New Age Islam
Fri Apr 10 2026, 04:07 PM

Urdu Section ( 10 Jan 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Palestine-Israel War: How Did This Charisma Happen? فلسطین اور اسرائیل جنگ: یہ کرشمہ کیسے ہوا؟

حسن کمال

10جنوری،2024

ایک مشہور فوجی کماندار سائو زائو نے ایک بڑے پتےکی بات کہی تھی اور بعد میں جیسا کہ ہر پتے کی بات ہوتی ہے وہ وقت گزرنے کے بعد ایک تاریخی حقیقت بن جاتی ہے، ساؤ زائو کی اس بات کے لئے بھی وہی ہوا۔ا نہوں نے کہاتھا کہ جب کہیں جنگ شروع ہوتی ہے تو اسی وقت فریقوں میں سے ایک کو یہ علم ہوتا ہے کہ وہی جیتےگا اور اسی طرح ہارنے والا فریق بھی بہت بہتر جانتا ہے کہ وہ کیوں ہارے گا، یعنی اس کا مطلب یہ ہواکہ جیتنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیوں جیتے گا اور ہارنے والے کا بھی یہی حال ہوتا ہے، دوسرے لفظوں میں جنگ میں جیت اور ہار کی وجہ صرف افراد اور اسلحے کی طاقت نہیں ہوتی۔جیتنے والا جانتا ہے کہ اگر اس کی طاقت کم بھی ہے تو کیا رازہے کہ وہ جیت جائے گا اور ہارنے والا بھی جانتا ہے کہ اس کی تعداد اور اسلحے اس کی ہار کاسبب نہیں ہوں گے، جیتنے والا جانتا ہے کہ اس کی جیت کی اصل وجہ یہ ہوگی کہ وہ حق پر ہے اور ہارنے والے کو بھی پیچھے چھپی باتیں بتا دیتی ہیں کہ اس کی ہار کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ باطل پر ہے اور ہر ہارنےوالا جانتاہے کہ وہ باطل ہے۔

 غزہ میں اسرائیل اور فلسطینیوں کابھی یہی حال ہے، فلسطینی یہ جانتے ہیں اور فکسطینی ہی کیوں سب اور ساری دنیا جانتی ہے کہ فلسطینی اس لئے حق پرہیں کہ یہ جنگ انہوں نے نہیں شروع کی تھی۔جنگ کی وجہ اسرائیل اور اس کا غرور تھا، فلسطینی جانتے تھے کہ انہوں نے اسرائیل کی زمین کےکسی ایک گوشہ پر بھی قبضہ نہیں کیا ہے اور اسرائیل جانتا تھا کہ اس نے فلسطینیوں سے ان کی زمین چھینی ہے۔یہی نہیں نہ صرف زمین چھینی تھی بلکہ اسرائیل نے فلسطین کی مزید زمینوں پر بھی قبضہ کیا تھا، اب جنگ میں اترنے کا یہ مطلب نہیں ہے ۔جنگ کی باقی کیفیت اسی پر ہے کہ فلسطینی اس جنگ میں ایک ایسا فریق ہے ، جس کی کوئی اپنی فوج نہیں ہے، فوج ان کے پاس ہوتی ہے جن کے پاس ملک ہوتا ہے،ر قم ہوتی ہےاور جن کی مالی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ایک فوج بنا سکیں ، فلسطینی بیچارے تو خود ر وز کی محنت کے بعد اپنی زندگی چلاتے ہیں ،وہ صبح سے لےکر شام تک اپنے گھر بار چھوڑ کر اسرائیل آتے تھے وہ فوج کہاں سےرکھتے، اسرائیل کے پاس یہ سب تھا ، وہ اپنی ایک بڑی فوجی طاقت تھے،ان کے پاس ان کاخزانہ تھا۔ان کے پاس دنیا کے چند بہت اچھے اسلحےتھے، ان کے پاس ڈرونوں کا خزانہ تھا، ان کے ڈرونوں کی دنیا میں مانگ بھی تھی۔اسرائیل نے اپنے یہاں ہر شہری کوفوجی تربیت کو لازمی قرار دیا تھا۔ ان کا ہرشہری جانتا تھا کہ فوجی تربیت ختم ہونےکے بعد جب بھی کوئی جنگ ہوئی تو اسے لڑنے کے لئے جاناپڑے گا کیونکہ یہی اسرائیل کاقانون بھی کہتا ہے، فکسطینی بھی اسی طرح جانتے تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ یہودی بنیادی طور پر کوئی جنگجو قوم نہیں ہیں ،انہیں یہ معلوم تھا کہ یہ فوجی بھی جو جنگ کی صورت میں طلب کئے گئے ہیں ،جنگ کی صعوبتیں نہیں برداشت کر پائیں گے۔

 فلسطینیوں نے اکتوبر میں اسرائیل کی تکنیکی صلاحیت صرف چند گھنٹوں میں برباد کر دی تھی۔ انہوں نے چھاپےمارے، جہاں ٹیکنیکل اسٹاف تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ سب ،کرشمہ پیدا کیسے ہوا؟ فلسطینی حماس اب سے نہیں کئی برسوں سے زمین کے نیچے خندقیں کھود رہے تھے، یہ خندقیں سو فٹ سے بھی زیادہ گہری ہیں ، کہا جاتا ہے کہ یہ خندقیں اتنی گہری تھیں کہ ان کی چھوٹی موٹی مکان بنانےکی قوت تھی، ان کی لمبائی کئی کلو میٹر سے بھی زیادہ تھی اور اس میں ضرورت کی ہر چیزیں موجود تھیں ،یہ خندقیں اتنی وسیع و عریض تھیں کہ اس میں سارا غزہ سما سکتا تھااور اسرائیل کو اس کاپتہ بھی نہ چلا۔گھوم پھر کر یہی راز کسی کو نہیں معلوم تھا ،آخر یہ ایسا کرشمہ کیسے ہوا؟

آپ کو یا دہوگا ۱۹۶۰ءکے قریب لیلیٰ خالد نےایک جہاز اغوا کیاتھا اسی کے بعد سے جہاز کے اغواء کرنے کا نام بھی اسکائی جیک پڑ گیا تھا۔ یہ لیلیٰ خالدکون تھی؟ یاسر عرفات کے میدان میں آنے سے پہلے دو فلسطینی لیڈر تھے جنہوں نے جدوجہدکا باقاعدہ آغاز کیا تھا ان میں سے ایک کا نا م جورج حبش تھا اور دوسرے کا نام ایڈورڈ سعید تھا۔ جورج حبش فلسطین کے بائیں بازو کے لیڈر تھے اور ایڈورڈ سعید ایک مشہور فلسطینی شاعر تھے۔ ایڈورڈسعید کا یہ جملہ ساری دنیامیں مشہور ہوا تھا کہ اسرائیلی جن مجبوریوں سےگزرے ہیں اب وہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا انہیں مجبوریوں سے گزرے۔ لیلی خالد ان کی ساتھی تھی۔ یاسر عرفات بعد میں آئے اور انہوں نے بہت کام کیا لیکن یاد رہے کہ جورج حبش او ر ایڈورڈ سعید دونوں عیسائی تھے، تو اس طرح آپ دیکھئے کہ اسرائیل کے خلاف پر تشدد کارروائی کرنے والوں میں عیسائی سب سے آگے تھےاور آج بھی آگے ہیں ۔ اسی لئے ہم آپ سے بار بار کہتے ہیں کہ یہ کوئی مذہبی جنگ نہیں ہے ، یہ اس قوم کی جنگ ہے جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں لیکن ان کا کوئی گھر کوئی بار نہیں ہے ، ان کی کوئی فوج نہیں ہے، ان کا کوئی دیش نہیں ہے اسی لئے حماس وغیرہ سے دنیا کو بے انتہا دلچسپی ہے۔ کہ وہ مذہب کے لئے نہیں اپنی قومیت کے لئے لڑرہےہیں ۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ اسرائیلی فوج پاگل ہوگئی ہے ، اس کے جنرلس نے بنجامن نیتن یاہو سےکہا کہ وہ اب نہیں لڑسکتے۔ یہ بغاوت اس قدرپھیلی کہ اب اسرائیل نے ایک لاکھ یہودی فوجیوں کو محاذ سے واپس بلا لیا ہے۔ یہ بات ہم اسرائیلی میڈیا کے تعلق سے کہہ رہے ہیں ۔یروشلم پوسٹ نے حال ہی میں لکھا ہے کہ اسرائیل کے ۲۵؍ ہزار فوجی اسپتالوں میں بند ہیں ان میں سے بیشتر مفلوج ہوچکے ہیں ۔ کسی کا ہاتھ نہیں ہے کسی کا پیر نہیں ہے۔ اسی سے آپ اندازہ لگائیں کہ جب جہاں زخمیوں کی اتنی بڑی تعداد ہے وہاں مرنے والوں کا کیا عالم ہوگا۔ اسرائیل کی حکومت کچھ نہیں کہہ رہی ہے یہ ساری دنیا جانتی ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کی وجہ سے جوبائیڈن رسوائے زمانہ ہوچکے ہیں یہ جنگ ان کو الیکشن ہروا دے گی ۔ اس لئے اسرائیل جنگ ہار چکا ہے، بالکل ہار چکا ہے۔

10 جنوری،2024، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

---------------

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/palestine-israel-war-charisma-happen/d/131486

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..