 تاریخ وتمدن اسلام
URL: https://newageislam.com/urdu-section/history-civilization-islam-part-47/d/137271
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism