New Age Islam
Thu May 19 2022, 09:29 AM

Urdu Section ( 1 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ukraine: The Story of Western Duplicity یوکرین:مغرب کے دوغلے پن کی داستان

حسن کمال

1 مارچ 2022

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے گزشتہ جمعہ کوبین الاقوامی میڈیا کو انٹر ویو دیتے ہوئے بڑی بے بسی سے اقرار کیا کہ یوکرین اس وقت روس سے جنگ میں بالکل اکیلا ہے،دنیا نے ہمیں بالکل تنہا چھوڑدیا ہے۔ان کےمنہ سے یہ سن کر سب کو افسوس ہوا۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں وہ خود ہیں۔ انہوں نے افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کے انجام سے کوئی سبق نہیں لیا، جنہیں اسی طرح بے یارومددگار چھوڑ کر امریکہ اور نیٹو(NATO) دم دباکر بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔زیلنسکی نے بھی جو بائیڈن کی باتوں پر یقین کر لیا کہ امریکہ اور نیٹو یوکرین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور یہ کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو روس پر ایسی معاشی پابندیاں عائد کی جائیں گی ، جن  کے بارے میں دنیا نے کبھی سنا ہوگا ،نہ سوچا ہوگا۔

بہر حال جب روس نے واقعی یوکرین پر حملہ کر دیا، جسے روسی صدر پوتن نے حملہ نہیں ’’فوجی آپریشن‘‘ کا نام دیا تو جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ یوکرین کیلئے فوج نہیں بھیجے گا ، لیکن روس کے تجارتی مفادات کو پابندیوں کے ذریعہ تباہ و برباد کر دے گا۔ نیٹو اتحاد میں شامل یورپی ممالک نے بھی فوجیں بھیجنے سے انکار کر دیا اور پابندیوں کی ہی بات کی۔ جب بائیڈن اور یورپی سربراہ یہ کہہ رہے تھے ، اس وقت یوکرین کے دو شہر دونیسٹک اورہولانسک روسی فوجوں کے قبضے میں جا چکے تھے اور یوکرین میں چنوبل نیوکلیائی توانائی پلانٹ پر بھی روسی ایڈمنسٹریشن کاقبضہ ہو چکا تھا۔ ساتھ ہی یہ خبریں بھی آرہی تھیں کہ روسی فوجیں یوکرین کی راجدھانی کیف کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ پہلے ہی ہلے میں روسی فوجوں نے یوکرین کی فضائی طاقت کو مسمار کر دیا  اور پوتن نے یوکرینی فوجیوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ اسلحے باہر رکھ کر اپنے گھروں میں چلے جائیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح طالبان نے اشرف غنی کے فوجیوں سے کہاتھا۔

 یوکرین کے بارے میں ہمارے ملک میں بہت کم جانا جاتا  ہے، اس لئے اس کے بارے میں جان لینا ضروری ہے۔ ۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب سے پہلے یوکرین مشرقی یورپ کے سامراج کا حصہ تھا۔۱۹۲۰ ءمیں اسے زار روس کی دوسری ریاستوں کی طرح سوویت یونین میں ضم کر لیا گیا۔یوکرین ۱۹۸۰ ءمیں سوویت یونین کے بکھراو تک روسی یونین کا ہی حصہ بنا رہا۔ پھر جب یونین کا شیرازہ منتشر ہوا تو مرکزی ایشیائی ریاستوں اور کریما و جارجیا جیسی دوسری ریاستوں نے بھی خود مختاری اور آزادی کا اعلان کر دیا۔ دوسری ریاستوں کے عوام نے تو روس سے علاحدگی کو حتمی طور پر قبول کر لیا، لیکن یوکرین کا معاملہ ذرا مختلف تھا۔ یوکرین کی بڑی آبادی تو جرمنی اور پولینڈ سے برسوں پہلے یہاں آکر بسنے والوں کی تھی،لیکن اچھی خاصی تعداد ان لوگوں کی بھی تھی جو خود کو روسی النسل سمجھتے تھے ۔باقی یوکرینی تو یوکرینی زبان بولتے تھے ، جو جرمن،پولش اور روسی زبان کا مرکب ہے، لیکن یہ لوگ روسی ہی بولتے تھے۔ علاوہ ازیں یہ لوگ خود کو ’سلاو’کہتے ہیں۔یہ وہ نسل ہے ، جس سے روس کے ایک معروف و مقبول وزیر اعظم نکیتا خروشچیف تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ یوکرین سے الگ ہو کر روس سے الحاق چاہتے تھے ۔ یوکرین کے پہلے صدر روس نواز تھے ۔ موجودہ صدر ولادیمیر زیلنسکی گزشتہ ۸؍ سال سے یوکرین کو نیٹو اتحاد میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ پوتن اس کے سخت مخالف تھے۔ ان کا موقف تھا کہ روس اور یوکرین کی سرحدیں ایک دوسرے سے متصل ہیں اور اگر یوکرین نیٹو کا رکن بن گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیٹو کے آئین کے مطابق نیٹو فوجیں کسی بھی وقت یوکرین میں اپنے اڈے بنا سکتی ہیں۔ ایسا ہوا تو روس کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ پوتن کے اس خوف کو بے جا بھی نہیں کہا جا سکتا۔ زیلنسکی اگر صرف اتنا کہہ دیتے کہ یوکرین نیٹو میں شامل نہیں ہوگا تو وہ صورت حال پیدا ہی نہ ہوتی جو آج دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن زیلنسکی کو امریکہ اور نیٹو ممالک کی مدد کا اتنا یقین تھا کہ وہ مسلسل انکار کرتے رہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے رہے کہ اگر روس نے یوکرین پر فوج کشی کی تو اسے سخت زک اٹھانا پڑے گی۔ انہیں اب اندازہ ہو رہا ہے کہ یوکرین روس اور امریکہ کی لڑائی میں اسی طرح پس رہا ہے، جس طرح دو ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس پس جاتی ہے۔

امریکہ اس وقت پوتن کے ساتھ بھی وہی کر رہا ہے جو اس نے طالبان کی لیڈر شپ کے ساتھ کیا تھا۔امریکہ نے روس پر بے مثال پابندیاں عائد کرنے کے نام پر صدر پوتن اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی امریکہ میں موجود جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔بالکل اسی طرح جس طرح اس نے امریکی بینکوں میں رکھے ہوئے افغانستان کے سرکاری زر مبادلہ کو روک لیا تھا۔لیکن ایک تو روس افغانستان نہیں ہے، دوسرے کیا امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ یوکرین کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے پوتن نہیں جانتے ہوں گے کہ امریکہ کیا کچھ کر سکتا ہے اور کیا کچھ کر گزرے گا؟ امریکہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس نے پوتن کے سامنے اس جنگی کارروائی کے سوا کوئی اور راستہ چھوڑا ہی نہیں تھا۔ صدر پوتن نے تین ماہ پہلے نومبر میں جو بائیڈن کو ایک مکتوب بھیجا تھا۔ انہوں نے اس مکتوب میں صاف لکھ دیا تھا کہ امریکہ یوکرین کو نیٹو کی ممبر شپ لینے پراکسانے سے باز رہے۔ بائیڈن نے اس مکتوب کا کوئی جواب نہیں دیا۔لیکن مختلف بیانات میں وہ بار بار کہتے رہے کہ یوکرین اپنی دفاعی ضروریات کے تحت ہر فیصلہ لینے کے لئے آزاد ہے۔ امریکہ کے اسی موقف نے زیلنسکی کو اپنی ضد پر قائم رکھا۔زیلنسکی ایک مسخرے اداکار ہیں اور یوکرینی فلموں اور ڈراموں میں کامیڈی رول کرتے ہیں۔ شاید وہ پوتن کی طرف سے ملنے والی آگاہیوں کو بھی کسی کامیڈی ڈرامہ کا ایکٹ سمجھتے رہے۔

اس مضمون کے لکھے جاتے وقت تک صورت حال یہ ہے کہ روسی فوجیں راجدھانی کیف کو تین طرف سے گھیر رہی ہیں۔ زیلنسکی نے پوتن سے بات کرنے پر حامی بھر لی ہے۔ روس کے ایک اور پڑوسی بیلاروس نے مفاہمت کے لئے اپنی خدمات بھی پیش کر دی ہیں۔ لیکن پوتن نے یہ شرط لگا دی ہے کہ بات چیت زیلنسکی کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ انہیں ان معاملات کی کوئی سمجھ نہیں ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ ان کی جگہ کوئی فوجی جنرل بات چیت کیلئے آگے آئے، جو فوجی معاملات کی سمجھ رکھتا ہو۔ روس یہ بھی چاہتا ہے کہ یوکرینی فوج ہتھیار ڈال دے اور یہ عین ممکن ہے کہ یہی ہو۔ اطلاعات کے مطابق روسی فوجیں حتی الامکان کسی ایسے تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے عام شہریوں کو جانی نقصان ہو۔ یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ پچاس ہزار سے بھی زیادہ جرمن اور پولش نژاد یوکرینی آس پاس کی ریاستوں میں ہجرت کر چکے ہیں۔ غرض بالکل افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوجوں کے اخراجات ہی جیسا سماں ہے اور ولادیمر زیلنسکی کا انجام بھی اشرف غنی سے کچھ زیادہ مختلف نظر نہیں آتا۔ یہ سبق ہے ان ممالک کیلئے جو امریکہ کی دوستی کیلئے مرے جاتے ہیں اور جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ انہیں ہر بلا سے محفوظ رکھے گا۔

1 مارچ 2022، بشکریہ : انقلاب، نئی دہلی

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/ukraine-western-duplicity/d/126488

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..