New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 06:47 AM

Urdu Section ( 11 Jan 2016, NewAgeIslam.Com)

Change Must Come From Within For India's Muslim Community ہندوستانی مسلم کمیونٹی کے لیے داخلی تبدیلی ناگزیر

 

 

 

حارث احمد

7 جنوری  2016

پوری تاریخ انسانی میں جو ا ایک سبق نمایا رہی ہے وہ یہ ہے کہ جن اقوام اور جن معاشروں کی پرورش و پرداخت جمود و تعطل کے ماحول میں ہوئی ان پر زوال سب سے پہلے آیا۔ روم کی عظیم الشان سلطنت کا تختہ گوتھ اور ہنوں کی طاقت نے پلٹ کا رکھ دیا (تعجب کی بات تو یہ ہے کہ یہ وہی لوگ تھے جنہیں اکثر ایک "مہذب" اور اعلی رومی سلطنت کی حدود میں وحشی قرار دیکر ان کا بائیکاٹ کیا گیا تھا)۔ 13ہویں صدی میں راکٹ کی ایجاد کرنے والے چینی 19ویں صدی میں افیون جنگوں میں یورپ کی مدد کے بغیر توپ چلانے کے قابل بھی نہیں تھے۔

اب  ہم 21ویں صدی میں قدم رکھ چکے ہیں، کردار ضرور تبدیل ہوئے ہیں لیکن کہانی اب بھی وہی ہے۔ آج مسلم معاشرے خود کے ذریعہ عائد کردہ اس جمود و تعطل کا تازہ شکار ہیں۔ ہندوستان کے تناظر میں مسلمانوں کے سامنے اپنی علیحدہ شناخت کے تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے ایک لبرل جمہوری معاشرے میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کا حوصلہ شکن مسئلہ در پیش ہے۔ ہمارے دور کا ایک سب سے بڑا معمہ یہ ہے کہ "جدیدیت اور داڑھی کے مابین کس طرح ایک توازن قائم کیا جا ئے؟"۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بنگلور میں مسلم آئی ٹی ماہرین کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد موجود ہے، لیکن یہاں متعدد خلیجی ممالک کے بازاروں میں گھومنے والے نیم ہنر مند اور بے ہنر مسلمان مزدوروں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے جو ہندوستان  میں خود کو نااہل اور ناموزوں سمجھتے ہیں۔ ان دونوں کہانیوں سے مسلم کمیونٹی کے اندر بڑھتے ہوئے شگاف کا بخوبی علم ہوتا ہے، اگر چہ اس سے بڑے پیمانے پر ہندوستانی معاشرے میں موجود تضادات کی عکاس ہوتی ہے  لیکن اس میں ایک بنیادی فرق بھی ہے:

بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تقریبا سات دہائیوں تک جدوجہد کرنے کے بعد ہندوستان کو ایک ملک کی حیثیت سے یہ بات معلوم ہے کہ آپ کو دائمی طور پر سست رفتاری کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے؛ دوسری جانب، ایک گلوبلائزڈ دنیا کے ساتھ ضم کرنے کے مراعات بہت زیادہ ہیں، اور اس ناقابل تردید حقیقت کی تصدیق کرنے کے لئے صرف ایشین ٹائیگر (جنوبی کوریا، سنگاپور، ہانگ کانگ اور تائیوان) کے قیام پر نظر ڈالنا کافی ہے۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ اکثر ہندوستانی مسلمان غلط  نظریات کا شکار ہیں  اور اب بھی بنیاد پرستی پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ (1857) میں فوجی  بغاوت کے بعد سر سید احمد خان نے مسلمانوں کے درمیان تعلیمی نظام کی تجدید کاری کرنے  کی کوشش کی- ان کی اس کوشش نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ہندوستان  میں ایک اعلی تعلیمی ادارے کو جنم دیا۔ لیکن ان کا  یہ ترقی پسند نقطہ نظر امت مسلمہ کے اقتصادی طور پر کمزور طبقے تک کتنا منتقل ہوا؟

اس موڑ پر کوئی بھی آسانی کے ساتھ ایسے بہت سارے ریکارڈ اور اعداد و شمار طلب کر سکتا ہے  جن میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی حالت مسلسل بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ مسلم بچے اسکول جا رہے ہیں، خواتین تیزی کے ساتھ پر اعتماد ہوتی جا رہی ہیں اور علماء کی گرفت عوام میں کمزور ہوتی جا رہی ہے- یقینا یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔

تاہم، ان اعداد و شمار سے صورت حال کی مکمل عکاسی نہیں ہوتی۔ در اصل مسلمان تقریبا تمام سماجی شعبوں میں انحطات اور تنزلی کا شکار ہیں۔ ہاں، یقینی طور پر چیزوں میں "بہتری" پیدا ہو رہی ہے لیکن اس سے بھی بڑی سچائی یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں سست اور سطحی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ مسلمان اچانک اپنی اجتماعی نیند سے بیدار اور تبدیلی پیدا کرنے کی خاطر محنت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بلکہ کڑوا سچ تو یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر مسلم معاشرہ اب بھی تبدیلی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے مقابلے میں (معاشی آزادی کی بنیاد پر) ایک بڑے پیمانے پر لوگوں کو خوشحالی ملی ہے  اور اس کا نتیجہ بھی اسی کے مطابق ظاہر ہوا ہے۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ  مرکزی دھارے کے لوگ مسلم معاشرے کو ناگزیر تبدیلیوں کی جانب حرکت دے رہے ہیں۔ اگر مسلمانوں کو ایک ناقابل یقین حد تک متحرک دنیاکو تسلیم کرنے کے مراعات کا احساس ہوتا تو  مسلمان اس سے بڑے پیمانے پر استفادہ کر سکتے تھے۔

تبدیلی کی شروعات خود اسلامی معاشرے کے اندر سے ہونی چاہیے، کیوں کہ کوئی تبدیلی پیدا کرنے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ مسلم معاشرے کو مرکزی دھارے سے ضم ہونے کے فوائد کا احساس ہونا چاہئے۔ انہیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ بنیاد پرستی نے  پہلے سے ہی ان کی ترقی کے راستوں کو محدود کر دیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ بنیاد پرستی مسلم معاشرے کی اصلاح میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

یقیناً یہ صرف ایک مسلم مسئلہ نہیں ہے۔ یہ اس ترقی پذیر دنیا میں ہر جگہ موجود ہے۔ تبدیلیوں کو موجودہ نظام کے لیے خطرہ مان کر حقیر اور بے وقعت سمجھا جاتا  ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر مسلم کمیونٹی اور ہندوستان میں خاص طور پر مسلمانوں کی عادت یہ ہے کہ جب انہیں سخت مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ان سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اصلاحات اور اتفاق  پیدا کرنے کی کوشش ایک آفت ثابت ہوتی ہے، اور امت مسلمہ بنیاد پرست فلسفہ کی جانب دو قدم اور پیچھے چلی جاتی ہے۔ اس کے لیے صرف مسلم ممالک کی نوآبادکاری، عالمی جنگوں، اسرائیل فلسطین مسئلہ، ایرانی انقلاب یا عالمی سطح پر بوسنی خانہ جنگی، تقسیم کے وقت ہندوستان، کشمیر کا تنازعہ یا اس کے نتیجے میں بابری مسجد کے انہدام پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

(گوگل کی بدولت) اپنی کرسیوں پر آرام کے ساتھ بیٹھ کر ہر طرح کے اعداد و شمار کی روشنی میں ان اقدامات کو بیان کرنا آسان ہے جن کا اٹھایا جانا کسی ریاست یا کسی کمیونٹی کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔ تاہم، زندگی اتنی آسان نہیں ہے؛ فرسودہ سفارشات تجویز کرنے کے لئے قائم کی گئی  مختلف کمیشنوں نے فائدے سے زیادہ نقصان کیا ہے۔ آج مسلم کمیونٹی کے لیے اصلاحی کورس کی ضرورت ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اسلامی افکار و نظریات میں سیکولر ازم اور ترقی پسندی  کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف اسی کے ذریعہ ہی  ہندوستانی مسلم کمیونٹی کی اتنی سال کی غفلت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ماخذ:

huffingtonpost.in

URL for English article:  http://newageislam.com/islamic-society/haris-ahmed/change-must-come-from-within-for-india-s-muslim-community/d/105908

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/haris-ahmed,-tr-new-age-islam/change-must-come-from-within-for-india-s-muslim-community--ہندوستانی--مسلم-کمیونٹی-کے-لیے--داخلی-تبدیلی-ناگزیر/d/105951

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..