New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 01:09 AM

Urdu Section ( 9 Sept 2013, NewAgeIslam.Com)

The Phenomenon of ‘Fighting Terrorism’ 'دہشت گردی سے جنگ' کا رجحان

 

حسن تحسین

5 ستمبر 2013

اصطلاح " دہشت گردی سے جنگ " کی ایجاد  11/9کے حملوں کے بعد صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ کے ذریعہ کی گئی تھی ۔ امریکیوں کو محسوس ہواکہ ان کا خطہ  دہشت گرد حملوں کا شکار تھا اور نتیجے کے طور پر ، واشنگٹن نے خود کو یک طرفہ طور پر دہشت گردی کے خلاف سرگرم ہونے کا حق دے دیا ۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس اصطلاح کا استعمال  ایک بڑی تعداد میں رہنماؤں کے ذریعہ  ان کے سیاسی مخالفین سے لڑنے کے لئے ایک بہانے کے طور پر کیا جانے لگا ۔

امریکہ نے ایک غیر متوازن  فوجی تصادم میں افغانستان پر حملہ کیا ، دنیا کا واحد سپر پاور نے ایک ایسے ملک کے خلاف  جنگ کیا جو  ہر چیز میں صفر کی لکیر سے نیچے تھا ، اور  اب بھی ہے ۔ حملے  کے ذریعہ امریکہ کے تمام مقاصد کا حصول تو نہیں ہوا  لیکن اس سے امریکہ وسطی ایشیا میں پاؤں جمانے کے اپنے  اس خفیہ ایجنڈے کو حاصل کرنے کے قابل ہو گیا ۔

امریکہ نے سوڈان، صومالیہ اور یمن پر بھی حملہ کیا۔ جس سے بہت سے ممالک  کے ان خدشات میں اضافہ ہوا، خاص طور پر عرب کے خطے میں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں امریکی حملوں کے اہداف بن جائیں ۔

فوجی طاقت

امریکہ نے سوڈان، صومالیہ اور یمن کے خلاف حملوں میں اپنی فوجی طاقت کا استعمال کیا ، اور اس نے  ایران، عراق اور شمالی کوریا کو براہ راست دھمکیاں بھی دیں جنہیں صدر بش نے "بدی کا محور "کہا ۔

ایسا لگتا ہے کہ امریکی انتظامیہ مصر کی طرف رخ کرنے سے پہلے شام پر حملہ کرنے پر بضد ہے  ۔

شمالی کوریا کو  امریکہ نے مخالف ممالک کی فہرست میں اس لئے نہیں  شامل  کیا کہ پیانگ یانگ نے اسے براہ راست دھمکی  دی تھی بلکہ صرف اس لئے کہ  وہ ان الزامات سے انکار کر سکے کہ  امریکہ  کا نشانہ صرف عرب اور اسلامی ممالک ہیں ۔

11 فروری 2002 کو لندن ٹائمز نے ایک  نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے کہا کہ واشنگٹن کے پاس  صومالیہ اور یمن کے خلاف فوجی آپریشن کا جواز پیش کرنے کے لئے کافی ثبوت تھے ۔ تاہم حکام نے اس  بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ ثبوت کیا تھے ۔

اس وقت سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹنیٹ نے کھلے عام یہ  کہا تھا  کہ  ، دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی منصوبہ بندی میں مستقبل میں مشرق وسطی کی تنظیموں  مثلاً حماس، الجہاد مومنٹ ، حزب اللہ اور پاپولر فرنٹ فار لبریشن  آف فلسطین وغیرہ  کو شامل کرنے تک کی توسیع کی جا سکتی ہے  ۔ اس طرح کے بیانات نے اس قدر  فکر اور شکوک و شبہات کو جنم دیا کہ  عالمی رہنما اس بات کا اندازہ لگانے سے قاصر  تھے کہ افغانستان کے بعد کیا امریکہ کی اگلی چال کیا ہوگی  ۔

یک طرفہ لڑائی

اگر امریکہ ایسا کرنا  ضروری سمجھتا ہے تو دہشت گردی سے یک طرفہ لڑائی  کا امریکہ کا فیصلہ  دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں ایک سنگین شگاف  کا سبب بن سکتاہے ، کئی سالوں میں جس کی تعمیر کرنے میں امریکہ کامیاب ہوا ہے۔

نیٹو جس نے عراق کے خلاف جنگ کی مکمل طور پر مخالفت کی تھی اس نے  بھی  امریکی فوجی کاروائیوں کو بغیر سوچے سمجھے اپنی امداد فراہم کرنے کو ثانوی درجہ دینا شروع کر دیا ہے ۔ عرب ممالک نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے کسی بھی عرب یا اسلامی ملک پر حملے کی حمایت کرنے سے بغیر کسی استثناء کے انکار کر دیا ہے ۔ روس نے بھی ایسے کسی بھی حملے کے خلاف  تنبیہ  کی ہے جس کی اجازت  سلامتی کونسل کے ذریعہ  نہ دی گئی ہو ۔ چین نے ہمیشہ کی طرح امریکہ کی سرگرمیوں کی معتبریت پر شک  کی انگلی اٹھائی ہے ۔ چین کا  کہنا ہے کہ امریکہ اکثر اپنے فیصلوں میں ناعاقبت اندیش رہا ہے اور  ہمیشہ ان پر احتیاط کے ساتھ غور و فکر نہیں  کرتا ۔

دنیا نے افغانستان کے خلاف امریکی جنگ کی طالبان اور القاعدہ تنظیم کو تباہ کرنے کےلئے حمایت کی، جو کہ  دوسری بہت ساری ذیلی دہشت گرد تنظیموں پر مشتمل ہے ۔

آج مصر سینا کے ریگستان میں دہشت گرد عناصر کے خلاف حقیقی جنگ لڑ رہا ہے۔ واشنگٹن نہ صرف یہ کہ ان عناصر کو مٹانے کے  مصر کے حق سے اسے محروم  کر رہا ہے بلکہ حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی  ملک غیر مستحکم کرنے کے لئے حوصلہ افزائی بھی کر رہا ہے ۔

مصر کو نظر انداز کرنا ؟

یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیوں اوباما انتظامیہ سینا میں موجود دہشت گرد جماعتوں کو نظر انداز  کر رہی ہے ؟ ایسا کیوں ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصر کی حمایت نہیں کر رہا ہے؟ کیوں ماضی  میں  امریکہ نے بادر ماينهوف اور جاپانی ریڈ آرمی جیسی  بے شمار  دہشت گرد تنظیموں کے خلاف واضح موقف  اختیار نہیں  کیا  ؟ کیا امریکہ یہ  سوچتا ہے کہ تمام دہشت گردی عرب اور اسلامی ممالک میں جنم لیتی ہے ؟

ایسا لگتا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ مصر کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے شام کو تباہ کرنے پر اڑا ہوا  ہے۔ مصر کے لوگ مشرق وسطی کے بارے میں امریکی منصوبہ بندی کو ناکام کرنے کے قابل تھے جسے حاصل کرنے کے لئے امریکہ  60 سے زائد سالوں سے جدوجہد کر رہا ہے ۔

دوسرے ممالک کو اپنے زیر تسلط  لانے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے امریکہ اولوالعزم منصوبوں کو ترتیب دے رہا ہے ۔ ان کے  لفظ کے ہر معنوں میں استعماریت پسند  منصوبہ بندیاں ہیں۔ امریکہ کے متکبرانہ  رویہ نے دنیا بھر میں دشمنوں کو پیدا کر دیا   ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب خود امریکیوں کو بھی کسی بھی وقت دہشت گرد حملوں کا خطرہ لگا  رہتا ہے ۔ ہمیں  امید ہے کہ امریکی عوام اپنی حکومت کی ریشہ دانیوں سے آگاہ ہو جائے گی تاکہ وہ دنیا کے دیگر لوگوں کی محبت اور احترام کھو نہ دے ۔

حسن تحسین ایک تجربہ کار مصری مصنف اور سعودی گزٹ سمیت عرب میں پھیلے ہوئے اخبارات کے  مستقل کالم نگار  ہیں۔ ان کی تحریر کا محور  مشرق وسطی کے تنازعات ہوتے ہیں ۔ تحسین کے سیاسی تجزیہ کا مرکز خاص طور پر ایک علاقائی سطح پر عرب اسرائیل تعلقات، اور مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات سمیت مصر کے ملکی اور غیر ملکی پالیسیاں ہیں ۔

ماخذ:  http://english.alarabiya.net/en/views/news/world/2013/09/05/The-phenomenon-of-fighting-terrorism-.html

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/hassan-tahsin/the-phenomenon-of-‘fighting-terrorism’/d/13381

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/hassan-tahsin,-tr-new-age-islam/the-phenomenon-of-‘fighting-terrorism’--دہشت-گردی-سے-جنگ--کا-رجحان/d/13436

 

Loading..

Loading..