New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 06:25 PM

Urdu Section ( 23 Aug 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Will Utter Despair help Pakistanis Recognise the Real Enemy? اور وہ ہار گیا

حامد میر

آخر کار اس نے اپنی شکست کا اعتراف کرلیا۔ دنیا اس کی شکست سے بے خبر تھی لیکن فضل ہادی نے اپنی شکست کا اعلان کرنا ضروری سمجھا۔ اس اعلان کے لئے اس نے مجھے ایک خط تحریر کیا۔ شاید میں یہ خط بروقت نہ پڑھ پایا لیکن فضل ہادی کے بیٹے نے ملائیشا سے فون کر کے کہاں کہ پلیز میرے والد کا خط پڑھ لیں اور کنفرم کردیں کہ آپ نے خط پڑھ لیا تاکہ میرے والد سکون سے پاکستان چھوڑ سکیں۔اتفاق سے دفتر میں میز پر پڑے خطوط کے انبار میں سے مجھے فضل ہادی کا خط جلدی ہی مل گیا کیوں کہ یہ خاصا بھاری بھرکم تھا۔ خط کے ساتھ میرے کچھ پرانے کالموں کی نقول منسلک تھیں۔ یایہ کوئی بہت لمبا خط نہیں تھا لیکن یہ خط ایک ایسے پاکستانی کی کہانی تھی جو اپنے وطن سے جنون کی حد تک محبت کرتا تھا لیکن اب یہ وطن چھوڑ کر جارہا ہے کیونکہ اسے پاکستان میں کسی پر اعتبار نہیں رہا۔فضل ہادی کے خاندان کا تعلق مسلم لیگ سے تھا اور اس کے بزرگوں نے سردار عبدالرب نشتر کے ساتھ مل کر تحریک پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اس کے بڑے بھائی اور چچا نے 1948 ء کے جہاد کشمیر میں بھی حصہ لیا۔ ان کے بھائی اورچچا مجاہدین کے اس گروپ کا حصہ تھے جس میں معروف شاعر احمد فراز بھی شامل تھے۔فضل ہادی نے پشاور کے قریب پبی کے ایک سرکاری اسکول میں ٹیچنگ شروع کی او رساتھ ہی ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے رہے اور آخر کار بی فارمیسی کے بعد انہوں نے اپنا بزنس شروع کیا جو کامیاب رہا۔ ان کے بچوں نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ایک بیٹا ڈاکٹر بن گیا جو 1998 ء میں امریکہ چلا گیا اور دوسرا 1999 ء میں برطانیہ چلا گیا۔ بیٹوں نے فضل ہادی کو بیرون ملک بلایا لیکن انہوں نے پاکستان چھوڑ نے سے انکار کردیا۔ فضل ہادی نے اپنے خط میں لکھا کہ گیارہ ستمبر 2001 ء کے بعد جنرل پرویزمشرف کی حکومت نے پاکستان بچانے کے نام پر امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈے دیئے تو میرے ڈاکٹر بیٹے نے مجھے شگاگو سے فون کرکے کہا کہ اب پاکستان کی تباہی کا دور شروع ہونے والا ہے۔آپ پاکستان چھوڑ دیں۔ فضل ہادی اپنے بیٹھے سے متفق نہ تھے۔ ان کا بیٹا انٹر نیٹ پر ”قلم کمان“ پڑھتا تھا۔ اس نے اپنے والد سے کہا کہ حامد میر روزانہ لکھ رہا ہے کہ پرویز مشرف کی نئی پالیسی پاکستان میں نفرتوں کا ایساطوفان برپا کرے گی جس میں پاکستان کو بچانا مشکل ہوجائے گا۔ جواب میں فضل ہادی نے اپنے بیٹے سے کہا کہ جب تک حامد میر پاکستان سے نہیں بھاگتاوہ بھی نہیں بھاگے گا۔

2003 ء میں فضل ہادی کا بیٹا امریکہ سے ملائیشا آگیا اور والد سے کہا کہ پاکستان چھوڑ دیں لیکن فضل ہادی انکار ی تھے۔ پھر قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن شروع ہوا اس فوجی آپریشن کے رد عمل میں خود کش حملے شروع ہوئے اور پشاور ایک غیر محفوظ شہر بن گیا۔ فضل ہادی کے ڈاکٹر بیٹے نے باپ سے التماس کی کہ اگر پاکستان نہیں چھوڑ ناتو کم ازکم پشاورچھوڑ کر اسلام آباد چلے جاؤ لیکن فضل ہادی اپنے مؤقف پر قائم رہے۔انہوں نے کاروبار ایک داماد کے حوالے کردیا اور اپنی جمع پونجی سے یتیموں او ربیواؤں کی امداد کرتے رہے۔ ان میں ایک بیوہ ایسی بھی تھی جس نے فضل ہادی کی مدد سے اپنے دوبیٹوں کو پڑھا لکھا کر جوان کیا تھا۔ ان میں سے ایک بیٹا ایف سی میں بھرتی ہوگیا۔ 13مئی 2011ء کو ایک بیٹے نے چھٹی پر گھر آناتھا۔ دوسرا بیٹا پارٹ ٹائم ٹیکسی چلاتاتھا۔ وہ اپنی بھائی کو لینے کے لیے ٹیکسی پر شب قدر گیا جہاں سے دونوں بھائیوں نے اکٹھے واپس آناتھا۔ افسوس کی شب قدر میں ایف سی کے ٹریننگ سینٹر سے جب چھٹی پر آنے والے جوان باہر آئے تو دو خود کش حملے ہوگئے اور ان حملوں میں یہ دونوں بھائی مارے گئے۔ ان دونوں کی لاشیں گھر پہنچیں تو بیوہ ماں پاگل ہوگئی۔ فضل ہادی دھماکے کی خبرسن کران بھائیوں کا پتہ کرنے ان کے گھر پہنچے تو آگے دونوں کا لاشیں پڑی تھیں۔ فضل ہادی نے دونوں کے کفن دفن کا بندوبست کیا۔ تیسرے دن ان کی ماں بھی چل بسی او ریہ وہ دن تھا جس دن فضل ہادی اندر سے ٹوٹ گئے۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد ہم نے پاکستان کو بچانے کے لئے امریکہ کو فوجی اڈے دیئے لیکن ہم پاکستان کو نہیں بچا سکے دشمن نے ہماری اندر اتنی نفرت بھردی ہے کہ ہم ایک دوسرے پر بم بن کر برس رہے ہیں اور جب ہم ایک دوسرے کو مارتے ہیں تو دشمن کہتا ہے او رمار واو رمار و۔ فضل ہادی نے پوچھا ہے کہ اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں امریکہ نے مارا لیکن طالبان نے شب قدر میں ایف سی والوں سے بدلہ کیوں لیا؟ شاید طالبان کے خیال میں کل کو یہی ایف سی والے امریکہ سے ہتھیار لے کر انہیں مارنے کو دوڑتے اس لئے انہوں نے ایف سی پر حملہ کردیا لیکن اس بیچاری ماں کا کیا قصور تھا جس نے اٹھارہ سال تک دوبچوں کو پال پوس کر جوان کیا او رآخر کار ان کی لاشیں دیکھ کر خود بھی چل بسی؟ کیا اس ماں کے ارمانوں کے قاتل وہ پالیسی نہیں جس نے پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک بنا دیاہے؟ کل کو ہم امریکہ کی خوشی کے لئے شمالی وزیر ستان میں آپریشن شروع کریں گے، پھر جنوبی پنجاب میں پھرکوئٹہ میں اور یوں آگ پھیلتی جائے گی ہم سب اپنی ہی لگائی ہوئی اس آگ میں خود ہی جل رہے ہیں لیکن ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ آگ کس نے لگائی ہے؟ یہ آگ ہم نے خود لگائی ہے۔ یہ آگ پرویز مشرف نے لگائی تھی جو خود لندن بھاگ گیا۔ ہم نے افغانستان میں طالبان کے خاتمے کے لئے امریکہ سے ہاتھ ملایا لیکن مکافات عمل دیکھئے کہ آج طالبان بھی ہمیں ماررہے ہیں اورامریکہ بھی ہمیں دھتکار رہا ہے۔فضل ہادی نے مجھے 26ستمبر2001 ء کو ”قلم کمان“ یاد دلایا ہے جب افغانستان میں جنگ شروع نہیں ہوئی تھی لیکن میں نے لکھا تھا کہ۔”شمالی اتحاد کا نیا کمانڈر جنرل فہیم اگر کابلاور قندھار تک پہنچ گیاتو پاکستان کئی ارب ڈالر خرچ کرکے بھی افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ نہ بنا سکے گا۔ ایسی صورت میں پاکستان پر فوجی دباؤ میں اضافہ ہوگا اور اگر بھارت نے ہمارے خلاف جارحیت کی تو 1965ء اور 1971ء کی طرح امریکہ ہمارا ساتھ نہیں دے گا۔“2اکتوبر2001ء کے قلم کمان میں تجویز دی گئی تھی کہ امریکہ سعودی عرب سے اپنی فوج نکال لے اور طالبان اسامہ بن لادن کو سرنڈر کرنے کے لئے ان سے بات کریں۔ 28اکتوبر 2001ء کو لکھا کہ آج نہیں تو کل امریکہ ہمیں دھتکار تے ہوئے ناقابل اعتبار اور غیر فطری اتحادی قرار دے گا۔ فضل ہادی کہتے ہیں کہ آپ کو دس سال پہلے پتہ تھا کہ پاکستان تباہ ہونے والا ہے او رامریکہ ہمیں دھوکہ دے گا لیکن حکمرانوں کو یہ احساس کیوں نہیں ہوا؟ فضل ہادی لکھتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی کے لئے سب سے بڑاخطرہ نہ طالبان ہیں نہ القاعدہ بلکہ ہمارے حکمران جن کی امریکہ نواز پالیسیوں کے رد عمل نے ہر طرف نفرتوں کی آگ پھیلا رکھی ہے لہٰذا میں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے وطن کی مزید تباہی نہیں دیکھ سکتا‘ میں ہار چکا ہوں میں اپنے بیٹے کے پاس ملائیشا جارہا ہوں۔ فضل ہادی کا خط پڑھنے کے بعد میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ نہ جانے کتنے پاکستانی آج فضل ہادی کی طرح سوچ رہے ہوں گے؟ ان پاکستانیوں کا پاکستان پر اعتماد کیسے بحال کیا جائے؟ ایک ہی راستہ ہے کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرار داد پر عمل در آمد کیا جائے۔پاکستان کوبچانے کے لئے ہمیں امریکہ کااعتماد نہیں بلکہ پاکستانیوں کا اعتماد جیتنا ہے۔

URL for English aticle: https://www.newageislam.com/urdu-section/will-utter-despair-help-pakistanis-recognise-the-real-enemy?/d/4694

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/will-utter-despair-help-pakistanis/d/122698


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..