New Age Islam
Sat Feb 14 2026, 10:12 PM

Urdu Section ( 17 Jan 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Tafsir-E-Qur'an and Mufassirin: Their Committment To and Interest in the Science of Tafsir-Part-1 تفسیرِقرآن، مفسر ین کی محنت اورعلم تفسیر سے دلچسپی

حسن البنا

(پہلا حصہ)

13 جنوری 2023

خلیفۂ راشد حضرت علیؓ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرمؐ نے قرآن مجید کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا:’’قرآن کریم اللہ کا کلام ہے، جس میںتمہارے عہد سے پہلے کی بھی خبریں ہیں اور بعد کی بھی، اورتمہارے معاملات کا حل بھی اس میں موجود ہے۔‘‘

یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو زبردست اورزور آور سمجھتے ہوئے اس سے پہلو بچائے تواللہ تعالیٰ اُسے بُرے انجام سے دوچار کرے گا، اورجو شخص اس کے علاوہ کسی اور چیز میں ہدایت کا متلاشی ہوگا، اُسے اللہ گمراہ کردے گا۔ وہ اللہ کی مضبوط رسّی ہے،اس کا روشن نُور ہے۔ حکمت سے بھرپور ذکر ہے اور سیدھا راستہ ہے۔ ا س کو اختیار کرنے کی صورت میں انسان نفسانی خواہشوں کا غلام نہیں رہ سکتا۔ اس کی موجودگی میں نہ زبانوں میں التباس رہتاہے، نہ آراء میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ اس کو اہلِ علم جتنا بھی پڑھیں، کبھی پیاس بجھا نہ سکیں گے اور اہلِ تقویٰ کبھی اُکتاہٹ نہیں محسوس کریں گے۔ ذکر و تلاوت کی کثرت سے وہ پرانا نہیں ہوتا اور اس کے عجائب فنا نہیں ہوتے۔ جنوں نے جب اُس کو سنا تو پکار اُٹھے: ’’ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے۔‘‘ (الجن:پہلی آیت)

جس نے اس کا علم حاصل کیا وہ آگے بڑھ گیا۔ جس نے اس کی روشنی میں کوئی بات کہی اس نے سچ کہا۔ جس نے اس سے فیصلہ کیا اُس نے انصاف کیا۔جس نے اس پر عمل کیا وہ اجر کا مستحق ہوا، اور جس نے اس کی طرف دعوت دی، اُس نے درحقیقت سیدھے راستے کی طرف دعو ت دی۔

(ترمذی، ج۲،ص ۱۴۹)

یہ قرآنِ کریم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ پر نازل فرمایا ہے، تاکہ اہلِ ایمان اس کی تلاوت کریں، اس کے ذریعے اپنے سینوں کو کشادہ کریں، اپنے دلوں کو اس کے نُور سے منور کریں اور اس کے ذریعے قیامت کے دن انعاماتِ الٰہی کے مستحق ہوں، اور اس کی روشنی میں اپنا دستورِ زندگی بناکرمعاشرے میں ایک صالح نظام قائم کریں، تاکہ دُنیا میں خوش حالی اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہوں:’’ جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، اسے ہم دُنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔‘‘ (النحل :۹۷)

’’ اور جو شخص میرے ’ذکر‘ (درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اس کیلئے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اُسے اندھا اُٹھائیں گے۔‘‘ (طٰحہٰ :۱۲۴)

قرآن کریم سے مقصود محض اس کی تلاوت اور برکت کا حصول نہیں ہے۔ اگرچہ قرآن کی تلاوت بھی باعث ِ برکت ہے بلکہ اس کی حقیقی برکت تو اس میں تدبر و تفکر اور اس کے معانی و مقاصد کے فہم، پھر دینی و دُنیوی اُمور میں اس پر عمل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ جو شخص ایسا نہیں کرسکے گا یا بغیر سمجھے محض تلاوت پر اکتفا کرے گا، اس کے بارے میں اس وعید کے صادق آجانے کا اندیشہ ہے، جسے امام بخاریؒ نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کی ہے

’’اے قرآن پڑھنے والو! سیدھے رہو تو بہت آگے نکل جائو گے، لیکن اگر تم نے دائیں بائیں ہونے کی کوشش کی تو بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہوجائو گے۔‘‘

تفسیر کی ضرورت

اسی لئےقرآن کی ایک ایسی عام فہم تفسیر کی ضرورت ہوئی جس سے اس کے معانی و مقاصد انسانی صلاحیتوں اور عقل کے بقدر سمجھ میں آجائیں۔ قرآن کو اگرچہ اللہ تعالیٰ نے بہت ہی آسان بنایا ہے:’’ہم نے اس قرآن کو نصیحت کیلئے آسان ذریعہ بنادیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟‘‘ (القمر:۱۷)

’’پس، اے محمدؐ اس کلام کو ہم نے آسان کرکےتمہاری زبان میں اسی لئے نازل کیا ہے کہ تم پرہیزگاروں کو خوش خبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو۔‘‘(مریم ۱۹:۹۷)

’’اے نبیؐ، ہم نے اس کتاب کوتمہاری زبان میں سہل بنا دیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ (الدخان :۵۸)

لیکن زبانوں میں فساد پیدا ہوجانے، لہجے بگڑ جانے، عامی زبان کے رواج پانے اور فصیح زبان سے دُور ہوجانے کی وجہ سے لوگوں کو ضرورت محسوس ہونے لگی کہ ان الفاظ اور ترکیبوں کی تشریح کی جائے، جن کے معانی بسااوقات ان کے ذہنوں سے مخفی رہ جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ قرآن کریم دین اور دُنیا دونوں کا دستور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں تمام علوم و معارف کو جمع کردیا ہے، جن کے ادراک میں لوگوں کی عقلیں یکساں نہیں ہیں اور جن کے جواہرپارے زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ آشکار ہوتے رہیں گے:

’’ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اَطرافِ عالم میں اور خود اُن کی ذاتوں میں دِکھا دیں گے یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے۔ کیا آپ کا رب کافی نہیں ہے کہ وہی ہر چیز پر گواہ (بھی) ہے؟‘‘ (حٰم السجدہ:۵۳)

حضرت علیؓ سے کسی نے دریافت کیا : ’’کیا اللہ کے رسولؐ نے اہلِ بیت کو مخصوص طور پر کچھ چیزیں بتائی ہیں، جوکسی اور کو نہ بتائی ہوں؟‘‘

فرمایا: ’’نہیں، سوائے کتاب اللہ کے فہم اور اس صحیفہ کے۔‘‘ یہ کہہ کر آپؓ نے اس کے سامنے وہ صحیفہ پیش کر دیا جس میں کچھ احکام درج تھے۔

اس طرح بہت ہی ابتدائی شکل میں علم تفسیر کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد لوگ برابر اس میں اضافہ کرتے رہے، یہاں تک کہ ہم تک اس تفسیر کا ایک بڑا ذخیرہ پہنچا ہے۔ ان میں سے کچھ نُوروہدایت کا مخزن ہیں اور کچھ صرف علمی انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہیں، جن میں ہرموضوع پر بحث ملتی ہے، سوائے تفسیر کے۔

سلف کی علم تفسیر سے دلچسپی

سلف تعلیماتِ قرآن سے واقفیت حاصل کرنے کا اہتمام کرتے تھے اور جس شخص کو قرآن کے کسی حصے کی تفسیر معلوم ہوتی، وہ اس کی فضیلت کااعتراف کرتا تھا۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے حضرت جابرؓ بن عبداللہ کا ذکر کیا تو ان کے علم و فضل کی تعریف کی۔ ایک شخص نے عرض کیا: ’’میں آپؓ پر قربان، آپؓ جابرؓ کے علم کی تحسین فرماتے ہیں، حالانکہ آپؓ کا مقام ان سے کہیں بڑھ کرہے۔‘‘

حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’انہیں (یعنی حضرت جابرؓ) آیت:’’اے نبیؐ، یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے اِن لوگوں سے کہہ دو کہ میرا رب خُوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھُلی گمراہی میں کون مبتلا ہے۔‘‘ (القصص :۸۵) کی تفسیر معلوم تھی۔‘‘

حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے محبوب وہ شخص ہے، جو قرآن کا زیادہ علم رکھتا ہو۔‘‘حضرت حسنؒ فرماتے ہیں: ’’خدا کی قسم، اللہ تعالیٰ جو آیت بھی نازل کرتا ہے، اس کے بارے میں چاہتا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ وہ کب نازل ہوئی؟ اور اس سے کیا مراد ہے؟‘‘

حضرت شعبیؒ فرماتے ہیں: ’’ایک آیت کی تفسیر معلوم کرنے کیلئے حضرت مسروقؒ نے بصرہ کا سفر کیا، تو وہاں انہیں پتا چلا کہ جو شخص اس آیت کی تفسیر جانتا ہےوہ شام چلا گیا ہے۔ انہوں نے رخت ِ سفر باندھا اور شام روانہ ہوئے، اور وہاں پہنچ کر اس شخص سے اس آیت کی تفسیر معلوم کی۔‘‘

حضرت عکرمہؒ فرماتے ہیں: ’’ارشادِ باری تعالیٰ : وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِہٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ (النساء:۱۰۰) (ترجمہ: اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کیلئے نکلے )، کس شخص کے بارے میں نازل ہوا تھا؟ اس کی مَیں چودہ برس تک تحقیق کرتا رہا۔ یہاں تک کہ معلوم کرلیا۔‘‘ابن عبدالبرؒ فرماتے ہیں:’’اس سے مراد حضرت ضمرہ بن حبیبؓ ہیں۔‘‘

ایاس ؒ بن معاویہ فرماتے ہیں: ’’جو لوگ قرآن پڑھتے ہیں، لیکن اس کی تفسیر سے واقف نہیں ہوتے، ان کی مثال ان لوگوں جیسی ہے، جن کے پاس رات میں ان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط آئے اور اس وقت ان کے پاس چراغ نہ ہو کہ وہ خط پڑھ سکیں۔ چنانچہ وہ دہشت زدہ ہوجائیں کہ معلوم نہیں کہ خط میں کیا لکھا ہو اور جو لوگ تفسیر جانتے ہیں، ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہے، جن کے پاس بادشاہ کا خط رات میں آئے اور اُن کےپاس چراغ ہو، جس کی روشنی میں وہ خط کا مضمون پڑھ لیں۔‘‘

(مقدمہ تفسیرالقرطبی )

تفسیر بالرائے

ایک طرف سلف کے نزدیک تفسیر کی اتنی اہمیت اور اسبابِ نزول اور تفسیر سے واقفیت رکھنے والوں کی اتنی عظمت تھی، تو دوسری طرف وہ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ آیات کا جو مفہوم وہ سمجھتے ہیں، وہ خاص اغراض یا ذاتی خواہشوں یا ہنگامی حالات سے متاثر نہ ہو۔ ان کے تمام اعمال و تصرفات پر قرآن کی حکمرانی ہوتی تھی۔ ان کی خواہشیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات کے تابع تھیں (اوریہی ایمان کا تقاضا ہے)۔ (جاری)

13 جنوری 2023، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

-------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/tafsir-e-quran-mufassirin-science-part-1/d/128892

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..